صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6022
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ*، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، أَوْ فَرَسٍ، أَوْ بَغْلٍ، فَقَالَ الَّذِي قَضَى عَلَيْهِ: أَنَعْقِلُ مَنْ لَا أَكَلْ، وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ، مِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ، فِيهِ غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، أَوْ فَرَسٌ، أَوْ بَغْلٌ «
حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺنےپیٹ میں موجود بچے کے بارے میں تاوان کے طور پر ایک غلام یاکنیزیا گھوڑا یا خچر دینے کا فیصلہ دیا تھا جس شخص کے خلاف آپ ﷺ نے فیصلہ دیا تھا اس نے عرض کی : کیا ہم اس کی دیت ادا کریں ، جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں وہ چیخا نہیں چیخ کر رویا نہیں اس طرح کا خون ،تو رائیگاں جاتاہے ۔ نبی اکرﷺ نےارشاد فرمایا: یہ شاعروں کی طرح گفتگو کر رہا ہے ایسی صورت حال میں تاوان کے طور پر غلام یا کنیز یا گھوڑا یا خچر اد ا کرنا ہوگا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The door of the abyss · Hadith 6022
