Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6084

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ*، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ، فَرَأَيْتُ أُمَّتِي، فَأَعْجَبَتْنِي كَثْرَتُهُمْ وَهَيْئَتُهُمْ، قَدْ مَلَؤُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَرَضِيتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ أَيْ رَبِّ، قَالَ: وَمَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»، فَقَالَ عُكَّاشَةُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ»، ثُمَّ قَالَ رَجُلٌ آخَرُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "میرے سامنے مختلف امتوں کو پیش کیاگیا جب میں نے اپنی امت کو دیکھا ،تو ان کی کثرت اور ان کی حالت مجھے بہت اچھی لگی انہوں نے راستوں اور پہاڑوں کو بھردیاتھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محمد کیا تم راضی ہو میں نے عرض کی: جی ہاں اے میرے پروردگار ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ان کے ہمراہ ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو (زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق) جھاڑپھونک نہیں کرتے(علاج کے طور پر ) داغ نہیں لگواتے اور فال نہیں نکالتےاور وہ اپنے پروردگار پر توکل کرتےہیں ۔ حضرت عکاشہ ؓ نے عرض کی: آپﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ نبی اکرمﷺ نےدعاکی: اے اللہ ، تو اسے ان میں شامل کرلے پھر ایک اور صاحب نے عرض کی: آپﷺ اللہ تعالیٰ سے دعاکیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے ، تو نبی اکرم اﷺ نے ارشاد فرمایا:عکاشہ تم پر سبقت لےگیا ہے

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6084

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6085

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي يَدِ رَجُلٍ حَلَقَةً، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟ » قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ، قَالَ: «مَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا، انْبِذْهَا عَنْكَ، فَإِنَّكَ إِنْ تَمُتْ وَهِيَ عَلَيْكَ وُكِلْتَ عَلَيْهَا»

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں چھلادیکھا ،تو دریافت کیا یہ کس وجہ سے ہے اس نے بتایا یہ کمزوری کی وجہ سے ہے ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: یہ کمزوری میں صرف اضافہ کرے گا اسے تم اتار دو کیونکہ اگر تم ایسی حالت میں مر گئے کہ تم نے یہ پہنا ہوا ، تو پھر تمہیں اس کے سپرد کردیا جائےگا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6085

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6086

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُبَيْدٍ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ عَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ»

حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتےہیں ،میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے: "جو شخص (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق ) تعویذ لٹکائے،تو اللہ تعالیٰ اس کے (مقصد کو )پورا نہ کرے اور جو شخص (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق) کھاگہ لٹکائے اللہ تعالیٰ اس کو (پورا نہ کرے) "

رَسُولِ اللَّهِ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ أَنَّهُ ← حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ عُبَيْدٍ الْمَعَافِرِيَّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6086

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6087

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ»

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں :

«مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى، فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← اَبُوْ بَکْرِ بْنِ خَلَّادٍ الْبَاھِلِیُّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6087

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6088

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي [ص:454] عَضُدِهِ حَلَقَةٌ مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟ » قَالَ: مِنَ الْوَاهِنَةِ؟ قَالَ: أَيَسُرُّكَ أَنْ تُوكَلَ إِلَيْهَا؟ انْبِذْهَا عَنْكَ «

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتےہیں :وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے کلائی پر پیتل کا کڑا پہنا ہوا تھا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا یہ کس وجہ سے ہے انہوں نے عرض کی:کمزوری کی وجہ سے ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہیں اس کے سپرد کردیا جائے ؟ تم اسے اتار دو۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6088

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6089

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أَبِي الصَّهْبَاءِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ الْأَنْبِيَاءُ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَجِيءُ مَعَهُ الرَّجُلُ، وَيَجِيءُ مَعَهُ الرَّجُلَانِ، وَيَجِيءُ مَعَهُ النَّفَرُ كَذَلِكَ، حَتَّى رَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ قَوْمُ مُوسَى، ثُمَّ رَأَيْتُ [ص:455] سَوَادًا كَثِيرًا قَدْ سَدَّ أُفُقَ السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقِيلَ: هَؤُلَاءِ مِنْ أُمَّتِكَ، فَفَرِحْتُ بِذَلِكَ، وَسُرِرْتُ بِهِ، ثُمَّ قِيلَ: إِنَّهُ يَدْخُلُ بَعْدَ هَؤُلَاءِ مِنْ أُمَّتِكَ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ». ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَتَرَاجَعُوا، ثُمَّ أَجْمَعَ رَأْيُهُمْ أَنَّهُمْ مَنْ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ وَثَبَتَ فِيهِ، وَلَمْ يُدْرِكْ شَيْئًا مِنَ الشِّرْكِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ: «الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْعِلَّةُ فِي الزَّجْرِ عَنِ [ص:456] الِاكْتِوَاءِ، وَالِاسْتِرْقَاءِ هِيَ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يَسْتَعْمِلُونَهُمَا وَيَرَوْنَ الْبُرْءَ مِنْهُمَا مِنْ غَيْرِ صُنْعِ الْبَارِي جَلَّ وَعَلَا فِيهِ، فَإِذَا كَانَتْ هَذِهِ الْعِلَّةُ مَوْجُودَةً، كَانَ الزَّجْرُ عَنْهُمَا قَائِمًا، وَإِذَا اسْتَعْمَلَهُمَا الْمَرْءُ وَجَعَلَهُمَا سَبَبَيْنِ لِلْبُرْءِ الَّذِي يَكُونُ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ دُونَ أَنْ يَرَى ذَلِكَ مِنْهُمَا كَانَ ذَلِكَ جَائِزًا»

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء کو پیش کیا گیا ،تو کسی نبی کےساتھ ایک شخص تھا کسی نبی کے ساتھ دو شخص تھے کسی نبی کے ساتھ کچھ لوگ تھے ،یہاں تک کہ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ، میں نے یہ گمان کیا کہ شاید یہ میری امت ہے ۔ میں نےدریافت کیا یہ کون لوگ ہیں ، تو بتایا گیا یہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم کے افرادہیں پھر میں نے بہت زیادہ لوگوں کو دیکھا جنہوں نے آسمان کے افق کو بھردیاتھا میں نےدریافت کیا یہ کون لوگ ہیں ، تو بتایا گیا یہ آپﷺ کی امت ہے ۔ میں اس بات پر بہت خوش ہوا مسرورہوا پھر بتایا گیا کہ آپﷺ کی امت میں ان لوگوں کے بعد ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے جن سےکوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور انہیں کوئی عذ اب نہیں ہوگا۔ پھر نبی اکرمﷺ اٹھ کر تشریف لےگئے ۔حاضرین نےسوچا یہ کون لوگ ہوں گے وہ آپس میں اس بارے میں بات چیت کرتے رہے پھر ان سب نےاس بارے میں اتفاق کیا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے اور ہمیشہ مسلمان رہے جنہوں نے شرک کا زمانہ پایا ہی نہیں پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے لوگوں نے اپنے آپﷺ سے ان لوگوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپﷺ نے فرمایا:یہ وہ لوگ ہوں گے جو (علاج میں )داغ نہیں لگواتےہوں گے ،اور (زمانہ جاہلیت کے رواج کے مطابق ) جھاڑپھونک نہیں کرتے ہوں گے ، اور فال نہیں نکالتےہوں گے ، اور اپنے پروردگار پر توکل کرتےہوں گے ۔ (امام صاحبان ؒفراتےہیں :ٌ) داغ لگوانے اور جھاڑپھونک کرنے میں ممانعت کی علت یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ اس پر عمل کرتےتھے اور وہ یہ سمجھتے تھےکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر وہ لوگ امحض ان دوچیزوں سے ٹھیک ہوجاتے ہیں ،تو جب یہ علت موجود ہو گی ان دونوں چیزوں سے ممانعت باقی رہی ، لیکن جب کوئی شخص ان پر عمل کرے اور اور دونوں کو ایسا سبب قرار دے جو اللہ کے فیصلے کے مطابق آدمی کی تندرستی کےلیے سبب بنتا ہے اور وہ شخص یہ نہ سمجھے ان دونوں کاموں کی وجہ سے (فائدہ ہوتا ہے ) ،تو ایسا کرنا جائز ہوگا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الصَّهْبَاءِ، ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6089

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6090

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ عَلَى امْرَأَةٍ وَفِي عُنُقِهَا شَيْءٌ مُعَوَّذٌ، فَجَذَبَهُ فَقَطَعَهُ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ أَنْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ، وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ» قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، هَذِهِ الرُّقَى وَالتَّمَائِمُ قَدْ عَرَفْنَاهَا، فَمَا التِّوَلَةُ؟ قَالَ: «شَيْءٌ يَصْنَعُهُ النِّسَاءُ يَتَحَبَّبْنَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ»

یحییٰ بن جزار بیان کرتے ہیں:حضرت عبداللہ ؓ ایک خاتون کے پاس تشریف لے گئے جس نے اپنی گردن میں تعویذباندھا ہوا تھا حضرت عبداللہ ؓ نے کھینچ کر اسے کاٹ دیا پھر انہوں نے فرمایا:عبداللہ کے گھر والے اس چیز سے بے نیاز ہیں جو کسی کو اللہ کا شریک قراردیں ،جب تک اس بارے میں کوئی دلیل نازل نہیں ہوتی پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ "بے شک جھاڑ پھونک تعویذ اورتولہ شرک ہے لوگوں نے کہا :اے ابو عبدالرحمٰن جھاڑ پھونک اور تعویذ کا ،تو ہمیں پتہ ہے یہ لفظ تولہ کیا ہوتا ہے ۔ انہوں نے فرمایا:یہ وہ کام ہے ، جو خواتین کرتی ہیں تاکہ اپنے شوہر کی محبت حاصل کر لیں۔"

يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6090

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6091

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، بِالْمَوْصِلِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّقَى، وَلِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ نےجھاڑ پھونک سےمنع کیا ہے میرے ماموں بچھو کاٹے کا دم کیا کرتے تھے وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے آپ ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ،تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص اپنے کسی بھائی کو کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہوا سے وہ کرنا چاہئے۔

«مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَفْعَلْ» ← ذَلِكَ لَهُ، ← الرُّقَى، وَلِي خَالٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ، فَأَتَى النَّبِيَّ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← عبيدة بن حميد ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى بِالْمَوْصِلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6091

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6092

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ كُرَيْبٍ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ فَانْطَلَقْنَا إِلَى شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ، يُصَلِّي إِلَى أُسْطُوَانَةٍ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى عَلِيًّا انْصَرَفَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: حَدِّثْنَا حَدِيثَ أُمُّكَ فِي الرُّقْيَةِ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ قَالَتْ: لَا أَرْقِي حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ فَاسْتَأْذَنَتْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْقِي، مَا لَمْ يَكُنْ فِيهَا شِرْكٌ»

کریب کندی بیان کرتےہیں : حضرت امام زین العابدین ؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم لوگ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک عمر رسیدہ صاحب کےپاس چلے گئے ان کا نا م ابن ابو حثمہ تھا وہ ستون کی طرف منہ کر کے نماز اداکر رہے تھے ہم ان کے پاس بیٹھ گئے جب انہوں نے امام زین العابدین کو دیکھا ، تو نماز ختم کر کے ان کے پاس آئے ۔ امام زین العابدین نے ان سے کہا آپ دم کرنے کے بارے میں اپنی والدہ کی نقل کردہ روایت ہمیں بیان کیجئے ،تو انہوں نے بتایا میری والدہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتی تھیں جب اسلام آگیا ،تو انہوں نے یہ کہا میں اس وقت تک دم نہیں کروں گی ، جب تک میں نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں اجازت نہیں لیتی وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی انہون نے نبی اکرمﷺ سے اجازت مانگی ، تو نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: تم دم کرو جب کہ اس کے الفاظ میں شرک نہ ہو۔

كُرَيْبٍ الْكِنْدِيِّ، ← الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6092

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6093

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، بِفَمِ الصِّلْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَقَانِي [ص:461] وَمَسَحَهَا»

قیس بن طلق اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتےہیں نبی اکرمﷺ کی موجودگی میں ایک بچھونے نے مجھے ڈنک مار دیا ،تو نبی اکرم ﷺ نے مجھے دم کیا اور (اس جگہ پر ) دست مبارک پھیرا۔

«لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ عِنْدَ النَّبِيِّ فَرَقَانِي [ص:461] وَمَسَحَهَا» ← أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6093

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6094

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: «اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ، وَلَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ شِرْكًا»

حضرت عوف بن مالک ؓ بیان کرتےہیں :ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں دم کیا کرتےتھے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! آپ اس بارے میں کیا کہتےہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اپنے دم کے الفاظ میرے سامنے پیش کرو ایسے دم میں کوئی حرج نہیں ہے ، جس میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں ۔

كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقُلْنَا: ← عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6094

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6095

أَخْبَرَنَا السَّخْتِيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَرَازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ابْنِ أَخِي، مَيْمُونَةَ، أَنَّ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ لِي يَا ابْنَ أَخِي، أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: «بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ، مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ، أَذْهِبِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الصَّوَابُ أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ، لَا سَعِيدٍ»

سیدہ میمونہ ؓ کے بھتیجے روایت کرتےہیں سیدہ میمونہ ؓ نے مجھ سے کہا : اے میرے بھتیجے کیا میں تمہیں وہ دم نہ کروں جو نبی اکرمﷺ کیا کرتےتھے میں نے جوا ب دیا :جی ہاں ۔سیدہ میمونہ ؓ نے یہ پڑھا ۔ "اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتےہوئے میں تمہیں دم کرتی ہوں اللہ تعالیٰ شفاء عطا کرے ہر اس بیماری سے جو تمہیں لاحق ہے۔ اے لوگوں کے پروردگار تکلیف کو دور کردے شفاء عطا کردے ،تو ہی شفاء عطا کرنے والا ہے تیرے علاوہ اور کوئی شفاء عطا کرنے والا نہیں ہے ۔" (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں :) درست یہ ہےکہراوی کانام اظہر بن سعد ہے اظہر بن سعید نہیں ہے۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ابْنِ أَخِي، مَيْمُونَةَ، ← أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ الْحَرَازِيِّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← السِّخْتِيَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6095

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr