Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3455

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الشَّهْرُ هَكَذَا، الشَّهْرُ هَكَذَا" يُثَبِّتُ الثَّلَاثَةَ الْأُوَلَ بِكُلِّ أَصَابِعِ يَدَيْهِ، وَالثَّلَاثَ الأواخر بكل أصابع يديه إلا الآخر (1) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مہینہ اتنا اور مہینہ اتنا ہوتا ہے"۔ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے تینوں مرتبہ اپنی تمام انگلیوں کو کھلا رکھا اور دوسری مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے دونو ں ہاتھوں کی تما م انگلیوں کو کھلا رکھا، لیکن تیسرے مرتبہ میں ایک انگلی کو بند کر لیا (یعنی مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے)

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبِي ← عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3455

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3456

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عُمُومَةً لَهُ شَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْرُجُوا لِعِيدِهِمْ من الغد (1) .

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: ان کے چچاوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے پہلی کا چاند دیکھ لینے کی گواہی دی، تو نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اگلے دن عید کی نماز ادا کرنے کے لئے نکلیں۔

قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3456

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ- أَوْ أَحَدِهِمَا شَكَّ إِسْحَاقُ-. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عليكم، فصوموا ثلاثين" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اسے (یعنی پہلے کے چاند کو ) دیکھ کر روزے رکھنا شرو ع کر و اور اسے دیکھ کر عیدا لفطر کرو، اگر تم پر باد چھائے ہوئے ہوں ، تو تیس روزے رکھو"۔

"صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عليكم، فصوموا ثلاثين" ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ- أَوْ أَحَدِهِمَا شَكَّ إِسْحَاقُ-. ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3457

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3458

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوَا الْهِلَالَ، أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ، ثُمَّ صُومُوا حَتَّى تَرَوَا الْهِلَالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ" (1) .

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مہینے کا آغاز اس وقت تک نہ کرو جب تک پہلی کا چاند نہ دیکھ لو یا تیس کی تعداد پوری نہ کر لو۔ پھر تم روزے رکھنا شروع کرو، یہاں تک کہ جب تم پہلی کا چاند دیکھ لو یا تعداد پوری کر لو ( تو عیدالفطر کرو)

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3458

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3459

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثلاثين يوما ثم أفطروا" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اسے ( یعنی پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور اسے دیکھ کر عیدالفطر کرو اور اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تیس کی تعداد پوری کر لو پھر تم عیدالفطر کرو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3459

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3460

أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَكِ بِهَرَاةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ (1) بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: كَانَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الرَّجُلُ صَائِمًا، فَحَضَرَهُ الْإِفْطَارُ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ، أَتَى امْرَأَتَهُ فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ: لَا وَلَكِنْ أَنْطَلِقُ فَأَطْلُبُ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ، فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ: خيبة لك، فأصبح، فلما انتصف النهار غشي عَلَيْهِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ} (البقرة: من الآية187) ، فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} (البقرة: 187) (2)

حضرت برا ء رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے جب کسی شخص نے روزہ رکھا ہوا ہوتا اور افطاری کا وقت قریب آ جاتا اور وہ افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا، تو وہ اس پوری رات میں کچھ نہیں کھا سکتا تھا اور اس سے اگلے دن شام تک بھی کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہہ نے روزہ رکھا ہوا تھا جب افطاری کا وقت قریب آیا ، تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ، لیکن میں جا کر تلاش کرتی ہوں وہ اس دن کام کرتے رہے تھے ان کی آنکھ لگ گئی جب ان کی بیوی ان کے پاس آئی اور اس نے انہیں اس حالت میں دیکھا، تو بولی آپ کے لیے افسوس ہے۔ اگلے دن دوپہر کے وقت ان پر غشی طاری ہو گئی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ "تمہارے لیے روزے (یعنی رمضان ) کی راتوں میں اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت کرنے کو حلال قرار دیا گیا ہے و ہ تمہار ا لباس ہیں"۔ تو لوگ اس سے بہت خوش ہوئے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) "تم لوگ اس وقت تک کھا پی سکتے ہو جب تک سفید دھاگہ تمہارے سامنے سیاہ دھاگے سے ممتاز نہیں ہو جاتا جو صبح صادق ہے"۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُبَارَکِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3460

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3461

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُرَیْمَۃَ ، قَالَ :حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ الْاُمَوِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمِّی عُبَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اِسْرَائِیْلُ ، عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، قَالَ: کَانَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِذَا کَانَ اَحَدُھُمْ صَائِمًا فَحَضَرَ الْاِفْطَارُ ، فَنَامَ قَبْلَ اَنْ یُفْطِرَ لَمْ یَاْکُلْ لَیْلَتَہٗ وَلَا یَوْمَہٗ حَتّٰی یُمْسِیَ ، وَاِنَّ قَیْسَ بْنَ صِرْمَۃَ کَانَ صَائِمًا ، فَلَمَّا حَضَرَ الْاِفْطَارُ اَتٰی امْرَاَتَہُ ، فَقَالَ : اَعِنْدَکِ طَعَامٌ ؟ ، قَالَتْ : لَا وَلٰکِنْ اَطْلُبُ ، فَطَلَبْ ، فَطَلَبَتْ لَہٗ ، وَکَانَ یَوْمَہٗ یَعْمَلُ ، فَغَلَبَتْہُ عَیْنُہُ ، وَجَائَتِ امْرَاَتُہُ ، فَقَالَتْ : خَیْبَۃً لَکَ ، فَاَصْبَحَ ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّھَارُ غَشِیَ ، فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ ؛ (اُحِلَّ یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ) (البقرۃ:187)

حضرت برا ء رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے جب کسی شخص نے روزہ رکھا ہوا ہوتا اور افطاری کا وقت قریب آ جاتا اور وہ افطاری کرنے سے پہلے سو جاتا، تو وہ اس پوری رات میں کچھ نہیں کھا سکتا تھا اور اس سے اگلے دن شام تک بھی کچھ نہیں کھا سکتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت قیس بن صرمہ رضی اللہ عنہہ نے روزہ رکھا ہوا تھا جب افطاری کا وقت قریب آیا ، تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ، لیکن میں جا کر تلاش کرتی ہوں وہ اس دن کام کرتے رہے تھے ان کی آنکھ لگ گئی جب ان کی بیوی ان کے پاس آئی اور اس نے انہیں اس حالت میں دیکھا، تو بولی آپ کے لیے افسوس ہے۔ اگلے دن دوپہر کے وقت ان پر غشی طاری ہو گئی اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ "تمہارے لیے روزے (یعنی رمضان ) کی راتوں میں اپنی بیویوں کے ساتھ صحبت کرنے کو حلال قرار دیا گیا ہے و ہ تمہار ا لباس ہیں"۔ تو لوگ اس سے بہت خوش ہوئے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) "تم لوگ اس وقت تک کھا پی سکتے ہو جب تک سفید دھاگہ تمہارے سامنے سیاہ دھاگے سے ممتاز نہیں ہو جاتا جو صبح صادق ہے"۔

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَمِّي عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُرَیْمَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3461

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3462

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، (1) أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ: قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ} [البقرة: 187] قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا ذَلِكَ بَيَاضُ النَّهَارِ وَسَوَادُ الليل" (2) .

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی۔ " تم لوگ اس وقت تک کھا پی سکتے ہو جب تک سیاہ دھاگے کے مقابلے میں سفید دھاگہ تمہارے سامنے نمایاں نہ ہو جائے"۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس سے مراد دن کی سفیدی اور رات کی تاریکی ہے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3462

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3463

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃُ : (حَتّٰی یَتَبیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ) (البقرۃ :187) مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ ، اَخذْتُ عِقَالًا اَبْیَضَ وَعِقَالًا اَسْوَدَ ، فَوَ ضَعْتُھَا تَحْتَ وِسَادَتِی ، فَنَظَرْتُ فَلَمْ اَتَبیَّنْ ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَضَحِکَ ، وَقَالَ : اِنَّ وسَادَکَ اِذًا لَعَرِیضٌ طَوِیلٌ ، اِنَّمَا ھُوَ اللَّیْلُ

حضر رت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: " یہاں تک کہ سیاہ دھاگے کے مقابلے میں سفید دھاگہ تمہارے سامنے نمایاں ہو جائے"۔ تو میں نے ایک سفید دھاگہ لیا اور ایک سیاہ دھاگہ لیا میں نے انہیں اپنے سرہانے کے نیچے رکھ دیا ۔ میں اس بات کا جائزہ لیتا رہا، لیکن وہ میرے سامنے نمایاں نہیں ہوا۔ میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا ، تو آپ ہنس پڑھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارا تکیہ بڑا لمبا چوڑا ہے اس سے مراد رات ہے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حصين بن نمير ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3463

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3464

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ (1) ، حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم: "هو الغداء المبارك" يعني السحور (2) .

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " یہ مبارک ناشتہ ہے" نبی اکرمﷺ کی مراد سحری تھی۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الزُّبَيْدِيُّ1 ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ عَمْرٍو بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3464

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3465

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: "هَلُمُّوا إلى الغداء المبارك" (1) .

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا آپ رمضان کے مہینے میں سحری کی طرف بلا رہے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: مبارک ناشتے کی طرف آجاو۔

هلموا إلى الغداء المبارك ← رَسُولَ اللَّهِ وَهُوَ يَدْعُو إِلَى السَّحُورِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، ← الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: ← أَبِي رُهْمٍ ← الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، ← يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ مَهْدِيٍّ، ← الْقَوَارِيرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3465

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3466

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَسَحَّرُوا، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةٌ" (1) .

حضرت انس رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " سحری کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے"۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3466

chevron_left Previous
1…131415…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr