صیح ابن حبان · کِتَابُ الجِنَایَاتِ ‹ کِتَابُ الجِنَایَاتِ · حديث 5971
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، بِدِمَشْقَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُهُ أَنْ يُسَارَّهُ، فَسَارَّهُ فِي قَتْلِ رَجُلٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَجَهَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَلَامِهِ وَقَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ » قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: «أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ » قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا شَهَادَةَ لَهُ، قَالَ: «أَلَيْسَ يُصَلِّي؟ » قَالَ: بَلَى، وَلَا صَلَاةَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُولَئِكَ الَّذِينَ نُهِيتُ عَنْهُمْ»
حضرت عبداللہ بن عدی انصاری ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ لوگون کے درمیان تشریف فرماتھے اسی دوران ایک شخص آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ ﷺ سے اجازت لی کہ وہ آپ ﷺ سے سر گوشی میں بات کرنا چاہتا ہے اس نے آپﷺ سے سرگوشی میں یہ بات چیت کی کہ وہ منافقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دے ،تو نبی اکرم ﷺ نے بلند آواز میں دریافت کیا :کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ اس شخص نے عرض کی : جی ہاں ، یا رسول اللہﷺ ، لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اس نے عرض کی : جی ہاں ،یا رسول اللہ ﷺ ،لیکن اس کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا وہ نماز نہیں پڑھتا اس نے عرض کی: جی ہاں (پڑھتا ہے) ، لیکن اس کی نماز کا کوئی اعتبار نہیں ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں ، جنہیں (قتل کرنے سے ) مجھے منع کیا گیا ہے۔
عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، بِدِمَشْقَ،
Sahih Ibn Hibban · Felony Book › Felony Book · Hadith 5971
