صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6061
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ فِي كَذَا؟ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ: «عِبَادَ اللَّهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْ حَرَجَ، إِلَّا امْرُؤٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ نَتَدَاوَى؟ فَقَالَ: «تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ» [ص:427] قَالَ سُفْيَانُ: مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ إِسْنَادٌ أَجْوَدُ مِنْ هَذَا
حضرت اسامہ بن شریک ؓبیان کرتےہیں :میں اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ،جب دیہاتی آپﷺ سے سوالات کررہے تھے کہ کیا ہمیں اس کام کو کرنے میں کوئی گناہ ہوگا ایسا انہوں نے دو مرتبہ پوچھا تھا۔ نبی اکرم اﷺ نے فرمایا: اے اللہ کے بندو !اللہ تعالیٰ نےگناہ کو اٹھا لیا ہے ماسوائے اس شخص کےجو اپنے کسی بھائی کی عزت پر حملہ کرے ،تو ایسا شخص گناہ کا مرتکب ہوگا ۔ لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ(ﷺٌ)! اگر ہم دوا استعمال کریں ، تو کیا ہمیں کوئی گناہ ہوگا ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! تم لوگ دوا استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری پیدا کی ہے اس کےلیے دوا بھی پیدا کی ہے ان لوگوں نےعرض کی : یا رسول اللہ(ﷺ)! بندے کو جو کچھ دیا گیا اس میں سے بہتر چیز کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ سفیان کہتےہیں :آج روئے زمین پر اس سے عمدہ سند اور کوئی نہیں ہے۔
شَهِدْتُ النَّبِيَّ وَالْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ: ← أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ
Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6061
