Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5963

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ، قَالَ: أَتَيْنَا الْيَشْكُرِيَّ فِي رَهْطٍ مِنْ بَنِي لَيْثٍ، فَقَالَ: مِمَّنِ الْقَوْمُ؟ فَقُلْنَا: بَنُو لَيْثٍ، فَسَأَلْنَاهُ وَسَأَلَنَا، وَقَالُوا: إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكُ عَنْ حَدِيثِ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى قَافِلِينَ مِنْ بَعْضِ مَغَازِيهِ، قَالَ: وَغَلَتِ الدَّوَابُّ بِالْكُوفَةِ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنْتُ أَنَا وَصَاحِبِي أَبَا مُوسَى، فَأَذِنَ لَنَا، فَقَدِمْنَا الْكُوفَةَ بَاكِرًا مِنَ النَّهَارِ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: إِنِّي دَاخِلٌ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا قَامَتِ السُّوقُ خَرَجْتُ إِلَيْكَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِحَلْقَةٍ كَأَنَّمَا قُطِعَتْ رُءُوسُهُمْ، يَسْتَمِعُونَ إِلَى حَدِيثِ رَجُلٍ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي، فَقُلْتُ لِلرَّجُلِ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَبَصْرِيُّ أَنْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: قَدْ عَرَفْتُ أَنَّكَ لَوْ كُنْتَ كُوفِيًّا لَمْ تَسْأَلْ عَنْ هَذَا، هَذَا حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ [ص:299] الشَّرِّ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْخَيْرَ لَمْ يَسْبِقْنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ فَقَالَ: «يَا حُذَيْفَةُ، تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ»، يَقُولُهَا لِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ؟ قَالَ: «فِتْنَةٌ وَشَرٌّ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الشَّرِّ خَيْرٌ؟ قَالَ: «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ ‍ مَا هِيَ؟ قَالَ: «لَا تَرْجِعُ قُلُوبُ أَقْوَامٍ عَلَى الَّذِي كَانَتْ عَلَيْهِ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «يَا حُذَيْفَةُ، تَعَلَّمْ كِتَابَ اللَّهِ، وَاتَّبِعْ مَا فِيهِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ؟ قَالَ: «فِتْنَةٌ عَمْيَاءُ صَمَّاءُ عَلَيْهَا دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِنْ مُتَّ يَا حُذَيْفَةُ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جَذْرِ خَشَبَةٍ يَابِسَةٍ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ» «[ص:301] الْيَشْكُرِيُّ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ» * [الْيَشْكُرِيُّ اسْمُهُ سُلَيْمَانُ] قال الشيخ: كذا! والظاهر أنه خطأ من الناسخ، والصواب: سبيع.

نصر بن عاصم لیثی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ بنو لیث کے کچھ افراد یشکری کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے دریافت کیا آپ کا تعلق کون سے قبیلے سے ہے ہم نے جواب دیا: بنولیث سے ہم نے ان سے دریافت کیا انہوں نے ہم سے سوالات کیے لوگوں نے بتایا: ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے حضرت حذیفہ ؓ کے حوالے سے منقول حدیث کے بارے میں دریافت کریں ،تو انہوں نے بتایا ہم لوگ کسی جنگ سے واپس آرہے تھے ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے ساتھ تھے انہوں نے بتایا کوفہ میں جانور مہنگے ہو گئے۔ پھر میں نے اور میرے ساتھی نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے اجازت مانگی انہوں نے ہمیں اجازت دی ، تو ہم دن کے ابتدائی حصے میں کوفہ آگئے میں نے اپنے ساتھی سے کہا میں مسجد میں جاتا ہوں جب بازار شروع ہونے کا وقت ہوگا ، تو میں تمہارے پاس آجاؤں گا میں مسجد میں داخل ہوا، تو وہاں ایک حلقہ موجود تھا ان لوگوں کے سر بالکل ساکت تھے وہ لوگ ایک شخص کی بات سن رہے تھے ۔ راوی کہتا ہے میں آیا اور ان کے پاس آکر کھڑا ہو گیا پھر ایک اور شخص آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہو گیا میں نے اس شخص سے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ اس نے دریافت کیا: کیا تم بصرہ کے رہنے والے ہو میں نے جواب دیا: جی ہاں اس نے کہا : مجھے اندازہ ہو گیا تھا کیونکہ اگر تم کوفہ کے رہنے والے ہوتے ، تو تم ان صاحب کے بارے میں سوال نہ کرتے یہ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ ہیں (جو نبی اکرم ؓ کے صحابی ہیں ) میں ان کے اور قریب ہو گیا ، تو میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ لوگ نبی اکرمﷺ سے بھلائی کے بارے میں دریاف کرتے تھے اور میں نبی اکرم ﷺ سے خرابیوں کے بارے میں دریافت کیا کرتا تھا مجھے اس بات کا پتہ تھا کہ بھلائی مجھ سے آگے نہیں نکلے گی میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی آئے گی نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا:اے حذیفہ تم کتاب اللہ کا علم حاصل کرو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو یہ بات آپ ﷺ نے مجھ سے تین مرتبہ فرمائی میں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:آزمائش اور برائی ہو گی ۔میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی آئے گی ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہدنتہ علی دخن میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! ہدینتہ علی دخن سے مراد کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے دل دوبارہ اس کیفیت پر واپس نہیں جائیں گے جس پر وہ پہلے تھے میں نے عرض کی :یا رسو ل اللہ (ﷺ)! اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے حذیفہ تم اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرو۔ اس میں موجود احکام کی پیروی کرو یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا اس بھلائی کے بعد کوئی برائی بھی آئے گی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسی آزمائش ہو گی جو اندھا گونگا کر دے گی اس فتنے پہر وہ لوگ موجود ہوں گے جو جہنم کی طرف بلائیں گے اے حذیفہ اگر تم ایسی حالت میں مرتے ہو کہ تم نے کسی خشیک لکڑی کے تنے کو دانتوں میں پکڑا ہوا ہے، تو یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ تم ان میں سے کسی ایک شخص کی پیروی کرو۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتےہیں ) یشکری نامی راوی کانام سلیمان ہے۔

نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5963

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5964

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ، يَقُولُ: [ص:302] قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى عُثْمَانَ مِنَ الشَّامِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، افْتَحِ الْبَابَ حَتَّى يَدْخُلَ النَّاسُ، أَتَحْسِبُنِي مِنْ قَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ؟ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فُوقِهِ؟ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَقْعُدَ لَمَا قُمْتُ، وَلَوْ أَمَرْتَنِي أَنْ أَكُونَ قَائِمًا لَقُمْتُ مَا أَمْكَنَتْنِي رِجْلَايَ، وَلَوْ رَبَطْتَنِي عَلَى بَعِيرٍ لَمْ أُطْلِقْ نَفْسِي حَتَّى تَكُونَ أَنْتَ الَّذِي تُطْلِقُنِي، ثُمَّ اسْتَأْذَنَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّبَذَةَ، فَأَذِنَ لَهُ فَأَتَاهَا، فَإِذَا عَبْدٌ يَؤُمُّهُمْ، فَقَالُوا: أَبُو ذَرٍّ فَنَكَصَ الْعَبْدُ، فَقِيلَ لَهُ: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ: «أَنْ أَسْمَعَ وَأُطِيعَ، وَلَوْ لِعَبْدٍ حَبَشِيٍّ مُجَدَّعِ الْأَطْرَافِ، وَإِذَا صَنَعْتُ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، ثُمَّ انْظُرْ جِيرَانَكَ فَأَنِلْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ، وَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَتَيْتَ الْإِمَامَ وَقَدْ صَلَّى كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ نَافِلَةٌ»

عبداللہ بن صاحب بیا ن کرتے ہیں : حضرت ابو ذر غفاری ؓ شام سے حضرت عثمان غنی ؓ سے ملنے کے لیے آئے انہوں نے کہا : اے امیرالمومنین آپ دروازہ کھولیے تاکہ لوگ اندر آجائیں کیا آپ مجھے ایسے لوگوں سے روک رہے ہیں جو قرآن کی تلاوت کریں گے ، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں جائے گا اور وہ دین سے یوں خارج ہوجائیں گے جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے پھر وہ اس میں دوبارہ نہیں آئیں گے، جب تک تیر کمان کی طرف واپس نہیں آتا یہ ساری مخلوق کے سب سے برے فرد ہوں گے اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر آپ مجھے بیٹھنے کا حکم دیں ، تو میں کھڑا نہیں رہوں گا اور اگر آپ مجھے کھڑا رہنے کا حکم دیں ،تو میں کھڑا ہو جاؤں گا ، جب تک میرے پاؤں میرا ساتھ دیں گے،اور اگر آپ مجھے کسی اونٹ کے ساتھ باندھ دیں ،تو میں خود کو کھولنے کی کوشش نہیں کروں گا ، جب تک آپ خود مجھے نہیں کھولتے پھر حضرت ابوذر غفاری ؓ نے حضرت عثمان ؓ سے اجازت لی کہ وہ ربذہ چلے جائیں ، تو حضرت عثمان ؓ نے انہیں اجازت دیدی وہ وہاں آگئے وہاں ایک غلام ان لوگوں کی امامت کیا کرتاتھا لوگوں نے کہا : حضرت ابوذر ؓ تو غلام نے سر جھکالیا ۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ سے کہا گیا آپ آگے بڑھیے (اورنماز پڑھا ئیے ) ، تو حضرت ابو ذرغفاری نے فرمایا: میرے خلیل نبی اکرم ﷺنے مجھے تین باتوں کی تلقین کی ہے یہ کہ اطاعت وفرمانبرداری کروں خواہ کوئی ایسا حبشی حکمران ہو، جس کے ناک اورکان کٹے ہوئے ہوں دوسرا یہ کہ جب میں شور با بناؤں ، تو اس میں پانی زیادہ ڈال دوں اور پھر اس بات کا جائزہ لوں کہ میرے پڑوسیوں میں سے کسے بھیجا جاسکتا ہے اور (تیسری بات یہ کہ ) نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرنا پھر اگر تم امام کے پاس آؤٔ اور وہ تم سے پہلے نماز پڑھ چکے ہوں ، تو تم اپنی نماز کو محفوظ کر چکے تھے ورنہ یہ نماز تمہارے لیے نفل شمار ہو گی۔

قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى عُثْمَانَ مِنَ الشَّامِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5964

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5965

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الشَّحَّامُ، قَالَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتَنٌ يَكُونُ الْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرًا مِنَ الْجَالِسِ، وَالْجَالِسُ خَيْرًا مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرًا مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرًا مِنَ السَّاعِي»، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ إِبِلٌ فَلْيَلْحَقْ بِإِبِلِهِ، وَمَنْ كَانَ لَهُ غَنَمٌ فَلْيَلْحَقْ بِغَنَمِهِ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَلْحَقْ بِأَرْضِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ، فَلْيَعْمِدْ إِلَى [ص:304] سَيْفِهِ، فَلْيَضْرِبْ بِحَدِّهِ عَلَى صَخْرَةٍ، ثُمَّ لِيَنْجُ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَاةَ»

حضرت ابو بکرہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "عنقریب ایسے فتنے ہوں گے جن میں لیٹا ہوا شخص بیٹھے ہوئے شخص سے بہتر ہو گا بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا چلنے واا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ۔ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! (اس طرح کی صورت حال میں ) آپ ﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلا جائے جس شخص کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں کے پاس چلا جائے جس شخص کی زمین ہو وہ اپنی زمین کے ساتھ مصروف ہو جائے جس شخص کے پاس ان میں سے کچھ نہ ہو وہ اپنی تلوار کی طرف جائے اور پھر اس کی دھار کو پتھر پر مار کر (اپنی تلوار کو بے کار کر دے ) پھر جہاں تک اس سے ہو سکے وہ نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔"

أَبِيهِ ← مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، ← عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5965

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5966

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ، قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُمَرَ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: إِنَّكَ لَجَدِيرٌ، أَوْ لَجَرِيءٌ، فَكَيْفَ قَالَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ، وَمَالِهِ، وَوَلَدِهِ، وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ، وَالصَّدَقَةُ، وَالصَّلَاةُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ»، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا [ص:305] أُرِيدُ، إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، فَقُلْتُ: وَمَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ: ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا، قَالَ: قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: هَلْ كَانَ يَعْلَمُ مَنِ الْبَابُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ، إِنَّ حُذَيْفَةَ حَدَّثَنَا حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ، قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ، فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: عُمَرُ

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت عمر ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے دریافت کیا آپ میں سے کس کو فتنے کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کی حدیث یاد ہے میں نے جوا ب دیا: مجھے ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: آپ اس لائق ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) آپ نے جرأت کا مظاہرہ کیا ہے نبی اکرم ﷺ نے کیا ارشاد فرمایاہے ، تو حضرت حذیفہ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ با ت ارشاد فرماتے ہوئے سناہے: "آدمی کی آزمائش ،اس کی اپنی ذات کے بارے میں اس کےاہل خانہ کے بارے میں اس کے مال میں اس کی اولاد میں اور اس کے پڑوسی کے بارے میں ہوتی ہے روزہ رکھنا ، صدقہ کرنا ،نماز پڑھنا ، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنااس کا کفارہ بنتےہیں ۔" حضرت عمر ؓ نے کہا : میں یہ مراد نہیں لے رہا میری مراد وہ فتنہ ہے ،جو سمندر کی لہروں کی طرح ہوگا میں نے کہا : اے امیر المومنین آپ کا اس کے ساتھ کیا واسطہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بنددروازہ ہے ۔ حضرت عمر ؓ نے دریافت کیا : کیا اس دروازے کو توڑا جائے گا یا کھول دیا جائے گا ، تو میں نے کہا : جی نہیں اسے توڑا جائے گا اور پھر وہ اس لائق ہو گا کہ وہ دوبارہ کبھی بند نہ ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت حذیفہ ؓسے دریافت کیا : کیا حضرت عمر ؓ یہ بات جانتے تھے کہ دروازے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں جس طرح وہ یہ بات جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات آئے گی ۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) حضرت حذیفہ ؓ نے ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کی جس میں غلط بیان ہو۔ راوی کہتےہیں: ہمیں ان سے یہ پوچھنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ دروازے سے مراد کیا ہے ، تو ہم نے مسروق سے کہا کہ تم ان سے دریافت کرو مسروق نے ان سے دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا (دروازے سے مراد )حضرت عمر ؓ ہیں ۔

حُذَيْفَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 5966

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5967

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ»

حضرت اسامہ ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "میں اپنے بعد کوئی ایس افتنہ چھوڑ کر نہیں جا رہا جو مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ نقصان دہ ہو۔"

أُسَامَةُ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5967

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5968

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَيْلٌ لِلنِّسَاءِ مِنَ الْأَحْمَرَيْنِ: الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ»

حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ؛ "دوسرخ چیزوں کی وجہ سے خواتین کی بربادی ہے سونا اور معصفر (زرد کپڑا یا کوئی اور چیز) "۔

«وَيْلٌ لِلنِّسَاءِ مِنَ الْأَحْمَرَيْنِ: الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5968

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5969

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ»

حضرت اسمہ بن زیدؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "میں اپنے بعد کوئی ایسی آزمائش نہیں چھوڑ رہا جو مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ نقصان ہو۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو قُرَّةَ، ← أَبُو حُمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الزُّبَيْدِيُّ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ أَبُو سَعِيدٍ،

Hadith 5969

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5970

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَخْوَفَ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ»

حضرت اسامہ بن زید ؓ روایت کرتےہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "میں اپنے بعد کوئی ایسی آزمائش نہیں چھوڑ رہا جو مردوں کے لیے خواتین سے زیادہ قابل تشویش ہو۔"

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5970

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr