صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5428
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قُبَاءَ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ، ثُمَّ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ نَزَعْتَهُ؟ فَقَالَ: «جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَنَهَانِي عَنْهُ» قَالَ: فَجَاءَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكْرَهُهُ وَتُعْطِينِيهِ، قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُعْطِكَ لِتَلْبَسَهُ، وَإِنَّمَا أَعْطَيْتُكَ لِتَبِيعَهُ» فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ
حضرت جابر عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں:نبیاکرمﷺ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے ایک دن ریشم کی بنی ہوئی قبازیب تن کی جو آپﷺ کو تحفے کے طور پر پیش کی گئی تھی ‘ پھر آپﷺ نے اسے اتار دیا۔ آپﷺ نے و ہ حضرت عمر بن خطابؓ کو بھجوایا۔ عرض کی گئی یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ نے اسے اتارکیوں دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھے اس سے منع کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت عمر بن خطابؓ روتے ہوئے آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! آپ نے خود اسے نا پسند کیا ہے اور پھر یہ مجھے عطا کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :یہ میں نے تمہیں اس لئے عطا نہیں کہ ہے‘ تم اسے پہن لو یہ میں نے تمہیں اس لئے عطا کی ہے ‘ تم اسے فروخت کرو ‘ تو حضرت عمرؓ نے دو ہزار درہم کے عوض میں اسے فروخت کیا۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ
Hadith 5428
