صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5386
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ عَنِ النَّبِيذِ، قَالَ: «خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَجَعَ مِنْ سَفَرِهِ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ قَدِ انْتَبِذُوا نَبِيذًا فِي حَنَاتِمَ وَنَقِيرٍ وَدُبَّاءٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُهْرِيقَتْ، ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَاءٍ فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَاءٌ، فَكَانَ يُنْبَذُ لَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُصْبِحُ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ الَّتِي تُسْتَقْبَلُ، وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى يُمْسِيَ، فَإِذَا [ص:209] أَمْسَى شَرِبَ وَسَقَى، فَإِذَا أَصْبَحَ مِنْهُ شَيْءٌ أَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ»
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کےبارے میں یہ بات منقول ہے کچھ لوگ ان کے پاس آئے ان سے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بتایا نبی اکرمﷺ سفر پر تشریف لے گئے ہوئے تھے۔ جب آپﷺ واپس تشریف لائے ‘ تو آپﷺ کےاصحاب میں سے کچھ لوگوں نے حنتم نقیر اور دباء نامی مخصوص قسم کے برتنوں میں نبیذ تیار کی۔ نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت اسے بہا دیا گیا پھر نبی اکرمﷺ کے حکم کے تحت مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈالا گیا اور نبی اکرمﷺ کے لئے رات کے وقت نبیذ تیارکی گئی اگلے دن کی صبح آپ نے اسے پی لیا اس کے بعد اگلی رات آئی۔ اس کے بعد اگلا د ن آیا‘ یہاں تک کہ جب اس کی شام آئی ‘ تو آپﷺ نے اسےپیا اور لوگوں کو بھی پلایا اس کے اگلے د ن آپﷺ کے حکم کے تحت صبح کے وقت اس نبیذ کو بہا دیا گیا۔
النَّبِيذِ ← جَاءَهُ قَوْمٌ فَسَأَلُوهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ النَّخَعِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 5386
