صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5452
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، [ص:267] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَبَايَعْنَاهُ، وَإِنَّهُ لَمُطْلَقُ الْأَزْرَارِ، فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ، فَمَسَسْتُ الْخَاتَمَ، فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا أَبَاهُ قَطُّ فِي شِتَاءٍ وَلَا حَرٍّ إِلَّا تَنْطَلِقُ أُزُرُهُمَا لَا يُزِرَّانِ أَبَدًا»
معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں مزینہ قبیلے کے کچھ لوگوں کے ہمراہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم نے آپﷺ کی دست اقدس پر بیعت کی۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپ کا گریبان کھلا ہوا تھا ‘ تو میں نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا اور مہر نبوت کو چھو لیا۔ راوی کہتے ہیں :میں نے معاویہ بن قرہ اور ان کے والد کو دیکھا کہ وہ گرمی اور سردی ہر موسم میں گریبان کھلا رکھتے تھے ۔ وہ بٹن کبھی بند نہیں کرتے تھے۔
أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، [ص:364] ← عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُشَيْرٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Sahih Ibn Hibban · The book of clothing and etiquette › Mentioning the matter to a person, if God is gracious to him, to see the effect of your grace on you · Hadith 5452
