Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5386

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ، قَالَ: «خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَجَعَ مِنْ سَفَرِهِ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ قَدِ انْتَبِذُوا نَبِيذًا فِي حَنَاتِمَ وَنَقِيرٍ وَدُبَّاءٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُهْرِيقَتْ، ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَاءٍ فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ، فَكَانَ يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصْبِحُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الَّتِي تُسْتَقْبَلُ، وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى يُمْسِيَ، فَإِذَا [ص:209] أَمْسَى شَرِبَ وَسَقَى، فَإِذَا أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کےبارے میں یہ بات منقول ہے کچھ لوگ ان کے پاس آئے ان سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بتایا نبی اکرمﷺ سفر پر تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ جب آپﷺ واپس تشریف لائے ‘ تو آپﷺ کےاصحاب میں سے کچھ لوگوں نے حنتم نقیر اور دباء نامی مخصوص قسم کے برتنوں میں نبیذ تیار کی۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اسے بہا دیا گیا پھر نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈالا گیا اور نبی اکرمﷺ کے لئے رات کے وقت نبیذ تیارکی گئی اگلے دن کی صبح آپ نے اسے پی لیا اس کے بعد اگلی رات آئی۔ اس کے بعد اگلا د ن آیا‘ یہاں تک کہ جب اس کی شام آئی ‘ تو آپﷺ نے اسےپیا اور لوگوں کو بھی پلایا اس کے اگلے د ن آپﷺ کے حکم کے تحت صبح کے وقت اس نبیذ کو بہا دیا گیا۔

النَّبِيذِ ← جَاءَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5386

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5387

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُنْبَذُ لَهُ فِيهِ نُبِذَ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ «

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کو جب نبیذ تیار کرنے کےلئے کوئی چیز نہیں ملتی تھی ‘ تو آپﷺ کے لئے پتھر سے بنے ہوئے پیالے میں نبیذ تیار کر لی جاتی تھی۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 5387

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5388

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، سَمِعَ عُمَرَ عَلَى الْمِنْبَرِ، مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهِيَ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عمرؓ کو نبی اکرمﷺ کے منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ’’ اما بعد ! اے لوگوں جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی۔ انگور ، کھجور،شہد ،گندم اور جَو اور ویسے خمر ہر اس چیز کو کہتے ہیں: جو عقل کو ڈھانپ لے۔

عُمَرَ عَلَى الْمِنْبَرِ، مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5388

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5389

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى جَانِبِهِ مَاءٌ فِي رَكِيٍّ، فَقَالَ: «أَعِنْدَكُمْ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ، وَإِلَّا كَرَعْنَا فِي هَذَا» فَأُتِيَ بِمَاءٍ وَحُلِبَ لَهُ عَلَيْهِ فَشَرِبَ، ثُمَّ قَالَ لِي [ص:211] إِسْمَاعِيلُ: هُنَاكَ فُلَيْحٌ اذْهَبْ فَاسْمَعْهُ مِنْهُ، فَلَقِيتُ فُلَيْحًا، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ، كَمَا حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «إِسْمَاعِيلُ هَذَا هُوَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، لَمْ نَذْكُرْهُ فِي كِتَابِنَا هَذَا فِي هَذَا الْمَوْضِعِ احْتِجَاجًا مِنَّا بِهِ، وَاعْتِمَادُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ عَلَى مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مُزَاحِمٍ؛ لِأَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ فُلَيْحٍ وَإِسْمَاعِيلَ، قَدْ ذَكَرْنَا السَّبَبَ فِي تَرْكِهِ فِي كِتَابِ الْمَجْرُوحِينَ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ایک انصار شخص کو بلایا جس کے پہلو میں پانی کا مشکیزہ تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس ایسا پانی ہے ‘جو رات سے مشکیزے میں رہا ہو ورنہ ہم ( اس بہتے ہوئے پانی میں سے ) پی لیتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ کی خدمت می پانی پیش کیا گیا جس میں دودھ ملایا گیا تھا‘ تو نبی اکرمﷺ نے اسے پی لیا۔ منصور نامی راوی کہتے ہیں : اس کے بعد اسماعیل نامی راوی نے مجھ سے کہا فلیح نامی راوی یہاں آئے ہوئے ہیں۔ تم جا کر ان سے یہ حدیث سن لو منصور کہتے ہیں ‘ تو میری ملاقات فلیح سے ہوئی۔ میں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا‘ تو انہوں نے بھی یہ حدیث اسی طرح سنائی جس طرح اسماعیل نے سنائی تھی۔ ( امام ان حبانؒ فرماتے ہیں : ) اسماعیل نارمی راوی اسماعیل بن عیاش ہیں۔ ہم نے اپنی کتاب میں صرف اس جگہ ذکر کیا ہے ‘ تاکہ اس کے ذریعے استدلال کیا جائے ورنہ اس روایت میں ہمارا اعتماد منصور بن ابو مزاحم نامی راوی پر ہے کیونکہ انہوں نے اس حدیث کو فلیح اور اسماعیل دونوں سے سنا ہے اور ہم نے اسماعیل کو متروک قرار دینے کی وجہ کتاب المجرو حین میں بیان کر دی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَلْخِيُّ،

Hadith 5389

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5390

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ*، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَزَلَ بِنَا وَنَحْنُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَفَدَّاهُ بِالْأَبِ وَالْأُمِّ، وَقَالَ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ [ص:213] لِي فَدَمَعَتْ عَيْنِي رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ، وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا»

ابن بریدہ اپنےوالد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ آپ نے ہمارے ساتھ ایک جگہ پڑاؤ کیا، ہم ایک ہزار کے قریب سوار تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے‘ تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ حضرت عمرؓ آپ کے سامنے کھڑے ہوئے انہوں نے اپنے ماں باپ کو آپ پر قربان کیا۔ عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ کو کیا ہوا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں نے اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی ۔ مجھے اجازت نہیں ملی‘ تو ان کے ساتھ رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ ان کے جہنم میں ہونے کی وجہ سے ‘ میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا۔ قبروں کی زیارت کرنے سے اب تم ان کی زیارت کیا کرو کیونکہ قبروں کی زیارت بھلائی میں اضافہ کرے گی۔ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیارہ رکھنے سے منع کیا تھا۔ اب تم‘ جب تک چاہوں اسے روک کے رکھو میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں میں مشروب پینے سے منع کیا تھا اب تم جس طرح کے برتن میں چاہو مشروب پیو۔ البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پینا ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 5390

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5391

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا [ص:214] لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلَّهَا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا»

ابن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیاتھا اب تمہیں جتنا مناسب لگے اسے اپنے پاس روک کے رکھو اور میں نے تمہیں صرف مشکیزے میں نبیذ کی اجازت دی تھی اب تم ہر طرح کے مشکیزے میں پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز کو نہ پینا‘‘۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← ضِرَارِ بْنِ مُرَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 5391

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5392

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ وَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ، اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِنِي» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْقِنِي» فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْتَقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ: «اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ» ثُمَّ قَالَ: «لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى [ص:215] هَذِهِ» وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ پانی پلانے والے کے پاس آئےآپ نے پانی طلب کیا ‘ تو حضرت عباسؓ نے ( اپنے صاحب زادے کو ) فرمایا : اے فضل تم اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور ان کے پاس سے نبی اکرمﷺ کے لئے کوئی مشروب لے کر آؤ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا :مجھے کچھ پینے کےلئے دو پھر نبی اکرمﷺ نے اسے پی لیا پھر آپﷺ زم زم کے پاس تشریف لائے لوگ پانی صاحل کر رہے تھے اور وہاں کام کر رہے تھے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لو گ کام کرتے رہو تم ایک نیک کام کر رہے ہو پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ ہجوم زیادہ ہو جائے گا ‘ تو میں بھی نیچے اترتا ‘ یہاں تک کہ میں ( پانی نکالنے والے ڈول کی) رسی کو یہاں رکھتا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنےکندھے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطَ،

Hadith 5392

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5393

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ سے بتع (مخصوص قسم کی شراب) کے بارے میں دریافت کیا گیا‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:ہر وہ مشروب جو نشہ کرے دے حرام ہے۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 5393

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5394

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقَدْ سَقَيْتُ بِقَدَحِي هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ وَالْمَاءَ وَالْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ «

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے اس پیالے کے ذریعے نبی اکرمﷺ کو دودھ اور پانی اور شہد اور نبیذ پلائی ہیں۔

لَقَدْ سَقَيْتُ بِقَدَحِي هَذَا رَسُولَ اللَّهِ اللَّبَنَ وَالْمَاءَ وَالْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5394

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5395

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: «لَمَّا عَرَّسَ أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، ثُمَّ صَنَعَ لَهُمْ طَعَامًا، وَمَا قَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ إِلَّا امْرَأَتُهُ أُمُّ أُسَيْدٍ، وَبَلَّتْ تُمَيْرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ بِهِ، فَسَقَتْهُ تَخُصُّهُ بِذَلِكِ»

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں :جب حضرت ابو اسید ساعدیؓ کی شادی ہوئی ‘ تو انہوں نے نبی اکرمﷺ اور آپﷺ کے اصحاب کی دعوت کی پھر انہوں نے نبی اکرمﷺ کے لئےکھانا تیار کرویا۔ حضرت ابو اسیدؓ کی اہلیہ سیدہ ام اسید ؓ نے لوگوں کے سامنے کھانا پیش کیا انہوں نے پتھر کے برتن میں رات سے ہی کچھ کھجوریں بھگوئی ہوئی تھیں‘ جب نبی اکرمﷺ ( کھانا کھا کر ) فارغ ہوئے‘ تو وہ خاتون اس مشروب کو لے کر آئی اوربطور خاص نبی اکرمﷺ کو وہ مشروب پلایا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 5395

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5396

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ التَّاجِرُ، بِمَرْوَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَيَشْرَبُهُ [ص:219] أَوَّلَ يَوْمٍ وَالثَّانِي وَالثَّالِثَ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے لئے پتھر کے پیالے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی۔ آپ پہلے دن دوسرے دن اور تیسرے دن دوپہر تک اسے پیتے تھے ( اس کے بعد ضائع کر دیتے تھے کیونکہ اس میں جوش آجاتا تھا)

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُبَيْدُ بْنُ عَقِيلٍ، ← أَبُو دَاوُدَ السِّنْجِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ التَّاجِرُ، بِمَرْوَ،

Hadith 5396

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5397

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ہر وہ مشروب جا نشہ کر دے وہ حرام ہے‘‘۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5397

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr