Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5971

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، بِدِمَشْقَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُسَارَّهُ، فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلَامِهِ وَقَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ » قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ » قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: «أَلَيْسَ يُصَلِّي؟ » قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْهُمْ»

حضرت عبداللہ بن عدی انصاری ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ لوگون کے درمیان تشریف فرماتھے اسی دوران ایک شخص آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ ﷺ سے اجازت لی کہ وہ آپ ﷺ سے سر گوشی میں بات کرنا چاہتا ہے اس نے آپﷺ سے سرگوشی میں یہ بات چیت کی کہ وہ منافقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دے ،تو نبی اکرم ﷺ نے بلند آواز میں دریافت کیا :کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس شخص نے عرض کی : جی ہاں ، یا رسول اللہﷺ ، لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اس نے عرض کی : جی ہاں ،یا رسول اللہ ﷺ ،لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا اس نے عرض کی: جی ہاں (پڑھتا ہے) ، لیکن اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں ، جنہیں (قتل کرنے سے ) مجھے منع کیا گیا ہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5971

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5972

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ*، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: أَتَانِي أَبُو الْعَالِيَةِ وَصَاحِبٌ لِي، فَقَالَ: هَلُمَّا، فَإِنَّكُمَا أَشَبُّ شَبَابًا، وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا بِشْرَ بْنَ عَاصِمٍ اللَّيْثِيَّ*، قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: حَدِّثْ هَذَيْنِ، قَالَ بِشْرٌ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ، فَشَذَّ مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ، [ص:311] قَالَ: فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا، فَبَلَغَ الْقَاتِلَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ، قَالَ: ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ* عَليَّ أَنْ أَقْتُلَ مُؤْمِنًا» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں : ابو عالیہ اور میرے ایک ساتھی میرے پاس آئے ان لوگوں نے کہا : تم آؤتم نوجوان ہو تمہیں مجھ سے زیادہ حدیثیں ،یاد ہیں ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم بشر بن عاصم لیثی کے پاس آئے ،تو ابو عالیہ نے کہا: ان دونوں کو حدیث بیا ن کرو بشر نےیہ بات بیان کی ۔ حضرت عقبہ بن مالکؓ نے ہمیں حدیث بیان کی ہے: وہ ان کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکر ﷺ نے ایک مہم روانہ کی انہوں نے ایک قوم پر حملہ کیا ان میں سے ایک شخص ایک طرف ہٹ گیا میم میں شامل افراد میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا اس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی اس (پہلے الگ ہونے والے شخص نے )کہا میں مسلمان ہوں ، لیکن (پیچھے جانے والے فردنے ) اس کی بات پر توجہ نہیں دی اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا جب اس بات ک اطلاع نبی اکرمﷺتک پہنچی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا اس بات کی اطلاع قتل کرنے والے شخص کے ملی۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابھی نبی اکرمﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو اس قاتل نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ (ﷺ)! اللہ کی قسم !اس نے یہ کلمہ صرف قتل سے بچنے کے لیے پڑھا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے اور اس کی طرف موجود لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے خطبے کو جاری رکھا اس شخص نے دوبارہ یہی بات بیان کی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! اس نے صرف قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی۔ نبی اکرم ﷺنے پھر اس سے اور اس کی طرف موجود لوگوں سے منہ پھیر لیا پھر اس شخص سے صبر نہیں ہوا، یہاں تک کہ اس نے تیسری مرتبہ یہی بات کہی، تو نبی اکرم ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے ناراضگی کے آثار آپ ﷺ کے چہرے پر نمایاں تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے لیے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ میں کسی مومن کو قتل کروں یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5972

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5973

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ،: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ، أَوْ قَالَ: بِزِمَامِهِ، فَقَالَ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا»؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ: «أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ»؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: «فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا»؟ فَسَكَتْنَا، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ: «أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ»؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: «فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا»؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، فَقَالَ: «أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ»؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى يُبَلِّغُ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ»

حضرت ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اونٹ پر ٹھہرے ہوئے تھے ایک شخص نے اس اونٹ کی لگام (یہاں ایک لفظ کے بارے میں روای کو شک ہے ) کو پکڑا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا یہ کون سادن ہے ۔ ہم لوگ خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے لیے دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا یہ کون سا مہینہ ہے ہم لوگ خاموش رہے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺنے دریافت کیا یہ کون سا شہر ہے ہم لوگ خاموش رہے ،یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ شاید آپ ﷺ اس کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے ۔ ہم نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہاری جانیں تمہارے مال تمہاری عزتیں ایک دوسرے کےلیے اسی طرح قابل احترام ہیں ،جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے خبردار ہر موجود شخص غیر موجود تک اس کی تبلیغ کر دے کیونکہ بعض اوقات موجود شخص ایسے شخص تک اس کی تبلیغ کرے گا، جو اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر اس حکم کو محفوظ رکھے گا۔

"أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامِ؟ قُلْنَا: بَلَى، ← "فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، ← "أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ؟ قُلْنَا: بَلَى، ← "فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، ← «أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ»؟ قُلْنَا: بَلَى، ← "أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ، ← بِزِمَامِهِ- ← وَقَفَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ -أَوْ ← النَّبِيِّ ← أَبِي بَكْرَةَ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5973

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5974

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ [ص:313] هَانِئٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، السُّنَّةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ» ثُمَّ قَالَ: «أَيُّ شَهْرٍ هَذَا»؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: «أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟ » قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «أَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ » قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: «أَلَيْسَ ذَا الْبَلْدَةَ؟ » قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا»؟ قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ » قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ - قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَأَعْرَاضَكُمْ -، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ»، قَالَ: فَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ يَقُولُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَدْ كَانَ ذَاكَ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ [ص:314] أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ »

حضرت ابوبکرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان وزمین کو پیدا کیا ہے زمانہ گردش میں ہے سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ان میں سے تین آگے پیچھے آتے ہیں ذیقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم ،جبکہ رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کارسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ ﷺ اس کے لیے نیا نام تجویز کریں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیایہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا یہ کو ن سا شہر ہے ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ ﷺ اس کےلیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا یہ البلدہ نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا یہ کون سادن ہے ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ہم نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہاری جانیں تمہارے مال (یہاں محمد نامی راوی کہتے ہیں : میرا یہ خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ) اور تمہاری عزتیںایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترام ہیں ، جس طرح یہ دن اس شہر میں قابل احترام ہےہ عنقریب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے ، تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا خبردار میرے گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو، ہر تم میں سے ہر موجود غیر موجود شخص تک تبلیغ کر دے کیونکہ بعض اوقات یہ بات اس شخص تک پہنچ جاتی ہے ، جو اس کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر اسے محفوظ رکھتا ہے ، جس نے (نبی اکرم ﷺ کی زبانی براہ راست ) اسے سنا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : محمد نامی راوی جب اس حدیث کا ذکر کرتے تھے ، تو یہ کہتے تھے : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اس طرح ہوتا ہے۔ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: خبردار کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے۔

أَبِي بَكْرَةَ ← ابْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← عبد الله بن هانئ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5974

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5975

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَالسُّنَّةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ: ذُو الْقَعْدَةِ، وَذُو الْحِجَّةِ، وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ»، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ » قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: «أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ» قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: «فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟ » قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ [ص:315] بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: «أَلَيْسَ الْبَلَدَ الْحَرَامَ؟ » قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: «فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ » قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ: «أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ » قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: «فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ - قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَكُمْ -، حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ يَكُونُ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ »

حضرت ابو بکرہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کی پیدا کیا ہے زمانہ گردش میں ہے سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے ، جس میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ان میں سے تین آگے پیچھے آتے ہیں ذیقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم ،جبکہ رجب کا مہینہ جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان آتا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت یہ کون سا مہینہ ہے ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کارسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، تو ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ اس کے لیے نیا نام تجویز کریں گے ۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا : کیایہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا یہ کو ن سا شہر ہے ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ ﷺ اس کےلیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا یہ حرمت والا شہر نہیں ہے ہم نے عرض کی: جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیایہ کون سا دن ہے ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ ﷺ اس کےلیے کوئی دوسرا نام تجویز کریں گے ۔آپ ﷺ نے فرمایا: کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ہم نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:تمہاری جانیں اور تمہارے مال (یہاں محمد نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : تمہاری عزتیں )ایک دوسرے کے لیے اسی طرح قابل احترامہ ہیں ، جس طرح یہ دن اس مہینے میں اس شہر میں قابل احترام ہے عنقریب تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ گے، تو وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں حساب لے گا۔ تو تم میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو، خبردار! موجود شخص ، غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دیں ، کیونکہ جس (دوسرے شخص کو بات ) پہنچائی جائے گی وہ (بعض اوقات براہ راست ) سننے والے سے بہتر طور پر اسے محفوظ رکھے گا۔خبردار! کیامیں نے تبلیغ کر دی ہے؟

أَبِي بَكْرَةَ ← ابْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5975

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5976

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَامَ مَقَامِي هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ: التَّارِكُ الْإِسْلَامَ، الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ، [ص:316] وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ»

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : اس مقام پر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اللہ کا رسول ہوں ایسے کسی بھی شخص کا خون بہانا تین میں سے کسی ایک صورت میں جائز ہے، اسلام کو ترک کر کے (مسلمانوں کی ) جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا شخص ، شادی شدہ زانی اور جان کے بدلے جان۔

قَامَ مَقَامِي هَذَا رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5976

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5977

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَحِلُّ دَمُ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ»

حضرت عبداللہ ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "کسی بھی مسلمان کا خون تین میں سے کسی ایک صورت میں جائز ہے جان کے بدلے میں جان ، شادی شدہ زانی اور اپنے دین کو ترک کرکے (مسلمان کی ) جماعت سے علیحدہ ہونے والا شخص ۔"

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَبْدُ اللَّهِ ← مَسْرُوقٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5977

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5978

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ [ص:317] أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ»، قَالَ ذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ مِنْ مَالِ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ

حضرت ابو ساعدی ؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "کسی بھی مسلمان کےلیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے کسی بھائی کی لاٹھی اس کی رضامندی کے بغیر حاصل کرے۔" (راوی بیان کرتے ہیں ) نبی اکرم ﷺ نے اس معاملے کی شدت کی وجہ سے یہ بات بیان کی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کا مال دوسر ے مسلمان کے لیے حرام قرار دیا ہے۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5978

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5979

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ إِلَيْهَا الْمُؤْمِنُونَ أَعْيُنَهُمْ وَهُوَ حِينَ يَنْتَهِبُهَا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، فَإِيَّاكُمْ، إِيَّاكُمْ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "چور چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا ، زانی زنا کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، شراب پینے ولا شراب پیتے ہوئے مومن نہیں رہتا۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، جو بھی شخص لوگوں کے سامنے سر عام چیز لوٹتا ہے وہ اسے لوٹتے ہوئے مومن نہیں رہتا اور کوئی بھی شخص کسی قتل کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا، تو تم لوگ (ان تمام کاموں سے ) بچنے کی کوشش کرو بچنے کی کوشش کرو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5979

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5980

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةِ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، تَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كُلُّ ذَنْبٍ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَغْفِرَهُ، إِلَّا مَنْ مَاتَ مُشْرِكًا، أَوْ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا»

حضرت ابو درداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "ہر گناہ کے بارے میں (یہ امید کی جاسکتی ہے) کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا ماسوائے اس شخص کے جو مشرک ہونے کے عالم میں فوت ہو یا جس نے مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← أُمَّ الدَّرْدَاءِ تَقُولُ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، ← خَالِدِ بْنِ دِهْقَانَ، ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5980

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5981

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بن إِبْرَاهِيم بن إِسْمَاعِيل بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ زَيدٍ، عَنْ أَيُّوب، وَيُونس، والمُعَلَّى، عَنِ الحَسَن، عَنِ الأحنَفِ بن قَيسٍ: عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا التَقَى المُسْلِمَان بِسَيْفَيْهِمَا، فَقَتَلَ أَحَدُهُما صَاحِبَهُ، فَالقَاتِلُ والمَقْتُولُ فِي النَّارِ»

حضرت ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : "ہر گناہ (کے بارے میں یہ امید کی جاسکتی ہے ) کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا ، ماسوائے اس شخص کے ، جو مشرک ہونے کے عالم میں مر جائے ، یا جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر ے ۔"

أَبِي بَكْرَةَ ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← الْحَسَنِ، ← أَيُّوب، وَيُونس، والمُعَلَّى، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5981

صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5982

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ، عَنْ رِفَاعَةَ الْفِتْيَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَيُّمَا رَجُلٍ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ ثُمَّ قَتَلَهُ، فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا» قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَاتِمٍ: «فِتْيَانُ بَطْنٌ مِنْ بَجِيلَةَ، وَقِتْبَانُ سَكَنُهُ* بِمِصْرَ»

حضرت عمرو بن حمق ؓ بیان کرتےہیں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : "جو شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جان کے حوالے سے ایمان دے اور پھر اسے قتل کردے ، تو میں قتل کرنےوالے شخص سے بری ہوں خواہ مقتول شخص کافر ہو۔" شیخ ابو حاتم بیان کرتے ہیں : فتیان، بجیلہ قبیلے کی ایک شاخ ہے اور قتبان (قبیلے کے لوگ )مصر میں رہتے ہیں ۔

مِنَ الْقَاتِلِ بَرِيءٌ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا» ← «أَيُّمَا رَجُلٍ أَمِنَ رَجُلًا عَلَى دَمِهِ ثُمَّ قَتَلَهُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَمْرَو بْنِ الْحَمِقِ، ← رِفَاعَةَ الْفِتْيَانِيِّ ← إِسْمَاعِيلَ السُّدِّيِّ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5982

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr