صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5951
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ»؟ قَالَ: وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ذَاكَ إِذَا مَرِجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ، وَصَارُوا هَكَذَا» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تَعْمَلُ مَا تَعْرِفُ وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، [ص:282] وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ»
حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے عبداللہ عمرو! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگوں کے چھان میں باقی رہ جاؤ گے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)!یہ کون لوگ ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ایسا اس وقت ہو گا جب ان کی امانات اور ان کے عہد ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوں گے، اور یوں ہوجائیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے فرمایا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)!پھر آپ ﷺکی اس بارے میں کیا رائے ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:جسے تم اچھائی سمجھو اسے تم کر لینا اور جسے تم برائی سمجھو اسے نہ کرنا اور تم صرف اپنی ذات کے لیے عمل کرنا اور لوگوں کو (ان کے حال پر ) چھوڑ دینا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Hadith 5951
