Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الكفارة · حديث 3527

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتُ، قَالَ: "وَمَا ذَاكَ؟! " قَالَ: وَقَعَتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي (1) يَوْمٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: "أَعْتِقْ رَقَبَةً"، قَالَ: مَا أَجِدُهَا، قَالَ: "صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ، قَالَ: "فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: لَا أَجِدُ، قَالَ: فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم بعرق، فقال: "خذه فتصدق به"، فَقَالَ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، عَلٰی غَیْرِ اَھْلِی ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بَیَدِہِ مَا بَیْنَ طُنُبَیِالْمَدِینَۃِ اَحَدٌ اَفْقَرُ مِنِّی ، فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی بَدَتْ اَنْیَابُہُ ، ثُمَّ قَالَ : خُذْہُ وَاسْتَغْفَرْ رَبِّکَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم غلام آزاد کر و اس نے جواب دیا : میرے پاس نہیں ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھو۔ اس نے جواب دیا: میں یہ نہیں کر سکتا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاو۔ اس نے جواب دیا: میرے پاس گنجائش نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا ٹوکرا پیش کیا گیا۔ آپ نے فرمایا: تم اسے لواور انہیں صدقہ کر دو اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا اپنے گھر والوں کے علاہ کسی اور کو دوں؟ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ پورے مدینہ منورہ میں مجھ سے زیادہ ضرورت مند اور کوئی نہیں ہے، تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دئیے، یہاں تک کہ آپ کے اطرا ف کے دانت نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: تم انہیں لو اور اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو۔

رَجُلٌ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door of penance · Hadith 3527

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الكفارة · حديث 3528

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ احْتَرَقَ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَمْرِهِ، فَذَكَرَ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقُ، فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: "أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟ " فقام الرجل، فقال: "تصدق بهذا" (1) .

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے یہ ذکر کیا کہ وہ جل گیا ہے نبی اکرم ﷺ نے اس سے اس کے معاملے کے بارے میں دریافت کیا: تو اس نے یہ بات ذکر کی کہ اس نےرمضان میں (روزے کے دوران) اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک پیمانہ لایا گیا جسے عرق کہا جاتا تھا۔ اس میں کھجوریں تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: جلنے والا شخص کہا ں ہے؟ وہ صاحب کھڑے ہوئے نبی اکر م ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اسے صدقہ کر دو۔

أتى رجلٌ رسولَ الله ← عَائِشَةَ ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door of penance · Hadith 3528

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الكفارة · حديث 3529

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتُ. قَالَ: "وَمَا لَكَ"؟ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا"؟ قَالَ: لَا، قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا"؟ قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: بَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ -وَالْعَرَقُ: الْمِكْتَلُ- فقال: "أين السَّائِلُ آنِفًا ؟ ، خُذْ ھٰذَا التَّمْرَ فَتَصَدَّقْ بِہٖ ، فَقَالَ الرَّجُلُ ، عَلٰی اَفْقَرَ مِنْ اَھْلِی یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاللہِ مَا بَیْنَ لَا بَتَیْھَا یُرِیْدُ الْحَرَّتَیْنِ ، اَھْلُ بَیْتٍ اَفْقَرُ مِنْ اَھْلِ بَیْتِی ، قَالَ : فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی بَدَتْ اَنْیَابُہُ ، ثُمَّ قَالَ : اَطْعِمْہُ اَھْلَکَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! میں ہلاکت کا شکا ر ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے روزے کے دوران اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس آزاد کرنے کے لئے کوئی غلام ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ ﷺ ! ( میں روزے نہیں رکھ سکتا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ ﷺ ! جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ابھی ہم وہاں بیٹھے ہی ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ عرق ٹوکرے کو کہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا ۔ سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟( پھر آپ نے اس سے فرمایا) تم اسے لو اور انہیں صدقہ کر دو۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں اپنے گھر والوں سے زیادہ غریب لوگوں کو صدقہ کروں ۔ اللہ کی قسم! پورے شہر میں ہم سے زیادہ غریب اور کوئی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دئیے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اسے تم اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔

بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ← حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door of penance · Hadith 3529

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الكفارة · حديث 3530

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: "أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ، أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ"؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: "فَحَقُّ اللَّهِ أحق " (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی: میری بہن کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس کے ذمے مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا لازم تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہار ا کیا خیا ل ہے، اگر تمہاری بہن کے ذمے کچھ قرض ہوتا، تو کیا تم اسے ادا کر دیتی؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کا حق اس بات کا زیادہ حقدار ہے (کہ اسے ادا کیا جائے)

"فَحَقُّ اللَّهِ أحق ← نَعَمْ ← "أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكِ دَيْنٌ، أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ"؟ ← جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَتْ: إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ ← الْحَكَمِ وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door of penance · Hadith 3530

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب حجامة الصائم · حديث 3531

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْمِنْقَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عليه وسلم احتجم وهو صائم (1) .

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْمِنْقَرِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to cupping fasting · Hadith 3531

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب حجامة الصائم · حديث 3532

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى الْبَقِيعِ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْطَرَ الحاجم والمحجوم" (1) .

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہہ جو نبی اکرم ﷺ کے آزاد کر دہ غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں:۔ ایک مرتبہ وہ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو بقیع کی طرف گئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو پچھنے لگو ا رہا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پچھنے لگانے والے اور لگوانے کا روزہ ٹوٹ گیا۔

أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to cupping fasting · Hadith 3532

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب حجامة الصائم · حديث 3533

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، إِذْ حَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ، فَأَبْصَرَ رَجُلًا يَحْتَجِمُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : سَمِعَ ھٰذَا الْخَبَرَ اَبُوْ قِلَابَۃَ ، عَنْ اَبِیْ اَسْمَاءَ ، عَنْ ثُوْبَانَ ، وَسَمِعَہٗ عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ ، عَنْ اَبِیْ اَسْمَاءَ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ، وَھُمَا طَرِیْقَانِ مَحْفُوْظَانِ ، وَقَدْ جَمَعَ شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِا لرَّحْمٰنِ بَیْنَ الْاِسْنَادَیْنِ ، عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیرٍ ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ ،عَنْ اَبِیْ اَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، وَعَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ ، عَنْ اَبِیْ اَسْمَاءَ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا اسی دوران نبی اکرم ﷺ نے توجہ کی، تو آپ کی نظر ایک شخص پر پڑی جو پچھنے لگوا رہا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پچھنے لگانے والے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ گیا۔ ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو قلابہ نے یہ روایت ابو اسماء کے حوالے سے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہہہ سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت ابو اشعت کے حوالے سے ابو اسماء کے حوالے سے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہہ سے بھی سنی ہے ، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ شیبان بن عبدالرحمٰن نے یحییٰ بن ابو کثیر کے حوالے سے منقول اس روایت کی دونوں سندوں کو جمع کر دیا ہے ، جو ابو قلابہ کے حوالے سے ابو اسماء کے حوالے سے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہہ سے اور ابو اشعت کے حوالے سے ابو اسماء کے حوالے سے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہہ سے منقول ہے۔

أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، ← بَيْنَمَا ← شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، ← أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← عَاصِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to cupping fasting · Hadith 3533

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب حجامة الصائم · حديث 3534

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَھَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ اَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ اَبِیْ الْاَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ ، عَنْ شَدَّادِ اَوْسٍ ، قَالَ : کُنْتُ مَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی الْبَقِیعِ زَمَانَ الْفَتْحِ ، فَنَظَرَ اِلٰی رَجُلٍ یَحْتَجِمُ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ بقیع کی طرف جا رہا تھا۔ یہ فتح کے زمانے کی بات ہے نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو پچھنے لگوا رہا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پچھنے لگانے والے اور لگوانے والا کا روزہ ٹوٹ گیا۔

رَسُوْلُ اللہِ اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ ← کُنْتُ مَعَ رَسُوْلُ اللہِ اِلَی الْبَقِیعِ زَمَانَ الْفَتْحِ فَنَظَرَ اِلٰی رَجُلٍ یَحْتَجِمُ ← شَدَّادِ اَوْسٍ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← بُنْدَارٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to cupping fasting · Hadith 3534

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب حجامة الصائم · حديث 3535

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" (1) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رضي الله تعالى عَنْهُ: هَذَانِ خَبَرَانِ قَدْ أَوْهَمَا عَالَمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّهُمَا مُتَضَادَّانِ، وَلَيْسَا كَذَلِكَ، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ، وَلَمْ يَرْوَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرٍ صَحِيحٍ أَنَّهُ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ دُونَ الْإِحْرَامِ، وَلَمْ يَكُنْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ مُسَافِرٌ، وَالْمُسَافِرُ قَدْ أُبِيحَ لَهُ الْإِفْطَارُ: إِنْ شَاءَ بِالْحِجَامَةِ، وَإِنْ شَاءَ بِالشَّرْبَةِ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنْ شَاءَ بِالشَّرْبَةِ مِنَ اللَّبَنِ، أَوْ بِمَا شَاءَ مِنَ الأشياء (2) . وَقَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ لَفْظَۃُ اِخْبَارٍ عَنْ فِعْلٍ مُرَادُھَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ ذٰلِکَ الْفِعْلِ نَفْسِہِ

: حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " پچھنے لگانے والے اور لگوانے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات نے ایک عالم کو غلط فہمی کا شکار کیا کہ یہ دونوں متضاد ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جب نبی اکرم ﷺ نے پچھنے لگوائے تھے۔ اس وقت آپ روزے کی حالت میں تھےاحرام باندھے ہوئے تھے۔ اور کسی بھی مستند روایت میں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل نہیں کی گئی ہے کہ آپ نے احرام کے علاوہ روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہوں اور نبی اکرمﷺ احرام اسی وقت باندھے ہوئے تھے جب آپ مسافر تھے مسافر شخص کے لئے روزے کے ختم کرنا مباح ہے۔ خواہ وہ پانی کا گھونٹ پی کر کرے۔ اگر وہ چاہے ، تو وہ دودھ کا گھونٹ پی کر یا کوئی اور چیز (کھا یا پی کر ) روزے کو ختم کر سکتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " پچھنے لگانےوالے اور لگوانےوالےکا روزہ ٹوٹ گیا" لفظی طور پر کسی فعل کے بارے میں اطلاع دینا ہے لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے: اس فعل پر عمل کرنے سے منع کیا جائے۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to cupping fasting · Hadith 3535

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب حجامة الصائم · حديث 3536

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَأْتِيَهُ مَعَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَضَعَ الْمَحَاجِمَ مَعَ إِفْطَارِ الصَّائِمِ، فَحَجَمَهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ: "كَمْ خَرَاجُكَ"؟ قَالَ: صَاعَيْنِ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عنه صاعا (1) .قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : سَعِیْدُ بْنُ یَحْیٰی یُعْرَفُ بِسَعْدَانِ ، مِنْ اَھْلِ دِمَشْقَ ، ثِقَۃٌ ، مَاْمُوْنٌ ، مُسْتَقِیمُ الْاَمْرِ فِی الْحَدِیثِ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ سورج غروب ہونے کے وقت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں پھر آپ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ افطاری کے وقت پچھنے لگانے کے اورزاروں کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کو پچھنے لگا دے پھر نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا: تمہارا اخراج کتنا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : دوصاع نبی اکر مﷺ نے ان کا ایک صاع معاف کر وا دیا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) سعید بن یحییٰ نامی راوی کو سعد ان کے نام سےپہچانا جاتا ہے۔ یہ اہل دمشق سےتعلق رکھتے ہیں۔ یہ ثقہ اور مامون ہیں اور حدیث میں مستقیم الامر ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to cupping fasting · Hadith 3536

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ قُبْلَةِ الصَّائِمِ · حديث 3537

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُقَبِّلُ بَعْضَ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ، ثم ضحكت (1) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی اکرم ﷺ بعض اوقات اپنی کسی زوجہ محترمہ کا روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے پھر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مسکرا دیں۔

أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to the qiblah of the fasting person · Hadith 3537

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ قُبْلَةِ الصَّائِمِ · حديث 3538

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ یَحْیٰی ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَھْبِ ، قَالَ : اَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہٖ بْنِ سَعِیْد ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ کَعْبِ الْحِمْیَرِیِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، اَنَّہٗ سَاَلَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَیُقَیِّلُ الصَّائِمُ ؟ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : سَلْ ھٰذِہِ ، اُمَّ سَلَمَۃَ ، فَاَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصْنَعُ ذٰلِکَ ، فَقَالَ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَدْ غَفَرَ اللہُ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ ، فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَاللہِ اِنِّیْ اَتْقَاکُمْ لِلہِ وَاَخْشَاکُمْ لَہُ

حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا: کیا روزہ دار شخص (بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تم اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں دریافت کرنا تو سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عمر بن ابو سلمہ رضی اللہ عنہہ کو بتا یا کہ نبی اکرم ﷺ ایسا کر لیا کرتے ہیں۔ انہوں نے عرض کی: یا رسو ل اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ نے ، تو آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کی خشیت رکھتا ہوں۔

لَہٗ رَسُوْلُ اللہِ سَلْ ھٰذِہِ اُمَّ سَلَمَۃَ فَاَخْبَرَتْہُ ← عُمَرَ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ اَنَّہٗ سَاَلَ رَسُوْلُ اللہِ اَیُقَیِّلُ الصَّائِمُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to the qiblah of the fasting person · Hadith 3538

chevron_left Previous
1…1920212223
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr