Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3671

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ لَأَنْقَلِبَ، فَقَامَ مَعِي يَقْلِبُنِي، وَكَانَ مَنْزِلُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَرَأَنَا رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قنعا رؤوسهما، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ" فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "إِنَّ الشَّیْطَانَ یجْر،ی مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ ،وَاِنِّیْ خِفْتُ اَنْ یَّقْذِفَ فِیْ قُلُو بُکُمَا شَیْئًا ، اَوْ قَالَ : شَرًّا

امام زین العابدین رضی اللہ عنہہ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اعتکاف کیا ہوا تھا میں آپ کی زیارت کے لئے رات کے وقت آ پ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں آپ کے ساتھ بات چیت کرتی رہی پھر جب میں واپس آنے کے لئے اٹھی، تو آپ میرے ساتھ کھڑے ہوئے، تا کہ مجھے رخصت کریں۔ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا گھر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر کے پاس تھا۔ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں نے ہمیں دیکھا جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو انہوں نے اپنے سر جھکا لئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو ! یہ صفیہ بنت حیی ہے( جو میری زوجہ ہے) ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! سبحان اللہ ! (ہم آپ کے معاملے میں ایسا سوچ سکتے ہیں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:شیطان انسا ن کی رگوں میں خون کی جگہ دوڑتا ہے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں خیال نہ ڈال دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) برا خیال نہ ڈال دے۔

صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3671

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3672

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعُمْرَةَ عَنْ عَائِشَۃَ ، اَنَّھَا قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اعْتَکَفَ اَدْنٰی ، اِلَیَّ رَاْسَہٗ فَاُرَجِّلہُ ، فَکَانَ لَا یَدْخُلُ الْبَیْتَ اِلَّا لِحَاجَۃِ الْاِنْسَانِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ جب اعتکاف کیے ہوئے ہوتے تھے، تو آپ اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تھے میں اس میں کنگھی کر دیتی تھی آپ گھر میں صرف قضائے حاجت کے لئے تشریف لایا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3672

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3673

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْوُسْطَى مِنْ رَمَضَانَ، فَاعْتَكَفَ عَامًا حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ، وَهِيَ اللَّيْلَةُ الَّتِي يَخْرُجُ صَبِيحَتَهَا مِنِ اعْتِكَافِهِ، قَالَ: "مَنِ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ وَقَدْ رَأَيْتُ ھٰذِہِ الَّیْلَۃُ ثُمَّ اُنْسَیتُھَا ، وَقَدْ رَاَیْتُنِیْ اَسْجُدُ مِنْ صَبِیحَتِھَا فِیْ مَاءٍ وَّطِینٍ ، فَالْتَمِسُوھَا فِیْ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ ،وَالْتَمِسُوھَا فِیْ کُلِّ وِتْرٍ قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ : فَاَمْطَرَتِ السَّمَاءُ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ ،وَکَانَ الْمَسْجِدُ عَلٰی عرِیشٍ فَوَکَفَ الْمَسْجِدُ ، قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ : فَاَبْصَرَتْ عِیْنَایَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ عَلَیْنَا وَعَلٰی جَبْھَتِہِ واَنْفِہِ اَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّینِ مِنْ صَبِیحَۃِ اِحْدَی وَعِشْرِیْنَ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کرتے تھے۔ ایک سال آپ نے اعتکاف کیا، یہاں تک کہ جب اکیسویں رات آئی، تو یہ وہ رات ہے، جس کی صبح آپ نے اعتکاف گاہ سے واپس آنا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ آخری عشرے کا بھی اعتکاف کرے، کیونکہ میں نے اس رات کو دیکھا تھا ، لیکن یہ مجھے بھلا دی گئی میں نے خود کو دیکھا ہے کہ میں اس رات کی صبح پانی اورمٹی میں سجدہ کر رہا تھا، تو تم لوگ اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اس کو ہر طاق رات میں تلاش کرنا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: اسی رات بارش ہو گئی۔ مسجد کی چھت کھجور کے پتو ں سے بنی ہوئی تھی وہ ٹپکنے لگی۔ حضرت ابو سعید رخدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے تھے میں نے خود اپنی ان دونوں آنکھوں سے نبی اکر مﷺ کو دیکھا کہ جب آپ نے نماز پڑھنے کے بعد ہماری طرف رخ کیا، تو آپ کی مبار ک پیشانی اور مبارک ناک پر پانی اور مٹی کا نشان موجود تھا یہ اکیسویں رات کی صبح کی بات ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3673

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3674

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يجاور في الْعَشْرِ الَّذِی فِیْ وَسَطِ الشَّھْرِ ، فَاِذَا کَانَ مِنْ حِینَ یَمْضِی عِشْرُونَ لَیْلَۃً ، وَیَسْتَقْبِلُ اِحْدَی وَعِشْرِیْنَ لَمْ یَرْجِعْ اِلٰی مَسْکَنِہٖ ، وَرَجَعَ مَنْ کَانَ یُجَاوِرُ مَعَہُ ، ثُمَّ اِنَّہٗ اَقَامَ فِیْ شَھْرٍ جَاوَرَ فِیہِ حَتّٰی کَانَ تِلْکَ اللَّیْلَۃَ الَّتِی یَرْجِعُ فِیھَا ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، وَاَمَرَ ھُمْ بِمَا شَاءَ اللہُ ، ثُمَّ قَالَ : اِنِیْ کُنْتُ اُجَاوِرُ ھٰذِہِ الْعَشْرَ ، ثُمَّ بَدَالِی اَنْ اُجَاوِرَ ھٰذِہِ الْعَشْرَ الْاَوَاخِرَ ، وَمَنْ کَانَ اعْتَکَفَ مَعِی فَلْیَلْبَتُ فِیْ مُعْتَکَفِہٖ ، وَقَدْ اُرِیتُ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃَ فَاُنْسِیتُھَا فَالْتَمِسُوھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِیْ کُلِّ وِتْرٍ ، وَقَدْ رَاَیْتُنِیْ اَسْجُدُ فِیْ مَاءِ وَّطِینٍ ، قَالَ اَبُوْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ ، فَنَظَرْنَا لَیْلَۃَ اِحْدَی وَعِشْرِیْنَ فَوَکَفَ الْمَسْجِدُ فِیْ مُصَلَّی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرْتُ اِلَیْہِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ وَوَجْھُہُ مُمْتَلِءٌ طِینًا وَمَاءً

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ جب بیس راتیں گزر گئی اور اکیسویں رات آئی ، تو آپ اپنی رہاشئ گاہ کی طرف واپس تشریف نہیں لے گئے جس نے آپ کے ساتھ اعتکاف کیا تھا وہ واپس چلا گیا۔ نبی اکرم ﷺ ا س مہینے میں مقیم تھے، جس میں آپ اعتکاف کرتے تھے، یہاں تک کہ جب وہ رات آئی جس میں آپ نے واپس جانا تھا، تو آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو اللہ کو منظور تھا انہیں حکم دیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: میں اس عشرے میں اعتکاف کیا کرتا تھا پھر مجھے یہ مناسب لگا کہ میں اس آخری عشرے میں بھی اعتکاف کروں اور جس شخص نے میرے ہمراہ اعتکاف کیا ہے وہ اپنی اعتکاف گاہ میں ٹھہرا رہے مجھے یہ رات دکھائی گئی، لیکن پھر مجھےبھلا دی گئی، لیکن تم اسے آخری عشرے کی طاق راتو ں میں تلاش کرو میں نے خود کو (اس رات میں ) پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے ہوئےدیکھا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ہم نے اکیسویں رات کو دیکھا کہ مسجد میں نبی اکرم ﷺ کی نماز کی جگہ سے پانی ٹپکنے لگا ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آ پ صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ کے چہرہ مبارےک پر پانی اور مٹی لگا ہوا تھا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ الْھَادِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3674

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3675

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرُوا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنِّیْ اَرَی رُؤْیَاکُمْ قَدْ تَوَاطَاَتْ عَلَی السَّبْعِ ، فَمَنْ کَانَ مُتَحَرِّیھَا فَلْیَتَحَرَّھَا فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کےکچھ اصحاب کو شب قدر آخری سات راتوں میں دکھائی گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ تمہارے خواب سات راتوں کے بارے میں متفق ہیں، تو جس شخص نے اسےتلاش کرنا ہو وہ آخری سات راتوں میں اسے تلاش کرے۔

نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3675

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3676

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْلَةُ الْقَدْرِ الْتَمِسُوھَا فِیْ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ ، وَاِنْ ضَعُفَ اَحَدُکُمْ اَوْ عَجَزَ فَلَا یُغْلَبَنَّ عَنِ السَّبْعِ الْبَوَاقِی

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "شب قدر کو تم آخری عشرے میں تلاش کرو اور اگر کوئی شخص کمزور ہو یا عاجز آ جائے تو وہ باقی رہ جانے والی سات راتوں کے حوالے سے ہرگز مغلوب نہ ہو"۔

ابْنِ عُمَرَ ← عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3676

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3677

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَاعْتَكَفْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ رَجَعَ، فَرَجَعْنَا مَعَهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَى لَيْلَةَ الْقَدْرِ في المنام، ثم أنسيها (1) .

ابو سلمہ بیان کرتےہیں: ہم لوگو شب قدر کا تذکرہ کر رہےتھے میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے دریافت کیا: کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو شب قدر کے بارے میں کوئی بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے مہینے کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا۔ آپ کے ہمراہ ہم نے بھی اعتکاف کیا جب بیسویں رات کی صبح آئی، تو نبی اکرم ﷺ واپس جانے کے لئےتیار ہوئے آپ کے ہمراہ ہم لوگ بھی تیار ہوئے پھر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے خواب میں شب قدر کو دیکھا تھا، لیکن پھر وہ آپ کو بھلا دی گئی۔

رَسُولَ اللَّهِ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ ← تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَأَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقُلْتُ: هَلْ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3677

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3678

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیٰی ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبٍ ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ یُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ ،عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ،عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اُرِیتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ اَیْقَظَنِیْ اَھْلِی فَنَسِیتُھَا فَالْتَمِسُوھَا فِی الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر میری بیوی نے مجھےبیدار کر دیا ، تو میں اسے بھول گیا ، تو تم باقی رہ جانے والےعشرےمیں اسے تلاش کرو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3678

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3679

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فقال: "خرجت لِاُخْبِرَکُمْ بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَی فُلَانٌ وَفُلَانٌ ، فَرُفِعَتْ ، وَعَسَی اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرًا لَکُمْ فَالْتَمِسُوھَا فِیْ التَّاسِعَۃِ وَالسَّابِعَۃِ وَالْخَامِسَۃِ

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ شب قدر کے بارے میں بتانے کے لئے تشریف لائے دو مسلمانوں کا جھگڑا ہو گیا نبی اکرم ﷺ نےارشاد فرمایا : میں تمہیں شب قدر کے بارے میں بتانے کے لئےآیا تھا فلاں اور فلاں شخص کے درمیان جھگڑا ہو گیا، تو اس کا علم اٹھا لیا گیا ہو۔ ہو سکتا ہے یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہو تم اسے نویں ، ساتویں، پانچویں رات میں تلاش کرو۔

خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3679

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3680

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ شُعْبَةَ، (1) عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَیْلَۃُ الْقَدْرِ لَیْلَۃُ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "شب قدر ستائیسویں رات ہیں"۔

لَیْلَۃُ الْقَدْرِ لَیْلَۃُ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ ← النَّبِيِّ ← مُعَاوِيَةَ، ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3680

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3681

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ: "تَحَرُّوهَا في السبع الأواخر من رمضان" (1) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سے شب قدر کے بارے میں دریافت کیا گیا: آپ نے ارشاد فرمایا: اسے رمضان کی آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔

لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ: "تَحَرُّوهَا في السبع الأواخر من رمضان" ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3681

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3682

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ وَصَامَہُ اِیمَانًا وَاحْتِسَابًا ، ٖغُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ، وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اَیْمَانً وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ

اللہ تعالیٰ کا اس بندےکے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کرنے کا تذکرہ جو ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے شب قدر میں نوافل ادا کرتا ہے

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3682

chevron_left Previous
1…8910…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr