Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5350

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، [ص:173] عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: «مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُهَا، قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَكَيْفَ بِأَصْحَابِنَا الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا؟ فَنَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ}» [المائدة: 93]

حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ ایسی حالت میں فوت ہو گئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے عرض کی۔ ہمارے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا ‘ جو ایسی حالت میں فوت ہو گئے کہ وہ شراب پیاکرتے تھے ‘ تو یہ آیت نال ہوئی: ’’ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ایسے لوگوں پر کوئی گناہ نہیں ہو گا۔ اس چیز کے بارے میں ‘ جو وہ کھاتے پیتے رہے‘ جبکہ انہوں نے پرہیز گاری اختیارکی اور وہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ‘‘۔

«مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَلَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُهَا، ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ، [ص:143] ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5350

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5351

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، [ص:174] عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: «مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَلَمَّا حُرِّمَتْ قَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ بِأَصْحَابِنَا مَاتُوا وَهُمْ يَشْرَبُونَهَا؟ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا}» [المائدة: 93]

حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ کے کچھ اصحاب ایسے عالم میں فوت ہوئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے جب شراب کو حرام قرار دیا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ کے کچھ اصحاب نےعرض کی: ہمارے ا ن ساتھیوں کا کیابنے گا ‘ جو ایسی حالت میں فوت ہو ئے کہ وہ شراب پیا کرتے تھے ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی: ’’جو لو گ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ا ن پر اس حوالے سے کوئی گناہ نہیں ہو گا ‘ جو وہ کھا تے پیتے رہے‘‘۔

«مَاتَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ، فَلَمَّا حُرِّمَتْ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، [ص:174] ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 5351

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5352

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهَا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، فَقَالُوا: اكْفَأْهَا، فَكَفَأْتُهَا «فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ؟ قَالَ: الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: میں اپنے محلے میں اپنے چچاؤں کو ( شراب پلا رہا تھا ) میں وہاں سب سےکم سن تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ میں وہاں کھڑا ہوا ان لوگوں کو فضیخ ( نامی شراب) پلا رہا تھا ۔ ان حضرات نے کہا: اسے گرا دو میں نے اسے گرا دیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت انسؓ سے دریافت کیا وہ کس چیز کی شرب ہوتی تھی ؟ انہوں نے فرمایا: خشک اور تازہ کھجوروں سے بنی ہوئی۔ ابو بکر بن انس بیان کرتے ہیں: اس زمانے میں ان لوگوں کی شراب اسی چیز کی ہوتی تھی ‘تو حضرت انس بن مالکؓ نے ان کی اس بات کا انکار نہیں کیا۔

الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، ← اكْفَأْهَا، فَكَفَأْتُهَا «فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ؟ ← قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، ← إِنَّهَا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ← أَصْغَرُهُمْ سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ← قَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ ← بَيْنَمَا ← سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5352

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5353

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ: مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَمَا خَامَرَ الْعَقْلَ فَهُوَ خَمْرٌ»، ثَلَاثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ: الْجَدُّ، [ص:176] وَالْكَلَالَةُ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمرؓ کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اے لوگوں ! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا اس وقت یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی انگور ، شہد ، گندم اور جو ، جو بھی چیز عقل کو ڈھانپ لے وہ خمر ہے تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرمﷺ ہمیں اس بارے میں زیادہ واضح طور پر بتا دیتے۔ ( وراثت کا مسئلہ) کلالہ کا مسئلہ اور سود کی کچھ صورتیں۔

عُمَرَ، عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 5353

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5354

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5354

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5355

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، وَعِدَّةٌ قَالُوا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُمْ صَلَاةً، وَلَا يَرْفَعُ لَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ حَسَنَةً: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَوَالِيهِ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي أَيْدِيهِمْ، وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا حَتَّى يَرْضَى، وَالسَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُوَ»

حضرت جابر بن عبد اللہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ تین لوگ ایسے ہیں جن کی نماز اللہ تعالیٰ قبو ل نہیں کرے گا اور ان کی کوئی نیکی آسمان کی طرف بلند نہیں ہو گی۔ وہ مفرور غلام ‘ جب تک ہو اپنے آقا کے پاس واپس نہیں آ جاتا اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں نہیں دے دیتا۔ وہ عورت جس کا شوہر اس سے ناراض ہو ‘ جب تک اس کا شوہر راضی نہیں ہو جاتا اور نشے کا شکار شخص ‘ جب تک اس کا نشہ ختم نہیں ہوتا‘‘۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، وَعِدَّةٌ

Hadith 5355

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5356

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ [ص:179] مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزَّبَادِيُّ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ سَعِيدٍ التُّجِيبِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: «يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الْخَمْرَ وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا، وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ، وَشَارِبَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَسَاقِيَهَا وَمُسْقَاهَا»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں: حضرت جبرائیل ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے عرض کی: اے حضرت محمد ؓ بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب پر ‘ اسے نچوڑنے والے پر ‘ اسے نچڑوانے والے پر ‘ اسے اٹھانے والے پر جس کے لئے اٹھا کر لے جائی جا رہی ہے اس پر ‘ اسے پینے والے پر ‘ اسے فروخت کرنے والے پر ‘ اسے خریدنے والے پر ‘ اسے پلانے والے پر اور جسے وہ پلائی جا رہی ہے ‘ اس پر لعنت کی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَنَّهُ ← مَالِكُ بْنُ خَيْرٍ الزَّبَادِيُّ، أَنَّ مَالِكَ بْنَ سَعِيدٍ التُّجِيبِيَّ، ← حَيْوَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ [ص:179] مَوْهَبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 5356

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5357

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ فَشَرِبَ فَسَكِرَ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، فَإِنْ مَاتَ دَخَلَ النَّارَ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ الرَّابِعَةَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: «عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ»

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص شراب پئے اور نشے میں آ جائے چالیس د ن تک اس کی نماز قبو ل نہیں ہوتی اگر وہ ( اسی دوران) مر جائے‘ تو جہنم میں داخل ہو گا اور اگر وہ توبہ کر لے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔ اگر وہ دوبارہ ایسا کرے اور شراب پی کر نشے میں آ جائے ‘تو اس کی چالیس دن تک نماز قبو ل نہیں ہو گی اور اگر وہ ( اسی عالم میں ) مر گیا ‘ تو ( جہنم میں داخل ہو گا ) اگر پھر اس نے توبہ کر لی ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرے گا اور اگر پھر وہ ایساکرے اور شراب پی کر نشے میں آ جائے ‘ تو چالیس دن تک اس کی نماز قبو ل نہیں ہو گی اور اگر وہ ( اسی عالم میں ) مر گیا ‘ تو جہنم میں داخل ہو گا اور اگر اس نے توبہ کر لی‘ تو اللہ تعالیٰ اس کو توبہ کو قبول کرے گا اور اگر وہ چوتھی مرتبہ ایسا کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے ‘ قیامت کے دن اسے ’’ طینتہ الخبال ‘‘ پلائے۔ لوگوں نے عرض کی : طینتہ الخبال سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اہل جہنم ( کے خون اور پیپ وغیرہ) کا نچوڑ ‘‘۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 5357

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5358

أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو جَابِرٍ، بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْقَلَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ، وَهِيَ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ [ص:182] وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے نبی اکرمﷺ کے منبر پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا ء بیان کی‘ پھر یہ بات بیان کی: جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی۔ انگور، کھجور، شہد ، گندم اور جو ، ویسے خمر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے ‘ جو عقل کو ڈھانپ لے۔

ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَيَّانَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو جَابِرٍ،

Hadith 5358

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5359

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ: مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، ثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ: الْكَلَالَةُ وَالْجَدُّ، وَأَبْوَابٌ مِنْ [ص:183] أَبْوَابِ الرِّبَا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عمرؓ کو نبی اکرمﷺ کے منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ ’’ اما بعد اے لوگوں ! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی‘ انگور ، کھجور، شہد ، گندم اور جو ‘ ویسے خمر ہو وہ چیز ہے‘ تو عقل کو ڈھانپ لے۔ اے لوگوں ! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرمﷺ ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کے بارے میں زیادہ وضاحت سے بتا دیتے کلالہ،( وراثت میں ) دادا کا مسئلہ اور سود کی کچھ صورتیں۔

عمر على منبر رسول الله ← ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5359

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5360

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْدًا لِمَنْ شَرِبَ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم ہے ‘ جو شخص نشہ آور چیز کو پیتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے د ن اسے ’’ طینتہ الخبال ‘‘ پلائے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 5360

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5361

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَسُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ مِنْ شَرَابٍ حَتَّى كَادَ يَأْخُذُ فِيهِمْ، فَمَرَّ بِنَا مَارٌّ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَنَادَى أَلَا هَلْ شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا انْتَظَرُوا أَنْ أَمَرُونِيَ أَنِ اكْفَأْ مَا فِي آنِيَتِكَ، فَفَعَلْتُ، فَمَا عَادُوا فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى لَقُوا اللَّهَ، وَإِنَّهَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، وَإِنَّهَا لَخَمْرُنَا يَوْمَئِذٍ «

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ ، حضرت سہیل بن بیضاءؓ اور حضرت اُبی بن کعبؓ حضرت ابو طلحہؓ کے ہاں موجود تھے۔ میں ان حضرات کو شراب پلا رہا تھا۔ وہ حضرات اسے پی ہی رہے تھے اسی دوران وہا ں ایک مسلمان گزرا اور اس نے اعلان کیا ‘ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ شراب کو حرا م قرار دے دیا گیا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا( اور فوراً ) مجھے یہ ہدایت کی کہ تم اپنے برتن میں موجود شراب کو انڈیل دو ‘ تو میں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک انہوں نے کبھی شراب نہیں پی۔ اس زمانے میں شراب تازہ اور خشک کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ ان دنوں ہماری شراب یہی تھی۔

أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ ← سهيل بن بيضاء ← كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 5361

chevron_left Previous
12345…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr