Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3623

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ الطَّیَالِسِیُّ ، حَدَّثَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یَوْمُ عَاشُوْرَاءَ یَوْمٌ کَانَتْ تَصُوْمُہٗ اَھْلُ الْجَاھِلِیَّۃِ ، فَمَنْ اَحَبَّ مِنْکُمْ اَنْ یَّصُوْمَہٗ فَلْیَصُمْہُ ، وَمَنْ کَرِھَہُ فَلْیَدَعْہُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " عاشورہ کا دن ایک ایسا دن ہے، جس میں زمانہ جاہلیت میں لوگ یہ روزہ رکھا کر تے تھے، تو تم میں سے جو شخص اس دن روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو شخص اسے نا پسند کرے وہ اسے چھوڑ دے"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 3623

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3624

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عن بكير بن الأشج، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا فِي رَمَضَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ وَافْتَدَى بِإِطْعَامِ مِسْكِينٍ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} (البقرة: 185) (1) .

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم لوگ رمضان میں یوں روزے رکھتے تھے کہ جو شخص چاہتا تھا وہ روزہ رکھ لیتا تھا اور جو شخص چاہتا تھا وہ روزہ چھوڑ دیتا تھا اور غریب کو کھانا کھلانے کا فدیہ دے دیا کرتا تھا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ "تم میں سے جس شخص کو رمضان کا مہینہ ملے، تو و ہ اس میں روزے رکھے"۔

سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّهُ ← يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3624

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3625

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ يَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ لَهُمْ: "مَا هَذَا؟ " قَالُوا: يَوْمٌ عَظِيمٌ نَجَّى اللَّهُ فِيهِ مُوسَى، وَأَغْرَقَ آلَ فِرْعَوْنَ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَنَا أَوْلَى بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصِيَامِهِ منكم" فصامه وأمر بصيام (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکر م ﷺ (مدینہ منورہ ) تشریف لائے، تو آپ نے یہودیوں کو پایا کہ وہ عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا: اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ ایک عظیم دن ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نجات عطا کی تھی اور فرعون اور اس کے ماننے والوں کو ڈبو دیا تھا، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے اس دن روزہ رکھا تھا، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے مقابلے میں ہم حضرت موسی ٰ علیہ السلام کے زیادہ قریب ہیں اور اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس دن روزہ رکھا اور آپ نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا۔

لهم ما هذا ← قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ فَوَجَدَ يَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3625

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3626

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ خَطَبَ بِالْمَدِينَةَ فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يقول: "هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ صِيَامُهُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ" (1) .

حمید بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہہ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہو ئے سنا ہے۔ " یہ عاشورہ کا دن ہےاس دن روزہ رکھنا تم پر لازم قرار نہیں دیا گیا، لیکن میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو جو شخص ( اس دن میں) روزہ رکھنا پسند کرے وہ روزہ رکھ لے"۔

الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 3626

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3627

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَتْ يَهُودُ تَتَّخِذُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَالِفُوهُمْ، صُومُوا أَنْتُمْ" (1) .

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: یہودی عاشورہ کے دن کو عید قرار دیتے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ان کے بر خلاف کرو تم لوگ (عاشورہ کے دن) روزہ رکھو۔

كَانَتْ يَهُودُ تَتَّخِذُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "خَالِفُوهُمْ، صُومُوا أَنْتُمْ" ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبِي عُمَيْسٍ، ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3627

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3628

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیٰی ، عَنْ عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ ، فَقَالَ : ھَلْ عِنْدَکِ شَیْءٌ ؟ ، قُلْتُ : لَا قَالَ : فَاِنِّیْ صَائِمٌ ، قَالَتْ : ثُمَّ اَتَانَا یَوْمًا اٰخَرَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللہِ ، اُھْدِیَ لَنَا حَیْسٌ فَخَبَّاْنَاہُ لَکَ ، فَقَالَ : اَدْنِیْہِ ، فَاَصْبَحَ صَائِمًا ، ثُمَّ اَفْطَرَ

اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانےکےلئےکچھ ہے۔ میں نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں پھر نبی اکرم ﷺ اسی دن میں دوسری مرتبہ میرے ہاں تشریف لائے ۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہمیں"حیس" تحفے کے طور پر دیا گیا ہے وہ ہم نے آپ کے لئے سنبھال کر رکھا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسےپیش کرو، تو نبی اکرم ﷺ نے پہلے روزہ رکھا ہوا تھا پھر آ پ نے روزہ ختم کر دیا۔

ثُمَّ اَتَانَا یَوْمًا اٰخَرَ فَقُلْتُ ← فَاِنِّیْ صَائِمٌ ← دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ ھَلْ عِنْدَکِ شَیْءٌ قُلْتُ لَا ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَمَّتِہٖ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 3628

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3629

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَحْیٰی ، عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ: کَانَ النَّنِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحِبُّ طَعَامَنَا ، فَجَائَنَا یَوْمًا ، فَقَالَ : ھَلْ عِنْدَ کُمْ مِنْ ذٰلِکَ ؟ ، فَقُلْتُ : لَا ، فَقَالَ : اِنِّیْ صَائِمٌ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ ہمارے کھانے کو پسند کرتے تھے۔ ایک دن آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس ( کچھ کھانے کے لئے) ہے؟ میں نے عرض کی: جی نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔

«إِنِّي صَائِمٌ» ← ھَلْ عِنْدَ کُمْ مِنْ ذٰلِکَ فَقُلْتُ لَا ← کَانَ النَّنِیُّ یُحِبُّ طَعَامَنَا فَجَائَنَا یَوْمًا ← عَائِشَةَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَسَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 3629

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3630

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدْخُلُ عَلَيْنَا فَيَقُولُ: "أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ"؟ فَنَقُولُ: لَا، فَيَقُولُ: اِنِّیْ صَائِمٌ ، قَالَتْ : وَدَخَلَ عَلَیْنَا ذَاتَ یَوْمٍ ، فَقَالَ : ھَلْ عِنْدَ کُمْ مِنْ شَیْءٍ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، حَیْسٌ اُھْدِیَ لَنَا ، فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ اَصْبَحْتُ وَاَنَا صَائِمٌ دَعَا بِہٖ فَطَعِمَ

: اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لاتے آپ دریافت کرتے کیا تمہارے پاس (کھانے کے لئے) کچھ ہے ؟ اگر ہم جواب دیتے: جی نہیں ، تو آپ فرماتے پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں ۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! ہمیں "حیس " تحفے کے طور پر دیا گیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: صبح ، تو میں نے روزہ رکھنے کی نیت کی تھی۔ پھر آ پ نے کھانا منگوایا اور اسے کھا لیا۔

صَائِمٌ دَعَا بِہٖ فَطَعِمَ ← لَقَدْ اَصْبَحْتُ ← ھَلْ عِنْدَ کُمْ مِنْ شَیْءٍ؟ قُلْتُ نَعَمْ حَیْسٌ اُھْدِیَ لَنَا ← وَدَخَلَ عَلَیْنَا ذَاتَ یَوْمٍ ← «إِنِّي صَائِمٌ» ← "أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ"؟ فَنَقُولُ: لَا، ← إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ لَيَدْخُلُ عَلَيْنَا ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3630

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3631

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: "ذَاكَ صَوْمُ سَنَةٍ" قَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمَ عَرَفَةَ قال: "يكفر السنة وما قبلها" (1) .

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! ایسے شخص کے بارےمیں آپ کی کیا رائے ہے، جو عاشورہ کےدن روزہ رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ سال بھر (روزہ رکھنے کے برابر ہے) اس نے دریافت کیا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو عرفہ کے دن روزہ رکھتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: یہ ایک سال کے اوراس سے پہلے کے ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔

أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ فَقَالَ: ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3631

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3632

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إني أحتسب على الله أن يكفر السنة الَّتِي قَبْلَهُ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السنة التي قبله" (1)

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:عرفہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ سے یہ امید ہے کہ یہ اس سے پہلے کہ ایک سال کے اور اس کے بعد کے ایک سال کے ( اور اس ایک سال کے) گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ امید ہے کہ یہ اس سے پہلے کے ایک سال کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3632

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3633

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ، قَالَ: انْتَھَیْتُ اِلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ وَّھُوَ مُتَوَسِّدٌ رَدَائَہٗ عِنْدَ زَمْزَمَ ، فَجَلَسْتُ اِلَیْہِ ، وَنِعْمَ الْجَلِیْسُ کَانَ ، فَسَاَلْتُہٗ عَنْ عَاشُوْرَاءَ ؟ ، فَاسْتَوٰی جَالِسًا ، ثُمَّ قَالَ : عَنْ اَیِّ بَابِہٖ تَسْاَلُ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : عَنْ صِیَامِہٖ ، اَیَّ یَوْمٍ نَصُوْمُہٗ ؟ ، قَالَ اِذَا رَاَیْتَ ھِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ ،ثُمَّ اَصْبِحُ مِنْ تَاسِعِہٖ صَائِمًا ، قُلْتُ : اَکَذٰلِکَ کَانَ یَصُوْمُ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ نَعَمْ

حکم بن اعرج بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت زمزم کے کنویں کے پاس اپنی چاد ر کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا وہ بڑے بہترین ہم نشین تھے میں نے ان سے عاشورہ کے بارے میں دریافت کیا: تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ پھر انہوں نے دریافت کیا: تم اس کے بارے میں کسی حوالے سے پوچھنا چاہتے ہو میں نے دریافت کیا: اس کے روزے کے بارے میں کہ کون سے دن ہمیں روزہ رکھنا چاہئے، تو انہوں نے فرمایا: جب تم محرم کا چاند دیکھ لو، تو گنتی شروع کر دو پھر تم اس کی نو تاریخ کو روزہ رکھنا میں نے کہا: کیا حضرت محمد ﷺ بھی اسی طرح روزہ رکھا کرتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں۔

الْحَكَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3633

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3634

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، اَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنِیْ صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ ، وَسَعْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ، عَنْ اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ، عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ، وَاَتْبَعَہٗ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ ، فَذٰلِکَ صَوْمُ الدَّھْرِ

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے، تو یہ ہمیشہ (یعنی سال بھر ) روزہ رکھنے کے مترادف ہے"۔

مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَاَتْبَعَہٗ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ فَذٰلِکَ صَوْمُ الدَّھْرِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الْاَنْصَارِیِّ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَیْمٍ وَسَعْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3634

chevron_left Previous
1…456…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr