Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3647

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ بِجُرْجَانَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَ عَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يستطيع (1) ؟

علقمہ بیان کرتے ہیں : میں نے اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: میں نے کہا: اے اُمّ المومنین! نبی اکرم ﷺ کا عمل کس طرح کا ہوتا تھا۔ کیا آپ کسی دن کو خاص کر لیتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں! نبی اکرم ﷺ کا عمل باقاعد گی سے ہوتا تھا اور تم میں سے کون شخص اس کی استطاعت رکھتا جس کی استطاعت نبی اکرم ﷺ رکھتے۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3647

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3648

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ (1) صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا منه في شعبان (2) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ ( نفلی ) روزے رکھا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ کوئی نفلی روزہ ترک نہیں کریں گے اور بعض اوقات آپ نفلی روزہ رکھنا چھوڑ دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب آپ کوئی نفلی روزے نہیں رکھیں گے۔ میں نے رمضان کے علاوہ کسی بھی مہینے میں نبی اکرم ﷺ کو شعبان سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3648

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3649

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا - مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صعصعة- حدثه اَنَّ عُثْمَانَ بْنَ اَبِیْ الْعَاصِ دَعَا بِلَبَنٍ لِیَسْقِیَہُ ، فَقَالَ مُطَرِّفٌ : اِنِّی صَائِمٌ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ : الصِّیَامُ جُنَّۃٌ کَجُنَّۃِ اَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ ، وَسَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ : صِیَامٌ حَسَنٌ ثَلَاثَۃُ اَیَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ

مطرف بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہہ نے دودن منگوایا ، تا کہ انہیں پلوائیں ۔ مطرف نے کہا: میں نے، تو روزہ رکھا ہوا ہے، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: روزہ ڈھال ہے، جس طرح کسی شخص کی جنگ میں حصہ لینے کے لئے ڈھال ہو تی ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " عمدہ روزے ہرماہ کے تین دن کے ہیں"۔

صِيَامٌ حَسَنٌ: ثَلاثَةُ أَيَّامٍ مِنَ كُلِّ شَهْرٍ. ← رَسُولِ اللَّهِ ← «الصِّيَامُ جُنَّةٌ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عُثْمَانَ، ← مُطَرِّفٌ اِنِّی صَائِمٌ ← اَنَّ عُثْمَانَ بْنَ اَبِیْ الْعَاصِ دَعَا بِلَبَنٍ لِیَسْقِیَہُ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّ مُطَرِّفًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3649

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3650

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ (1) الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طلحة عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ: جَاءَ اَعْرَانِیٌّ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاَرْنَبٍ قَدْ شَوَاھَا ، وَجَاءَ مَعَھَا بِاَدَمِھَا فَوَضَعَھَا بَیْنَ یَدَیْہٖ ، فَاَمْسَکَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْکُلْ ، وَاَمَرَ اَصْحَابَہُ اَنْ یَّاْکُلُوا ، وَاَمْسَکَ الْاَعْرَابِیُّ ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : مَا یَمْنَعُکَ اَنْ تَاْکُلَ ؟ ، قَالَ : اِنِّیْ اَصُومُ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ مِّنْ الشَّھْر، قَالَ : اِنْ کُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ اَیَّامَ الْغُرِّ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: سَمِعَ ھٰذَا الْخَبَرَمُوْسٰی بْنُ طَلْحَۃَ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، وَسمِعَہُ مِنِ ابْنِ الْحَوْتَکِیَّۃِ ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ، وَالطَّرِیْقَانِ جَمِیْعَانِ مَحْفُوظَانِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی گوشت بھون کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لے کر آیا وہ اس کے ہمراہ اس کا سالن بھی لے کر آیا تھا اس نے اسے نبی اکرم ﷺ کے سامنے رکھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ کو روک لیا آپ نے اسے کھایا نہیں آپ نے اپنے ساتھیوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ کھا لیں اس دیہاتی نے بھی اسے نہیں کھایا۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے دریافت کیا: تم کیوں نہیں کھا رہے؟ اس نے جواب دیا۔ میں ہر مہینے کے تین دن روزے رکھتا ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے روزہ رکھنا ہی ہوتا ہے، تو چمکدار دنون میں روزے رکھا کرو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): موسیٰ بن طلحہ نے یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت ابن حوتکیہ کے حوالے سے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3650

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3651

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ، سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ الْمِنْهَالِ عَنْ اَبِیْہِ: اَنَّہٗ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ :کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْمُرُھُمْ بِصِیَامِ الْبَیضِ ، وَیَقُوْلُ : ھِیَ صِیَامُ الدَّھْرِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : الْمِنْھَالُ الْقَیْسِیُّ لَہُ صُحْبَۃٌ ، وَلَیْسَ فِیْ الصَّحَابَۃِ بِنْھَالٌ غَیْرُہُ

عبدالملک بن منہال اپنے والد کا یہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے۔ وہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ روشن دنوں کے روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ آپ یہ فرماتے تھے: یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے (یعنی پورا مہینہ روزہ رکھنے کے مترادف ہے) (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : منہال نامی راوی ملحان قیسی کے صاحب زادے ہیں۔ یہ صحابی رسول ہیں صحابہ کرام میں ان کے علاوہ اور کسی کا نام منہا ل نہیں ہے۔

"هِيَ صِيَام الدَّهْر". ← :کَانَ النَّبِیُّ یَاْمُرُھُمْ بِصِیَامِ الْبَیضِ ← اَبِیْہِ: اَنَّہٗ کَانَ مَعَ النَّبِیِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمِنْهَالِ ← أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3651

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3652

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وقيامه" (1) .

معاویہ بن قرۃ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " ہرمہینے میں تین روزے رکھ لینا پورا مہینہ روزہ رکھنے اور اس کے نوافل ادا کرنے کے مترادف ہے"۔

"صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صِيَامُ الدَّهْرِ وقيامه" ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3652

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3653

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ -كان النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ- قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : صِیَامُ ثَلَاثَۃِ اَیَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ صِیَامُ الدَّھْرِ وَاِفْطَارُہُ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَالَ وَکِییعٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ : وَاِفْطَارُہُ ، وَقَالَ یَحْیَی الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، وَقِیَامُہُ ، وَھُمَا جَمِیْعًا جَمِیْعًا حَافِظَانِ مُتْقِنَانِ

معاویہ بن قرۃ مزنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان کے سر پر اپنا دست اقد س پھیرا تھا، وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ہر مہینے کے تین روزے رکھ لینا پورا مہینہ روزہ رکھنے اور افطار کرنے کے مترادف ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں شاید راوی کو غلط فہمی ہوئی ہے) (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): وکیع نے شعبہ کےحوالے سے اس روایت میں الفاظ نقل کئے ہیں" اور اس کا روزہ نہ رکھنا " جبکہ یحٰیح قطان نے شعبہ کےحوالے سے یہ نقل کیا ہے: " اس کا قیا م کرنا" اور یہ دونوں حضرات حافظ اور متقن ہیں۔

أَبِيهِ -كان النَّبِيُّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ- ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← فَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3653

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3654

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ؟ قَالَتْ: لَمْ يبال من أيه صام (1) .

معاذہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں: میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم ﷺ ہر مہینے میں تین روزے رکھتے تھے۔ انہو ں نے جواب دیا: جی ہاں۔ میں نے دریافت کیا: کون سے ؟ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ آپ کون سے دن میں روزہ رکھ رہے ہیں۔

لَمْ يبال من أيه صام ← نَعَمْ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ؟ ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ النَّبِيُّ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ ← مُعَاذَةَ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3654

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3655

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، عَنْ فِطْرٍ ،عَنْ یَّحْیَی بْنِ سَامٍ ، عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ، قَالَ: اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِصَوْمِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ ، وَاَرْبَعَ عَشْرَۃَ ، وَخَمْسَی عَشْرَۃَ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : یَحْیَی ھٰذَا یُقَالُ لَہُ یَحْیَی بْنُ سَامٍ ،وَیُقَالُ یَحْیَی بْنْ سَالِمٍ ، وَالصَّوَابُ سَامٍ

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ہمیں تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): یحیٰح نامی راوی کا نام یحیٰح بن سام ہے اور ایک قول کے مطابق یحیٰح بن سالم ہے لیکن درست لفظ سام ہے۔

اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ بِصَوْمِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ وَاَرْبَعَ عَشْرَۃَ وَخَمْسَی عَشْرَۃَ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← يَحْيَى بْنِ سَامٍ، ← فِطْرٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3655

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3656

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ مِنَ الشهر ثَلَاثَۃَ اَیَّامِ الْبِیضِ ثَلَاثَ عَشْرَۃَ ، وَاَرْبَعَ عَشْرَۃَ ، وَخَمْسَ عَشْرَۃَ

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم ہر مہینے میں تین دن ایام بیض کے روزے رکھیں ۔ تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← يَحْيَى بْنِ سَامٍ، ← فِطْرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3656

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3657

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ (1) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے ( راوی خاتون کہتی ہیں) میں نے دریافت کیا: کون سے دن میں ، تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ کون سا دن ہے۔

لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ كَانَ ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قُلْتُ: مِنْ أَيِّهِ؟ ← عَائِشَةَ ← مُعَاذَةَ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3657

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3658

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، عَنْ أَبِي عياض عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ:۔ اَتَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَاَلْتُہُ عَنِ الصَّوْمِ ، فَقَالَ صُمْ : یَوْمًا مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَّلَکَ اَجْرُ مَابِقِیَ ،قُلْتُ : اِنِّیْ اُطِیقُ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ، قَالَ : صُمْ یَوْمَیْنِ مِنْ کُلِّ شَھْرٍ وَّلَکَ اَجْرُمَا بَقِیَ ، قُلْتُ : اِنِّیْ اُطِیقُ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ، قَالَ : صُمْ ثَلَاثَۃُ اَیَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَّلَکَ اَجْرُ مَا بِقِیَ ، قُلْتُ : اِنِّیْ اُطِیقُ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ ، قَالَ : اِنَّ اَحَبَّ الصِّیَامِ اِلَی اللہِ صَوْمُ دَاوُدَ ، وَکَانَ یَصُومُ یَوْمًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : صُمْ یَوْمًا مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَّلَکَ اَجْرُ مَا بَقِیَ یُرِیدُ اَجْرَمَا بَقِیَ مِنَ الْعِشْرِیْنِ ،وَکَذٰلِکَ فِی الثَّلَاثِ اِذْ مُحَالٌ اَنَّ کَدَّہُ کُلَّمَا کَثُرَ کَانَ اَنْقُصَ لِاَجْرِہٖ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں نے آپ سے روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا: تو آپ نے فرمایا: تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو تمہیں باقی کا اجر مل جائے گا۔ میں نے عرض کی: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لو تمہیں باقی کا اجر مل جائے گا۔ میں نے عرض کی : میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزہ رکھنے کا سب سے پسندیدہ طریقہ حضرت داود علیہ السلام کا طریقہ ہے وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لو تم کو باقی کا اجر مل جائے گا۔" اس سے مراد یہ ہے : تیس دنوں میں جو باقی رہ جائے گا اس کا اجر مل جائے گا اور ان کا بھی اس طرح حکم ہو گا کیونکہ یہ بات ممکن نہیں ہے کہ آدمی کی محنت جیسے، جیسے زیادہ ہوتی جائے اس کا اجر اتنا ہی کم ہوتا جائے۔

الصوم ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّه فَسَأَلْتُهُ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي عِيَاضٍ، ← زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on voluntary fasting · Hadith 3658

chevron_left Previous
1…678…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr