Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ ‹ کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ · حديث 6129

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا؟ » قَالُوا: كُنَّا نَقُولُ: وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، وَمَاتَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّهَا لَا تُرْمَى لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ رَبَّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا قَضَى أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَاءِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى [ص:500] يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ فَيُخْبِرُونَهُمْ، فَيُخْبِرُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، حَتَّى يَبْلُغَ الْخَبَرُ أَهْلَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَيَخْطَفُ الْجِنُّ، فَيُلْقُونَهُ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ، وَيُرْمَوْنَ، فَمَا جَاءُوا بِهِ عَلَى وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ، وَلَكِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ أَوْ يَزِيدُونَ» «الشَّكُّ مِنْ مُبَشِّرٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کے انصاری صحابہ میںسے ایک صاحب نے مجھے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ وہ لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران کوئی ستارہ ٹوٹا اور روشنی سی نظر آئی ۔ نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں سے دریافت کیا جب اس طرح کا کوئی ستارہ ٹوٹتا ہےتھا ،تو تم لوگ زمانہ جاہلیت میں کیا سمجھتے تھے ۔ لوگوں نےعرض کی :ہم یہ کہتے تھے کہ آج کوئی بڑا ٓدمی پیدا ہو گا یا کوئی بڑا ٓدمی فوت ہو جائے گا۔نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:یہ کسی کے مرنےیا پیدا ہونے کی وجہ سے نہیں ٹوٹتے ہیں بلکہ ہمارا پروردگار جب کوئی فیصلہ سناتا ہے ، تو عرش کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح بیان کرتےہیں ، تو اس کے بعد والے فرشتے تسبیح بیان کرتےہیں ، یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمان دنیا تک پہنچ جاتی ہے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے قریب جو فرشتے ہوتے ہیں (یعنی ساتویں آسمان کے فرشتے ) وہ دریافت کرتےہیں ، ہمارے پروردگار نے کیا فرمایاہے ،تو (عرش کواٹھانے والے فرشتے ) انہیں اس بارے میں بتاتے ہیں اسی طرح تمام آسمان کے فرشتے دوسرے آسمان والوں کو اس بارے میں اطلاع دیتے ہیں ، یہاں تک کہ آسمان دنیا تک یہ بات پہنچ جاتی ہےتو کوئی جن اسے اچک لیتا ہے اور اپنے دوستوں کی طرف اسے القاء کر دیتا ہے وہ اس میں ملاوٹ بھی کردیتا ہے ، تو جب (کسی کاہن کی کہی ہوئی بات ) درست ثابت ہوتی ہے ، تو وہ حق کی وجہ سے ہوتی ہے ، تاہم وہ لوگ اس میں اور بہت سے جھوٹ شامل کردیتےہیں (اس لیے ان کی بہت سی باتیں غلط بھی ثابت ہوتی ہیں ) یہاں مبشر نامی راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں :وہ اس بات میں اضافہ کردیتے ہیں ۔

عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Stars and the Nucleus › The Book of the Stars and the Nucleus · Hadith 6129

صیح ابن حبان · کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ ‹ کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ · حديث 6130

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَتَّابُ بْنُ حُنَيْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَمْسَكَ اللَّهُ الْقَطْرَ عَنِ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ لَأَصْبَحَتْ [ص:501] طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ، يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ الْمِجْدَحِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْمِجْدَحُ هُوَ الدَّبَرَانِ، وَهُوَ الْمَنْزِلُ الرَّابِعُ مِنْ مَنَازِلِ الْقَمَرِ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "اگر اللہ تعالیٰ سات سال تک لوگوں سے بارش کو روک لے اور پھر اسے برسادے ،تو ان لوگوں میں سے ایک گروہ انکار کرتےہوئے پھر بھی یہی کہے گا کہ مجدح ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے ۔" (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں :) مجدح سے مراد "دبران "ہے اور یہ چاند کی منزلوں میں چوتھی منزل پر ہوتاہے۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَتَّابُ بْنُ حُنَيْنٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Stars and the Nucleus › The Book of the Stars and the Nucleus · Hadith 6130

صیح ابن حبان · کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ ‹ کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ · حديث 6131

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ قَطَنِ بْنِ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْعِيَافَةُ، وَالطِّيَرَةُ، وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الطَّرْقُ التَّنْجِيمُ، وَالطَّرْقُ اللَّعِبُ بِالْحِجَارَةِ لِلْأَصْنَامِ»

حضرت قبیصہ بن مخارق ب بیان کرتےہیں ،میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشادفرماتےہوئے سنا ہے :

أَبُو حَاتِمٍ: «الطَّرْقُ التَّنْجِيمُ، وَالطَّرْقُ اللَّعِبُ بِالْحِجَارَةِ لِلْأَصْنَامِ» ← «الْعِيَافَةُ، وَالطِّيَرَةُ، وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← قَطَنِ بْنِ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ، ← حَيَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ أَبِي الْعَلَاءِ، ← عَوْفٌ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Stars and the Nucleus › The Book of the Stars and the Nucleus · Hadith 6131

صیح ابن حبان · کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ ‹ کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ · حديث 6132

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ » قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ»

حضرت زید بن خالد جہنمی ؓ بیان کرتےہیں :حدیبیہ میں نبی اکرمﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی گزشتہ رات بارش ہوچکی تھی نبی اکرمﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ،تو آپ ﷺ نے لوگوں کی طرف توجہ کی اور فرمایاکیاتم لوگ یہ بات جانتےہو تمہارے پروردگار نےکیا ارشاد فرمایاہے۔ لوگوں نےعرض کی :اللہ اوراس کے رسول بہتر جانتےہیں ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان رکھنے والے ہیں کچھ میرا کفر کرنے والے ہیں جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کی انکار کرتا ہے اور جو شخص یہ کہتاہے کہ فلاں اورفلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے ، تووہ میرا انکار کرتا ہے اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Stars and the Nucleus › The Book of the Stars and the Nucleus · Hadith 6132

صیح ابن حبان · کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ ‹ کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ · حديث 6133

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:504] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "عدوی ،ہامہ ، صفر اور نوء کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ، [ص:184] ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Stars and the Nucleus › The Book of the Stars and the Nucleus · Hadith 6133

صیح ابن حبان · کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ ‹ کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ · حديث 6134

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَفَاتِحُ الْعِلْمِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ، لَا يَعْلَمُ مَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا يَعْلَمُ مَتَى يَأْتِي الْمَطَرُ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا يَعْلَمُ مَتَى تَقُومُ السَّاعَةُ أَحَدٌ [ص:505] إِلَّا اللَّهُ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: "علم کی کنجیاں پانچ ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کوئی شخص یہ بات نہیں جانتا کہ رحم سے کیا نکلے گا بس اللہ جانتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا صرف اللہ جانتا ہے کوئی یہ نہیں جانت اکہ بارش کب ہوگی صرف اللہ جانتا ہے ۔ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کہاں مرے گا صرف اللہ جانتا ہے۔ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی صرف اللہ جانتاہے ۔"

النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← صَالِحُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Stars and the Nucleus › The Book of the Stars and the Nucleus · Hadith 6134

صیح ابن حبان · کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ ‹ کِتَابُ النُّجُومِ وَالاَنوَاءِ · حديث 6135

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: مُطِرْنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَسَرَ عَنْ ثَوْبِهِ لِلْمَطَرِ، قُلْنَا: لِمَ صَنَعْتَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں :ہم پر بارش نازل ہوئی ہم اس وقت نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے ، تو نبی اکرم ﷺ نے بارش کےلیے اپنا کپڑا ہٹادیا ،،تو ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! آپﷺ نے ایسا کیوں کیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:کیونکہ یہ پروردگار کی بارگاہ سے آرہی ہے۔

ثَوْبِهِ لِلْمَطَرِ، قُلْنَا: لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ← مُطِرْنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَحَسَرَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Stars and the Nucleus › The Book of the Stars and the Nucleus · Hadith 6135

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr