Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2943

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ عِمْرَانَ1 بْنَ نَافِعٍ حَدَّثَهُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنِ احْتَسَبَ ثلاثة من صلبه دخل الجنة" 2. [2:1]

حضرت انس رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص اپنی اولاد میں سے تین بچوں (کے انتقال پر) ثواب کی امید رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا۔"

"مَنِ احْتَسَبَ ثلاثة من صلبه دخل الجنة" ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسٍ، ← حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ عِمْرَانَ1 بْنَ نَافِعٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Hadith 2943

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2944

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرحمن الأصفهاني عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ النِّسَاءُ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاجْعَلْ لَنَا يَوْمًا, فَوَعَدَهُنَّ يَوْمًا فَجِئْنَ فَوَعَظَهُنَّ فَقَالَ لَهُنَّ فِيمَا قَالَ: "مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ ثَلَاثَةً مِنْ وَلَدِهَا إِلَّا كَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ" قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاثْنَيْنِ1 وَقَدْ مَاتَ لَهَا اثْنَانِ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "واثنان" 2.

حضرت ابو سعید خد ری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: خواتین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! مرد ہم سے آگے نکل گئے ہیں آپ ﷺ ہمارے لیے بھی کوئی دن مقرر کیجئے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کر لیا وہ خواتین حاضر ہوئیں نبی اکرمﷺ نے انہیں وعظ و نصیحت کی نبی اکرمﷺ نے انہیں جو بات ارشاد فرمائی اس میں یہ بات بھی تھی آپ ﷺ نے فرمایا: جس بھی عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں، تو وہ اس عورت کے لیے جہنم سے رکاوٹ بن جائیں گے ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اگر دوہوں ( راوی کہتے ہیں) اس عورت کے دو بچے فوت ہو چکے تھے نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: اگر دوہوں (تو بھی یہی اجرو ثواب حاصل ہو گا)

النِّسَاءُ: غَلَبَنَا عَلَيْكَ الرِّجَالُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ← عَبْدِ الرحمن الأصفهاني ← شُعْبَةُ، ← شَبَابَةُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2944

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2945

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ فِطْرٍ عن شرحبيل بن سعد عن بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ لَهُ ابْنَتَانِ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا إِلَّا أدخلتاه الجنة" 1.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جس مسلمان کی دو بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ، تو وہ دونوں بیٹیاں اسے جنت میں داخل کر دیں گی۔"

بْنِ عَبَّاسٍ ← شرحبيل بن سعد ← فِطْرٍ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2945

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2946

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عن بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ دَخَلَ الْجَنَّةَ" قَالَ: قُلْنَا:يَا رَسُولَ اللَّهِ وَابْنَانِ؟ قَالَ: "وَابْنَانِ" قَالَ مَحْمُودٌ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِنِّي لأراكم لو قلتم: واحدا لقال: واحدا قَالَ : وَاللہِ اَظُنُّ ذٰلِکَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! اگر دو بچے ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر دو ہوں (تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہوگا)۔محمود نامی راوی کہتے ہیں: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: میرا خیال ہے آپ لوگوں کو یہ بھی پوچھنا چاہیئے تھا اگر ایک ہو، تو نبی اکرمﷺ یہ بھی فرما دیتے، اگر ایک ہو ( تو بھی یہ اجرو ثواب حاصل ہوگا)، تو حضرت جابر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میرا بھی یہی خیال ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← بن إِسْحَاقَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Hadith 2946

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2947

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ:كَانَ رَجُلٌ يَخْتَلِفُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ بُنَيٍّ لَهُ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ: "أَمَا يَسُرُّكَ أَلَا تَأْتِي بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وجدته ينتظرك" 1. [2:1]

معاویہ بن قرہ اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص اپنے بیٹے کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے اسے غیر موجود پا کر اس کے بارے میں دریافت کیا: تو لوگوں نے بتایا: اس (بچے) کا انتقال ہو چکا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے والد سے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم جنت کے جس بھی دروازے پر آؤ گے، تو اسے اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ گے۔

مَاتَ ← أَبِيهِ قَالَ:كَانَ رَجُلٌ يَخْتَلِفُ إِلَى النَّبِيِّ مَعَ بُنَيٍّ لَهُ فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 2947

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2948

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سِنَانٍ قَالَ: دَفَنْتُ ابْنِي وَمَعِي أَبُو طَلْحَةَ الْخَوْلَانِيُّ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَلَمَّا أَرَدْتُ الخروج أخذ بيدي فأخبرني وَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ قَالَ الله لملائكته قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي؟ قَالُوا: نَعَمْ, قَالَ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ؟ قَالُوا: نَعَمْ, قَالَ: فَمَا قَالَ؟ قَالُوا: اسْتَرْجَعَ وَحَمِدَكَ, قَالَ: أَبَنُوا لَهُ بَيْتًا في الجنة وسموه بيت الحمد" 1. [2:1] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اَبُوْ طَلْحَۃَ الْخَوْلَانیُّ ھٰذَا اسْمُہۃ نُمَیْمُ بْنُ زِیَادٍ مِنْ سَادَاتٍ اَھْلِ الشَّامِ ، رَویٰ عَنْہُ مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِح ، وَاَھْلُ بَلَدِہٖ ، وَاَبُوْ سِنَانٍ ھٰذَا ھُوَ الشَّیْ َانِیُّ قَدِمُ الْبَصْرَۃَ ، فَکَتَبَ عَنْہُ الْبَصْرِیُّوْنَ ، اسْمُہُ سَعِیْدُ بْنُ سِنَانِ وَّاَبُوْ سِنَانِ الْکُوفِیُّ ضِرَارُ بْنُ مُرَّۃً

ابو سنان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے بیٹے کو دفن کیا میرے ساتھ اب طلحہ خولانی قبر کے کنارے پر موجود تھے جب میں قبر سے باہر آنے لگا، تو انہوں نے میرا پکڑ کر مجھے باہر نکالا اور بولے کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں؟ مجھ تک یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ " جب کسی مومن بندے کے بیٹے کا انتقال ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے یہ فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے بچے کی جان قبض کر لی ہے فرشتے عرض کرتے ہیں جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا تم نے اس کے دل کے پھل(یعنی جگر کے ٹکڑے) کو قبضے میں لے لیا ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: جی ہاں اللہ تعالیٰ دریافت کرتا ہے پھر اس بندے نے کیا کہا فرشتے کہتے ہیں: اس نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور تیری حمد و بیان کی، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم اس شخص کے لیے جنت میں گھر بنا دو اور اس کا نام" بیت الحمد" رکھو۔ (امام ابن حباب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو طلحہ خولانی نامی راوی کا نام نعیم بن زیاد ہے اور یہ اہل شام کے سرداروں میں سے ہیں۔ ان سے معاویہ بن صالح اور ان کے شہر کے دیگر افراد نے روایات نقل کی ہیں۔ ان سنان نامی راوی شیبانی ہیں۔ یہ بصرہ تشریف لائے تھے۔ اہل بصرہ نے ان کے حوالے سے احادیث نوٹ کی تھیں۔ ان کا نام سعید بن سنان ہے جبکہ ابو سنان کو فی نامی راوی کا نام ضرار بن مرہ ہے۔

أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 2948

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2949

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الحجاج السامي وأخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ يَزِيدُ: أَخْبَرَنَا وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عن بن عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَأَنَا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا" فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا فَجَعَلْتُ كُلَّمَا بَلَغْتُ: "أَبْدَلَنِي خَيْرًا مِنْهَا" قُلْتُ فِي نَفْسِي: وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ يَخْطُبُهَا فَلَمْ تَزَوَّجْهُ ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا عُمَرُ يَخْطُبُهَا فَلَمْ تَزَوَّجْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا1 رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ قَالَتْ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: "ارْجِعْ إِلَيْهَا فَقُلْ لَهَا أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى فَأُسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي امْرَأَةٌ مُصْبِيَةٌ فَتُكْفَينَ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنَّهُ لَيْسَ أحد من أوليائك شاهد فليس من أوليائك شاهد ولا غائب یَکْرَہُ ذٰلکَ ،فَقَالَتْ لِابْنِھَا : یَا عُمَرُ ، قُمْ فَزَوِّجْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَزَوَّجَہُ ، فَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَاْتِیھَا لِیَدْخُلَ بِھَا ، فَاِذَا رَاَتْہُ اَخَذَتِ ابْنَتَھَا زَیْنَبَ ، فَجَعَلْتُھَا فِیْ ھِجْرِھَا ، فَیَنْقَلِبُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَعَلِمَ بِذٰلِکَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ ،وَکَانَ اَخَاھَا مِنَ الرَّضَاعَۃِ ، فَجَاءَ اِلَیْھَا ، فَقَالَ : یْنَ ھٰذِہِ الْمَقُبُوحَۃُ الَّتِی قَدْ آذَیْتِ بِھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَخَذَھَا فَذَھَبَ بِھَا ، فَجَاءَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَدَخَلَ عَلَیْھَا فَجَعَلَ یَضْرِبُ بَبَصَرِہٖ فِیْ جَوَانِبِ الْبَیْنتِ ، وَقَالَ : مَا فَعَلَتْ زَیْنَبُ ؟ قَالَتْ : جَاءَ عَمَّارٌ فَاَخَذَھَا فَذَھَبَ بِھَا ، فَبَنٰی بِھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : اِنِّیْ لَا اَنْقُصُکِ مِمَّا اَعْطَیْتُ فُلَانَۃَ رَحَائَیْنِ ، وَجَرَّتَیْنِ ، وَمِرْفَقَۃً حَشْوُھَا لِیْفٌ ، وَقَالَ : اِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِی۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : لَفْظُ الْاِسْنَادِ لِاِبْرَاھِیْمَ الْحَجَّاجِ ، وَالْمَتْنُ لِیَزِیدَ بْنِ ھَارُوْنَ

سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے کوئی مصیبت لاحق ہو وہ یہ دعا پڑھ لے۔ " بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اے اللہ ! میں اپنی مصیبت کے ثواب کی امید تیری بارگاہ میں رکھتی ہوں، تو مجھے اس کا اجر عطا کرنا اور اس (فوت شدہ چیز) کی جگہ مجھے بہتر بدل عطا کر دینا۔" سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہہ کا انتقال ہوا میں نے یہ دعا پڑھ لی اور میں نے یہی کہا کہ، تو مجھے اس سے بہتر عطا کرنا پھر میں نے سوچا حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟ جب اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہما کی عدت گزر گئی ، تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، لیکن انہوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ کے ساتھ شادی نہیں کی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کے ساتھ بھی شادی نہیں کی پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ کو اپنے پیغام کے ہمراہ ان کی طرف بھیجا، تو انہوں نے عرض کی: آپ اللہ کے رسول ﷺ کو بتا دیں میں ایک غصے والی عورت ہوں اور میں مصیبت کا شکار عورت ہوں (یعنی بیوہ ہو چکی ہوں) میرے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپ ﷺ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: تم اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو جہاں تک تمہارے یہ کہنے کاتعلق ہے کہ میں ایک غصے والی عورت ہوں، تو میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کروں گا کہ وہ تمہارا غصہ ختم کر دے ، جہاں تک تمہارے یہ کہنے کا تعلق ہے کہ تم مصیبت کا شکار عورت ہو (یعنی بیوہ ہو چکی ہو) ، تو تمہارے بچے تمہارے لیے کفایت کر جائیں گے اور جہاں تک تمہارے یہ کہنے کاتعلق ہے کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی یہاں موجود نہیں ہے،تو تمہارے موجود یا غیر موجود اولیاء میں سے کوئی بھی اس کو ناپسند کرے گا، تو سیّدہ اُمّ سلمہ ارضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا : اے عمر ! تم اٹھو اور اللہ کے رسول کے ساتھ (میری) شادی کر دو، تو انہوں نے ان کی شادی کروا دی نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے، تا کہ ان کے ہاں رات بسر کریں جب سیّدہ اُمّ نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو انہوں نے اپنی بیٹی زینب کو پکڑا اور اسے اپنی گود میں بٹھا لیا، تو نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے اس بات کی اطلاع حضرت عمار بن یا سر رضی الہہ عنہہ کو ملی جو ان کے رضائی بھائی تھے، تو وہ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور بولے: وہ لڑکی کہاں ہے، جس کی وجہ سے تم نے اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف پہنچائی ہے؟ پھر انہوں نے اس بچی کو لیا اوراپنے ساتھ لے گئے پھر نبی اکرمﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے گھر کے کناروں میں نظر ڈالی اور دریافت کیا: تم نے زینب کے ساتھ کیا کیا ہے، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: حضرت عمار رضی اللہ عنہہ آئے تھے انہوں نے اس بچی کو پکڑا اور اپنے ساتھ لے گئے، تو نبی اکرم ﷺ نے سّیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہما کے ہاح رات بسر کی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے فلاں( زوجہ کو ) جو کچھ دیا ہے اس میں تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کروں گا دو چکیاں ہیں دو تھیلے ہیں اور ایک گا جس میں پتے بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میں سات دن تمہارے پاس رہوں گا، تو دوسری ازواج کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں) سند کے الفاظ ابراہیم بن حجاج کے نقل کردہ ہیں اور متن کے الفاظ یزید بن ہارون کے نقل کر دہ ہیں۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← بن عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: ← يَزِيدُ: ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الحجاج السامي وأخبرنا بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2949

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2950

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ ، عَنِ الْاَعْمَشِ ، عَنِ ابْرَھِیْمَ التَّیْمِیِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِیکُمْ ؟ قَالَ قُلْنَا : الَّذِیْ لَا یُولَدُ لَہٗ ، قَالَ : لَیْسَ ذٰلِکَ بِالرَّقُوبِ ، وَلٰکِنِ الَّذِی لَا یُقَدِّمُ مِنْ وَلِدِہِ شَیْئًا قَالَ : فَمَا تَعُدُّونَالصُّرَعَۃَ فِیکُمْ ؟ قُلْنَا : الَّذِی لَا یُصْرَعُہُ الرِّجَالُ قَالَ : لَیْسَ ذَاکَ ، وَلٰکِنِ الَّذِی یَمْلِکُ نَفْسَہٗ عِنْدَ الْغَضَبِ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "تم اپنے درمیان رقوب کیسے سمجھتے ہو راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی: وہ شخص جس کی کوئی اولاد نہ ہو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ ر قوب نہیں ہے بلکہ رقوب وہ ہے، جس کے کسے بچے کا انتقال نہ ہو۔ نبی اکرم ﷺ نےدریافت کیا: تم اپنے درمیان پہلوان کسے سمجھتے ہو۔ ہم نے عرض کی: جسے کوئی شخص پچھاڑ نہ سکے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ وہ نہیں ہے بلکہ (پہلوان وہ ہے) جو غضب کے عالم میں اپنے اوپر قابو رکھے"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سويد ← ابْرَھِیْمَ التَّیْمِیِّ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2950

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2951

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بن خمير عن1 شرحبيل بن شفعة عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، اَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ ، فَقَالَ : اِنَّہٗ رِجْزٌ ، فَتَفَرَّقُوا عَنْہُ ، فَقَالَ شُرَحْبِیلُ بْنُ حَسَنَۃَ ، اِنِّیْ صَحِبْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَعَمْرٌو اَضَلُّ مِنْ حِمَارِ اَھْلِہٖ اَوْ جَمَلِ اَھْلِہٖ وَقَالَ : اِنَّھَا رَحْمَۃٌ رَبِّکُمْ ، وَدَعْوَۃٌ نَبِیِّکُمْ ، وَمَوْتُ الصَّالِحِینَ قَبْلَکُمْ ، فَاحْتَمِعُوا لَہٗ وَلَا تَفَرَّقُوا عَنْہُ۔ فَسَمِعَ ذٰلِکَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالِ : صَدَقَ

حضرت عمرو ب العاص رضی اللہ عنہہ کے بارے میں منقول ہے: ایک مرتبہ شام میں طاعون کی وباء پھیل گئی، تو حضرت عمرو رضی اللہ عنہہ نے کہا: یہ گندگی ہے، تو لو گ اس جگہ سے منتقل ہونے لگے، تو حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہہ نے کہا: میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہا ہوں اور عمرو اپنے گھر کے گدھے( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ گمراہ ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: یہ تمہارے پروردگار کی رحمت، تمہارے نبی کی دعا اور تم سے پہلے نیک لوگوں کی موت کا ذریعہ ہے، تو تم لوگ اس کے لیے اکٹھے رہو اور اسے چھوڑ کر منتشر نہ ہو۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہہ نے یہ بات سنی، تو انہوں نے فرمایا : انہوں نے سچ کہا ہے۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← شرحبيل بن شفعة ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 2951

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2952

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہٗ سَمِعَہٗ یَسْاَلُ اُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ، ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الطَّاعُونِ ؟ فَقَالَ اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ، قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الطَّاعُونُ رِجْزٌ اُرْسِلَ عَلٰی بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ اَوْ عَلٰی مَنْ قَبْلَکُمْ فَاِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِاَرْضِ فَلَا تَقْدُمُوا عَلَیْہِ ، وَاِذَا وَقَعَ بِاَرْضٍ ، وَاَنْتُمْ بِھَا فَلَاتِخْرُجُوا فِرَارًا مِنْہُ

عامر بن سعد اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہہ) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ انہوں نے اپنے والد کو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہہ سے یہ دریافت کرتے ہوئے سنا کہ کیا آپ نبی اکرم ﷺ کی زبانی طاعون کے بارے میں کوئی بات سنی ہے، تو حضرت اسامہ نب زید رضی اللہ عنہہ نے بتایا: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: طاعون ایک خرابی ہے، جو بنی اسرائیل کی طرف ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تم سے پہلے لوگوں کی طرف بھیجی گئی تحی، تو جب تم کسی سرزمین کے بار ے میں سنو کہ وہاں یہ ہے، تو تم وہاں نہ جاو اور جب یہ کسی ایسی سرزمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔

مِنْ رَسُوْلُ اللہِ فِی الطَّاعُونِ فَقَالَ اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ ← اَبِیْہِ اَنَّہٗ سَمِعَہٗ یَسْاَلُ اُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ھَلْ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2952

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2953

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ ، عَنْ مَالِکٍ ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ ، عَنْ عَبْدِا لْحَمِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِالْحَارِثٍ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ اِلَی الشَّامِ ، حَتّٰی اِذَا کَانَ بِسَرْغَ ، لَقِیَہُاُمَرَاءُ الْاَجْنَادِ اَبُوْ عُبَیْدَۃُ بْنُ الْجَرَّاحِ وَاَصْحَابُہُ ، فَاَخْبَرُوہُ اَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ ، قَالَ بْنُ عَبَّاسٍ : فَقَالَ عُمَرُ : ادْعُ لِیَ الْمُھَاجِرِیْنَ الْاَوْلِینَ ، فَدَعُوْتُھُمْ ، فَاسْتَشَارَھُمْ وَاَخْبَرَھُمْ اَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَامِ فَاخْتَلَفُوا ، فَقَالَ بَعْضُھُمْ : خَرَجْتَ لِاَمْرٍ قََا نَرَی اَنْ تَرْجِعَ عَنْہُ ، وَقَالَ بَعْضُھُمْ : مَعَکَ بَقِیَّۃُ النَّاسِ وَاَصْحَابُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَا نَرَی اَنْ تُقْدِمَھُمْ عَلٰی ھٰذَا الْوَبَاءِ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّی ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِیَ الْاَنْصَارَ فَدَعُوْتُھُمْ ، فَاسْتَشَارَھُمْ فَسَلَکُوا سَبِیلَ الْمُھَاجِرِیْنَ وَاخْتَلَفُوا کَاخْتِلَافِھِمْ ، فَقَالَ : ارْتَفِعُوا عَنِّی ، ثُمَّ قَالَ : ادْعُ لِی مَنْ کَانَ ھَاھُنَا مِنْ مَشْیَخَۃِ قُرَیْشٍ مِنْ مُّھَامِرَۃِ الْفَتْحِ ، فَدَعُوْ تُھُمْ ، فَلَمْ ، یَخْتَلِفْ عَلَیْہِ رَجُلَانِ ، وَقَالُوْا نَرَی اَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَھُمْ عَلٰی ھٰذَا الْوَبَاءِ فَنَادَی عُمَرُ فِی النَّاسِ اِنِّیْ مُصْبَحٌ عَلٰی طَھْرٍ ، فَاَصْبِحُوا عَلَیْہِ ، فَقَالَ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ : اَفِرَارًا مِنْ قَدْرِ اللہِ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : لَوْ غَیْرُکَ قَالَھَا یَا اَبَا عُبَیْدَۃَ وَکَانَ عُمَرُ یَکْرَہُ خِلَافَہُ نَفِرُ مِنْ قَدَرِ اللہِ اِلٰی قَدَرِ اللہِ ، اَرَاَیْتَ لَوْ کَانَ لَکَ اِبِلٌ فَھَبَطَتُ وَادِیًا لَہٗ عُدْوَتَانِ اِحْدَاھُمَا خِصِبَۃٌ ، وَالْاُخْرَی جَدْبَۃٌ ، اَلَیْسَ اِنْ رَعَیْتَ الْخِصْبَۃَ رَعَیْتَھَا بِقَدَرِ اللہِ ، وَاِنْ رَعَیْتَ الْجَدْبَۃَ رَعَیْتَھَا بِقَدَرِ الہِ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَکَانَ مُتَغَیِّبًا فِیْ بَعْضِ حَاجَتِہٖ ، فَقَالَ :اِنَّ عِنْدِیْ مِنْ ھٰذَا عِلْمًا ، سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اِذَا سَمِعْتُمْ بِہٖ بِاَرْضٍ فَلَا تَقْدُمُوا عَلَیْہِ ، وَاِذَا وَقَعَ بِاَرْضٍ وَّاَنْتُمُ بِھَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْہُ قَالَ : فَحَمِدَ اللہَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: حضرت عم بن خطاب رضی اللہ عنہہ شام جانے کے لیے روانہ ہوئے جب وہ "سرغ" کے مقام پر پہنچے ، تو وہاں ان کی ملاقات لشکر کے امیر حضرت ابو عبیدہ بن الجرح رضی اللہ عنہہ اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کو بتایا کہ شام میں وباء پھیل چکی ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: میرے پاس مہاجرین اولین کو بلا کر لاو میں ان لوگوں کو بلا کر لایا حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں یہ بتایا کہ شام میں وبا پھیل چکی ہے، تو ان لوگوں میں اس بارے میں اختلاف ہو گیا ان میں سے بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ آپ جس کام کے لیے نکلے ہیں ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ اسے چھوڑ کر واپس چلے جائیں جب کہ بعض کا یہ کہنا تھا کہ آپ کے ساتھ گنے چنے لوگ اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب موجود ہیں اس لیے ہم یہ مناسب نہیں سمجھتے کہ آپ کو وبائی علاقے میں جانا چاہیے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں پھر انہوں نے فرمایا: میرے پاس انصار کو بلا کر لاو میں انہیں بلا کر لایا حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے ان سے مشورہ کیا، تو وہ بھی مہاجرین کے راستے پر چلے اور ان کے درمیان بھی مہاجرین کی طرح اختلاف ہو گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: آپ لوگ میرے پاس سے اٹھ جائیں پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: تم میرے پاس قریش کے ان بوڑھوں کو بلا کر لاو جو فتح مکہ کے موقع پر ہجرت کر کے آئے تھے میں نے ان لوگوں کو بلایا، تو اس بارے میں ان کے دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی اختلاف نہیں ہوا انہوں نے یہی کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کو لوگوں کو لے کر واپس جانا چاہئے اور اس وبائی علاقے میں نہیں جانا چاہئے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے لوگوں میں یہ اعلان کر دیا کہ ہم کل روانہ ہو جائیں گے آپ لو گ تیار ی کر لیں، تو حضرت ابو عبیدہ بن الجرح رضی اللہ عنہہ نے کہا: کیا آپ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: اگر آپ کے علاوہ کسی اور نے یہ بات کہی ہوتی ( تو اتنا افسوس نہ ہوتا) اے ابو عبیدہ ! حضرت عمر رضی اللہ عنہہ کو ان کا یہ اختلاف کرنا پسند نہیں آیا ( انہوں نے فرمایا) ہم اللہ کی تقدیر سے بھاگتے ہوئے اللہ کی تقدیر کی طرف جا رہے ہیں آپ کا کیا خیا ل ہے، اگر آپ کے پاس اونٹ ہو اورآپ اسے کسی ایسی وادی میں لے کر اتریں جس کے ایک طرف سرسبز و شاداب جگہ اور دوسری طرف خشک سالی ہو، تو کیا ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ اسے سر سبز جگہ پر چراتے ہیں، تو یہ بھی اللہ کی تقدیر کے مطابق ہے اور اگر آپ اسے خشک جگہ پر چرنے کے لیے چھوڑ تے ہیں، تو آپ اسے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق چراتے ہیں، تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہہ نے کہا: جی ہاں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہہ آئے وہ اس وقت کسی کام کے سلسلے میں موجود نہیں تھے انہوں نے بتایا: اس بارے میں میرے پاس علم موجود ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " جب تم اس کے بارے میں سنو کہ یہ کسی سر زمین پر ہے، تو تم وہاں نہ جاو اور جب یہ کسی ایسی سر زمین پر واقع ہو جائے جہاں تم موجود ہو، تو تم وہاں سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلو نہیں۔" راوی کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور وہاں سے واپس آگئے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِالْحَارِثٍ بْنِ نَوْفَلٍ ← عَبْدِا لْحَمِیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2953

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2954

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم ذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ: "بَقِيَّةُ رِجْزٍ وَعَذَابٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَهْرَبُوا مِنْهُ وَإِذَا كان بأرض فلا تهبطوا عليه" 1. [64:2]

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: یہ ایک عذاب کا بقیہ حصہ ہے۔ یہ وہ عذاب ہے، جو بنی اسرائیل کے گروہ کی طرف بھیجا گیا تھا جب یہ کسی سر زمین پر واقع ہو، اور تم لوگ وہاں موجود ہو، تو م لوگ وہاں سے بھاگو نہیں اور جب کسی دوسری سرزمین پر واقع ہو، تو تم وہاں جاو نہیں۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2954

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr