صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ بَابُ القِصَاصِ · حديث 5995
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَالَ أَبِي: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ قَالَ ذَلِكَ، وَكُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُشْبِهُ النَّاسَ فَإِذَا لَهُ وَفْرَةٌ بِهَا رَدْعٌ مِنْ حِنَّاءٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ أَبِي، ثُمَّ أَخَذَ يُحَدِّثُنَا سَاعَةً، قَالَ: «ابْنُكَ هَذَا»؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ: «أَمَا إِنَّ ابْنُكَ هَذَا لَا يَجْنِي عَلَيْكَ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ»، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] ثُمَّ نَظَرَ إِلَى السِّلْعَةِ الَّتِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كَأَطَبِّ الرِّجَالِ، أَلَا أُعَالِجُهَا؟ قَالَ: «طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «اسْمُ أَبِي رِمْثَةَ: رِفَاعَةُ بْنُ يَثْرِبِيٍّ التَّيْمِيُّ تَيْمُ الرَّبَابِ، وَمَنْ قَالَ: إِنَّ أَبَا رِمْثَةَ هُوَ الْخَشْخَاشُ الْعَنْبَرِيُّ فَقَدْ وَهِمَ»
حضرت ابو رمثہ ؓ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ،تو میرے والد نے دریافت کیا : یہ کون ہے؟ میں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم میرے والد نے بتایا یہ اللہ کے رسول ہیں جب انہوں نے یہ بات کہی ، تومجھ پرکپکپی طاری ہوگئی میرا یہ خیال تھا کہ اللہ کے رسول لوگوں کی طرح شکل وصورت کے نہیں ہوں گے ۔ نبی اکرمﷺ کےلمبے بال تھے جن میں کچھ مہندی لگی ہوئی تھی آپ ﷺ نے سبز رنگ کی دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں ۔ میرے والد نے آپ ﷺ کو سلام کیا پھر آپ ﷺ ہمارے ساتھ کچھ بات چیت کرتے رہے پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا یہ تمہار ا بیٹا ہے میرے والد نے جواب دیا: جہ ہاں رب کعبہ کی قسم میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارا بیٹا تمہارے کئے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتے گا اور تم اس کے کئے ہوئے جرم کی سزا نہیں بھگتو گے نبی اکرمﷺ نے یہ آیت تلاوت کی۔ "کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔" پھر میرے والد نبی اکرمﷺ کے دو کندھوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ ابھری ہوئی دیکھی ، تو انھوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں حکمت کاکام بھی کرتا ہوں میں اس کا علاج نہ کرون ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس کا علاج وہ ذات کرے گی، جس نے اسے پیدا کیاہے۔ (امام صاحبان ؒفرماتے ہیں )حضرت ابورمثہؓ کا نام رفاعہ بن یثربی تیمی ہے، یہ تیم رباب سے تعلق رکھتے ہیں ، جس شخص نے یہ کہا ہےکہ حضرت ابورمثہ ؓ کانام خشخاش عنبری ہے اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔
ذَلِكَ، وَكُنْتُ أَظُنُّ ← هَذَا رَسُولُ اللَّهِ فَاقْشَعْرَرْتُ حِينَ ← أَبِي: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي، ← انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَلَمَّا رَأَيْتُهُ ← أَبِي رِمْثَةَ ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ اِیَادِ بْنِ لَقِیطٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ
Hadith 5995
