Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الجمعة · حديث 3611

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عن سعيد بن المسيبب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَھِیَ صَائِمَۃٌ ، فَقَالَ اَصُمْتِ اَمْسِ ؟ ، قَالَتْ : لَا ، قَالَ : اَفَتُرِیْدِینَ اَنْ تَصُوْمِی غَدًا ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : فَاَفْطِرِی

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتےہیں: نبی اکرم ﷺ سیّدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ہاں جمعہ کے دن تشریف لائے۔ انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا کل تم نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: کیا کل تمہارا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر روزہ توڑ دو۔

«فَأَفْطِرِي» ← لَا۔ ← اَفَتُرِیْدِینَ اَنْ تَصُوْمِی غَدًا ← لَا۔ ← اَصُمْتِ اَمْسِ ← دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَھِیَ صَائِمَۃٌ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← سعيد بن المسيبب ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3611

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الجمعة · حديث 3612

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ، عَنْ ھِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِیْرِیْنَ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَخُصُّوا لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ بِقِیَامٍ مِنْ بَیْنِ اللَّیَالِی ، وَلَا تَخُصُّوا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بِصِیَامٍ مِنْ بَیْنِ الْاَیَّامِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جمعہ کی رات کو باقی راتوں کو چھوڑ کر نوافل ادا کرنے کے لئے مخصوص نہ کرو اور جمعہ کے دن کو باقی دنوں کے درمیان روزہ رکھنے کے لئے مخصوص نہ کرو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 3612

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الجمعة · حديث 3613

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ، وَلَا تَخُصُّوا لَيْلَةَ الجمعة بقيام من بين الليالي" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "باقی دنوں کے درمیان جمعہ کے دن کو روزےکےلئے مخصوص نہ کرو اور باقی راتوں کے درمیان جمعہ کی رات کو نوافل ادا کرنے کے لئے مخصوص نہ کرو"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← زَائِدَۃَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 3613

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الجمعة · حديث 3614

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بن مسرهد، قال: حدثنا مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَصُومُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَصُومَ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتےہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جو شخص جمعہ کے دن روزہ رکھے، تو وہ اس سے ایک دن پہلے یا اس کے بعد (ایک دن) بھی روزہ رکھے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُعَاوِيَةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 3614

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ · حديث 3615

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ نُوحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: تَرَوْنَ يَدِي هَذِهِ؟ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لحاء شجرة فليفطر عليه" (1)

حضرت عبداللہ بن بسر مازنی جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں۔ وہ یہ فرماتے ہیں تم نے میرے یہ ہاتھ دیکھے ہیں میں نے ان کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر بیعت کی تھی میں نے آپ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " تم لوگ ہفتہ کے دن روزہ نہ رکھو ، ماسوائے اس روزے کو جو تم پر فرض ہے اور اگر کسی شخص کو( ہفتے کے دن ) چبانے کے لئے درخت کی جڑ ملتی ہے، تو وہ اس کے ذریعے ہی افطار کر لے"۔

تَرَوْنَ يَدِي هَذِهِ؟ بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ ← حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ ← مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3615

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ · حديث 3616

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ زَاجٌ، (2) قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثُونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُسَائِلُهَا عَنْ أَيِّ الْأَيَّامِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ لِصِيَامِهَا؟ فَقَالَتْ: يَوْمَ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ، فَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ إِلَيْهَا، فَقَالُوا: إِنَّا بَعَثْنَا إِلَيْكِ هَذَا فِي كَذَا وَكَذَا وَذَكَرَ (3) أَنَّكِ قُلْتِ كَذَا، فَقَالَتْ: صَدَقَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ يَوْمُ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، وَكَانَ يَقُولُ: "إِنَّهُمَا عِيدَانِ لِلْمُشْرِكِينَ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَهُمْ" (4) .

کریب بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور نبی اکرم ﷺ کے چند دیگر صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم نے مجھے سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا ، تا کہ میں ان سے یہ دریافت کروں کہ نبی اکرم ﷺ زیادہ تر کون سے دن میں روزہ رکھا کرتے تھے، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : ہفتے کے دن اور اتوار کے دن میں۔ میں ان لوگوں کے پاس واپس آیا او ر انہیں اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے ا س بات کو تسلیم نہیں کیا ۔ وہ سب لوگ اٹھ کر سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں خود حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ بتایا کہ ہم نے اس شخص کو آپ کی خدمت میں اس مسئلے کے بارے میں دریافت کر نے کے لئے بھیجا تھا، اس نے، تو یہ بات بتائی ہے کہ آپ نے یہ بات بیا ن کی ہے، تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے نبی اکرم ﷺ زیادہ تر ہفتے اور اتوار والے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے تھے: یہ دونوں مشرکین کی عید کے دن ہیں( وہ اس دن کھاتے پیتے ہیں) تو میں یہ چاہتاہوں کہ میں ان کے برخلاف کروں۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ زَاجٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 3616

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3617

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: "هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ طَعِمَ الْيَوْمَ؟ " قَالُوا: مِنَّا مَنْ طَعِمَ، وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَطْعَمْ، فَقَالَ: "مَنْ كَانَ لَمْ يَطْعَمْ مِنْكُمْ، فَلْيَصُمْ، وَمَنْ طَعِمَ، فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَآذِنُوا أَهْلَ الْعَرُوضِ، فَلْيُتِمُّوا بقية يومهم" (1) .

حضرت محمد بن صیفی انصاری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: عاشورہ کے دن نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے دریافت کیا: کیا تم میں سے کسی نے آج کچھ کھایا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: ہم میں سے کچھ لوگوں نے کچھ کھایا ہے اور کچھ نے کچھ نہیں کھایا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس نے کچھ نہیں کھایا وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کچھ کھا لیا ہے، تو وہ بقیہ دن (کا روزہ ) مکمل کرے اور نواحی علاقے کے لوگوں کو یہ اطلاع دے دو کہ وہ بقیہ دن کو مکمل کر یں ( یعنی کچھ نہ کھائیں) اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ دن کے کچھ حصےکا روزہ ہو جاتا ہے

مِنَّا مَنْ طَعِمَ، وَمِنَّا مَنْ لَمْ يَطْعَمْ، ← "هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ طَعِمَ الْيَوْمَ؟ ← خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ← محمد بن صيفي الانصاري ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3617

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3618

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَسْمَاءِ بْنِ حَارِثَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى قَوْمِهِ قَالَ: "مُرْ قَوْمَكَ فَلْيَصُومُوا هَذَا الْيَوْمَ" قُلْتُ: فَإِنْ وَجَدْتُهُمْ قَدْ طَعِمُوا قَالَ: "فَلْيُتِمُّوا آخِرَ يومهم" (1) .

حضرت اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے انہیں ان کی قوم کی طرف بھیجا اور ارشاد فرمایا: تم ان لوگوں کو یہ ہدایت کرو کہ وہ آج کے دن روزہ رکھیں میں دریافت کیا: اگر میں ان لوگوں کو ایسی حالت میں پاوں کہ وہ کچھ کھا چکے ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ دن کے آخر تک اسے مکمل کریں( یعنی مزید کچھ نہ کھائیں)

أَسْمَاءِ بْنِ حَارِثَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3618

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3619

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يُؤَذِّنُ فِي النَّاسِ "أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ فَمَنْ أَكَلَ فَلَا يَأْكُلْ شَيْئًا بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ فليصم" (2) .

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اسلم قبیلے سےتعلق رکھنے والےایک شخص کو لوگوں کےدرمیان یہ اعلان کر نے کے لئے بھیجا آج عاشورہ کا دن ہے، جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو، تو وہ باقی دن کچھ نہ کھائے اور جس شخص نے کچھ نہ کھایا ہو یا کچھ نہ پیا ہو، تو وہ روزہ رکھ لے۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← الدَّوْرَقِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3619

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3620

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ معوذ بن عَفْرَاءَ قَالَتْ: أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ: "مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ذَلِكَ" قَالَتْ (1) : فَكُنَّا نَصُومُهُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ وَنَذْهَبُ بِهِمْ إِلَى الْمَسْجِدِ وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ (2) ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ، أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الإفطار (3) .

سیّدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے عاشورہ کے دن صبح کے وقت مدینہ منورہ کے ارد گرد موجود انصا ر کی آبادیوں کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ جس شخص نے روزہ رکھا ہوا ہووہ وہ اپنا روزہ مکمل کرے اور جس شخص نے کچھ کھا لیا ہو، تو وہ بقیہ دن کا روزہ رکھے (یعنی مزید کچھ کھائےپیے نہیں) سیّدہ ربیع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ اس دن روزہ رکھا کرتے تھے اور اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھوایا کرتے تھے ہم انہیں ساتھ لے کر مسجد آ جاتے تھے اور ان کے لئے آٹےکی گڑیا بنا لیتے تھے جب ان میں سے کوئی ایک بچہ کھانے کے لئے روتا تھا، تو ہم وہ اسے دے دیتے تھے، یہاں تک کہ افطاری کا وقت ہو جاتا تھا ( تو ہم روزہ کھولتے تھے)

الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، ← خَالِدُ بْنُ ذَکْوَانَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 3620

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3621

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَۃَ ، اَنَّھَا قَالَتْ: کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَاءَ یَوْمًا تَصُوْمُہٗ قُرَیْشٌ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِینَۃَ صَامَہٗ وَاَمَرَ بِصِیَامِہٖ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ کَانَ ھُوَ الْفَرِیضَۃَ ، وَتُرِکَ یَوْمُ عَاشُوْرَاءَ ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَکَہُ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عاشورہ کا دن ایک ایسا دن تھا جس میں قریش زمانہ جاہلیت میں روزہ رکھا کرتے تھے جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپ نے اس دن روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا جب رمضان فرض ہوا، تو وہ فرض قرار پایا اور عاشورہ کے دن کو ترک کر دیا گیا ، تو جو شخص چاہتا تھا وہ ( عاشورہ کے دن) روزہ رکھ لیتا تھا اور جو شخص چاہتا تھا وہ ترک کر دیتا تھا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 3621

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ صَوْمِ التَّطَوُّعِ · حديث 3622

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِیْ صَوْمِ یَوْمِ عَاشُوْرَاءَ بَعْدَمَا نَزَلَ صَوْمٌ رَمضَانَ : مَنْ شَاءَ صَامَہٗ ، وَمَنْ شَاءَ اَفْطَرَہُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے عاشور ہ کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں یہ فرمایا ہے یہ رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہونے کے بعد کی بات ہے۔ " جو شخص چاہے وہ اس دن روزہ رکھ لے اور جو شخص چاہے وہ روزہ نہ رکھے"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Hadith 3622

chevron_left Previous
12345…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr