صیح ابن حبان · کِتَابُ الدِّیَاتِ ‹ بَابُ القَسَامَۃِ · حديث 6010
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يَقْتُلُونَ الْقَاتِلَ بِالْقَتِيلِ، [ص:363] لَا تُقْبَلُ مِنْهُ الدِّيَةُ»، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى} [البقرة: 178] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ: {ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ} [البقرة: 178]، يَقُولُ: «فَخَفَّفَ عَنْكُمْ مَا كَانَ عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ، أَيِ الدِّيَةَ لَمْ تَكُنْ تُقْبَلُ، فَالَّذِي يَقْبَلُ الدِّيَةَ فَذَلِكَ عَفْوٌ، فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ، وَيُؤَدِّي إِلَيْهِ الَّذِي عُفِيَ مِنْ أَخِيهِ بِإِحْسَانٍ»
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں :پہلے زمانے میں لوگ مقتول کے بدلے میں قاتل کو قتل کر دیتے تھے اس سے دیت وصول نہیں کی جاتی تھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ "اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں تم پر قصاص لازم قرار دیا گیا ہے" یہ آیت کے آخر تک ہے: "یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تحفیف اور رحمت ہے"۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ،تواللہ تعالیٰ نےتم لوگوں کو اس حوالے سے تحفیف فراہم کی جو تم سے پہلے لوگوں پر لازم تھی یعنی دیت کی شکل فراہم ک جو پہلے کی جاتی تھی ،تو جو شخص دیت قبول کر لے گا ، تو یہ معاف کرنا ہوگا، بھلائی کی پیروی کرنا ہوگا اور اسے وہ شخص اداکرے گا، جو اسے اس کے بھائی کی طرف سے آسانی کے ساتھ معاف کیا گیا ہے۔"
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Religions › The Qassam section · Hadith 6010
