صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3671
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حدثنا بْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا، فَحَدَّثْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ لَأَنْقَلِبَ، فَقَامَ مَعِي يَقْلِبُنِي، وَكَانَ مَنْزِلُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَرَأَنَا رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قنعا رؤوسهما، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ" فَقَالَا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "إِنَّ الشَّیْطَانَ یجْر،ی مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَی الدَّمِ ،وَاِنِّیْ خِفْتُ اَنْ یَّقْذِفَ فِیْ قُلُو بُکُمَا شَیْئًا ، اَوْ قَالَ : شَرًّا
امام زین العابدین رضی اللہ عنہہ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اعتکاف کیا ہوا تھا میں آپ کی زیارت کے لئے رات کے وقت آ پ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں آپ کے ساتھ بات چیت کرتی رہی پھر جب میں واپس آنے کے لئے اٹھی، تو آپ میرے ساتھ کھڑے ہوئے، تا کہ مجھے رخصت کریں۔ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا گھر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر کے پاس تھا۔ سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے دو آدمیوں نے ہمیں دیکھا جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، تو انہوں نے اپنے سر جھکا لئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھہرو ! یہ صفیہ بنت حیی ہے( جو میری زوجہ ہے) ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! سبحان اللہ ! (ہم آپ کے معاملے میں ایسا سوچ سکتے ہیں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:شیطان انسا ن کی رگوں میں خون کی جگہ دوڑتا ہے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں خیال نہ ڈال دے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) برا خیال نہ ڈال دے۔
صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3671
