Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6061

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ فِي كَذَا؟ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ: «عِبَادَ اللَّهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْ حَرَجَ، إِلَّا امْرُؤٌ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ أَخِيهِ شَيْئًا، فَذَلِكَ الَّذِي حَرِجَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ أَنْ نَتَدَاوَى؟ فَقَالَ: «تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْعَبْدُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ» [ص:427] قَالَ سُفْيَانُ: مَا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ إِسْنَادٌ أَجْوَدُ مِنْ هَذَا

حضرت اسامہ بن شریک ؓبیان کرتےہیں :میں اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ،جب دیہاتی آپﷺ سے سوالات کررہے تھے کہ کیا ہمیں اس کام کو کرنے میں کوئی گناہ ہوگا ایسا انہوں نے دو مرتبہ پوچھا تھا۔ نبی اکرم اﷺ نے فرمایا: اے اللہ کے بندو !اللہ تعالیٰ نےگناہ کو اٹھا لیا ہے ماسوائے اس شخص کےجو اپنے کسی بھائی کی عزت پر حملہ کرے ،تو ایسا شخص گناہ کا مرتکب ہوگا ۔ لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ(ﷺٌ)! اگر ہم دوا استعمال کریں ، تو کیا ہمیں کوئی گناہ ہوگا ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! تم لوگ دوا استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری پیدا کی ہے اس کےلیے دوا بھی پیدا کی ہے ان لوگوں نےعرض کی : یا رسول اللہ(ﷺ)! بندے کو جو کچھ دیا گیا اس میں سے بہتر چیز کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ سفیان کہتےہیں :آج روئے زمین پر اس سے عمدہ سند اور کوئی نہیں ہے۔

شَهِدْتُ النَّبِيَّ وَالْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ: ← أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6061

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6062

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ مَعَهُ دَوَاءٌ، جَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ، وَعَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان کرتےہیں : "اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے ہمرا ہ اس کی دوا بھی نازل کی ہے ، جو شخص اس سے ناواقف رہے وہ ناواقف رہتا ہے اور جو اس کا علم حاصل کرلے اسے اس کا علم ہوجاتا ہے۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6062

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6063

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ»

حضرت جابر ؓ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "بے شک ہر بیماری کی دوا ہے ، جب بیماری کی صحیح دوا مل جائے ، تو (بیمار )اللہ کے حکم کے تحت تندرست ہوجاتا ہے ۔"

«إِنَّ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ بِإِذْنِ اللَّهِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6063

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6064

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ هُوَ الثَّوْرِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، [ص:429] عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا وَقَدْ أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، إِلَّا السَّامَ وَالْهَرَمَ»

حضرت اسامہ بن شریک ؓ روایت کرتےہیں،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم لوگ دوا استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی شفاء بھی نازل کی ہے ، البتہ موت اور بڑھاپے کا معاملہ مختلف ہے ۔"

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، [ص:429] ← مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ هُوَ الثَّوْرِيُّ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6064

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6065

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ،: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ، [ص:430] عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُمْ أَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ يُقَالُ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ، فَقَالَ: إِنَّا نَصْنَعُ الْخَمْرَ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَقَالَ: إِنَّمَا نَتَدَاوَى بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ، إِنَّهَا دَاءٌ»

علقمہ بن وائل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتےہیں وہ لوگ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے حثعم قبیلے سے تعلق رکھنے والا سوید بن طارق نامی ایک شخص آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا اس نےعرض کی : ہم لوگ شراب بناتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا اس نے عرض کی : ہم دوا کے طور پر اسے استعمال کرتےہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ دوا نہیں ہے یہ بیما ری ہے ۔

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ،

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6065

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6066

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ،: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہی : "بخار کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، تو تم پانی کے ذریعے اسے ٹھنٖڈا کرو۔"

«إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6066

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6067

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ، فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں:

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6067

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6068

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ [ص:432] أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ»

۔ابو جمرہ بیان کرتےہیں: میں لوگوں کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس آکر (انہیں تنگ کرنے )سے روکتا تھا ایک مرتبہ میں کچھ دن تک نہیں آیا،تو انہوں نے دریافت کیا تم کیوں نہیں آئے میں نے جواب دیا : بخار کی وجہ سے ۔ انہوں نے بتایانبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "بے شک بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم زم زم کے پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى، ← كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ ← أَبُو جَمْرَةَ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← عُثْمَانُ بْنُ [ص:261] أَبِي شَيْبَةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6068

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6069

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «اكْشِفِ [ص:433] الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ»، ثُمَّ أَخَذَ تُرَابًا مِنْ بُطْحَانَ فَجَعَلَهُ فِي قَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ

یوسف بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتےہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ان کی ہاں تشریف لائے آپﷺ نے فرمایا: (یعنی دعاکی) "اے لوگوں کے پروردگار ،تو ثابت بن قیس بن شماس سے تکلیف کو دور کر دے ۔" پھر نبی اکرمﷺ نے بطحان کی مٹی لی اسے ایسے پیالے میں ڈالا جس میں پانی موجود تھا اوروہ پانی ان پر چھڑک دیا۔

«اكْشِفِ [ص:433] الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَيْهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← يُوسُفَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ، ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَکِّيُّ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6069

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6070

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:434] ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ، أَنَّ أُمَّ قَيْسِ بِنْتَ مِحْصَنٍ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْإِعْلَاقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ - يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ -، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ» «الْكُسْتُ: يَعْنِي الْقِسْطَ» قَالَهُ الشَّيْخُ

سیدہ ام قیس بنت محصن ؓجو ہجرت کرنے والی ابتدائی خواتین میں شامل ہیں ، جنہیں نبی اکرمﷺ کے دسو اقدس پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہے یہ حضرت عکاشہ بن محصن ؓ کی بہن ہیں وہ بیان کرتی ہیں :وہ اپنے ایسے بیٹے کو لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں جو کچھ کھاتا نہیں تھا اس خاتون نے اسے بچے کے گلے کی تکلیف کی وجہ سے اس کو گلا ملا ہو اتھا ،تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا:تم لوگ اس طرح گلا مل کر اپنے بچوں کو تکلیف کیوں پہنچاتی ہو تم عودِہندی استعمال کرو (راوی کہتے ہیں :اس سے مراد کست ہے) کیونکہ اس میں سات قسم کی شفاء پائی جاتی ہے (یعنی سات بیماریوں سے شفاء پائی جاتی ہے ) جن میں سے ایک ذات الجنب (نمونیا )ہے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں : ) کست سے مراد قسط ہے یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ، أَنَّ أُمَّ قَيْسِ بِنْتَ مِحْصَنٍ، ← يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6070

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6071

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا السَّامَ». - يُرِيدُ الْمَوْتَ -

حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فامان نقل کرتےہیں: "تم پر کلونجی استعمال کرنا لازم ہے کیونکہ اس میں سام کے علاوہ ہر بیماری سے شفاء ہے "۔ (راوی کہتے ہیں :)سام سے مراد موت ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6071

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6072

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:437] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ عِنْدَ النَّوْمِ، يُنْبِتُ الشَّعْرَ، وَيَجْلُو الْبَصَرَ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ ،نبی اکرماﷺ کا یہ فرما ن نقل کرتےہیں :

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، [ص:98] ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6072

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr