صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1602
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، [ص:480] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةُ وَفْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، وَالسَّادِسُ رَجُلٌ مِنْ ضُبَيْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ، ثُمَّ انْضَحُوا مَكَانَهَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا»، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ، وَالْمَاءُ يَنْشَفُ، قَالَ: «فَأَمِدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا»، فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَحْنَا عَلَى حَمْلِ الْإِدَاوَةِ، أَيُّنَا يَحْمِلُهَا، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا يَوْمًا وَلَيْلَةً، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا، فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا، وَرَاهِبُ ذَلِكَ الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ فَنَادَيْنَاهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّاهِبُ: دَعْوَةُ حَقٍّ ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ يُرَ بَعْدُ. [3: 65]
قیس بن طلق اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں : ہم چھ آدمی وفد کی شکل میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پانچ کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اوت چھٹا شخص ضبیعہ بن ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کر لیا ۔ ہم نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی ۔ ہم نے آپ کو بتایا ہمارے علاقے میں ایک گرجا گھر ہے ۔ ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو عنایت کرنے کی درخواست کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا آپ نے کلی کی پھر آپ نے ہمارے لئے ایک برتن میں پانی انڈیل دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اس پانی کو لے جائو جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اس گرجے کو توڑ دینا اور اس کی جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اس جگہ مسجد بنا لینا ۔ہم نے عرض کی : ہمارا علاقہ بہت دور ہے یہ پانی خشک ہو جائے گا ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس میں اور پانی ملاتے رہنا ، کیو نکہ اس نیتجے میں اس کی پاکیزگی میں اضافہ ہی ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں ہم روانہ ہوئے ہم نے اس کے بارے میں اختلاف کیا کہ پانی کا وہ برتن کون اٹھائے گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ہم میں سے ہر ایک شخص کے لئے ایک دن اور ایک رات کی باری مقر ر کر دی ، ہم اسے ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم اپنے علاقے میں آئے پھر ہم نے وہ کام کیا جو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا اس قوم کا راہب طے قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جب ہم نے نماز کے لئے اذان دی تو اس راہب نے کہا یہ حق کی دعوت ہے ، پھر وہ بھاگ گیا ۔ اس کے بعد وہ کبھی نظر نہیں آیا۔
أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Hadith 1602
