Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6096

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقِي: «امْسَحِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ، لَا كَاشِفَ إِلَّا أَنْتَ»

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ یہ دم کیا کرتےتھے ۔ "اے لوگوں کے پروردگار ،تو تکلیف کو دور کردے شفاء تیرے دست قدرت میں ہے اس تکلیف کو صرف ، تو ہی دور کر سکتا ہے۔"

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Hadith 6096

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6097

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، فَقِيلَ: [ص:464] يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ نَهَيْتَ عَنِ الرُّقَى؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرم ﷺ نے دم کرنے سے منع کیا عرض کی گئی یا رسول اللہ (ﷺ)! آپﷺ نے دم کرنے سے منع کردیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہو اسے ایسا کر لینا چاہئے۔

الرُّقَى، فَقِيلَ: [ص:464] ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 6097

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6098

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَامْرَأَةٌ تُعَالِجُهَا أَوْ تَرْقِيهَا، فَقَالَ: «عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَالِجِيهَا بِكِتَابِ اللَّهِ» أَرَادَ عَالِجِيهَا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ، لِأَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا يَرْقُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِأَشْيَاءَ فِيهَا شِرْكٌ، فَزَجَرَهُمْ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ عَنِ الرُّقَى، إِلَّا بِمَا يُبِيحُهُ كِتَابُ اللَّهِ دُونَ مَا يَكُونُ شِرْكًا

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ان کے ہاں آئے ،تو ایک خاتون سیدہ عائشہ ؓ کا علاج کر رہی تھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان پر دم کر رہی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں :) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : "تم اللہ کی کتاب کے مطابق اس کا علاج کرنا ، اس کے ذریعے آپﷺ کی مراد یہ تھی کہ تم ایسے طریقے سے اس کا علاج کرنا جسے اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو کیونکہ پہلے لوگ زمانہ جاہلیت میں ایسے الفاظ کےذریعے دم کیا کرتےتھے جن میں شرک پایا جاتا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان الفاظ میں دم کرنے سے ان لوگوں کو منع کر دیا ،البتہ جس چیز کو اللہ کی کتاب نے مباح قرار دیا ہو اور جس میں شرک نہ ہو اس کا حکم مختلف ہے۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 6098

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6099

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، بِبُسْتَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ يَدْعُو وَيَقُولُ: «أَذْهِبِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں کوئی بیمار لایا جاتا، تو آپﷺ یہ دع اکرتےتھے ۔ "اے لوگوں کے پروردگار ، تو تکلیف دور کردے ، تو شفاء عطا کردے ،تو ہی شفاء عطا کرنےوالا ہے شفاء صرف وہی ہے ، جو ، تو نے عطاکی ہو ، تو ایسی شفاء عطاکردے جو بیماری کو بالکل نہ رہنے دے ۔"

كَانَ النَّبِيُّ إِذَا أُتِيَ بِالْمَرِيضِ يَدْعُو ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ بِبُسْتَ،

Hadith 6099

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6100

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ دَوَاءً نَتَدَاوَى بِهِ، وَرُقًى نَسْتَرْقِي بِهَا، وَأَشْيَاءَ نَفْعَلُهَا، هَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ؟ قَالَ: «يَا كَعْبُ، بَلْ هِيَ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ» عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حِمْصِيٌّ ثِقَةٌ، وَلَيْسَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ الْمِصْرِيَّ»

عبداللہ بن کعب اپنے والد (حضر ت کعب بن مالک ؓ ) کےبارے میں یہ بات نقل کرتےہیں انہوں نےعرض کی:یا رسول اللہ (ﷺ)! اس بارے میں آپﷺ کی کیا رائے ہے کہ ہم جو دوااستعمال کرتےہیں ،یا جو دم کرتےہیں یا اس طرح کے دیگر کام کرتےہیں،تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر کو بدل دیتےہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے کعب بلکہ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کاحصہ ہے۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)عمرو بن حارث حمصی نامی راوی ثقہ ہے یہ عمروبن حارث مصری نہیں ہے۔

أَبِيهِ أَنَّهُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ1 ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ،

Hadith 6100

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6101

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَيْلَانَ، بِأَذَنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، لُوَيْنٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے سانپ اور بچھو کے کاٹنے پر دم کرنےکی اجازت دی ہے۔

«رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ» ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، لُوَيْنٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ غَيْلَانَ، بِأَذَنَةَ،

Hadith 6101

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6102

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ»

حضرت جابر بن عبداللہ ؓبیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے بنو عمرو بن عوف کو سانپ کے کاٹنےپر دم کرنے کی اجازت دی تھی۔

«رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ لِبَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي رُقْيَةِ الْحَيَّةِ» ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Hadith 6102

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6103

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ [ص:468] أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ نے انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ نظر لگنے کادم کر دیا کریں ۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← معبد بن خالد، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ [ص:261] أَبِي شَيْبَةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 6103

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6104

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ السِّنْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ، وَالنَّمْلَةِ، وَالْحُمَةِ»

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں:نبی اکرمﷺ نے نظر لگنے پر، چیونٹی کے کاٹنے پر، بھڑکے کاٹنے پر دم کرنے کی اجاز ت دی تھی۔

«رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ، وَالنَّمْلَةِ، وَالْحُمَةِ» ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← مُوسَى بْنُ السِّنْدِيِّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 6104

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6105

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ، فَنَزَعَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ، قَالَ: وَكَانَ [ص:470] سَهْلٌ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ، قَالَ: فَقَالَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، وَلَا جِلْدَ عَذْرَاءَ فَوعِكَ سَهْلٌ مَكَانَهُ، فَاشْتَدَّ وَعَكُهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ سَهْلًا وُعِكَ، وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ الَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَا بَرَّكْتَ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ، تَوَضَّأْ لَهُ»، فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ «

حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتےہیں:ایک مرتبہ میرے والد حضرت سہل بن حنیف ؓ نے خرار کے مقام پر غسل کیا انہوں نے اپنے جسم پر موجود جبہ اتارا،تو عامر بن ربیعہ نے انہیں دیکھ لیا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت سہل ؓ گورے چٹے شخص تھے ان کی جلد بہت خوبصورت تھی عامر بن ربیعہ نے کہا :میں نے آج جو (خوبصورت جلد )دیکھی ہے اس طرح کی جلد ، تو کسی کنواری لڑکی کی بھی نہیں ہوتی ، تو حضرت سہل ؓ اسی جگہ بیمار ہوگئے ان کو تیز بخار ہوگیا وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرمﷺ کو بتایا: حضرت سہل ؓ کو بخار ہو گیا ہے یا رسول اللہ (ﷺ)! وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے قابل بھی نہیں ہیں ۔ نبی اکرمﷺ ان کےہاں تشریف لائے۔ حضرت سہل ؓ نے انہیں عامر بن ربیعہ والے واقعہ کے بارے میں بتایا، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:کوئی شخص کیوں اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا ہے کیا تمہیں پتہ نہیں ہے نظر لگنے حق ہے تم اس کےلیے وضو کرو۔ عامر بن ربیعہ نے ان کے لیے وضو کیا، تو حضرت سہلؓ نبی اکرمﷺ کے ہمراہ چلتے ہوئے آئے یوں جیسے انہیں کوئی تکلیف نہیں تھی (یعنی ان کی بیماری ختم ہوگئی )

عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ، ← اغْتَسَلَ أَبِي، سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ، ← أَبَاهُ أبا أمامة، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 6105

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6106

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ، بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ، [ص:471] حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، أَخَا بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ رَأَى سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرَّارِ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ قَالَ: فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، لَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ تَتَّهِمُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ » قَالُوا: نَعَمْ، عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ رَآهُ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَا تُبَرِّكُ؟ اغْتَسِلْ لَهُ» فَغَسَلَ لَهُ عَامِرٌ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ الرَّكْبِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ «[ص:472] قَالَ*: وَالْغُسْلُ أَنْ يُؤْتَى بِالْقَدَحِ، فَيُدْخِلَ الْغَاسِلُ كَفَّيْهِ جَمِيعًا فِيهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى، فَيَغْسِلُ صَدْرَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فَيَغْسِلُ ظَهْرَهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَغْسِلُ رُكْبَتَيْهِ، وَأَطْرَافَ أَصَابِعِهِ مِنْ ظَهْرِ الْقَدَمِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ بِالرِّجْلِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يُعْطِي ذَلِكَ الْإِنَاءَ [ص:473] قَبْلَ أَنْ يَضَعَهُ بِالْأَرْضِ الَّذِي أَصَابَهُ الْعَيْنُ، ثُمَّ يَمُجُّ فِيهِ، وَيَتَمَضْمَضُ وَيُهَرِيقُ عَلَى وَجْهِهِ، وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُكْفِيءُ الْقَدَحَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ»

حضرت ابو امامہ بن سہل ؓ بیان کرتےہیں :عامر بن ربیعہ جن کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا انہوں نے حضرت سہل بن حنیف ؓ کو دیکھا جو اس وقت نبی اکرمﷺ کے ہمراہ خرار کے مقام پر موجود تھے وہ غسل کرنے لگے ، تو عامر بن ربیعہ نے کہا :اللہ کی قسم!میں نے کسی پردہ نشین عورت کی بھی اتنی خوبصورت جلد نہیں دیکھی ،تو حضرت سہل ؓ اسی وقت بیمار ہو گئے انہیں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں لایا گیا عرض کی گئی یا رسول اللہ (ﷺ)!کیا آپ ﷺ سہل بن حنیف کا کچھ کریں گے یہ اپنا سربھی نہیں اٹھا رہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تم کسی پر الزام عائد کرتےہو ۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں عامر بن ربیعہ نے انہیں غسل کرتے دیکھا ،تو یہ کہا اللہ کی قسم ! میں نے ،تو کسی پردہ نشین عورت کی بھی اتنی اچھی جلد نہیں دیکھی ۔ نبی اکرمﷺ نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور ان پر ناراضگی کا اظہار کرتےہوئے فرمایا تم میں سے کوئی ایک کیوں اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا ہے کیاتم برکت کی دعا نہیں دے سکتے تھے تم اس کےلیے غسل کرو۔ عامر نے ان کےلیے غسل کیا ،تو حضرت سہل ؓ سواروں کے ساتھ روانہ ہوگئے یوں جیسے انہیں کو ئی تکلیف نہیں تھی (یعنی ان کی بیماری ختم ہوگئی) راوی بیان کرتے ہیں :غسل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پیالہ لایا جائے غسل کرنے والا شخص اپنے دونوں ہاتھ اس میں داخل کرے پھر وہ اپنے چہرے کو اس پیالے میں دھوئے (یعنی چہرے کو دھونے والا پانی دوبارہ پیالے میں گرے ) پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ اس میں داخل کرے اوراپنے سینے کو پیالے میں دھوئے وہ اپنا ہاتھ داخل کرے اور اپنی پشت کو دھوئے اپنا بایاں ہاتھ کرے پھر وہ برتن زمین پر رکھنے سے پہلے اس شخص کو دے جسے نظر لگی ہے پھر وہ اس میں کلی کرے اور اپنے چہرے پر وہ پانی ڈالے اور اپنے سر پر وہ بہائے اور پھر اپنی پشت کے پیچھے کی طرف اس پیالے کو الٹا دے

أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ،

Hadith 6106

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6107

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، صَاعِقَةُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا وهَيْبٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ، وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ، وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "نظر لگنا حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو تبدیل کر سکتی ، تو اسے تبدیل کر دیتی اور جب تم سے غسل کرنے کےلیے کہا جائے ، تو تم غسل کرلو (یعنی نظر کے اثرات دور کرنے کے لیے ایسا کرو)۔ "

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 6107

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr