Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5428

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: لَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قُبَاءَ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ، ثُمَّ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ نَزَعْتَهُ؟ فَقَالَ: «جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَنَهَانِي عَنْهُ» قَالَ: فَجَاءَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكْرَهُهُ وَتُعْطِينِيهِ، قَالَ: «إِنِّي لَمْ أُعْطِكَ لِتَلْبَسَهُ، وَإِنَّمَا أَعْطَيْتُكَ لِتَبِيعَهُ» فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ

حضرت جابر عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں:نبیاکرمﷺ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے ایک دن ریشم کی بنی ہوئی قبازیب تن کی جو آپﷺ کو تحفے کے طور پر پیش کی گئی تھی ‘ پھر آپﷺ نے اسے اتار دیا۔ آپﷺ نے و ہ حضرت عمر بن خطابؓ کو بھجوایا۔ عرض کی گئی یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ نے اسے اتارکیوں دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے۔ انہوں نے مجھے اس سے منع کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت عمر بن خطابؓ روتے ہوئے آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! آپ نے خود اسے نا پسند کیا ہے اور پھر یہ مجھے عطا کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :یہ میں نے تمہیں اس لئے عطا نہیں کہ ہے‘ تم اسے پہن لو یہ میں نے تمہیں اس لئے عطا کی ہے ‘ تم اسے فروخت کرو ‘ تو حضرت عمرؓ نے دو ہزار درہم کے عوض میں اسے فروخت کیا۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5428

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5429

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، أَنَّهُ [ص:246] سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَرِيرِ، قَالَ: «مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ریشم کے بارے میں یہ فرمایا ہے: ’’ جو شخص دنیا میں اسے پہن لے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا‘‘۔

«مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ» ← النَّبِيِّ فِي الْحَرِيرِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، أَنَّهُ [ص:246] ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Hadith 5429

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5430

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ مِنْ حَكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوب ؓ اور حضرت زبیر بن عوام ؓ کو خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی جازت عطا کی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5430

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5431

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ، بِدِمَشْقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ مِنْ حَكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ اور حضرت زبیر بن عوام ؓ کو ریشم پہننے کی اجازت دی تھی کیونکہ انہیں خارش لاحق تھی۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ فَيَّاضٍ بِدِمَشْقَ

Hadith 5431

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5432

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ «أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، شَكَيَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ، فَرَأَيْتُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَمِيصَ حَرِيرٍ»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت زبیر بن عوامؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں جوؤں کی شکایت کی یہ ایک جنگ کے دورا ن کی بات ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ان دونوں حضرات کو ریشمی قمیص پہننے کی اجازت دے دی ‘ تو میں نے ان دونوں صاحبان کو ریشمی قمیص پہنے ہوئے دیکھا۔

قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5432

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5433

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّهُ أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُّوجُ حَرِيرٍ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، [ص:249] وَقَالَ: «لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «فَرُّوجُ الْحَرِيرِ: هُوَ الثَّوْبُ الَّذِي يَكُونُ عَلَى دُرُوزِهِ حَرِيرٌ دُونَ أَنْ يَكُونَ الْكَلُّ مِنَ الْحَرِيرِ، وَلَوْ كَانَ الْكَلُّ حَرِيرًا مَا لَبِسَهُ وَلَا صَلَّى فِيهِ، وَهَذَا مَعْنَى خَبَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَّا مَوْضِعَ أُصْبُعَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ»

حضرت عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ریشمی جبہ پیش کیا گیا۔ نبی اکرمﷺ نے اسے پہن لیا پھر آپ نے اس میں نماز ادا کی۔ آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو آپ نے اسے ناپسند کرتے ہوئے سختی سے اتار دیا اور فرمایا: یہ پر ہیز گاروں کے لئے مناسب نہیں ہے۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) فروج حریر سے مراد وہ کپڑا ہے‘ جس کا تانا ریشم کا ہوتا ہے وہ سارے کا سارا ریسم نہیں ہوتا ‘ اگر وہ سارے کا سارا ریشم کو ہوتا ‘ تو نبی اکرمﷺ نہ اسے پہنتے اور نہ ہی اسے پہن کر نماز ادا کرتے ۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے حوالے سے منقول روایت کا بھی یہی مطلب ہے ‘ صرف دو یا تین یا چار انگلیوں جتنی ( ریشم کی پٹی لگانے ) کی اجازت ہے۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5433

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5434

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ، [ص:250] عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ، وَذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ، وَقَالَ: «هَذَانِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «خَبَرُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي مُوسَى فِي هَذَا الْبَابِ مَعْلُولٌ لَا يَصِحُّ»

حضرت علی بن ابو طالبؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ریشم لیا۔ آپﷺ نے اسے اپنے دائیں ہاتھ میں رکھا اور سونا لیا اور اسے اپنے لبائیں ہاتھ میں رکھا پھر آپﷺ نے اپنے ہاتھ بلند کئے اور فرمایا: یہ دونوں میری اُمت کے مردوں کے لئے حرام ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) سعید بن ابو ہند نے ابو موسیٰ کے حوالے سے اس بارے میں جو روایت نقل کی ہے وہ معلول ہے اور مستند نہیں ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ، [ص:250] ← حُمَيْدِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 5434

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5435

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:252] عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ قَالَ: «مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ»

حضرت انس بن مالکؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص دنیا میں ریشم پہن لے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا‘‘۔

«مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ» ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← [ص:252] عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Hadith 5435

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5436

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ أَبِي رُقَيَّةَ، حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ، يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصْبِ وَالْكَتَّانِ مَا يُغْنِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ، وَهَذَا رَجُلٌ يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُمْ يَا عُقْبَةُ، فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ»

ہشام بن ابو رقیہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت مسلمہ بن مخلدؓ کو منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ بیان کرتے ہوئے سنا : اے لوگوں ! کیا تمہارے لئے عصب اور کتان میں وہ چیز نہیں ہے ‘جو تمہیں ریشم سے بے نیاز کر دے ان صاحب نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے: اے عقبہ! آپ کھڑے ہو جائیں ‘ تو حضرت عقبہ بن عامرؓ کھڑے ہوئے ( راوی کہتے ہیں ) میں سن رہا تھا انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہے‘‘۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں میں نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جو شخص ریشم پہنے گا اس کے لئے یہ بات حرام قرار دی گئی ہے ‘ وہ آخرت میں اسے پہنے‘‘۔

«مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← «مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» وَأَشْهَدُ أَنِّي ← رَسُولِ اللَّهِ ← إِنِّي ← أسمع ← رَسُولِ اللَّهِ قُمْ يَا عُقْبَةُ، فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، ← الْحَرِيرِ، وَهَذَا رَجُلٌ يُخْبِرُ ← أَيُّهَا النَّاسُ، أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصْبِ وَالْكَتَّانِ مَا يُغْنِيكُمْ ← مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ أَبِي رُقَيَّةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 5436

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5437

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ دَاوُدَ السَّرَّاجِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي [ص:254] الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ دَخَلَ الْجَنَّةَ لَبِسَهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَلَمْ يَلْبَسْهُ هُوَ»

حضرت ابو سعید خدریؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا ۔ اگرچہ وہ جنت میں داخل ہو جائے۔ ( دوسرے ) اہل جنت سے پہنیں گے‘ لیکن وہ نہیں پہن سکے گا‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← دَاوُدَ السَّرَّاجِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5437

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5438

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ»

حضرت علی بن ابو طالبؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سونے کی انگوٹھی قسی اور میثرہ ( مخصوص قسم کے ) سے منع کیا ہے۔

خَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 5438

صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5439

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةَ سِيَرَاءٍ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ» ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، وَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةٌ، فَقَالَ: عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتَنِيهَا، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا» فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک سیرانی حلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا‘ تو عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ ﷺ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور وفود سے ملاقات کے دن اسے پہن لیا کریں ( تو یہ مناسب ہو گا) جب وہ وفود آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے وہ شخص پہنے گا ‘ جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا‘ پھر نبی اکرمﷺ کے پاس اس قسم کے حلے آئے‘ تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر بن خطابؓ کو بھی عطا کیا۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ نے مجھے پہننے کے لئے یہ دے دیا ہے ‘ حالانکہ آپ نے عطارد ( نامی شخص ) کے حلہ کے بارے میں فلاں بات ارشاد فرمائی تھی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے یہ تمہیں اس لئے نہیں دیا تاکہ تم اسے پہن لو‘ تو حضرت عمرؓ نے وہ حلہ مکہ میں موجود اپنے مشرک بھائی کو پہننے کے لئے دے دیا۔

نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 5439

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr