Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3467

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الصَّغِيرِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الطَّوِيلِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللہَ وَمَلَائِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِیْنَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت نازل کرتے ہیں"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ الطَّوِيلِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ← إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْقِذٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الصَّغِيرِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3467

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3468

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا یَمْنَعَنَّ اَحَدًا مِنْکُمْ اَذَانُ بِلَالٍ ، اَوْ قَالَ : نِدَاءُ بِلَالٍ مِنْ سِحُوْرِہِ ، فَاِنَّہٗ یُؤَذِّنُ ، اَوْقَالَ : یُنَادِی بِلَیْلٍ لِیَرْجِعَ قَائِمَکُمْ ، وَیُوقِظَ نَائِمَکُمْ ، وَقَالَ : لَیْسَ الْفَجْرُ اَنْ یَّقُوْلَ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا ، وَضَرَبَ یَدَہُ وَرَفَعَھَا ، حَتّٰی یَقُوْلَ ھٰکَذَا ، وَفَرَّجَ بَیْنَ اَصَابِعِہِ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بلال کی اذان تم میں سے کسی ایک شخص کو ہرگز نہ روکے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) بلال کی اذان آدمی کو اس کی سحری سے نہ روکے ، کیونکہ و ہ اس لیے اذان دیتا ہے (راو ی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اعلان کرتا ہے ، تا کہ نوافل ادا کرنے والا ( نوافل کو چھوڑ کر سحری کرنے کے لئے) واپس چلا جائے اور وہ تمہارے سوئے ہوئے شخص کو بیدار کر دے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: صبح صادق اس طرح اور اس طرح نہیں ہوتی ہے نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ مارا او ر اسے بلند کیا بلکہ وہ اس طرح ہوتی ہے نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیوں کو کشادہ کر کے یہ فرمایا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3468

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3469

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ ، عَنْ مَالِکٍ ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ بْنِ عَبْدِ للہِ ، عَنْ اَبِیْہِ ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اِنَّ بِلَالًا یُنَادِی بِلَیْلٍ ، فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یُنَادِیَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُومٍ قَالَ ابْنُ شِھَابٍ ، وَکَانَ ابْنُ اُمِّ مَکْتُومٍ رَجُلًا اَعْمَی ، لَا یُنَادِی حَتّٰی یُقَالَ لَہٗ : قَدْ اَصْبَحْتَ ، قَدْ اَصْبَحْتَ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : لَمْ یَرْوِ ھٰذَا الْحَدِیثَ مُسْنِدًا عَنْ مَالِکٍ اِلَّا الْقَعْنَبِیُّ وَجُوَیْرِیَۃُ بْنُ اَسْمَاءٍ ، وَقَالَ اَصْحَابُ مِالِکٍ کُلُّھُمْ ،عَنِ الزُّھْرِیِّ ، عَنْ سَالِمِ : اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بلال رات میں ہی اذان دے دیتا ہے، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن اُمّ مکتوم اذان نہیں دیتا"۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں: ابن اُمّ مکتوم ایک نابینا شخص تھے۔ وہ اس وقت کے اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے یہ کہا نہیں جاتا تھا کہ صبح صادق ہو گئی ہے۔ ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو امام مالک کے حوالے سے مسند (یعنی متصل ) حدیث کے طور پر صرف قعنبی اور جویریہ بن اسماء نے نقل کیا ہے امام مالک کے تمام دیگر شاگردوں نے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ روایت زہری کے حوالے سے سالم کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے (یعنی یہ مرسل روایت ہے متصل نہیں ہے)

أَبِيهِ ← سَالِمٍ بْنِ عَبْدِ للہِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3469

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3470

اَخْبَرَنَا مُحَمَّد بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ مَوْھَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: اِنَّ بِلَالًا یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ ، فَکُلُوْا وَشْرَبُوْا حَتّٰی تَسْمَعُوا اَذَانَ ابْنِ اُمِّ مَکْتُومٍ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی) اذان دے دیتا ہے ، تو تم لوگ اس وقت کھاتے پیتے رہو جب تک ابن اُمّ مکتوم کی اذان نہیں سنتے"۔

اِنَّ بِلَالًا یُؤَذِّنُ بِلَیْلٍ فَکُلُوْا وَشْرَبُوْا حَتّٰی تَسْمَعُوا اَذَانَ ابْنِ اُمِّ مَکْتُومٍ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3470

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3471

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "أن بلالا یُؤَذِّنُ بَلَیْلٍ ، فَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یُنَادِی ابْنُ اُمِّ مَکْتُومٍ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ہی) اذان دے دیتا ہے ، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک ابن اُمّ مکتوم اذان نہیں دیتا"۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3471

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3472

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إن بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ لِيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ، وَيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ -هَكَذَا وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَتَيْنِ- وَلَكِنَّ الْفَجْرَ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا" وَأَشَارَ بِكَفِّهِ (1) . قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُ ابْنُ مَسْعُوْدٍ ، عَنِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِنَّ بِلَالًا یُؤَذِّنُ بَلَیْلٍ لِیُنَبِّہُ نَائِمَکُمْ ، وَیَرْجِعَ ،قَائِمَکُمْ ، فِیْہِ اَبْیَنُ الْبَیَانِ عَلٰی اَنَّ بِلَالًا کَانَ یُؤَذِّنُ بِاللَّیْلِ لِانْتِبَاہِ النُّوَّامِ وَرُجُوْعِ الْھُجَّدِ ، عَنِ الْقِیَامَ لَا لِصَلَاۃِ الْفَجْرِ ، فَاِذَا کَانَ الْمَسْجِدُ لَہٗ مُؤَذِّنَانِ ، وَاَذَّنَ اَحَدُھُمَا بِلَیْلٍ لِمَا وَصَفْنَا ، وَالْاٰخِرُ عِنْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ لِصَلَاۃِ الْفَجْرِ ، کَانَ ذٰلِکَ جَائِزًا ، فَاَمَّا مَنْ اَذَّنَ بَلَیْلٍ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ ، کَانَ عَلَیْہِ الْاِعَادَۃُ لِصَلَاۃِ الصُّبْحِ ، فَاِنَّہٗ لَمْ یَصِحَّ اَنَّہٗ اَذَّنَ لَہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَلَیْلٍ اِلَّا مُؤَذِّنَانِ ، لَا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی) اذان دے دیتاہے ، تا کہ سوئے ہوئے شخص کو متنبہ کرے اور نوافل ادا کرنے والا شخص واپس جائے (اور سحری کرے ) صبح صادق یوں نہیں ہوتی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی شہادت کی دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کیا بلکہ صبح صادق یوں ہوتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ہتھیلی کے ذریعے اشارہ کیا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ کا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرنا۔ " بلال رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی) اس لئے اذان دے دیتا ہے تا کہ وہ سو ئے ہوئے شخص کو متنبہ کر دے اور نوافل ادا کرنے والا شخص (سحری کرنے کے لئے ) واپس چلا جائے۔" اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہہ صبح صادق ہونے سے پہلے اذان اس لئے دیتے تھے تا کہ سوئے ہوئے شخص کو بیدار کر دیں اور تہجد ادا کرنے والا شخص (نوافل ختم کر کے سحری کرنے کے لئے) واپس چلا جائے۔ وہ فجر کی نماز کے لئے یہ اذان نہیں دیتے تھے۔ تو جب مسجد میں دو موذن تھے اور ان میں سے ایک شخص صبح صادق ہونے سے کچھ پہلے ہی اذان دے دیتا ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، تو دوسرا شخص صبح صادق ہونے پر فجر کی نماز کے لئے اذان دیتا تھا تو یہ بات جائز ہو گی البتہ جو شخص صبح کی نماز کے لئے صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دیتا ہے، تو اس پر یہ بات لازمی ہو گی کہ وہ صبح کی نماز کے لیے دوبارہ اذان دے کیونکہ یہ بات مستند طور پر ثابت نہیں ہے کہ صبح صادق ہونے سے پہلے کبھی دونوں موذنوں نے اذان دی ہو۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3472

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3473

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُؤَذِّنَ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُؤَذِّنَ بِلَالٌ" وَكَانَ بِلَالٌ يؤذن حين يرى الفجر (1) .

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ابن اُمّ مکتوم رات میں ہی (یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے کچھ پہلے ہی ) اذان دے دیتا ہے ، تو تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک بلال اذان نہیں دیتا "۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہہ اس وقت اذان دیا کرتے تھے جب وہ صبح صادق دیکھ لیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3473

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3474

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عمته أنيسة بنت حبيب، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أذَّن ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ، فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا" فَإِنْ كَانَتِ الْوَاحِدَةُ مِنَّا لَيَبْقَى عَلَيْهَا الشَّيْءُ مِنْ سَحُورِهَا، فَتَقُولُ لِبِلَالٍ: أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرَغَ مِنْ سَحُورِي (1) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الله تعالى عَنْهُ: هَذَانِ خَبَرَانِ قَدْ يُوهِمَانِ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةَ الْعِلْمِ أَنَّهُمَا مُتَضَادَّانِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، لِأَنَّ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَعَلَ اللَّيْلَ بَيْنَ بِلَالٍ وَبَيْنَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ نَوْبًا، فَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ بِاللَّيْلِ لَيَالِيَ معلومة، لينبه النائم، ويرجع الْقَائِمُ ، لَا لِصَلَاۃِ الْفَجْرِ ، وَیُؤَذِّنُ ابْنُ اُمِّ مَکْتُومٍ فِیْ تِلْکَ اللّیَالِیَ بَعْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ لِصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ ، فَاِذَا جَائَتْ نَوْبَۃُ ابْنِ اُمِّ مَکْتُومٍ کَانَ یُؤَذِّنُ بِاللَّیْلِ لَیَالِیَ مَعْلُومَۃٌ کَمَا وَصَفْنَا قَبْلُ ، وَیُؤَذِّنُ بِلَالٌ فِیْ تِلْکَ : اللَّیَالِیَ بَعْدَ انْفِجَارِ الصُّبْحِ لِصَلَاۃِ الْغَدَاۃِ ، مَنْ غَیْرِ اَنْ یَّکُوْنَ بَیْنَ الْخَبَرَیْنِ تَضَادٌّ اَوْ تَھَاتُرٌ

سیّدہ انیسہ بنت خبیب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نےا رشاد فرمایا ہے: " جب ابن اُمّ مکتوم اذان دے، تو تم لو گ کھاتے پیتے رہو اور جب بلال اذان دے، تو تم کچھ کھاو پیو نہیں "۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں: بعض اوقات ہم میں سے کسی عورت کی سحری میں سے کچھ باقی ہوتا تھا، تو وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہہ سے کہتی تھی ابھی آپ ٹھہر جائیں میں پہلے سحری کرکے فارغ ہو جاوں۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) یہ دونوں روایات اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتی ہیں جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے صبح صادق سے پہلے اذان دینے کی باری حضرت بلال رضی اللہ عنہہ اور حضرت ابن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہہ میں باری، باری رکھی تھی تو کچھ متعین راتوں میں حضرت بلال رضی اللہ عنہہ صبح صادق ہونے سے پہلے اذان دے دیتے تھے تا کہ سویا ہوا شخص بیدار ہو جائے اور نوافل پڑھنے والا شخص ( سحری کرنے کے لئے) واپس چلا جائے۔ وہ فجر کی نماز کے لئے اذان نہیں دیتے تھے اور ان راتوں میں حضرت ابن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہہ صبح کی نماز کے لئے صبح صادق ہو جانے کے بعد اذان دیا کرتے تھے اور جب حضرت ابن اُمّ مکتوم رضی اللہ عنہہ کی باری آتی تھی تو وہ متعین راتوں میں صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دیتے تھے جس کا ذکر ہم اس سے پہلے کر چکے ہیں اور ان راتوں میں حضرت بلال رضی اللہ عنہہ صبح صادق ہونے کے بعد صبح کی نماز کے لئے اذان دیا کرتے تھے اس صورت میں ان دونوں روایات کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں رہے گا۔

عمته أنيسة بنت حبيب، ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3474

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3475

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَدَنِيُّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: "نعم سحور المؤمن التمر" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مومن کی بہترین سحری کھجور ہے"۔

"نعم سحور المؤمن التمر" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَدَنِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3475

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3476

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَاشِدٍ الْاَدَمِیَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ وَسَّاجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَسَحَّرُوا وَلَوْ بِجَرْعَۃٍ مِنْ مَاءٍ

جو شخص سحری کرنے کا ارادہ کرتا ہے اسے پانی پینے پر اکتفاء کرنے کا حکم ہونا

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُقْبَۃَ بْنِ وَسَّاجٍ ← قَتَادَةَ ← عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ ← اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَاشِدٍ الْاَدَمِیَّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3476

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3477

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحُورِ" (1) .

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ہمارے روزہ رکھنے اور اہل کتاب کے روزہ کے درمیان فرق سحری کو کھانا ہے"۔

عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3477

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب آداب الصوم · حديث 3478

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ} (البقرة: من الآية184) ، كَانَ مِنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ أَفْطَرَ وَافْتَدَى، حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا (1) .

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ " اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ان پر فدیہ دینا لازم ہے ، جو مسکین کو کھانا کھلانا ہو گا"۔ تو ہم میں سے جس شخص نے روزہ نہ رکھنا ہوتا تھا و ہ روزہ چھوڑ د یتا تھا اور فدیہ دے دیتا تھا ، یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہو گئی اور اس نے اسے منسوخ کر دیا۔

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter on the etiquette of fasting · Hadith 3478

chevron_left Previous
1…141516…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr