Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5951

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ»؟ قَالَ: وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ذَاكَ إِذَا مَرِجَتْ أَمَانَاتُهُمْ وَعُهُودُهُمْ، وَصَارُوا هَكَذَا» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تَعْمَلُ مَا تَعْرِفُ وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ، [ص:282] وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اے عبداللہ عمرو! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگوں کے چھان میں باقی رہ جاؤ گے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)!یہ کون لوگ ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ایسا اس وقت ہو گا جب ان کی امانات اور ان کے عہد ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوں گے، اور یوں ہوجائیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر کے فرمایا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)!پھر آپ ﷺکی اس بارے میں کیا رائے ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:جسے تم اچھائی سمجھو اسے تم کر لینا اور جسے تم برائی سمجھو اسے نہ کرنا اور تم صرف اپنی ذات کے لیے عمل کرنا اور لوگوں کو (ان کے حال پر ) چھوڑ دینا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5951

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5952

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ، جَبَّرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ، قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ الْحَجَّاجَ، فَقَالَ: «اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ يَوْمٌ أَوْ زَمَانٌ إِلَّا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس آئے ہم نے حجاج کی شکایت ان سے کی ، تو انہوں نے فرمایا: تم لوگ صبر سے کام لو کیونکہ تم پر اب جو بھی دن (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جو بھی زمانہ آئے گا ، تو اس کے بعد والا زمانہ اس سے زیادہ برا ہو گا ، یہاں تک کہ تم لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گےیہ بات میں نے تمہارے نبی کی زبانی سنی ہے۔

الزبير بن عدي ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ جَبَّرَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ،

Hadith 5952

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5953

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا لَيْلَةٌ، لَمَلَكَ فِيهَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اگر دنیا ختم ہونے میں صرف ایک رات باقی رہ جائے ، تو اس میں بھی نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بادشاہ ضرو ر بنے گا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو شِهَابٍ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 5953

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5954

وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا لَيْلَةٌ، لَمَلَكَ فِيهَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي [يُوَاطِئ] * اسْمُهُ اسْمِي»

۔حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اگر دنیا ختم ہونے میں ایک رات باقی رہ جائے ، تو اس میں میرے اہل بیت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حکمران ضرور بنے گا، جس کا نامیرے نام کی طرح ہو گا۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زِرٍّ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو شِهَابٍ، ← مُسَدَّدٌ ← وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، فِي عَقِبِهِ،

Hadith 5954

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5955

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوْشَكَ أَنْ يَكُونَ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غُنَيْمَةً يَتْبَعُ بِهَا سَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاضِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ «سَعَفَ» وَإِنَّما هِيَ بِالشِّينِ

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: عنقریب ایسا وقت آئے گا جب مسلمان کا سب سے بہتر مال چند بکریاں ہوں گی ، جنہیں وہ ساتھ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور بارش نازل ہونے کے مقامات (یعنی جنگلات) میں چلا جائے گاوہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کےلیے بھاگے گا۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں) ابو خلیفہ نامی راوی نے یہ لفظ سعف نقل کیا ہے، حالانکہ اصل لفظ شین کے ساتھ ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 5955

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5956

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي كُرْزٌ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ: قَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا الْإِسْلَامِ مِنْ مُنْتَهًى؟ قَالَ: «نَعَمْ، مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا مِنْ عَرَبٍ أَوْ عَجَمٍ أَدْخَلَهُ عَلَيْهِمْ»، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ تَقَعُ فِتَنٌ كَالظُّلَمِ»، قَالَ: كَلَّا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَتَعُودُنَّ فِيهَا أَسَاوِدَ صُبًّا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، فَخَيْرُ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ مُؤْمِنٌ مُعْتَزِلٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَتَّقِي اللَّهَ، وَيَذَرُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ»

حضرت کرزخزاعی ؓ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! کیا اس اسلام کا کچھ اختیار ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں اللہ تعالیٰ عربوں اور عجمیوں میں سے جس کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے گا اسے اسلام میں داخل کرے گا۔ اس دیہاتی نے عرض کی : یا رسول اللہ (ﷺ)! پھر کیا ہو گا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: پھر تاریکیوں کی طرح کے فتنے آئیں گے۔ اس شخص نے عرض کی: ہر گز نہیں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ (ﷺ)! (ایسا نہیں ہوگا) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے (ایساہی ہوگا ) اور تم لوگ دوبارہ اس میں ایسی صورت حال کا شکار ہوجاؤ گے کہ سانپوں کی طرح پھن پھیلالو گے اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو گے اس زمانے میں سب سے بہتر شخص وہ مومن ہوگا، کو کسی گھاٹی میں الگ تھلگ رہتا ہو گا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو گا اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے گا۔

أَعْرَابِيٌّ: ← كُرْزٌ الْخُزَاعِيُّ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 5956

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5957

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بَسَّامٍ، بِالْبَصْرَةِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَالْهِجْرَةِ إِلَيَّ»

حضرت معقل بن یسار ؓ روایت کرتے ہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "فتنے کے دنوں میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کی مانند ہوگا۔"

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بَسَّامٍ، بِالْبَصْرَةِ

Hadith 5957

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5958

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، يَتْبَعُ شَغَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "عنقریب ایسا وقت آئے گا کہ جب مسلمان کا سب سے بہتر مال بکریاں ہوں گی ، جنہیں وہ ساتھ لے کر پہاڑوں کی چوٹیوں اور جنگلات میں چلا جائے گا وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کےلیے بھاگے گا۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 5958

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5959

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ*، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتَكُونُ فِتَنٌ كَرِيَاحِ الصَّيْفِ، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمٌ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، مَنِ اسْتَشْرَفَ لَهَا اسْتَشْرَفَتْهُ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "عنقریب ایسے فتنے آئیں گے جو گرمی کی ہواؤں ک طرح ہوں گے ان میں بیٹھا ہو ا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا ، جو شخص ان کی طرف جھانکے کر دیکھے گا یہ اسے اپنی طرف کھینچ لیں گے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5959

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5960

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ تَفْعَلُ [ص:293] إِذَا جَاعَ النَّاسُ حَتَّى لَا تَسْتَطِيعَ أَنْ تَقُومَ مِنْ فِرَاشِكِ إِلَى مَسْجِدِكَ»؟ فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَعَفَّفْ»، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا مَاتَ النَّاسُ حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْوَصِيفِ»؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَصْبرُ»، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا اقْتَتَلَ النَّاسُ حَتَّى يَغْرَقَ حَجَرُ الزَّيْتِ»؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَأْتِي مَنْ أَنْتَ فِيهِ»، فَقُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَتَى عَلَيَّ؟ قَالَ: «تَدْخُلُ بَيْتَكَ»، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَتَى عَليَّ؟ قَالَ: «إِنْ خَشِيتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَائِفَةَ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ»، فَقُلْتُ: أَفَلَا أَحْمِلُ السِّلَاحَ؟ قَالَ: «إِذًا تَشْرَكُهُ»

حضرت ابو ذر غفاری ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: اے ابوذر ! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب لوگوں میں بھوک عام ہوگی ، یہاں تک کہ تم اس بات کی استطاعت بھی نہیں رکھو گے کہ اپنے بچھونے سے اٹھ کر مسجد تک جا سکو۔ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بچنے کی کوشش کرنا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ مر جائیں گے ، یہاں تک کہ گھر (یعنی قبر کی جگہ ) خادم کے عوض میں ملے گی ، ہوگا۔ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: تم صبر سے کام لینا پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کریں گے ، یہاں تک کہ حجرزیت کا مقام (خون میں ) ڈوب جائے گامیں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اس جگہ پر رہنا جہاں تم رہتے ہو(یعنی باہر نہ نکلنا) میں نے عرض کی : آپ ﷺ کی کیا رائے ہے اگر وہ پھر بھی مجھ تک پہنچ جائیں ،تو نبی اکرم ﷺنے فرمایا: تم اپنے گھر کے اندر چلے جانا۔ میں نے عرض کی: اگر وہ پھر میرے تک پہنچ گئے ، تو آپ ﷺ کی کیا رائے ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی چمک تمہیں پریشان کر دے گی ، تو تم اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا وہ شخص تمہارے اور اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے گا ۔ میں نے عرض کی: کیامیں اس پر ہتھیار نہ اٹھاؤن ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس صورت میں تم بھی اس کے برابر ہو جاؤ گے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5960

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5961

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، [ص:295] عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي مَجْشَرِهِ، وَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ، إِذْ نُودِيَ بِالصَّلَاةِ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعْنَا، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ: «لَمْ يَكُنْ قَبْلِي نَبِيٌّ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لَهُمْ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ، فَتَجِيءُ فِتْنَةُ الْمُؤْمِنِ، فَيَقُولُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَيَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ، وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ»، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ، يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَنُهْرِيقُ دِمَاءَنَا، وَقَالَ اللَّهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [النساء: 29]، وَقَالَ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ} [النساء: 29] قَالَ: ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: «أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ، وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ»

حضرت عبداللہ بن عمروؓ نے خانہ کعبہ کے سائے میں یہ بات بیا ن کی: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ہم میں سے کچھ لوگ تیر اندازی کر رہے تھے کچھ لوگ جانوروں کو چرارہے تھے اور کچھ لوگ خیمے ٹھیک کر رہے تھے اسی دوران یہ اعلان کیا گیا نماز ہونے لگی ہے ہم لوگ اکٹھے ہو گئے ، تو نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھ سے پہلے جو بھی نبی تھا ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات لازم تھی کہ وہ نبی اپنی امت کی رہنمائی اس چیز کی طرف کرے جو ان کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور ان لوگوں کو ان چیزوں سے ڈرائے جن کے بارے میں وہ یہ جانتا ہے کہ یہ ان کے حق میں برے ہوں گے جہاں تک اس امت کا تعلق ہے، تو اس کی عافیت اس ک ابتدائی حصے میں ہے اور اس کے آخری حصے میں آزمائش ہوں گی مومن کے پاس ایک آزمائش آئے گی ، تو وہ یہ کہے گا میں اس میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا پھر دوسرٰ آئے گی ، تو یہ کہے گا اس میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں پھر وہ بھی ختم ہو جائے گی ، تو تم میں سے جو شخص اس بات کو پسند کرتا ہو کہ اسے جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے اس کی موت ایسے عالم میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے ، جس کے بارے میں وہ یہ پسند کرتاہے کہ اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جائے جو شخص کسی حکمران کے ہاتھ پر بیعت کرلے اور اپنا ہاتھ اور اپنی ذہنی آمادگی اس کو دیدے ، تو اسے جہاں تک ہو سکے ، اس حکمران کی فرمانبرداری کرنی چاہئے۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے کہا: یہ آپ کے چچا زاد حضرت معاویہ ؓ تو ہمیں کہتے ہیں : ہم اپنے (یعنی ایک دوسرے کے ) اموال نا حق طور پر کھائیں اور خون بہا ئیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایاہے ۔ "اے ایمان والو! ایک دوسرے کے مال نا حق طور پر نہ کھاؤ۔" اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ "تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔" راوی کہتے ہیں : وہ (یعنی حضرت عبداللہ بن عمروؓ ) تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہے پھر انہوں نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے معاملے میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نا فرمانی کے معاملے میں اس کی بات نہ مانو۔

فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 5961

صیح ابن حبان · بَابُ الفِتَنِ ‹ بَابُ مَاجَا ءَ فِی الفِتَنِ · حديث 5962

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ لَفِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، وَيُصْبِحُ كَافِرًا، الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، كَسِّرُوا قِسِيَّكُمْ، وَقَطِّعُوا أَوْتَارَكُمْ، وَاضْرِبُوا بِسُيُوفِكُمُ الْحِجَارَةَ، فَإِنْ دُخِلَ عَلَى أَحَدٍ بَيْتَهُ، فَلْيَكُنْ كَخَيْرِ ابْنَيْ آدَمَ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ روایت کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: "قیامت سے پہلے کچھ فتنے یوں ہوں گے جس طرح تاریک رات کے ٹکڑے ہوتے ہیں ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا، تو شام کے وقت کافر ہو جائے گا شام کے وقت مومن ہو گا ، تو صبح کے وقت کافر ہوگا اس وقت میں بیٹھا ہو اشخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہوگا اور کھڑے ہوا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا تم اپنی کمانیں توڑدینا اپنے تانت (یعنی جسے کمان پر باندھا جاتا ہے) کاٹ دینا اپنی تلواریں پتھروں پر مار دینا اگر کسی شخص کے گھر میں اسے (قتل کرنے کےلیے ) کوئی داخؒ ہو جائے ، تو اسے آدم کے دو بیٹوں میں سے بہتر والے کی مانند ہو جانا چاہئے۔"

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ السَّبَّاكُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5962

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr