Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب صوم المسافر · حديث 3563

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ مَعَهُ، وَكَانُوا يَأْخُذُونَ بِالْأَحْدَثِ فَالْأَحْدَثِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (1) .

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ رمضان کے مہینے میں روانہ ہوئے۔ آ پ نے کدیہ پہنچنے تک روزہ رکھا ہوا تھا ۔ پھر آپ نے روزہ ختم کر دیا اور آپ کے ہمراہ لوگوں نے بھی روزہ ختم کر دیا، تو لوگ نبی اکرم ﷺ کے بعد میں پیش آنے والے معاملے کو اختیار کیا کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 3563

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب صوم المسافر · حديث 3564

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ. قَالَ: وَكَانَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يتبعون الأحدث فالأحدث من أمره (1) .

: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم ﷺ رمضان کے مہینے میں روانہ ہوئے کدیہ پہنچنے تک آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا ۔ پھر آپ نے روزہ ختم کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب آپ کے بعد میں پیش آنے والےمعاملےکی پیروی کیا کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 3564

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب صوم المسافر · حديث 3565

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم سَافَرَ فِي رَمَضَانَ، فَاشْتَدَّ الصَّوْمُ عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَجَعَلَتْ نَاقَتُهُ تَهِيمُ بِهِ تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ فَأَفْطَرَ، ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ شَرِبَ شربوا (1) .

حضرت جابررضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے مہینے میں سفر کیا۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے لئے روزہ رکھنا دشواری کا باعث ہو گیا۔ اس کی اونٹنی اسے لے کر ایک درخت کے سائےمیں چلی گئی۔ نبی اکرم ﷺ کو اس بارے میں بتا یا گیا، تو آپ نے اسے روزہ ختم کر نے کا حکم دیا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا آپ نے اسے اپنے ہاتھ میں لیا جب لوگوں نے آپ کو دیکھ لیا کہ آپ نے پانی پی لیا ہے، تو لوگوں نے بھی پانی پی لیا ، (اور روزہ ختم کر دیا)

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 3565

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب صوم المسافر · حديث 3566

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ أَبُو زَيْدٍ بِالْبَصْرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى يَدِهِ لِيَرَاهُ النَّاسُ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صام، ومن شاء أفطر (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ سے مکہ جانے کے لئے روانہ ہوئے۔ آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا جب آپ عسفان کے مقام پر پہنچے ، تو آپ نے پانی منگوایا۔ آپ نے اپنے دست مبار ک کو بلند کیا، تا کہ لوگ آپ کو دیکھ لیں پھر آپ نے روزہ ختم کر دیا اور مکہ تشریف لانے تک (آپ نے روزہ نہیں رکھا) یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتےہیں: نبی اکرم ﷺ نے (سفر کےدوران) روزہ رکھا بھی ہے اور نہیں بھی رکھا، تو جو شخص چاہے وہ (سفر کے دوران) روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ نہ رکھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ← خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ أَبُو زَيْدٍ،

Hadith 3566

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب صوم المسافر · حديث 3567

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبَى الْأَسْوَدِ، عَنْ عروة بن الزبير، عن أبى، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ (2) عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ لِيَ قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عليَّ جُنَاحٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فلا جناح عليه" (3) قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : سَمِعَ ھٰذَا لْخَبَرَ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، وَاَبَی مُرَاوِحِ ، عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرٍو ، وَالَفْظاھُمَا مُخْتَلِفَانِ

حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! میں اپنے اندر سفر کے دوران روزہ رکھنے کی قوت پاتا ہوں، تو کیا مجھے کوئی گنا ہ ہو گا ( اگر میں روزہ رکھ لوں) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی رخصت ہے، جو اسے اختیار کر لیتا ہے، تو یہ اچھا ہے اور جو شخص روزہ رکھنے کو پسند کرتا ہے تو اسے کوئی گنا ہ نہیں ہو گا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): عروہ بن زبیر نے یہ روایت سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے اور ابو مراوح نے یہ روایت حضرت حمزہ بن عمرہ رضی اللہ عنہہ سے سنی ہے، تو ان دونوں کے الفاظ مختلف ہیں۔

حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ ← أَبِي مُرَاوِحٍ، ← أَبِي ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 3567

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب صوم المسافر · حديث 3568

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يحب أن تؤتى عزائمه" (1) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی عطا کر دہ رخصت پر عمل کیا جائے جس طرح و ہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی لازم کر دہ چیز پر عمل کیا جائے"۔

"إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يحب أن تؤتى عزائمه" ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 3568

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ الصِّيَامِ عَنِ الْغِيَرِ · حديث 3569

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ (1) بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ عن عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عنه وليه" (2) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جو شخص فوت ہو جائےاور اس کے ذمے روزے رکھنا لازم ہو، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روز ہ رکھے۔

عائشة رضى الله تعالى عَنْهَا ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3569

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ الصِّيَامِ عَنِ الْغِيَرِ · حديث 3570

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ بِالْكَرْخِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَرَأَيْتِ لَوَ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: "فَحَقُّ اللَّهِ أحق" (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! میری بہن کا انتقا ل ہو گیا ہے۔ اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا لازم تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا خیا ل ہے کہ تمہاری بہن کے ذمے قرض ہوتا، تو کیا تم اسے ادا کر دیتی؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق اس بات کا زیادہ حقدار ہے ( کہ اسے ادا کیا جائے)

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَتْ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءٍ، وَمُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ بِالْكَرْخِ،

Hadith 3570

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ الصَّوْمِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ · حديث 3571

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ " قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "فَلَا تَفْعَلْ نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجَتِكَ عَلَيْكَ حَقًّا (1) ، وَإِنِّي مُخَيِّرُكَ أَنْ تَصُومَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا فَإِذَا ذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: "صُمْ مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ" قَالَ: فَشَدَدْتُ فَشُدِّدَ عليَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً قَالَ: "صُمْ صِيَامَ نَبِيِّ الله دَاوْدَ وَلَا تَزِدْ عَلَیْہِ ، قُلْتُ : فَمَا صِیَامُ نَبِیِّ اللہِ دَاوْدَ ؟ ، قَالَ : نِصْفُ الدَّھْرِ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھ سےفرمایا: مجھے پتہ چلا ہے کہ تم روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو ( رات کے وقت) تم سوبھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو ( دن کے وقت) نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑبھی دیا کرو، ، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر بھی حق ہے تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے میں تمہیں یہ اختیار دے رہا ہوں کہ تم ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے، تو یہ پورا مہینہ روزہ رکھنے کے متراد ف ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! ( میں اس سے زیادہ روزے رکھنے کی) قوت محسوس کرتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ہر ہفتے میں تین روزرے رکھ لیا کرو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے شدت کا مطالبہ کیا، تو مجھ پر شدت کی گئی۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ ! میں اس سےزیادہ کی قوت پاتا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اس طرح روزے رکھو جس طرح اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام رکھا کرتے تھے تم اس سے زیادہ نہ رکھنا۔ میں نے دریافت کیا: اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام کے روزہ رکھنے کا طریقہ کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نصف زمانہ ( یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن نہ رکھنا) ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" تمہارے ملاقاتی کا بھی تم پر حق ہے۔" یہ الفاظ صرف اسی روایت میں منقول ہیں اور اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ گھر میں کسی مہمان یا ملاقاتی کے آنے پر آدمی کے لئے (نفلی روزے ) کو ختم کرنا مباح ہے۔

لِي رَسُولُ اللَّهِ "أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ قُلْتُ: بَلَى ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 3571

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ الصَّوْمِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ · حديث 3572

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شاهد إلا بإذنه" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "جب عورت کا شوہر گھر میں موجود ہو، تو وہ اس کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے"۔

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ "لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شاهد إلا بإذنه" ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3572

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ الصَّوْمِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ · حديث 3573

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرْطُوسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ یَوْمًا سِوٰی شَھْرِ رَمَضَانَ وَزَوْجُھَا شَاھِدٌ اِلَّا بِاِذْنِہِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : "جس عورت کا شوہر موجود ہو، تو و ہ رمضان کے علاوہ کسی بھی دن کا روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرْطُوسَ،

Hadith 3573

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الْوِصَالِ · حديث 3574

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُوَاصِلُوا" قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنَّ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي" (1) .

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ صوم وصال نہ رکھو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ بھی، تو صوم وصال رکھتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں۔ میرا پروردگار مجھے کھلا دیتا ہے اور پلا دیتا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 3574

chevron_left Previous
1…20212223
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr