Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6108

حَدَّثَنَاهُ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وهَيْبٌ، مِثْلَهُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول

وهَيْبٌ، مِثْلَهُ ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ، ← الثَّقَفِيُّ،

Hadith 6108

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6109

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ ہمیں یہ ہدایت کرتےتھے کہ ہم نظر لگنے کا دم کر دیا کریں ۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← معبد بن خالد، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ،

Hadith 6109

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6110

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ عِنْدَهُمْ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ: عِنْدَكَ شَيْءٌ تُدَاوِي هَذَا بِهِ؟ فَإِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ، فَبَرَأَ، فَأَعْطَاهُ مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلْ، فَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ»

خارجہ بن صلت تیمی اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتےہیں : وہ کسی قوم کے پاس سے گزرے جن میں ایک پاگل شخص تھا جسے لوہے میں باندھا گیا تھا ان میں سے کسی نےکہا:کیا اآپ کےپاس کوئی ایسی چیز ہے، جس کے ذریعے آپ اس کا علاج کرسکیں کیونکہ آپ کے ساتھی بھلائی لے کرآئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں :،تو میں تین دن تک اس پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا روزانہ میں دو مرتبہ اس کو دم کرتاتھا وہ ٹھیک ہوگیا، تو اس شخص نےانہیں ایک سو بکریاں دیں وہ نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ کےسامنے اس بات کا تذکرہ کیا ،تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:تم اسے کھا لو کیونکہ جو شخص باطل دم کے ذریعے کھاتا ہے (وہ ممنوع ہے) تم ، تو حق کےدم کے ذریعے کھانے لگے ہو۔

عَمِّہٖ ← خارجة بن الصلت} التميمي، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← يَزِيدُ: ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 6110

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6111

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِهِ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ عِنْدَهُمْ رَجُلٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ أَهْلُهُ: إِنَّهُ قَدْ حُدِّثْنَا أَنَّ مَلِكَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ، فَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تَرْقِيهِ؟ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ، فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «خُذْهَا، فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْهَا» أَرَادَ بِهِ جَوَازَ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَأْخُوذِ، مَعَ جَوَازِ اسْتِعْمَالِهِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ، لِأَنَّ الشَّاءَ أَخَذَهَا الرَّاقِي قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَأَلَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْهَا» أَرَادَ بِهِ جَوَازَ فِعْلِ الْمَاضِي وَالْمُسْتَقْبَلِ مَعًا، وَعَمُّ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عِلَاقَةُ بْنُ صُحَارٍ السَّلِيطِيُّ، وَسَلِيطٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ

خارجہ بن صلت تیمی اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتےہیں وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت سے واپس جارہے تھے ، تو ان کا گزر ایک قوم کےپاس سے ہوا جہاں ایک شخص لوہے میں باندھا ہو تھا اس کے ذریعے آپ اسے دم کر دیں میں نے اس شخص کو سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا وہ ٹھیک ہوگیا ان لوگوں نےمجھے ایک سو بکریاں دیں میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ﷺ نے فرمایا:اسے حاصل کرلو میری زندگی کی قسم جو شخص باطل دم کے ذریعے کھاتاہے (وہ غلط ہے) تم ، تو حق کےدم کے ذریعے کھارہے ہو۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں :) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : "تم اسے حاصل کرلو"اس کے ذریعے مراد یہ ہے ، جو چیز حاصل کی گئی ہے اسے جائز قرار دیا جائے اور مستقبل میں بھی ایسا کرنے کا جائز قرار دیا جائے کیونکہ دم کرنے والے صاحب نے دریافت کیا تھا ، تو نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایاانہیں حاصل کرلو اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ ماضی میں جو فعل کیا گیا وہ بھی جائز ہے اور اگر آئندہ کیا جائے ،تو وہ بھی جائز ہوگا۔ خارجہ بن صلت کے چچا کا نام حضرت علاقہ بن صحار سلیطی ہے اور سلیط بنو تمیم کی ایک شاخ ہے۔

عَمِّہٖ ← خارجة بن الصلت} التميمي، ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 6111

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6112

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى أَهْلِ أَبْيَاتٍ، فَاسْتَضَفْنَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُونَا، فَنَزَلُوا بِالْعَرَاءِ، فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ، فَأَتَوْنَا فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا أَرْقِي، قَالُوا: ارْقِ صَاحِبَنَا، قُلْتُ: لَا، قَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا، قَالُوا: فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكُمْ جُعْلًا، قَالَ: فَجَعَلُوا لِي ثَلَاثِينَ شَاةً، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ، وَأَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ حَتَّى بَرَأَ، فَأَخَذْنَا الشَّاءَ، فَقُلْنَا: نَأْخُذُهَا وَنَحْنُ لَا نُحْسِنُ [ص:477] نَرْقِي؟ فَمَا نَحْنُ بِالَّذِي نَأْكُلُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ: «وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ » قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا دَرَيْتُ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، شَيْءٌ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي نَفْسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا، وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرم ﷺ نےہمیں ایک مہم پر روانہ کیاہمارا گزر ایک بستی کے پاس سے ہو اہم نے انہیں مہمان نوازی کےلیے کہا ، تو انہوں نے ہماری مہمان نواز ی کرنے سے انکار کردیا ہم لوگوں نے آبادی سے باہر ایک جگہ پڑاؤ کیا ان لوگوں کے سردار کو کسی زہریلی چیز نےکاٹ لیا ہمارے پاس آئے انہوں نے کہا : کیا آپ کے درمیان کوئی ایسا شخص ہے،جو دم کرتا ہو میں نے کہا :جی ہاں میں دم کرتا ہوں ان لوگوں نےکہا :ہمارے ساتھی کو دم کر دیجئے میں نے کہا :جی نہیں ہم نے تمہیں مہمان نوازی کیلئے کہا تھا تم نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا تھا ان لوگوں نےکہا :ہم آپ کو اس کا معاوضہ دیں گے ۔ راوی کہتےہیں :،تو انہوں نے ہمیں تیس (30)بکریاں دینے کا معاہدہ کیا میں اس شخص کےپاس آیا میں نے اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور سورۃفاتحہ پڑھ کر دم کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ شخص ٹھیک ہوگیا ، تو ہم نے بکریاں حاصل کر لیں ہم نے سوچا کہ ہم نے بکریاں ،تو لےلی ہیں ، لیکن ہمیں باقاعدہ طور پر دم کرنا نہیں آتا اس لیے ہم ان بکریوں کو اس وقت تک نہیں کھائیں گے ، جب تک ان کے بارے میں نبی اکرمﷺ سے دریافت کیا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ سورہ فاتحہ کا دم بھی ہوتاہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے یہ، تو ایک چیز ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈال دی ،تو نبی اکرمﷺ نےفرمایا: تم اسے کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Hadith 6112

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6113

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَخِيهِ، مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سُلَيْمٌ لُدِغَ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ قَالَ: فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا، كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً، فَرَقَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ، فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا، وَسَقَوْهُ لَبَنًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا تُحَرِّكُوهُ حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ»

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتےہیں : ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ایک عورت ہمارے پاس آئی اور بولی اس قبیلے کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا ہے کیا تمہارے درمیان کوئی دم کرنے والا ہے۔ راوی کہتےہیں :،تو ہم میں سے ایک شخص اٹھ کر اس کے ساتھ چلا گیا ہم اس کے بارے میں یہ گمان کرتےتھے کہ یہ اچھا دم کرلیتا ہے اس نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا ، تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا ان لوگوں نےہمیں بکریاں دیں اور ہمیں دودھ بھی پلایا۔ راوی کہتےہیں :میں نے کہا :تم لوگ انہیں حرکت نہ دو،جب تک ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو جاتے پھر ہم نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ،تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا اسے کیسے پتہ چلا کہ اس سورت کا دم بھی ہوتا ہے تم لوگ ان کو تقسیم کرلو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔

نَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ، ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أخيه معبد بن سيرين ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 6113

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr