صیح ابن حبان · کِتَابُ الوَصیَّۃِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6023
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى: «هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا يُوصِي فِيهِ، قُلْتُ: فَكَيْفَ يَأْمُرُ النَّاسَ بِالْوَصِيَّةِ؟ قَالَ: » أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ «
طلحہ بن مصروف بیان کرتےہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن ابو اوفیٰؓ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ نے کوئی وصیت کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کے بارے میں آپ ﷺ کو وصیت کرنی پڑتی۔ میں نے دریافت کیا پھر آپ ﷺ لوگوںکو وصیت کرنے کا حکم کیوں دیتے تھے،انہوں نے فرمایا:آپ اللہ تعالیٰ کی کتاب (کے حکم کےمطابق) یہ ہدایت کرتے تھے۔
أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ ← مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ شَيْئًا يُوصِي فِيهِ، قُلْتُ: فَكَيْفَ يَأْمُرُ النَّاسَ بِالْوَصِيَّةِ؟ ← سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى: «هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ
Sahih Ibn Hibban · The will book › The door of the abyss · Hadith 6023
