Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3587

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہٗ اَوْلِرَجُلٍ : اَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ ھٰذَا الشَّھْرِ شَیْئًا ؟ ، قَالَ : لَا، قَالَ فَاِذَا اَفْطَرْتَ فَصُمْ یَوْمًا اَوْ یَوْمَیْنِ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان سے یا شاید کسی اور شخص سے فرمایا: کیا تم نے اس مہینے کے آخر میں سے کچھ روزے رکھے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم (کسی مہینے میں کوئی نفلی روزہ ) نہ رکھو، تو ایک یا دو دن روزہ رکھ لیا کرو۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 3587

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3588

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قال له ولرجل: "أَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ شَيْئًا؟ " قَالَ: لَا، قال: "فإذا أفطرت فصم يومين" (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَصُمْتَ مِنْ سَرَرِ ھٰذَا الشَّھْرِ لَفْظَۃُ اسْتِخْبَارٍ عَنْ فَعَلٍ مُرَادُھَا الِعْلامَ بِنَفِیِ جَوَازِ اسْتِعْمَالِ ذٰلِکَ الْفِعْلِ الْمُسْتَخْبَرِ عَنْہُ کَالْمُنْکِرِ عَلَیْہِ لَوْ فَعَلَہٗ وَھٰذَا کَقَوْلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَۃَ اَتَسْتُرِیْنَ الْجِدَارَ اَرَادَ بِہِ الاِنْکَارِ عَلَیْھَا بَلَفْظِ الاسْتِخْبَارِ وَاَمَرَہُ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَیْنِ مِنْ شَوَّالٍ اَرَادَ بِہٖ اَنَّھَا السِّرَارُ وَذٰلِکَ اَنَّ الشَّھْرَ اِذَا کَانَ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ یَسْتَتِرُ الْقَمَرُ یَوْمًا وَاحَدً وَاِذَا کَانَ الشَّھْرُ ثَلَاثِینَ یَسْتَتِرُ الْقَمَرُ یَوْمیْنِ وَالُوَقْتُ الَّذِی خَاطَبَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِھٰذَا الْخِطَابِ یُشْبِہُ اَنْ یَّکُوْنَ عَدَدُ شَعْبَانَ کَانَ ثَلَاثِینَ مِنْ اَجْلِہٖ اَمَرَ بِصَوْمِ یَوْمَیْنِ مِنْ شَوَّالِ

حضرت عمراں بن حصین رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان سے یا کسی اور شخص سے یہ فرمایا: کیا تم نے شعبان کے آخر میں کوئی روزہ رکھا ہے۔ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم روزہ نہ رکھو، تو دو دن روزے رکھ لیا کرو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان کیا تم نے اس مہینے کے اختتامی دنوں کے روزے رکھیں ہیں۔ ا س میں لفظی طور پر کسی فعل کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: اس فعل پر عمل کرنے کے جائز ہونے کی نفی کی جائے جس کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے یعنی اگر کسی نے اس فعل کا ارتکاب کیا ہو تو اس کا انکار کرنے کے مترادف ہے۔ یہ نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کی طرح ہو گا جو آپ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا:" کیا تم دیوار کو رکاوٹ بنا رہی ہو" تو یہاں دریافت کرنے کے الفاظ کے ذریعے ان کا انکار کرنا مراد تھا۔اس طرح نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کو شوال کے دو روزے رکھنے کا حکم دیا تو اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ تھی کہ یہ سرا رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے : مہینہ جب 29 دن کا ہو تو چاند دو دن تک پوشیدہ رہتاہے۔ وہ وقت جس میں نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس موقع پر شعبا ن 30 دن کا ہو۔ اس وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے شوال کے دو دن کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3588

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3589

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ (1) بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: حدثنا یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَبِیبِ بْنِ نُدْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ،عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اِذَا کَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ ، فَاَفْطِرُوا حَتّٰی یَجِیءَ رمَضَانُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب شعبان کا نصف ہو جائے، تو روزے رکھنا ترک کر د و، یہاں تک کہ رمضان آ جائے"۔

اِذَا کَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَاَفْطِرُوا حَتّٰی یَجِیءَ رمَضَانُ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَسَنُ بْنُ حَبِیبِ بْنِ نُدْبَۃَ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Hadith 3589

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3590

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَتَدْنُوَنَّ، قُلْتُ: فَحَدِّثْنِي، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّھْرَ اسْتِقْبَالًا ، صُوْمُوا لِرُؤْیَتِہٖ ، وَاَفْطِرُو الِرُؤْیَتِہٖ ، فَاِنْ حَالَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہٗ غَبَرَۃُ سَحَابٍ ، اَوْ قَتَرَۃٌ فَاَکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ثَلَاثِینَ

سماک بن حرب بیان کرتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں یہ شک تھا کہ کیا یہ رمضان کا دن ہے وہ اس دن کھانا کھا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا: آگے آو ار کھانا کھاو میں نے کہا: میں نے، تو روزہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم ضرور آگے آگ گے۔ میں نے کہا: پھر آپ (اس بارے میں ) مجھے کوئی حدیث بیان کریں، تو انہوں نے بتایا: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: " (رمضان کے) مہینے سے پہلے اس کا استقبال نہ کرو (یعنی اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع نہ کر دو) اس کو (یعنی پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کر و اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو اگر تمہارے درمیان اور اس (چاند) کے درمیان بادل کی رکاوٹ آ جائے، یا (چاند کو دیکھنے میں) دشواری ہو تو تم تیس کی تعداد کو پورا کر لو"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← والله لتدنون، قلت: ← ادن فكل. قلت: إني صائم، ← دخلت على عكرمة في اليوم الذي يشك فيه من رمضان وهو يأكل، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 3590

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3591

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا صَوْمَ بَعْدَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ حَتَّى يجىء شهر رمضان" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " نصف شعبان گزر جانے کے بعد روزہ نہیں رکھا جائے گا ، یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ آ جائے"۔

"لَا صَوْمَ بَعْدَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ حَتَّى يجىء شهر رمضان" ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 3591

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3592

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلَّا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صياما فليصمه" (2) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنا شروع نہ کر دو ، ماسوائے اس شخص کے جو ( کسی اور معمول کے مطابق) روزہ رکھتا ہو، تو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے"۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Hadith 3592

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3593

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ أغمي عليكم فاقدروا له" (1) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "مہینہ انتس دن کا ب ہوتا ہے، اگر تم ا س وقت تک روزے رکھنا شروع نہ کرو جب تک ( پہلی کے چاند کو ) نہیں دیکھ لیتے اور اس وقت تک عیدا لفطر نہ کرو جب تک اسے دیکھ نہیں لیتے اور اگر تم پر بادل چھائے ہو ئے ہوں، تو تم گنتی پوری کر لو"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 3593

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3594

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ إِمْلَاءً، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "لا تَصُومُوا قَبْلَ رَمَضَانَ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فإن حالت دونه غياية (1) فأكملوا ثلاثين" (2) .

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " رمضان سے پہلے روزے رکھنا شروع نہ کر دو اس کو (یعنی پہلی کے چاند کو ) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کر و اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کر و اور اگر اس سے پہلے بادل رکاوٹ بن جائیں ، تو تم تیس کی تعداد کر پورا کر لو"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ إِمْلَاءً،

Hadith 3594

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3595

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ السِّنْجِيُّ، قَالَ: حدثنا عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدٍ ، الْکِنْدِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اَبُوْ خَالِدٍ الْاَحْمَرُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَۃَ بْنِ زُفَرَ ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ فَاُتِیَ بِشَاۃٍ مَصْلِیَّۃٍ ، فَقَالَ :کُلُوْا ، فَتَنَحَّی بَعْضُ الْقَوْمِ ، وَقَالَ : اِنِّیْ صَائِمٌ ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ : مَنْ صَامَ الْیَوْمَ الَّذِی یَشُکُّ فِیْہِ فَقَدْ عَصَی اَبَا الْقَاسِمِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

صلہ بن زفر بیان کرتےہیں: ہم لوگ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ کے پاس موجود تھے وہاں ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، انہوں نے فرمایا: تم لوگ کھانا کھاو، تو ایک شخص پیچھےہٹ گیا اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ، تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: جو شخص ایسے دن میں روز ہ رکھے جس کے بارے میں اسے شک ہو، تو اس نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

«إِنِّي صَائِمٌ» ← كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، ← كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ السِّنْجِيُّ،

Hadith 3595

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3596

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ فَأُتِيَ بِشَاةٍ، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ (1) .

صلہ بن زفر بیا ن کرتےہیں: ہم حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ کے پاس ایک ایسے دن میں موجود تھے جس کے بارے میں یہ شک تھا کہ کیا یہ رمضان ہے یا نہیں۔ ایک بکر ی لائی گئی، تو ایک شخص پیچھے ہٹ گیا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: جو شخص آج کے دن میں روزہ رکھے گا اس نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 3596

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3597

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ، حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ ، اَنَّہٗ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا تَضُوْمُوا حَتّٰی تَرَوَا الْھِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتّٰی تَرَوْہُ ، اِلَّا اَنْ یُغَمَّ عَلَیْکُمْ ، فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَاقْدُرُوا لَہُ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتےہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تم لوگ اس وقت تک روزہ رکھنا شروع نہ کر و جب تک پہلی کا چاند نہ دیکھ لو اور اس وقت تک عید الفطر نہ کرو جب تک اسے دیکھ نہ لو، البتہ اگر تم پر بادل چھایا ہوا ہو، تو حکم مختلف ہے، اگر تم پر بادل چھایا ہوا ہو، تو تم گنتی پوری کر لو"۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 3597

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ يَوْمِ الْعِيدِ · حديث 3598

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يوم الفطر ويوم الأضحى (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتےہیں: نبی اکرم ﷺ نے دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا ہے عید الفطر کا دن اور عید الاضحیٰ کا دن۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 3598

chevron_left Previous
1234…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr