Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5362

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، [ص:185] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَكُنْتُ أَصْغَرَهُمْ سِنًّا، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، قَالُوا: يَا أَنَسُ اكْفَأْهَا، قَالَ: فَكَفَأْتُهَا» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَقُلْتُ: مَا كَانَتْ؟ قَالَ: بُسْرًا وَرُطَبًا، قَالَ: وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : میں اپنے چچاؤں کو فضیخ پلا رہا تھا کیونکہ میں عمر میں ان میں سب سے کم سن تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ‘ تو انہوں نے کہا: اے انس ! اسے گراد و ‘ تو میں نے اسے گراد یا۔ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا وہ شراب کس چیز کی بنائی جاتی تھی ۔ حضرت انس نے جواب دیا: خشک اور تازہ کھجوروں کی۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابو بکر بن انس نے یہ بات بیان کی ان دنوں شراب اسی چیز سے بنائی جاتی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5362

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5363

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا عُبَيْدَةَ وَكَعْبًا وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ نَبِيذَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ حَتَّى أَسْرَعَتْ فِيهِمْ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي: أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا انْتَظَرُوا أَنْ يَعْلَمُوا أَحَقًّا قَالَ أَمْ بَاطِلًا، فَقَالُوا: اكْفَأْ يَا أَنَسُ، قَالَ: فَكَفَأْتُهُ، فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ إِلَى رُءُوسِهِمْ حَتَّى لَقُوا اللَّهَ وَكَانَ خَمْرَهُمُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ»

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں :میں حضرت ابو طلحہؓ حضرت ابو عبیدہ ؓ حضرت کعب ؓ حضرت سہیل بن بیضاء ؓ کو خشک اور تازہ کھجور سے بنی ہوئی نبض پلا رہا تھا۔ اسی دوران ایک منادی نے یہ اعلان کیا خبر دار شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں :اللہ کی قسم انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ وہ پہلے اس بات کی تحقیق کر لیں کہ یہ بات درست ہے یا غلط ہے۔ ان لوگوں نے کہا: اے انس! اسے بہا دو ‘ تو میں نے اسے بہا دیا۔ اللہ کی قسم اس کے بعد یہ حضرات مرتے دم تک دوبارہ کبھی شراب کی طرف نہیں گئے۔ ان دنوں شراب خشک اور تازہ کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ وَثَابِتٌ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5363

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5364

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَأَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ، فَجَاءَهُمْ آتٍ، فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: قُمْ يَا أَنَسُ إِلَى هَذِهِ الْجِرَارِ فَاكْسِرْهَا، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ «

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں :میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ حضرت اُبی بن کعبؓ حضرت ابو طلحہ انصاریؓ کو فضیخ نامی شراب پلا رہا تھا۔ اس دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ‘تو حضرت ابو طلحہ نے فرمایا: اے انس تم اس مٹکے کے پاس جاؤ اور اسے توڑ دو۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں : میں اٹھ کر اپنے بیلچے کے پا س آیا میں نے وہ اس مٹکے کے نیچے مارا اور اسے توڑ دیا۔

فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ ← أَبُو طَلْحَةَ: قُمْ يَا أَنَسُ إِلَى هَذِهِ الْجِرَارِ فَاكْسِرْهَا، ← إن الخمر قد حرمت. ← أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ، فَجَاءَهُمْ آتٍ، ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5364

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5365

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ، وَالْجَرِّ الْأَبْيَضِ، وَالْجَرِّ الْأَحْمَرِ، فَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي الْجَرِّ، وَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ» قَالُوا: فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الْأَسْقِيَةِ؟ قَالَ: «وَإِنِ اشْتَدَّ فِي الْأَسْقِيَةِ فَصُبُّوا عَلَيْهَا الْمَاءَ» قَالُوا: فَإِنِ اشْتَدَّ؟ قَالَ: «فَأَهْرِيقُوهُ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا حَرَّمَ عَلَيَّ، أَوْ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْكُوبَةَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» [ص:188] قَالَ سُفْيَانُ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ: مَا الْكُوبَةُ؟ قَالَ: الطَّبْلُ

قیس بن حبتر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے سبز گھڑے سفید گھڑے اور سرخ گھڑے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا: اس بارے میں سب سے پہلے عبد القیس قبیلے کے وفد نے نبی اکرمﷺ سے دریافت کیا تھا: تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ دباء ، مزفت اور حنتم ( نامی برتنوں ) میں نہ پیو اور تم مٹکے میں نہ پیو تم مشکیزوں میں پی لیا کرو۔ لوگوں نے عرض کی: اگر مشکیزے میں موجود ( نبیذ میں ) شدت آ جائے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اگر مشکیزے میں موجود مشروب میں شدت آ جاتی ہے ‘ تو تم اس پر پانی ڈال لو۔ انہوں نے عرض کی: اگر پھر بھی شدت رہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر تم اسے بہا دو پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ پ حرام قرار دیا ہے ۔ (راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں) اللہ تعالیٰ نے شراب جوے اور کوبہ کو حرام قرارددیا ہے اور ہر نشہ آور چیز بھی حرام ہے۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کہا کو بہ سے مراد کیا ہے انہوں نے کہا: ڈھول۔

سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ← قيس بن حبتر ← عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5365

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5366

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلَّافُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ مِنْهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَفْظُ الْخَبَرِ لِأَبِي كَامِلٍ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے‘ جو شخص دنیا میں خمر پئے گا اور مر جائے گا ‘ جبکہ وہ اسے باقاعدگی سے پیتا ہو اور اس نے اس سے توبہ نہ کی ہو‘ تو وہ آخرت میں اسے نہیں پی سکے گا‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) روایت کے الفاظ ابو کامل کے نقل کردہ ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← إبراهيم بن الحسن العلاف ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5366

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5367

حَدَّثَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ*، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُمُ الصَّلَاةَ وَالسُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لَنَا شَرَابًا نَصْنَعُهُ مِنَ الْقَمْحِ وَالشَّعِيرِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْغُبَيْرَاءُ؟ » قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «لَا تَطْعَمُوهُ» فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ يَوْمَيْنِ ذِكْرُوهُمَا لَهُ أَيْضًا، فَقَالَ: «الْغُبَيْرَاءُ؟ » قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «لَا تَطْعَمُوهُ» فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْطَلِقُوا سَأَلُوهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «الْغُبَيْرَاءُ؟ » قَالُوا: نَعَمْ؟ قَالَ: «فَلَا تَطْعَمُوهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ حَلِيفُ الْأَوْسِ مِنْ جِلَّةِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَأَبَا هُرَيْرَةَ وَأُمَّ حَبِيبَةَ»

نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ اُم حبیبہؓ بیان کرتی ہیں:یمن سے تعلق رکھنے والےکچھ لوگ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں نماز سنتوں اور فرائض کی تعلیم دی۔ ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ہمارے ہاں ایک مشروب ہے ‘جسے ہم گندم اور جو سے بناتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا غبیراء ( کے بارے میں تم پوچھنا چاہتے ہو ) ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ دو دن کے بعد پھر انہوں نے نبی اکرمﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ فرمایا: غبیراء ( کےبارے میں دریافت کرنا چاہتے ہو ) انہوں نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ۔ جب ان لوگوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا ‘تو انہوں نے پھر نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ‘تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ( غبیراء کےبارے میں دریافت کرنا چاہتے ہو ) ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے نہ کھاؤ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) عمر بن حکم نامی راوی عمر بن حکم بن ثوبان ہیں جو اوس قبیلے کے حلیف ہیں اور اہل مدینہ کے جلیل القدر افراد میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ حضرت ابو ہریرہؓ اور سیدہ اُمّ حبیبہ ؓ سے احادیث کا سماع کیا ہے۔

أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْحَكَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5367

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5368

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز خمر ہے‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5368

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5369

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ [ص:192] النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز خمر ہے‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ [ص:192] النَّرْسِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5369

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5370

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَلِيلِ مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ

عامر بن سعد اپنے والد( حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اس چیز کے تھوڑے استعمال سے بھی منع کیاہے ‘ جس کی زیادہ مقدار نشہ کر دے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5370

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5371

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ، تَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ سے بتع ( نامی مخصوص قسم کا شراب ) کے بارے میں دریافت کیاگیا ‘ تو آپﷺ نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ کر دے وہ حرام ہے۔

الْبِتْعِ، فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ» ← عَائِشَةَ، تَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٌ، وَيُونُسُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5371

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5372

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، [ص:194] عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ، فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ سے بتع ( مخصوص قسم کی شراب ) کےبارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو آپﷺ نے ارشادفرمایا: ہر وہ مشروب جو نشہ کر دے وہ حرام ہے۔

الْبِتْعِ، فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ حَرَامٌ» ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ، [ص:348] ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5372

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5373

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُمَا: «بَشِّرَا وَيَسِّرَا، وَعَلِّمَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا» فَلَمَّا وَلَّى مُعَاذٌ رَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهُمْ شَرَابًا مِنَ الْعِنَبِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعْقِدَ، وَالْمِزْرُ يُصْنَعُ مِنَ الشَّعِيرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مَا أَسْكَرَ عَنِ الصَّلَاةِ فَهُوَ حَرَامٌ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «غَرِيبٌ غَرِيبٌ»

سعید بن بردہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے انہیں اور حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا۔ آپ ﷺ نے ان دونوں حضرات سے فرمایا تم دونوں خوشخبری سناتا اور آسانی فراہم کرنا تم دونوں تعلیم دینا اور متنفر کرنے کی کوشش نہ کرنا اور تم ایک دوسرے کے ساتھ رہنا جب حضرت معاذ مڑکر چلے گئے ‘ تو حضر ت ابو موسیٰ اشعری واپس آئے۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ وہاں انگور سے ایک شراب بنائی جاتی ہے ‘جسے پکا لیا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جاتی ہے اور مزر ہے ‘ جسے جو سے بنایا جاتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہو وہ چیز جو نماز سے نشہ کر دے ‘ وہ حرام ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ روایت غریب غریب ( یعنی انتہائی زیادہ غریب ) ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَهُ مِنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5373

chevron_left Previous
1…456…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr