Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ القَسَامَۃِ · حديث 6010

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يَقْتُلُونَ الْقَاتِلَ بِالْقَتِيلِ، [ص:363] لَا تُقْبَلُ مِنْهُ الدِّيَةُ»، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى} [البقرة: 178] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ: {ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ} [البقرة: 178]، يَقُولُ: «فَخَفَّفَ عَنْكُمْ مَا كَانَ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ، أَيِ الدِّيَةَ لَمْ تَكُنْ تُقْبَلُ، فَالَّذِي يَقْبَلُ الدِّيَةَ فَذَلِكَ عَفْوٌ، فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ، وَيُؤَدِّي إِلَيْهِ الَّذِي عُفِيَ مِنْ أَخِيهِ بِإِحْسَانٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :پہلے زمانے میں لوگ مقتول کے بدلے میں قاتل کو قتل کر دیتے تھے اس سے دیت وصول نہیں کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ "اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں تم پر قصاص لازم قرار دیا گیا ہے" یہ آیت کے آخر تک ہے: "یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تحفیف اور رحمت ہے"۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ،تواللہ تعالیٰ نےتم لوگوں کو اس حوالے سے تحفیف فراہم کی جو تم سے پہلے لوگوں پر لازم تھی یعنی دیت کی شکل فراہم ک جو پہلے کی جاتی تھی ،تو جو شخص دیت قبول کر لے گا ، تو یہ معاف کرنا ہوگا، بھلائی کی پیروی کرنا ہوگا اور اسے وہ شخص اداکرے گا، جو اسے اس کے بھائی کی طرف سے آسانی کے ساتھ معاف کیا گیا ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The Qassam section · Hadith 6010

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ القَسَامَۃِ · حديث 6011

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا وهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا افْتَتَحَ مَكَّةَ قَالَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، أَلَا إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، إِلَّا السِّدَانَةَ، وَالسِّقَايَةَ، أَلَا إِنَّ قَتِيلَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ قَتِيلَ السَّوْطِ وَالْعَصَا دِيَةٌ مُغَلَّظَةٌ، مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلَادُهَا»

حضرت عبداللہ بن عمروؓبیان کرتےہیں :جب نبی اکرمﷺنےمکہ فتح کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اس نے اپنے وعدے کو سچ کیا اس نے اپنے بندے کی مدد کی ، تنہا اس نے (دشمن کے لشکروں کو پسپا کیا ) خبردار ! سد انہ اور سقایہ کے علاوہ ہر ترجیح چیز میرے ان دونوں پاؤں کے نیچے ہے خبردار وہ مقتول جسے عمد کے ساتھ مشابہت رکھنےوالے قتل کیاگیا ہویہ وہ مقتول ہے ، جسے سوٹی یا لاٹھی کے ذریعے قتل کیاگیا ہو اس کی دیت مغلظہ ہوگی ،جس میں چالیس ایسی اونٹنیاں ہوں گی جو عاملہ ہوں ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The Qassam section · Hadith 6011

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ القَسَامَۃِ · حديث 6012

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِيَةُ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ سَوَاءٌ: عَشَرَةٌ مِنَ الْإِبِلِ لِكُلِّ أُصْبُعٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کی دیت برابر ہے اور ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہوگی۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The Qassam section · Hadith 6012

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ القَسَامَۃِ · حديث 6013

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ»، قُلْتُ: عَشْرٌ عَشْرٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "تمام انگلیوں کی دیت برابر ہے میں نے عرض کی: دس ،دس (اونٹ ) نبی اکرمﷺ نےفرمایا: جی ہاں ۔"

نَعَمْ ← «الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ»، قُلْتُ: عَشْرٌ عَشْرٌ؟ ← النَّبِيِّ ← أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، ← أَنَّهُ ← مَسْرُوقَ بْنَ أَوْسٍ، ← غَالِبٍ التَّمَّارِ، ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The Qassam section · Hadith 6013

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ القَسَامَۃِ · حديث 6014

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ نَاصِحٍ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَسْنَانُ سَوَاءٌ، وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "تمام دانت برابر کی حیثیت رکھتے ہیں تمام انگلیاں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← الْحَسَنُ بْنُ نَاصِحٍ الْخَلَّالُ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The Qassam section · Hadith 6014

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ القَسَامَۃِ · حديث 6015

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ: هَذِهِ وَهَذِهِ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ،نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "تمام انگلیاں برابر کی حیثیت رکھتی ہیں اور یہ (برابر شمار ہوں گی ) "۔

«الْأَصَابِعُ سَوَاءٌ: هَذِهِ وَهَذِهِ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The Qassam section · Hadith 6015

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6016

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ امْرَأَتَانِ، فَغَارَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، فَرَمَتْهَا بِفِهْرٍ، أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَأَسْقَطَتْ، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ، فَقَالَ وَلِيُّهَا: أَنَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلْ؟ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ؟ » وَجَعَلَهَا عَلَى أَوْلِيَاءِ أَوْلِيَاءِ الْمَرْأَةِ

حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتےہیں :ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی دو بیویاں تھیں وہ آپس میں لڑپڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مار یا خیمے کی لکڑی ماری ، تو دوسری کا حمل ضائع ہوگیا یہ مقدمہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا ، تو آپ ﷺ نےاس میں ایک غلام (یا کنیز ) کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ، تو اس عورت کے نگران نےکہا :کیا میں اس کی دیت کروں گا، جو چیخا بھی نہیں چیخ کررویا بھی نہیں اس نے کچھ پیا بھی نہیں اور کچھ کھایا بھی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا یہ زمانہ جاہلیت کی طرح کے مسجع کے الفاٖظ استعمال کر رہا ہے؟ پھر نبی اکرمﷺ نے دیت کی اد ائیگی عورت کے اولیاء پر لازم قرار دی ۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عبيد بن نضلة ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The door of the abyss · Hadith 6016

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6017

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ: «عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ»

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتےہیں : ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دو عورتوٖں میں سے ایک نے دوسری کو مار کر اس کے پیٹ میں موجود بچے کو ضائع کردیا، تو نبی اکرمﷺ نے اس (مقدمے) میں ایک غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا۔

اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The door of the abyss · Hadith 6017

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6018

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي لِحْيَانَ ضَرَبَتْ أُخْرَى كَانَتْ حَامِلًا، فَأَمْلَصَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوِ أَمَةٍ، قَالَ: فَتُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ الَّتِي عَلَيْهَا الْعَقْلُ: «فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا، وَأَنَّ مِيرَاثَهَا لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتےہیں : بنو لحیان سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے دوسری عورت کی مارا جو حاملہ تھی ، تو اس کا بچہ ضائع ہوگیا۔ نبی اکرم ﷺ نے بچے کے ضائع ہونےپر تاوان کے طور پر ایک غلام یا کنیز ادا کرنے کا فیصلہ کیا ۔ راوی بیان کرتےہیں : پھر وہ عورت فوت ہوگئی جس کے ذمے دیت کی ادائیگی لازم تھی ، تونبی اکرم ﷺ نے یہ فیصلہ دیا کہ اس کی دیت کی ادائیگی اس کے عصبہ رشتےداروں پر لازم ہوگی جبکہ اس کی وراثت اس کے شوہر اور بیٹوں کو ملے گی۔

ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The door of the abyss · Hadith 6018

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6019

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَعْيَنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ، عَنْ سِمَاكٍ *، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتِ امْرَأَتَانِ ضَرَّتَانِ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَمَاتَتِ الْمَرْأَةُ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَاقِلَةِ الدِّيَةَ، فَقَالَتْ عَمَّتُهَا: إِنَّهَا قَدْ أَسْقَطَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ غُلَامًا قَدْ نَبَتَ شَعْرُهُ، فَقَالَ أَبُو الْقَاتِلَةِ: إِنَّهَا كَاذِبَةٌ، إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا اسْتَهَلَّ، وَلَا شَرِبَ وَلَا أَكَلْ، فَمِثْلُهُ يُطَلُّ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَجْعَ الْجَاهِلِيَّةِ، غُرَّةٌ» [ص:376] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «اسْمُ إِحْدَاهُمَا مُلَيْكَةُ، وَالْأُخْرَى أُمُّ غُطَيْفٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : دوعورتیں ایک دوسرے کی سوکن تھیں ان میں سے ایک دوسری کو مارا ، تو دوسری عورت مرگئی ۔ نبی اکرمﷺ نے اس کے خاندان پر دیت کی ادائیگی کو لازم قرار دیا، تو اس کی پھوپھی نے یہ کہا یا رسول اللہ (ﷺ)! اس کا ایسا بچہ ضائع ہوا ہے، جس کے بال اگ چکے تھے، تو قتل کرنے والی عورت کے باپ نے کہا: یہ جھوٹ بول رہی ہے اللہ کی قسم ! وہ بچہ نہ، تو چیخ کررویا نہ اس نے کچھ پہا نہ کچھ کھایا اس طرح کا ،خون تو رائیگاں جاتا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا ؤزمانہ جاہلیت کی طرح کی مسجع (گفتگو کر رہے ہو) اس میں تاوا ن دینا ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عبا س ؓفرماتےہیں : ان دونوںمیں سے ایک خاتون کانام ملیکہ تھا اور دوسری کا نام ام غطیف تھا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَسْبَاطٍ ← عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ ← أَبُو بَكْرٍ الْأَعْيُنِ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The door of the abyss · Hadith 6019

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6020

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ [ص:377] يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ: عَبْدٌ، أَوْ وَلِيدَةٌ، وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا، وَيَرِثُهَا وَلَدُهَا وَمَنْ تَبِعَهُمْ» فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ: أَنَدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا نَطَقَ، وَلَا اسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ هَذَا يُطَلُّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا هَذَا مِنْ أَحْدَاثِ الْكُهَّانِ» مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ

حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں : ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والی دوخواتین کڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کو مار کر اسے قتل کر دیا اسے اور اس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کردیا وہ لوگ اپنا مقدمہ لےکر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے پیٹ میں موجود بچے کی دیت ایک غلام یا کنیز ہوگی اور نبی اکرم ﷺ نے عورت کی دیت کی ادائیگی اس عورت کے خاندان پر لازم قرار دی عورت کی اولاد اور اس کے دیگر ورثا اس کے وارث بن جاتے ۔ اس پر حمل بن نابغہ نےکہا : یا رسول للہ (ﷺ)! کیا میں اس کی دیت دوں میں ایسے شخص کی دیت کیسے دے سکتا ہوں ، جس نے کچھ کھایا نہیں کچھ پیا نہیں اونچی آواز میں رویا نہیں اس طرح کا خون ، تو رائیگاں جاتاہے ، تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ، تو کاہنوں کی طرح کی بات چیت کر رہا ہے نبی اکرمﷺ نے مسجع الفاظ کی وجہ سے یہ بات ارشاد فرمائی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The door of the abyss · Hadith 6020

صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ الغُرَّۃِ · حديث 6021

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الأَزدي*، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُمَرَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ نَاشَدَ النَّاسَ فِي الْجَنِينِ، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: «كُنْتُ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ، فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بِغُرَّةٍ: عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، وَأَنْ تُقْتَلَ بِهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتےہیں : حضرت عمر ؓ نے پیٹ میں موجود بچے کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، تو حضرت حمل بن مالک ؓ کھڑے ہوئے انہوں نےبتایا: میری دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک نے دوسری کو مار کر دوسری عورت اوراس کے پیٹ میں موجود بچے کو قتل کردیا، تو اس بارے میں نبی اکرمﷺ نے تاوان کےطور پر غلام یا کنیز کی ادائیگی کا فیصلہ دیا اور یہ فیصلہ دیا کہ اس عورت کو مقتول عورت کے عوض میں قتل کر دیا جائے۔

طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The door of the abyss · Hadith 6021

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr