Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6028

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلْحِقُوا الْمَالَ بِ الْفَرَائِضِ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:

«أَلْحِقُوا الْمَالَ بِ الْفَرَائِضِ، فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › The door of the abyss · Hadith 6028

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6029

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ، فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "مال ذوی الفروض کو دو ذوی الفروض میں سے جو بچ جائے وہ قریبی مرد رشتے دار کو ملے گا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › The door of the abyss · Hadith 6029

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6030

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْمَعْمَرِيِّ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عن النبي صلى الله عليه وسلم قَالَ: «أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ».

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مال ذوی الفروض کو دو ذوی الفروض میں سے جو بچ جائے وہ قریبی مرد رشتے دارکو ملے گا۔"

«أَلْحِقُوا الْمَالَ بِالْفَرَائِضِ فَمَا أَبْقَتِ الْفَرَائِضُ فَلأَوْلَى رَجُلٍ ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُوسٍ ← مَعْمَرٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْمَعْمَرِيِّ ← أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › The door of the abyss · Hadith 6030

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6031

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ، [ص:391] عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ، وَمَا أَعْلَمُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَارْجِعِي حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ: «حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهَا السُّدُسَ»، فَقَالَ: هَلْ مَعَكَ غَيْرُكَ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِيرَةُ، فَأَنْفَذَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ، ثُمَّ جَاءَتِ الْجَدَّةُ الْأُخْرَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا، فَقَالَ: مَا لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ، وَمَا كَانَ الْقَضَاءُ الَّذِي قَضَى بِهِ إِلَّا لِغَيْرِكِ، وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِي الْفَرَائِضِ شَيْئًا، وَلَكِنْ هُوَ ذَلِكَ السُّدُسُ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فِيهِ فَهُوَ بَيْنَكُمَا، وَأَيَّتُكُمَا خَلَتْ بِهِ فَهُوَ لَهَا

قبیصہ بن ذویب بیان کرتے ہیں :ایک دادی حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے اپنی وراثت کا مطالبہ کیا حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا: تمہارے بارے میں اللہ کی کتاب میں کوئی چیز نہیں ہے اور اللہ کے رسول کی سنت میں بھی تمہارے بارے میں مجھے کسی چیز کاعلم نہیں ہے تم واپس چلی جاؤ میں لوگوں سے اس بارے میں دریافت کرتا ہوں ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے بتایا میں اس وقت نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھا، جب آپﷺ نے اسے (یعنی دادی یا نانی کو )چھٹاحصہ دیا تھا۔ حضرت ابو بکر ؓ نے دریافت کیا تمہارے ساتھ کوئی اور شخص بھی تھا۔ حضرت محمد بن مسلمہ انصاری ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی وہی بات بیان کی جو حضرت مغیرہ ؓ نے بیان کی تھی ، توحضرت ابوبکر ؓ نے اس (دادی یانانی )کے لیے چھٹے حصے کو لازم قرار دیا۔ پھر ایک اور دادی (یا نانی ) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس (ان کے عہد خلافت میں )آئی اور اپنی وراثت کا مطالبہ کیا،تو حضرت عمرؓ نے فرمایا:تمہارے لیے اللہ کی کتاب میں کوئی حکم نہیں ہے تمہارے بارے میں صرف ایک فیصلہ ہے میں ذوی الفروض میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا یہ چھٹا حصہ ہے اگر دونوں (یعنی دادی اور نانی )اس میں اکٹھی ہو ، تو یہ تم دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا اور اگر تم دونوں میں سے کوئی ایک ہو،تو یہ اسے ملے گا۔

قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › The door of the abyss · Hadith 6031

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6032

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ الْقَطِيعِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ [ص:393] عَلَيْهِ، وَوُرِّثَ»

حضرت جابر ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :

«إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ [ص:393] عَلَيْهِ، وَوُرِّثَ» ← النَّبِيِّ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ الْقَطِيعِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › The door of the abyss · Hadith 6032

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6033

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ»

حضرت اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں :انہیں نبی اکرمﷺ کی اس حدیث کا پتہ چلا ہے آپﷺ نے ارشاد فرمایاہے: "کوئی مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بنے گا اور کوئی کافرکسی مسلمان کاوارث نہیں بنے گا۔"

«لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ، وَلَا الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ» ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › The door of the abyss · Hadith 6033

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6034

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، بِتُسْتَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنَةٍ، وَابْنَةِ ابْنٍ، وَأُخْتٍ، قَالَ: «لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ»

حضرت عبداللہؓ نبی اکرمﷺ کے حوالےسے یہ بات نقل کرتے ہیں :جب (میت کو ورثاء میں) ایک بیٹی ایک پوتی اور ایک بہن ہو ،تو نبی اکرمﷺ نے یہ فرمایاہے: بیٹی کو نصف ملے گا، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، جو باقی بچے گا وہ بہن کو ملے گا۔

«لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ الِابْنِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ» ← النَّبِيِّ فِي ابْنَةٍ، وَابْنَةِ ابْنٍ، وَأُخْتٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← أَبِي قَيْسٍ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › The door of the abyss · Hadith 6034

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6035

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَعْقِلُ عَنْهُ، وَأَرِثُهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ»

حضرت مقدام ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "جو شخص بوجھ چھوڑ کر جاتا ہے وہ ہماری طرف آئے گا اور جو شخص مال چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کے ورثاء کو ملے گا میں اس کا وارث ہوں ، جس کا کوئی وارث نہیں ہے میں اس کی طرف سے دیت کی ادائیگی کروں گا اور میں اس کا وارث بھی بنوں گا اور جس شخص کا کوئی وارث نہ ہو ماموں اس کا وارث بنتاہے وہ اس کی طرف سے دیت کی ادائیگی بھی کرے گااور اس کا وارث بھی بنے گا۔"

"مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← الْمِقْدَامِ، ← أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ← شُعْبَةُ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › Gate of those with mercy · Hadith 6035

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6036

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، بِمِصْرَ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ ابْنَ عَائِذٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْمِقْدَامَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، أَفُكُّ عَنْهُ، وَأَرِثُ مَالَهُ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، يَفُكُّ عَنْهُ، وَيَرِثُ مَالَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ، وَسَمِعَهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبٍ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ، وَمَتْنَاهُمَا مُتَبَايِنَانِ»

حضرت مقدام ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرامان نقل کرتےہیں : "جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جاتا ہے، تو وہ ہماری طرف آئیں گے ، اور جو مال چھوڑ کر جاتا ہے وہ اس کے ورثاکو ملے گا ،جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو میں اس کا مولیٰ ہوں میں اس کی طرف سے فدیہ بھی اداکروں گا اس کے مال کا وارث بھی بنو ں گا اور جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو اس کو ماموں ہوتا ہے وہ اس کی طرف سے فدیہ بھی ادا کرے گا اس کے مال کا وارث بھی بنے گا۔" (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :)یہ وارث راشد بن سعد نے ابو عامر کے حوالے سے حضرت مقدام ؓ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت عبدالرحمٰن کے حوالے سے حضرت مقدام ؓ سے بھی سنی ہے اور اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں ، البتہ ان دونوں روایات کا متن ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

أَنَّ الْمِقْدَامَ ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ ابْنَ عَائِذٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ1 ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، بِمِصْرَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › Gate of those with mercy · Hadith 6036

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6037

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:401] مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ: أَنْ عَلِّمُوا صِبْيَانَكُمُ الْعَوْمَ، وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ، قَالَ: فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ، قَالَ: فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَأَصَابَ غُلَامًا فَقَتَلَهُ، وَلَمْ يُعْلَمْ لِلْغُلَامِ أَهْلٌ إِلَّا خَالُهُ، فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ، فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ الْغُلَامِ، إِلَى مَنْ يَدْفَعُ عَقْلَهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ»

حضرت ابو امامہ بن سہل ؓ بیان کرتےہیں :حضرت عمر ؓ نےحضرت عبیدہؓ کو خط لکھا کہ اپنے بچوں کو عوم اور اپنے جنگ جو افراد کو تیر اندازی سکھاؤ۔ راوی بیان کرتےہیں : وہ لوگ مختلف مقا مات پر اس کی مشق کر رہے تھے اسی دوران ایک اندھا تیر آیا اور ایک لڑکے کو لگا وہ لڑکامرگیا اس لڑکے کے رشتے داروں میں سے صرف اس کے ماموں کا پتہ چلا حضرت ابو عبیدہؓ نے حضرت عمر ؓ کو خط لکھا اور لڑکے کا معاملہ بیان کیا کہ اس کی دیت کس کے سپردکی جائے؟ حضرت عمر ؓ نے انہیں خط لکھا کہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو اللہ اور اس کے رسول اس کے مولیٰ ہیں اور جس کا کوئی وارث نہ ہو ماموں اس کا وارث ہوتاہے۔"

إِلَيْهِ ← لَهُ شَأْنَ الْغُلَامِ، إِلَى مَنْ يَدْفَعُ عَقْلَهُ، ← أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ، ← فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَأَصَابَ غُلَامًا فَقَتَلَهُ، وَلَمْ يُعْلَمْ لِلْغُلَامِ أَهْلٌ إِلَّا خَالُهُ، ← فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ، ← عُمَرُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ: أَنْ عَلِّمُوا صِبْيَانَكُمُ الْعَوْمَ، وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ" ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← سُفْيَانَ، ← [ص:401] مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← الْقَوَارِيرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › Gate of those with mercy · Hadith 6037

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6038

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّافِقَةِ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: «بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَقُومَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهُمَا وَقَالَ: » {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} [التغابن: 15] «

عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتےہیں ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ خطبہ دے رہے تھے:اسی دوران حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ؓ (جو بچے تھے) انہوں نے سرخ قمیضیں پہنی ہوئی تھیں وہ آئے وہ کبھی گر پڑتے تھے اور کبھی کھڑے ہو جاتے تھے نبی اکرمﷺ ان دونوں کےلیے منبر سے نیچے تشریف لے آئے آپ ﷺ نے ان دونوں کو پکڑلیا اور ارشاد فرمایا(ارشاد باری تعالیٰ ہے)

الْحُسَيْنُ وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَقُومَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمَا النَّبِيُّ فَأَخَذَهُمَا ← «بَيْنَمَا النَّبِيُّ يَخْطُبُ، إِذْ أَقْبَلَ الْحَسَنُ، ← أَبِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُؤَمَّلُ بْنُ اِھَابٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › Gate of those with mercy · Hadith 6038

صیح ابن حبان · کِتَابُ الفَرَائِضِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6039

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا، إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «صَدَقَ اللَّهُ: {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} [التغابن: 15] نَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَلَمْ أَصْبِرْ، حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي فَرَفَعَتْهُمَا»

حضرت ابو بریدہ ؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ ہمیں خطبہ سے رہے تھے اسی دوران حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ؓ (جو بچے تھے)وہ آگئے انہوں نے سرخ قمیضیں پہنی ہوئی تھیں وہ چلتے تھے اور چلتے ہوئے گر پڑتے تھے نبی اکرمﷺ منبر سے نیچے اتر آئے آپﷺ نے ان دونوں کو اٹھایا اور اپنے آگے بٹھالیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایاہے۔ "بے شک تمہارے اموال اور تمہاری اولاد آزمائش ہے۔" میں نے ان دوبچوں کو دیکھا کہ یہ چلتے ہوئے آرہے ہیں اور گر پڑتے ہیں ، تو مجھ سے صبر نہیں ہوا، یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو منقطع کر کے انہیں اٹھالیا۔

أَبي بُرَيْدَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَبِي ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، ← أَبُو عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Surplus › Gate of those with mercy · Hadith 6039

All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr