Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3443

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا رَاَیْتُمُ الْھِلَالَ فَصُوْمُوا ، وَاِذَا رَاَیْتُمُوْہُ فَاَفْطِرُوْا ،فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَعُدُّا ثَلَاثِینَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب تم پہلی کا چاند دیکھ لو، تو روزے رکھنا شروع کرو جب اسے دیکھو ، تو عید الفطر کرو اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو 30 کی گنتی پوری کر لو۔"

اِذَا رَاَیْتُمُ الْھِلَالَ فَصُوْمُوا وَاِذَا رَاَیْتُمُوْہُ فَاَفْطِرُوْا ،فَاِنْ غُمَّ عَلَیْکُمْ فَعُدُّا ثَلَاثِینَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3443

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3444

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثم صام" (1) ،

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ شعبان کا پہلی کا چاند دیکھنے کےجتنا اہتمام کرتے تھے اتنا اہتمام کسی اور چیز کا نہیں کرتے تھے پھر آپ ﷺ رمضان کا پہلی کا چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرتے تھے، اگر آپ ﷺ پر بادل چھائے ہوئے ہوتے تھے ، تو آپﷺ پہلے تیس (30) دن کی گنتی پوری کر تے تھے پھر روزے رکھنا شروع کرتے تھے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3444

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3445

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَمَضَانَ، فَقَالَ: "لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوَا الْهِلَالَ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فإن غم عليكم، فاقدروا له" (1)

اس بات کی ممانعت کا تذکرہ کہ رمضان کے روزے رکھنے شروع کر دئیے جائیں البتہ جب اس کا چاند نظر آ جائے ( تو اس کے بعد رکھیں جائیں گے)

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3445

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3446

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أعرابي فقال: اَبْصَرْتُ الْھِلَالَ اللَّیْلَ اللَّیْلَۃَ ، فَقَالَ : تَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللہُ ، وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ، قَالَ : نَعَمْ قَالَ : قُمْ یَا فُلَانُ ، فَنَادِ فِی النَّاسِ فَلْیَصُوْمُوا غَدًا ، وَاَخْبَرَنَاہُ اَبُوْ یَعْلٰی مَرَّۃً اُخْرٰی ، وَقَالَ قُمْ یَا بِلَالُ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: گزشتہ رات میں نے پہلی کا چاند دیکھ لیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ا ے فلاں تم اٹھو اور لوگو ں میں یہ اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں۔ یہی روایت ایک اور سند کے ساتھ منقول ہے ۔ جس میں یہ الفاظ ہیں" اے بلال تم اٹھو۔"

قُمْ یَا بِلَالُ ← اَبُوْ یَعْلٰی مَرَّۃً اُخْرٰی ← قُمْ یَا فُلَانُ فَنَادِ فِی النَّاسِ فَلْیَصُوْمُوا غَدًا ← نَعَمْ ← تَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ ← اَبْصَرْتُ الْھِلَالَ اللَّیْلَ اللَّیْلَۃَ ← جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ أعرابي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زَائِدَۃَ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3446

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3447

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ، فَرَأَيْتُهُ، فَأَخْبَرْتُ رسول لله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بصيامه (1) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: لوگوں نے پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کی میں نےا سے دیکھ لیا میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بار ے میں بتایا، تو نبی اکرم ﷺ نے روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ، فَرَأَيْتُهُ، فَأَخْبَرْتُ رسول لله فَصَامَ وَأَمَرَ النَّاسَ بصيامه ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3447

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3448

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: شَھْرَ عِیْدٍ لَا یُنْقُصَانِ ، رَمَضَانُ وَذُو الْھِجَّۃِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : لِھٰذَا الْخَبَرِ مِعْنَیَانِ ، اَحَدُھُمَا : اَنَّ شَھْرَا عِیْدٍ لَا یَنْقُصَانِ فِی الْحَقِیقَۃِ ، وَاِنْ نَقْصَا عِنْدَنَا فِیْ رَاْیِ الْعَیْنِ عِنْدَ الْحَائِلِ بَیْنَنَا وَبَیْنَ رُؤْیَۃِ الْھِلَالِ لِغَبَرَۃٍ اَوْ ضَبَابٍ ، وَالْمَعْنَی الثَّانِی : اَنَّ شَھْرَ عِیْدٍ لَا یَنْقُصَانِ فِی الْفَضْلِ ، یُرِیْدُ اَنَّ عَشْرَذِی الْحِجَّۃِ فِی الْفَضْلِ کَشَھْرِ رَمَضَان ، وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ھٰذَا قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ اَیَّامٍ الْعَمَلُ فِیْھَا اَفْضَلُ مِنْ عَشْرِ ذِی الْحِجَّۃِ ، قِیلَ : یا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیلِ اللہِ ، قَالَ : وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِیلِ اللہِ

حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا : عید کے دو مہینے کم نہیں ہوتے رمضان اور ذوالحج۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: عید کے دو مہینے درحقیقت کم نہیں ہوتے۔ اگرچہ وہ ہمارے نزدیک آنکھ سے دیکھنے کے حوالے سے کم ہو جاتے ہیں۔ اس وقت جب ہمارے اور چاند کو دیکھنے کے درمیان غبار یا بادل وغیرہ رکاوٹ بن جائیں۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے: عید کے دو مہینے فضیلت کے حوالے سے کم نہیں ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے: ذوالحج کے مہینے کے پہلے عشرے کو فضیلت کے اعتبار سے وہی حیثیت حاصل ہے، جو رمضان کے مہینے کو حاصل ہے اور اسکی دلیل نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے۔ " کوئی بھی دن ایسے نہیں ہے جن میں عمل کرنا ذوالحج کے پہلے عشرے (میں عمل کرنے ) سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو۔ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ! اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی نہیں۔

شَھْرَ عِیْدٍ لَا یُنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْھِجَّۃِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ اَنَّ نَبِیَّ اللہِ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3448

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3449

اَخْبَرَنَا عُمَرْبْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِیُّ ، اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ ، عَنْ مَالِکٍ ، عَنْ عَبْد اللہِ بْنِ دِینَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الشَّھْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُوْنَ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مہینہ (کبھی ) انتیس (29) دن کا بھی ہوتا ہے۔"

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرْبْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3449

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3450

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كَمْ مِنَ الشَّهْرِ؟ " -يَعْنِي رَمَضَانَ- قُلْنَا ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ، وَبَقِيَ ثَمَانٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَضَتْ ثِنْتَانِ وَعِشْرُونَ وَبَقِيَ سَبْعٌ، فَاطْلُبُوهَا اللَّيْلَةَ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَشَرَةً عَشَرَةً مَرَّتَيْنِ وواحدة تسعة" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: مہینہ (ختم ہونے میں) کتنے دن باقی رہ گئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد رمضان کا مہینہ تھا ۔ ہم نے عرض کی : بائیس (22) دن گزر چکے ہیں اور آٹھ دن باقی رہ گئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بائیس (22) دن گزر گئے ہیں اور سات دن باقی رہ گئے ہیں تم اسے آج کی رات میں تلاش کرو، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مہینہ اتنا اور اتنا ہوتا ہے۔ یہ بات آپﷺ نے تین مرتبہ ارشادفرمائی دو مرتبہ دس دس کا اشارہ کیا اور ایک مرتبہ نو کا اشارہ کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3450

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3451

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعِجْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بن نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ (1) ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الشَّهْرُ ثَلَاثُونَ، وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَإِنْ غُمَّ عليكم، فعدوا ثلاثين" (2) .

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " (کبھی )مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے اور ( کبھی ) مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے ، اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں ، تو تم تیس کی گنتی پور ی کر لو"۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← بن نُمَيْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْعِجْلِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3451

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3452

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ وَالدَّغُولِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ اَنَّہٗ سَمِعَ جَابِرَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، یَقُوْلُ: عزَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نِسَائَہٗ شَھْرًا ، فَخَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَبَاحَ تِسْعِ وَّعِشْرِیْنَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ، یَا رَسُوْلَ اللہِ ، اِنَّا اَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعَۃٍ وَّعِشْرِیْنَ ، فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنَّ الشّھْرَ یَکُوْنُ تِسْعًا وَعِشْرِیْنَ ، ثُمَّ صَفَّقَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا مَرَّتَیْنِ بِاَصَابِعِ یَدَیْہِ کُلِّھَا ، وَالثَّالِثُ بِتِسْعٍ مِنْھَا

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک ماہ تک اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کیے رکھی۔ انتیسویں دن کی صبح نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے، تو حاضرین میں سے کسی نےعر ض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! ابھی ، تو انتیس دن ہوئے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہو تا ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے دونوں ہاتھ کی تمام انگلیوں کے ذریعے تین مرتبہ اشارہ کیا اور تیسری مرتبہ میں نو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کیا ( یعنی مہینہ کبھی انتیس دن کا بھی ہوتا ہے)

عزَلَ النَّبِیُّ نِسَائَہٗ شَھْرًا فَخَرَجَ النَّبِیُّ صَبَاحَ تِسْعِ وَّعِشْرِیْنَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ وَالدَّغُولِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3452

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3453

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ (1) بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زميل، حدثنا بن عَبَّاسٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إن الشهر يكون تسعا وعشرين" (2) .

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے "۔

"إن الشهر يكون تسعا وعشرين" ← النَّبِيِّ ← عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ← بْنِ عَبَّاسٍ ← سِمَاكٍ أَبِي زميل، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3453

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ رُؤْيَةِ الْهِلَالِ · حديث 3454

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَالْحَوْضِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الشَّهْرَ هَكَذَا وَهَكَذَا" وخنس الإبهام في الثالثة (1) .

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مہینہ اتنا اور اتنا ہوتا ہے ۔ تیسری مرتبہ میں آپ نے اپنے انگوٹھے کو بند کر لیا"۔

رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَالْحَوْضِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Crescent vision section · Hadith 3454

chevron_left Previous
1…121314…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr