صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ ذِکْرُ اِبَاحَۃِ الشُّرْبِ فِی الْاَقْدَاحِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ کَرِھَہُ مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ · حديث 5326
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي النَّزَّالُ بْنُ سَبْرَةَ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ عَلِيٍّ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الرَّحْبَةِ، قَالَ: فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَأَخَذَهُ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَدَمَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ، وَقَالَ: «هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ»
نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے حضرت علی ؓ کی اقتداء میں ظہر کی نماز ادا کی پھر ہم کھلے میدان میں آ گئے حضرت علیؓ نے برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا۔ انہوں نے اسے لیاکلی کی ناک میں پانی ڈالا اپنے چہرے اور دونوں بازو اپنےسر اور دنوں پاؤں پر ہاتھ پھیرا پھر انہوں نے بچے ہوئے پانی کو کھڑے ہو کر پی لیا پھر انہوں نے یہ بات بتائی: کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو نا پسند کرت ہیں ‘ حالانکہ نبی اکرمﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا جس طرح میں نے کیا ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: یہ اس شخص کا وضو ہے‘ جو بے وضو نہ ہوا ہو۔
النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Mentioning the permissibility of drinking in a blasphemy against the saying of those who hate it among the mystics · Hadith 5326
