Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1602

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، [ص:480] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا سِتَّةُ وَفْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَةٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ، وَالسَّادِسُ رَجُلٌ مِنْ ضُبَيْعَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْنَاهُ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَأَخْبَرْنَاهُ أَنَّ بِأَرْضِنَا بِيعَةً لَنَا، وَاسْتَوْهَبْنَاهُ مِنْ فَضْلِ طَهُورِهِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، وَتَمَضْمَضَ ثُمَّ صَبَّهُ لَنَا فِي إِدَاوَةٍ، ثُمَّ قَالَ: «اذْهَبُوا بِهَذَا الْمَاءِ، فَإِذَا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بِيعَتَكُمْ، ثُمَّ انْضَحُوا مَكَانَهَا مِنْ هَذَا الْمَاءِ، وَاتَّخِذُوا مَكَانَهَا مَسْجِدًا»، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْبَلَدُ بَعِيدٌ، وَالْمَاءُ يَنْشَفُ، قَالَ: «فَأَمِدُّوهُ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَزِيدُهُ إِلَّا طِيبًا»، فَخَرَجْنَا فَتَشَاحَحْنَا عَلَى حَمْلِ الْإِدَاوَةِ، أَيُّنَا يَحْمِلُهَا، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنَّا يَوْمًا وَلَيْلَةً، فَخَرَجْنَا بِهَا حَتَّى قَدِمْنَا بَلَدَنَا، فَعَمِلْنَا الَّذِي أَمَرَنَا، وَرَاهِبُ ذَلِكَ الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنْ طَيِّئٍ فَنَادَيْنَاهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ الرَّاهِبُ: دَعْوَةُ حَقٍّ ثُمَّ هَرَبَ فَلَمْ يُرَ بَعْدُ. [3: 65]

قیس بن طلق اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں : ہم چھ آدمی وفد کی شکل میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے پانچ کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اوت چھٹا شخص ضبیعہ بن ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے آپ کے دست اقدس پر اسلام قبول کر لیا ۔ ہم نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی ۔ ہم نے آپ کو بتایا ہمارے علاقے میں ایک گرجا گھر ہے ۔ ہم نے آپ سے آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو عنایت کرنے کی درخواست کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا آپ نے کلی کی پھر آپ نے ہمارے لئے ایک برتن میں پانی انڈیل دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اس پانی کو لے جائو جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اس گرجے کو توڑ دینا اور اس کی جگہ اس پانی کو چھڑک دینا اور اس جگہ مسجد بنا لینا ۔ہم نے عرض کی : ہمارا علاقہ بہت دور ہے یہ پانی خشک ہو جائے گا ۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس میں اور پانی ملاتے رہنا ، کیو نکہ اس نیتجے میں اس کی پاکیزگی میں اضافہ ہی ہو گا ۔ راوی کہتے ہیں ہم روانہ ہوئے ہم نے اس کے بارے میں اختلاف کیا کہ پانی کا وہ برتن کون اٹھائے گا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ہم میں سے ہر ایک شخص کے لئے ایک دن اور ایک رات کی باری مقر ر کر دی ، ہم اسے ساتھ لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم اپنے علاقے میں آئے پھر ہم نے وہ کام کیا جو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا اس قوم کا راہب طے قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جب ہم نے نماز کے لئے اذان دی تو اس راہب نے کہا یہ حق کی دعوت ہے ، پھر وہ بھاگ گیا ۔ اس کے بعد وہ کبھی نظر نہیں آیا۔

أَبِيهِ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1602

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1603

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا بن جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَبَّاسُ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْ إِزَارَكَ عَلَى عَاتِقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَفَعَلَ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ: "إِزَارِي إِزَارِي" 1 فَشَدَّ عليه إزاره2.

عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، جب خانہ کعبہ کی تعمیر کی گی تو نبی اکرم ﷺ اور حضرت عباس ؓپتھر منتقل کر رہے تھے ۔حضرت عباس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے کہا آپ اپنا تہبند اپنے کندھے پر رکھ لیں تا کہ پتھر سے بچائو ہو جائے ۔ راوی کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ایسا ہی کیا ، تو آپ زمین پر گر گے ، آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف چڑھ گی پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا :میرا تہبند میرا تہبند پھر آپ نے اپنا تہبند باند ھ لیا ۔

"إِزَارِي إِزَارِي" فَشَدَّ عليه إزاره2. ← فَفَعَلَ فَخَرَّ إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَامَ ← الْعَبَّاسُ لِلنَّبِيِّ ضَعْ إِزَارَكَ عَلَى عَاتِقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ ← لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ وَالْعَبَّاسُ يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← حُسَیْنُ بْنُ مَھْدِیٍّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 1603

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1604

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ اخْتَلَفَ رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى فَقَالَ أَحَدُهُمَا هُوَ مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ وَقَالَ الْآخَرُ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "هُوَ مسجدي هذا" 1.

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں :دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گی ہے ان میں سے ایک کا کہنا تھا اس سے مراد مدینہ منورہ کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے۔ دوسرے کا کہنا تھا اس مراد مسجد قبا ہے وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد میری یہ مسجد ہے۔

"هُوَ مسجدي هذا" ← الْآخَرُ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ فَأَتَوَا النَّبِيَّ ← أَحَدُهُمَا هُوَ مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ ← اخْتَلَفَ رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1604

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1605

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بكر بن اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ قَالَ حَدَّثَنَا رَبِیْعَۃُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عِمْرَانُ بْنُ اَبِیْ اَنَسٍ عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ اخْتَلَفَ رَجُلَانِ فِی الْمَسْجِدِ الَّذِیْ اُسِّسَ عَلَی التَقْوَی فَقَالَ اَحَدُھُمَا ھُوَ مَسْجِدُ الْمَدِیْنَۃِ وَقَالَ الْاٰخَرُھُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ فَاَتَوَا النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ھُوَ مَسْجِدِی ھٰذَا۔

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں :دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گی ہے ان میں سے ایک کا یہ کہنا تھا کہ( اس سے مراد) مدینہ منورہ کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) ہے۔ دوسرے کا یہ کہنا تھا مسجد قبا ہے وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد میری یہ مسجد ہے۔

"هُوَ مسجدي هذا" ← الْاٰخَرُھُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ فَاَتَوَا النَّبِیَّ ← أَحَدُهُمَا هُوَ مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ ← اخْتَلَفَ رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1605

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1606

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عن بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى فَقَالَ رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ وَقَالَ آخِرُ هُوَ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هُوَ مَسْجِدِي هَذَا" 1. قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: الطریقان جمیعا محفوظان۔

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کے بارے میں بحث ہو گئ جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئ ہے ۔ایک شخص نے یہ کہا اس مراد مسجد قبا ہے دوسرے شخص نے کہا اس سے مراد نبی اکرم ﷺ کی مسجد ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد میری مسجد ہے۔(امام ابو حاتم فرماتے ہیں ) اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

اَبُوْ حَاتِمٍ الطریقان جمیعا محفوظان۔ ← رَسُولُ اللَّهِ "هُوَ مَسْجِدِي هَذَا" ← آخِرُ هُوَ مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ ← رَجُلٌ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ ← تَمَارَى رَجُلَانِ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← بن أبي سعيد الخدري ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Hadith 1606

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1607

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يُوَطِّنُ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ لِلصَّلَاةِ أَوْ لِذِكْرِ اللَّهِ إِلَّا تَبَشْبَشَ اللہُ بِہٖ کَمَا یَتَبَشْبَشُ اَھْلُ الْغَائِبِ اِذَا قدم علیھم غائبھم۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص نماز ادا کرنے کے لئے یا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے مسجد کو وطن بنا لیتا ہے (یعنی وہاں ٹھہرا رہتا ہے ) تو اللہ تعالی ٰ اس شخص پر اتنا خوش ہوتا ہے جتنا خوش کسی غائب شخص کے واپس آنے پر اس کے اہل خانہ ہوتے ہیں ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں )عرب جب ایک دوسرے سے مختلف چیزوں کی تشبیہ کے طور پر صفت بیان کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ، تو ان دونوں میں سے کسی ایک لفظ کے ہمراہ ان دونوں کو استعمال کر لیتے ہیں اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے ان دونوں کا معنی ایک دوسرے سے مختلف ہو جیسا کہ حضرت ابو ہریر ہؓ نے یہ کہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کہ زمانہ اقدس میں ہماری خوراک دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں ۔ کھجور اور پانی ، تو یہاں انہوں نے ان دونوں کے لئے ان دونوں میں سے ایک لفظ کا استعمال کیا ہے ، جبکہ وہ دو چیزیں ہیں اور یہ اسی طرح ہو گا۔جس طرح یہ دو عمروں کے برابر ہے ، تو یہاں ان دونوں میں سے ایک کے لفظ کے ذریعے ان دونوں کو استعمال کیا گیا ہے ، تو آدمی کا نماز اور بھلائی کے لئے مسجد میں اپنی جگہ مقر ر کر لینے کی وجہ سے اللہ تعالی ٰ کا بندے سے خوش ہونا ، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی ،رحمت اور محبت کے ذریعے اس کی طرف نظر کرتا ہے ، جو اس کے فعل کی وجہ سے ہوتی ہے اس کی مثال نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے مانند ہے ، جو آپ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے طور پر نقل کئے ہیں ۔ جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں ۔اس سے مراد یہ ہے جو شخص ایک بالش اطاعت اور بھلائی کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ، تو مہربانی اور رحمت کے ہمراہ ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں اس مثالیں بہت زیادہ ہیں جنہیں ہم عنقریب اس کے مخصوص مقام سے متعلق باب میں نقل کریں گے ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اس کو آسان اور اسے سہل کیا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Hadith 1607

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1608

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّہٗ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: مَنْ بَنَی مَسْجِدًا یَذْکُرُ فِیْہِ اسْمَ اللہِ بَنَی اللہُ لَہٗ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔

حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص مسجد تعمیر کرتا ہے ، جس میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1608

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1609

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ الْمَقْدِسِيُّ1 حَدَّثَنَا حرملة بن يحيى حدثنا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلَانِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ بَنَى مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الجنة" 2. قَالَ بُکَیْرٌ: حَسِبْتُ اَنَّہٗ قَالَ: یَبتَغِیْ بِہٖ وجہ اللہ جل وعلا۔

حضرت عثمان غنی ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جو شخص مسجد بناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس(مسجد) کی مانند جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔ بکیر نامی راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ،اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے (مسجد بناتا ہے )۔

یَبتَغِیْ بِہٖ وجہ اللہ جل وعلا۔ ← بُکَیْرٌ: حَسِبْتُ اَنَّہٗ ← "مَنْ بَنَى مَسْجِدًا بَنَى اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الجنة" ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلَانِيَّ أَنَّهُ ← أَنَّهُ ← أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ الْمَقْدِسِيُّ1

Hadith 1609

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1610

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الجنة" 2.

حضرت ابو ذر غفاری ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے مسجد بناتا ہے ، اگرچہ وہ قطاۃ کے گھونسلے جتنی ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← قُطْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1610

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1611

أخبرنا الخليل بن محمد البزار بن ابْنَةِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ بِوَاسِطَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ النَّشَائِيُّ1حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ أَخِيهِ يَعْلَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ بَنَى لِلَّهِ مَسْجِدًا وَلَوْ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ" 2.

حضرت ابو ذر غفاری ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مسجد بناتا ہے ، اگرچہ وہ قطاۃ کے گھونسلے جتنی ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیتا ہے ۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَخِيهِ يَعْلَى بن عبيد ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ النَّشَائِيُّ1حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← الخليل بن محمد البزار بن ابْنَةِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ بِوَاسِطَ

Hadith 1611

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1612

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عن بن شِهَابٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ وَهُوَ أَعْمَى وَأَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا تَكُونُ الظُّلْمَةُ وَالْمَطَرُ وَالسَّیْلُ وَاَنَا رَجُلٌ صَرِیرُ الْبَصَرِ فَصَلِّ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ بَیْتِیْ مَکَانًا اَتَّخِذُہُ مُصَلًّی قَالَ فَجَاءَہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَیْنَ تُحِبُّ اَنْ اُصَلِّیَ ؟ فَاَشَارَ لَہٗ اِلَی الْمَکَانِ مِنَ الْبَیْتِ فَصَلّٰی فِیْہِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔

حضرت محمود بن ربیع انصاری ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت عتبان بن مالک ؓ اپنی قوم کی امامت کیا کرتے تھے ۔ وہ نا بینا تھے ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : بعض اوقات تاریکی زیادہ ہوتی ہے یا برش ہوئی ہوتی ہے یا راستے میں پانی آ جاتا ہے تو میں ایک نا بینا شخص ہوں ۔ یا رسول اللہ ! آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز ادا کر لیجیے میں اس جگہ کو جائے نماز بنا لوں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کون سی جگہ کے بارے میں تم یہ چاہتے ہو میں وہاں نماز ادا کروں ؟ تو انہوں نے اپنے گھر ایک حصے کی طرف اشارہ کیا نبی اکرم ﷺ نے وہاں نماز ادا کی ۔

مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1612

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْمَسَاجِدِ · حديث 1613

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَبَاهَى الناس في المساجد1.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے ، لوگ ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر کا اظہار کرنے کے لئے مساجد بنائیں ۔

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَتَبَاهَى الناس في المساجد1. ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← اَبُوْ یَحْیَی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 1613

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr