Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1614

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يتباهى الناس في المساجد" 1.

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک لوگ مساجد کی تعمیر کے حوالے سے ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر نہیں کریں گے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1614

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1615

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا اُمِرْتُ بِتَشْیِیدِ الْمَسَاجِدِ۔ قَالَ ابْنُ عباس لتزخر فنھا کما زخر فتھا الیھود والنصاری۔ اَبُوْ فَزَارَۃَ رَاشِدُ بْنُ کَیْسَانَ مِنْ ثِقَاتِ الکوفیین وأثباتھم۔

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :مجھے مساجد کو آراستہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں : تم لوگ ان مساجد کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہودیوں اور عیسا ئیوں نے ( اپنی عبادت گاہوں کو ) آراستہ کیا ۔ابو فزارہ نامی راوی راشد بن کیسان ہے ، اور یہ کوفہ سے تعلق رکھنے والے (ثقہ) اور ثبت راویوں میں سے ایک ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ← أَبِي فَزَارَةَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Hadith 1615

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1616

أَخْبَرَنَا عُمَرُ1 بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ خَيْرَ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدِي هَذَا وَالْبَيْتُ الْعَتِيقُ" 2.

حضرت جابر ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :بیشک جن چیزوں کی طرف سوار ہو کے سفر کیا جاتا ہے ان میں سب سے بہتر میری یہ مسجد (یعنی مسجد نبوی ) ہے، اور بیت عتیق(یعنی مسجد حرام ) ہے۔

"إِنَّ خَيْرَ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدِي هَذَا وَالْبَيْتُ الْعَتِيقُ" ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1616

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1617

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ قَزَعَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تُشَدُّ الرِّجَالُ اِلَّا اِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ وَالْمَسْجِدُ الْاَقْصَی ومسجدی ھٰذا۔

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے مسجد حرام ،مسجد اقصیٰ اور میری یہ مسجد ۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← قَزَعَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1617

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1618

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم كان يأتي قباء راكبا وماشيا1.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سوار ہو کر اور پیدل قبا آیا کرتے تھے ۔

بن عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1618

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1619

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ ومسجدي هذا والمسجد الأقصى" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے مسجد حرام اور میری یہ مسجد اور مسجد اقصیٰ ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 1619

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1620

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَصَلَاةٌ فِي ذَاكَ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ صَلَاةٍ في هذا" يعني في مسجد المدينة 1.

حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کسی بھی جگہ پر ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضلیت رکھتا ہے ۔ البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے وہاں ایک نماز ادا کرنا یہاں ایک سو نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضلیت رکھتا ہے ۔(راوی کہتے ہیں ) اس سے مراد مدینہ منورہ کی مسجد ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1620

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1621

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ، وَإِنَّ مَسْجِدَهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ» قَالَ أَبُو سَلَمَةَ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَمْ نَشُكَّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ عَنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنَعَنْا ذَلِكَ أَنْ نَسْتَثْبِتَ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ تَذَاكَرْنَا ذَلِكَ وَتَلَاوَمْنَا أَنْ لَا نَكُونُ كَلَّمْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فِي ذَلِكَ، حَتَّى يُسْنِدَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ سَمِعَهُ مِنْهُ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ إِذْ جَالَسْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ الْحَدِيثَ، وَالَّذِي فَرَّطْنَا فِيهِ مِنْ نَصِّ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيهِ، فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَإِنَّهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ». [3: 42] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّهُ آخِرُ الْمَسَاجِدِ» يُرِيدُ بِهِ آخِرُ الْمَسَاجِدِ لِلْأَنْبِيَاءِ، لَا أَنَّ مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ آخِرُ مَسْجِدٍ بُنِيَ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا.

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : اللہ کے رسول کی مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کسی بھی جگہ پر ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضلیت رکھتا ہے ۔ البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی وجہ یہ ہے ۔نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہے اور آپ کی مسجد آخری مسجد ہے ۔(یعنی جو کسی نبی سے منسوب ہو گی )ابو سلمہ اور ابو عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے،حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرم ﷺ کی حدیث کے طور پر یہ بات بیان کیا کرتے تھے لیکن ہم اس وجہ سے اس حدیث کو بیان کرنے سے رکے رہے ، تاکہ پہلے ہم حضرت ابو ہریرہ ؓ سے اس حدیث کی تصدیق کر لیں ، یہاں تک کہ جب حضرت ابو ہریرہؓ کا انتقال ہو گیا ، تو ہم آپس میں اس روایت کا تذکرہ کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو ملامت کیا کرتے تھے کہ ہم نے اس روایت کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کے ساتھ بات چیت کیوں نہیں کی تاکہ وہ اس کی نسبت نبی اکرم ﷺ کی طرف کر دیتے اگر انہوں نے یہ حدیث کا تذکرہ کیا اور اس بارے میں ہم سے جو کوتاہی ہوئی تھی کہ حضرت ابو ہریرہؓ کی حتمی رائے ہم نے نہیں لی تھی ۔اس کا بھی تذکرہ کیا ، تو عبداللہ بن ابراہیم نے ہمیں کہا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے :میں آخری نبی ہوں اور یہ آخری مسجد ہے (جو کسی نبی کی طرف منسوب ہو گئ )۔(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں )نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ،یہ مساجد میں سے آخری ہے ، اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ یہ انبیا سے متعلق مساجد میں سے آخری ہے کیو نکہ مدینہ منورہ کی یہ مسجد اس حوالے سے آخری مسجد ہے ، جو دنیا میں بنائی گی ہے۔

أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرُّ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Hadith 1621

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1622

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قالا أخبرنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنْزِلِهِ إِلَى مَسْجِدِي فَرِجْلٌ تَكْتُبُ لَهُ حَسَنَةً وَرِجْلٌ تَحُطُّ عَنْهُ سَيِّئَةً حَتَّى يَرْجِعَ" 1.

حضرت ابو ہریر ہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص اپنے گھر سے نکل کر میری اس مسجد کی طرف آتا ہے ، تو (اس کے ) ہر ایک قدم پر اس کے لئے نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرے قدم پر اس کے گناہ کو ختم کر دیا جاتا ہے ۔(ایساا س وقت تک ہوتا رہتا ہے ) جب تک وہ واپس نہیں آتا ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الأَسْوَدِ بْنِ الْعَلاَءِ بْنِ جَارِيَةَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1622

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1623

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَقَالَ: اَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ ارِیْدُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ اَفْضَلُ مِنْ مِائَۃِ صَلَاۃٍ فِیْ غَیْرِہِ اِلَّا المسجد الحرام۔

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو رخصت کرتے ہوئے ب دریافت کیا تم کہاں جانا چاہتے ہو اس نے عرض کی : میں بیت المقدس جانا چاہتا ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس مسجد (یعنی مسجد نبوی میں ) ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کسی بھی جگہ پر ایک سو نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے۔

ارِیْدُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ ← أين تريد ← وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1623

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1624

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلًا ، فَقَالَ اَیْنَ تُرِیْدُ ؟ قَالَ اُرِیْدُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: صَلَاۃٌ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ اَفْضَلُ مِنْ مِائَۃِ صَلَاۃٍ فِیْ غَیْرِہِ اِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ۔ قَالَ عُثْمَانُ: سَاَلَنِیْ اَحْمَدُ بْنُ حنبل عنہ

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو رخصت کرتے ہوئے دریافت کیا تم کہاں جانا چاہتے ہو ۔ اس نے عرض کی ۔ میں بیت المقدس جانا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :اس مسجد ( یعنی مسجد نبوی )میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ کسی بھی جگہ پر ایک سو نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے ۔عثمان بن ابو شبیہ نامی راوی کہتے ہیں :امام احمد بن حنبل نے مجھ سے اس روایت کے بارے میں دریا فت کیا تھا ۔

عُثْمَانُ: سَاَلَنِیْ اَحْمَدُ بْنُ حنبل عنہ ← ارِیْدُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ ← أين تريد ← وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1624

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1625

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِي غَيْرِهِ إِلَّا الْمَسْجِدَ الحرام" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ ،نبی اکرم ﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں : میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا اس کے علاوہ اور کسی بھی جگہ پر ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے البتہ مسجد حرام کا معاملہ مختلف ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ← زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ

Hadith 1625

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr