Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3635

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَقَدْ صام السنة" (2) .

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہہ جو نبی اکرم ﷺ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص رمضان کے روزے کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھے، تو اس نے سال بھر روزے رکھے"۔

"مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَسِتًّا مِنْ شَوَّالٍ، فَقَدْ صام السنة" ← رَسُولِ اللَّهِ ← ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ← يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 3635

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3636

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَھْرِ رَمَضَانَ شَھْرُ اللہِ الْمُحَرَّمُ ، وَاَفْضَلُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْفَرِیضَۃِ صَلَاۃُ اللَّیْلِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " رمضان کے مہینے کے بعد سب سے افضل روزے اللہ تعالیٰ کے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کے وقت ادا کی جانے والی نماز ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 3636

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3637

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عن عبد الله بن أبي لبيد، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، ثُمَّ يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ، وَمَا رَأَيْتُهُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلَّا قَلِيلًا (1) .

ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، تا کہ ان سے نبی اکرم ﷺ کے روزہ رکھنے معمول کے بارے میں دریافت کروں ، تو انہوں بتا یا: نبی اکرم ﷺ (کسی مہینے میں )اتنے نفلی روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے پھر آپ (کسی مہینے میں) نفلی روزے ترک کر دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم یہ سو چتے تھے کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ نبی اکرم ﷺ شعبان کے کچھ دنوں میں روزہ نہیں رکھتے تھے باقی پورا مہینہ روزہ رکھتے تھے۔

صِيَامِ النَّبِيِّ ← أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← ابْنُ كَاسِبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 3637

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3638

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكَرْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا سليم بن حيان، حدثنا سعيد بن ميناء، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ، فَلَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ صَوْمُ الدَّهْرِ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: "صُمْ صَوْمَ دَاوُدَ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا" قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَقُولُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ أخذت الرخصة (1) .

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتے ہو۔ رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو۔ تم ایسا نہ کرو تمہارے جسم کا تم پر حق ہے۔ تمہار ی جان کا تم پر حق ہے۔ تم ( نفلی ) روزہ رکھا بھی کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو۔ تم ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو، تو یہ ہمیشہ (یعنی پورا مہینہ) روزہ رکھنے کے مترادف ہو جائے گا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! میں قوت کو پاتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر تم حضرت داود علیہ السلام کے طریقے کے مطابق روزہ رکھو۔ تم ایک دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن نہ رکھا کرو۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ فرماتے ہیں: کاش میں نےرخصت کو اختیار کر لیا ہوتا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← سعيد بن ميناء، ← سليم بن حيان، ← عَفَّانُ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكَرْخِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Hadith 3638

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3639

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى،حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ تَصُومُ؟ قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ قَالَ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضِبِ اللَّهِ وَغَضِبِ رَسُولِهِ، وَجَعَلَ يُرَدِّدُهَا حَتَّى سَكَنَ مِنْ غَضِبِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: "وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ"؟ قَالَ: فَكَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: "ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ" قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: "وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَاكَ" (1) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَمْ يَكُنْ غَضَبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَةِ هَذَا السَّائِلِ عَنْ كَيْفِيَّةِ الصَّوْمِ، وَإِنَّمَا كَانَ غَضَبُهُ صَلَّى الله عليه وسلم، لأن السائل سَاَلَہُ ، قَالَ : یَا نَبِیَّ اللہِ کَیْفَ تَصُومُ ؟ ، قَالَ : فَکَرِہَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَخْبَارَہُ عَنْ کَیْفِیَّۃِ صَوْمِہٖ مِخَافَۃَ اَنْ لَوَ اَخْبَرَہُ یَعْجِزُ عَنْ اِتْیَانِ مِثْلِہٖ ، اَوْ خَشِیّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی السَّائِلِ وَاُمِّتِہِ جَمِیْعًا اَنْ یَّفْرِضَ عَلَیْھِمْ ذٰلِکَ فَیَعْجِزُوا عَنْہُ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! آپ کیسے روزہ رکھتے ہیں؟ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے یہ صورتحال دیکھی، تو انہوں نے عرض کی: ہم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہیں( یعنی اس پر ایمان رکھتے ہیں) اور ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ مسلسل یہ بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ کا غصہ ختم ہوا۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا کوئی ایسا کر سکتا ہے؟ انہوں نے دریافت کیا: ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ میرے بھائی حضرت داود علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہہ نے دریافت کیا: ایسے شخص کا کیا حکم ہو گا جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن روزہ نہیں رکھتا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ مجھ میں اس کی طاقت ہو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ اس سائل کے روزے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کرنے کی وجہ سے غضب ناک نہیں ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ اس بات پر غضب ناک ہوئے تھے کہ اس سائل نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ اے اللہ کے نبی آپ کیسے روزے رکھتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے اس چیز کو ناپسند کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے روزے کی کیفیت کے بارے میں دریافت کرے۔ نبی اکرم ﷺ کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر آپ نے اس کو اس بارے میں بتا دیا تو وہ اس کی مانند روزہ نہیں رکھ سکے گا یا پھر نبی اکر اس سائل اور آپ کی اُمت کے بارے میں یہ اندیشہ تھا کہ کہیں یہ ان لوگوں پر لازم نہ ہو جائے اور وہ اسے ادا نہ کر پائیں گے۔

أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3639

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3640

أَخْبَرَنَا شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَهُ صَوْمِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ، وَأَلْقَيْتُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَقَالَ: "أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثٌ"؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "خَمْسٌ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "سَبْعٌ"، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "تِسْعٌ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "إِحْدَى عَشْرَةَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ، شَطْرُ الدَّهْرِ صِيَامُ يَوْمٍ وإفطار يوم" (1) .

ابو ملیح بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے میرے (نفلی) روزہ رکھنے کا ذکر کیا گیا ، تو آپ میرے پاس تشریف لائے میں نے چمڑے کا بنا ہو تکیہ پیش کیا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ زمین پر تشریف فرما ہوئے وہ تکیہ میرے اور آپ کے درمیان تھا آپ نے دریافت کیا: تمہارے لیے ہر مہینے میں تین روزے رکھنا کافی نہیں ہیں؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! (مزید کی اجازت دیجئے )نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سات۔ میں نےعرض کی: یا رسول اللہﷺ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :نو۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: گیارہ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! (مزید کی اجازت دیجئے) نبی کے اکرم ﷺ نے فرمایا: حضرت داود علیہ السللام کے روزہ رکھنے کے طریقے سے زیادہ روزہ نہیں رکھا جا سکتا جو نصف زمانہ ہو گا ۔ ایک دن روزہ ہو گا اور ایک دن روزہ نہیں ہو گا۔

دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَحَدَّثَنَا ← أَبِي الْمَلِيحِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ،

Hadith 3640

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3641

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثلاثة أيام (1) .

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ہر مہینے کے تین چمکدار دنوں میں (یعنی تیرہ، چودہ، پندرہ تاریخ کو) روزہ رکھا کرتے تھے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Hadith 3641

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3642

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ، اَنَّ اَعْرَابِیًّا سَاَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ الدَّھْرِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ اَوْ قَالَ : لَا اَفْطَرَ وَلَا صَامَ فَقَامَ غَیْرُہُ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَرَاَیْتَ رَجُلًا یَصُومُ مِنْ یَوْمَ اِلاثْنَیْنِ ، قَالَ : ذَاکَ یَوْمٌ وُلِدْتُّ فِیہٖ ، وَیَومٌ اُنْزِلَ عَلَیَّ قَالَ اَرَاَیْتَ رَجُلًا یَصُومُ یَومًا وَیُفْطِرُ یَوْمًا ؟ قَالَ : ذَاکَ صَوْمُ اُخِی دَاوُدَ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نے نبی اکرم ﷺ سے ہمیشہ روزہ رکھنے (یعنی روزانہ نفلی روزہ رکھنے ) کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ایسے شخص نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) نہ اس نے روزہ چھوڑا اور نہ اس نے روزہ رکھا، پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ہر مہینے میں تین روزے رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ہمیشہ (یعنی پورا مہینہ ) نفلی روزہ رکھنے کے متراد ف ہے۔ اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو پیر کے دن روزہ رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے، جس میں میری پیدائش ہوئی تھی اور اسی دن میں مجھ پر (قرآن یا وحی ) نازل کیا گیا اس شخص نے عرض کی: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو ایک روزہ رکھتا ہے اور ایک دن روزہ نہیں رکھتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ میرے بھائی حضرت داود علیہ السلام کا روزہ رکھنےکا طریقہ ہے۔

لَا اَفْطَرَ وَلَا صَامَ فَقَامَ غَیْرُہُ فَقَالَ ← صَوْمِ الدَّھْرِ فَقَالَ النَّبِیُّ لَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ اَوْ ← اَبِیْ قَتَادَۃَ، اَنَّ اَعْرَابِیًّا سَاَلَ النَّبِیَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3642

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3643

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ الغاز (1) اَنَّہٗ سَاَلَ عَائِشَۃَ عَنْ صِیَامِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّہُ حَتّٰی یَصِلَہُ بِرَمَضَانَ ، وَکَانَ یَتَحَرَّی صِیَامِ اِلاثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ

ربیعہ بن غاز بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم ﷺ نے (نفلی )روزہ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا: تو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: نبی اکرم ﷺ شعبان کا تقریباً پورا مہینہ ہی نفلی روزے رکھتے تھے، یہاں تک کہ آپ اسےرمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے، البتہ آپ اہتمام کے ساتھ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔

کَانَ یَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّہُ حَتّٰی یَصِلَہُ بِرَمَضَانَ وَکَانَ یَتَحَرَّی صِیَامِ اِلاثْنَیْنِ وَالْخَمِیْسِ ← صِیَامِ رَسُوْلُ اللہِ ← رَبِيعَةُ بْنُ الغاز اَنَّہٗ سَاَلَ عَائِشَۃَ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَافَى الْعَابِدُ بِصَيْدَا،

Hadith 3643

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3644

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى التَّمِيمِيُّ بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تُفْتَحُ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ کُلَّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ ، وَتُعْرَضُ الْاَعْمَالُ فِیْ کُلِّ اثْنَیْنِ وَخَمِیْسٍ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر پیر اور جمعرات کے دن ( لوگوں کے ) اعمال ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) پیش کئے جاتے ہیں"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَرْعَرَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى التَّمِيمِيُّ بِالْمَوْصِلِ،

Hadith 3644

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3645

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْخُلْقَانِيُّ بِمَرْوَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ اَبِیَ ، یَقُوْلُ : اَخْبَرَنَا اَبُوْ حَمْزَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُومُ مِنْ غَرَّۃِ کُلِّ شَھْرِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامِ ، وَقَلَّمَا یُفْطِرُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ ہر مہینے کے چمکدار دنوں میں تین روزے رکھا کرتے تھے اور بہت کم ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْخُلْقَانِيُّ بِمَرْوَ،

Hadith 3645

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3646

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عن كريب مولى بن عباس، قال: أرسلني بن عَبَّاسٍ وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَسْأَلَهَا: أَيُّ الْأَيَّامِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُهَا صَوْمًا؟ فَقَالَتْ: يَوْمُ السَّبْتِ وَيَوْمُ الْأَحَدِ، فَأَتَيْتُهُمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَأَنْكَرُوا ذَلِكَ عَلَيَّ، فَظُنُّوا أَنِّي لم أحفظ فَرَدُّونِی ، فَقَالَتْ مِثْلَ ذٰلِکَ ، فَاَخْبَرْتُھُمْ فَقَامُوْا بِاَجْمَعِھِمْ ، فَقَالُوا : اِنَّا اَرْسَلْنَا اِلَیْکِ فِیْ کَذَا وَکَذَا ، فَزَعَمَ اَنَّکِ قُلْتِ کَذَا وَکَذَا ، فَقَالَتْ : صَدَقَ ، کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُومُ یَوْمَ السَّبْتِ وَیَوْمَ الْاَحَدِ اَکْثَرَ مَا کَانَ یَصُومُ مِنَ الْاَیَّامِ ، وَیَقُوْلُ : اِنَّھُمَا عِیْدَانِ لِلْمُشْرِکِیْنَ ، فَاُحِبُّ اَنْ اُخَالِفَھُمُ

کریب بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور نبی اکرم ﷺ کے چند دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے مجھے نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بھیجا ، تا کہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم ﷺ زیادہ کون سے دن میں روزہ رکھتے تھے، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ہفتہ کے دن اور اتوار کے دن میں ان لوگو کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو انہوں نے میری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید میں نے بات کو صحیح طرح سے یاد نہیں رکھا۔ انہوں نے دوبارہ مجھے بھیجا، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسی کی مانند جواب دیا میں نے ان لوگوں کو آ کر بتا یا ، تو وہ سب لوگ خود اٹھے اور ( سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے) انہوں نے بتایا : ہم نے اس مسئلے کےبارےمیں (اس شخص کو) آپ کی خدمت میں بھیجا تھا اس نے یہ بات بیان کی ہے کہ آپ نے یہ جواب دیا ہے، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے نبی اکرم ﷺ زیادہ تر ہفتے کے دن اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ آپ یہ فرماتے تھے: یہ دونوں مشرکین کے عید کےدن ہیں( وہ ان دنوں میں کھاتے پیتے ہیں) ، تو میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان کے برخلاف کروں۔

أرسلني بن عَبَّاسٍ ← كريب مولى بْنُ عَبَّاسٍ ← أَبِي ← عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3646

chevron_left Previous
1…567…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr