صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5963
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ، قَالَ: أَتَيْنَا الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ، فَقَالَ: مِمَّنِ الْقَوْمُ؟ فَقُلْنَا: بَنُو لَيْثٍ، فَسَأَلْنَاهُ وَسَأَلَنَا، وَقَالُوا: إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكُ عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى قَافِلِينَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ، قَالَ: وَغَلَتِ الدَّوَابُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنْتُ أَنَا وَصَاحِبِي أَبَا مُوسَى، فَأَذِنَ لَنَا، فَقَدِمْنَا الْكُوفَةَ بَاكِرًا مِنَ النَّهَارِ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: إِنِّي دَاخِلٌ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا قَامَتِ السُّوقُ خَرَجْتُ إِلَيْكَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِحَلْقَةٍ كَأَنَّمَا قُطِعَتْ رُءُوسُهُمْ، يَسْتَمِعُونَ إِلَى حَدِيثِ رَجُلٍ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي، فَقُلْتُ لِلرَّجُلِ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَبَصْرِيُّ أَنْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَوْ كُنْتَ كُوفِيًّا لَمْ تَسْأَلْ عَنْ هَذَا، هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ [ص:299] الشَّرِّ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْخَيْرَ لَمْ يَسْبِقْنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ فَقَالَ: «يَا حُذَيْفَةُ، تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ»، يَقُولُهَا لِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: «فِتْنَةٌ وَشَرٌّ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ مَا هِيَ؟ قَالَ: «لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «يَا حُذَيْفَةُ، تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ، وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِنْ مُتَّ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْرِ خَشَبَةٍ يَابِسَةٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ» «[ص:301] الْيَشْكُرِيُّ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ» * [الْيَشْكُرِيُّ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ] قال الشيخ: كذا! والظاهر أنه خطأ من الناسخ، والصواب: سبيع.
نصر بن عاصم لیثی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ بنو لیث کے کچھ افراد یشکری کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے دریافت کیا آپ کا تعلق کون سے قبیلے سے ہے ہم نے جواب دیا: بنولیث سے ہم نے ان سے دریافت کیا انہوں نے ہم سے سوالات کیے لوگوں نے بتایا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے حضرت حذیفہ ؓ کے حوالے سے منقول حدیث کے بارے میں دریافت کریں ،تو انہوں نے بتایا ہم لوگ کسی جنگ سے واپس آرہے تھے ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے ساتھ تھے انہوں نے بتایا کوفہ میں جانور مہنگے ہو گئے۔ پھر میں نے اور میرے ساتھی نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے اجازت مانگی انہوں نے ہمیں اجازت دی ، تو ہم دن کے ابتدائی حصے میں کوفہ آگئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا میں مسجد میں جاتا ہوں جب بازار شروع ہونے کا وقت ہوگا ، تو میں تمہارے پاس آجاؤں گا میں مسجد میں داخل ہوا، تو وہاں ایک حلقہ موجود تھا ان لوگوں کے سر بالکل ساکت تھے وہ لوگ ایک شخص کی بات سن رہے تھے ۔ راوی کہتا ہے میں آیا اور ان کے پاس آکر کھڑا ہو گیا پھر ایک اور شخص آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہو گیا میں نے اس شخص سے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ اس نے دریافت کیا: کیا تم بصرہ کے رہنے والے ہو میں نے جواب دیا: جی ہاں اس نے کہا : مجھے اندازہ ہو گیا تھا کیونکہ اگر تم کوفہ کے رہنے والے ہوتے ، تو تم ان صاحب کے بارے میں سوال نہ کرتے یہ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ ہیں (جو نبی اکرم ؓ کے صحابی ہیں ) میں ان کے اور قریب ہو گیا ، تو میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ لوگ نبی اکرمﷺ سے بھلائی کے بارے میں دریاف کرتے تھے اور میں نبی اکرم ﷺ سے خرابیوں کے بارے میں دریافت کیا کرتا تھا مجھے اس بات کا پتہ تھا کہ بھلائی مجھ سے آگے نہیں نکلے گی میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی آئے گی نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:اے حذیفہ تم کتاب اللہ کا علم حاصل کرو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو یہ بات آپ ﷺ نے مجھ سے تین مرتبہ فرمائی میں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:آزمائش اور برائی ہو گی ۔میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی آئے گی ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہدنتہ علی دخن میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہدینتہ علی دخن سے مراد کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے دل دوبارہ اس کیفیت پر واپس نہیں جائیں گے جس پر وہ پہلے تھے میں نے عرض کی :یا رسو ل اللہ (ﷺ)! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے حذیفہ تم اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرو۔ اس میں موجود احکام کی پیروی کرو یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسی آزمائش ہو گی جو اندھا گونگا کر دے گی اس فتنے پہر وہ لوگ موجود ہوں گے جو جہنم کی طرف بلائیں گے اے حذیفہ اگر تم ایسی حالت میں مرتے ہو کہ تم نے کسی خشیک لکڑی کے تنے کو دانتوں میں پکڑا ہوا ہے، تو یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ تم ان میں سے کسی ایک شخص کی پیروی کرو۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں ) یشکری نامی راوی کانام سلیمان ہے۔
نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Hadith 5963
