صیح ابن حبان · کِتَابُ اللِّبَاسِ وَآدَابِہِ ‹ ذِکْرُ الْاَمْرِ لِلْمَرْءِ اِذَا اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِ اَنْ یُّرَی اَثَرُ نِعْمَتِہٖ عَلَیْہِ · حديث 5416
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَشِفُ الْهَيْئَةِ، فَقَالُ: «هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ؟ » فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مِنْ أَيِّ مَالٍ؟ » قُلْتُ: مِنْ كُلٍّ قَدْ آتَانِيَ اللَّهُ مِنَ الْإِبِلِ وَالرَّقِيقِ وَالْغَنَمِ، قَالَ: «إِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا نَزَلْتُ بِهِ فَلَمْ يُكْرِمْنِي، وَلَمْ يَقْرِنِي، فَنَزَلَ بِي أَجْزِيهِ بِمَا صَنَعَ؟ قَالَ: «لَا، بَلْ أَقْرِهِ» «[ص:235] أَبُو الْأَحْوَصِ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، أَبُوهُ مِنَ الصَّحَابَةِ»
ابوا حوص عوف بن مالک اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میری حالت بکھری ہوئی تھی۔ نبی اکرمﷺ دریافت کیا: کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ میں نے عرض کی :جی ہاں ، نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا کس قسم کا مال ہے ؟ میں نے عرض کی:اللہ تعالیٰ نے مجھے ہر طرح کا مال عطا کیا ہے ۔اونٹ بھی غلام بھی بکریاں بھی۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال عطا کیا ہو‘ تو اس کا نشان تم پر نظر آنا چاہئے۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے‘ جس کے ہاں میں مہمان بنتا ہوں۔ وہ میری عزت افزائی نہیں کرتا۔ میری مہمان نوازی نہیں کرتا ‘ پھر ایک مرتبہ وہ میرے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرتا ہے‘ تو کیا میں اس کے طرز عمل کا بدلہ دوں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں بلکہ تم اس کی مہمان نوازی کرو۔ ابو احوص عوف بن مالک بن نضلہ کے والد صحابی تھے۔
أَبِيهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Hadith 5416
