Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3419

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بن أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم: "من أنفقش زَوْجَیْنِ فِیْ سَبِیلِ اللہِ دُعِیَ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ ، وَلِلْجَنَّۃِ اَبْوَابٌ ، فَمَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الصَّلَاۃِ دُعِیَ مِنْ اَبْوَابِ الصَّلَاۃِ ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِالصَّدَقَۃِ دُعِیَ مِنْ اَبْوَابِ الصَّدَقَۃِ ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ اْجِھَادِ دُعِیَ مِنْ اَبْوَابِ الْجِھَادِ وَاَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الصِّیَامِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الرَّیَانِ ، فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا عَلٰی اَحَدٍ مِنْ ضِرُورَۃٍ مِنْ اَیِّھَا دُعِیَ ، فَھَلْ یُدْعَی اَحَدٌ مِنْھَا کُلِّھَا یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ نَعَمْ ، وَاَرْجُو اَنْ تَکُوْنَ مِنْھُمْ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : عَسٰی مِنَ اللہِ وَاجِبٌ وَاَرْ مِنَ النَّبِیِّ حَقٌّ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص اللہ کی راہ میں کسی چیز کا جو ڑا خرچ کرتا ہے ، تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جاتا ہے جنت کے کئی دروازے ہیں جو لوگ نمازی ہیں انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا جو صدقہ کرنے والے ہیں انہیں صدقے والے دروازے سے بلایا جائے گا جو جہاد کرنے والے ہیں انہیں جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا جو روزہ دار ہیں انہیں باب"ریان" سے بلایا جائے گا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! ایسے بھی، تو ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے یا رسول اللہ ﷺ کیا کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں اور مجھے یہ امید ہے تم ان میں سے ایک ہو گے۔" ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) لفظ عسی جب اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس سے مراد کسی چیز کا لازم ہونا ہو گا۔ اور لفظ ارجو ( مجھے اُمید ہے) جب نبی اکرم ﷺ کی طرف منسوب ہو تو اس کا مطلب یہ ہے : ایسا ضرور ہو گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← بن أَبِي السَّرِيِّ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3419

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3420

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَيَقُومُونَ، فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ، فَلَمْ يدخل منه أحد" (1) .

حضر ت سہل بن سعد رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ا رشاد فرمایا ہے: " جنت میں ایک دروازہ ہے، جس کا نام " ریان" ہے قیامت کے دن روزہ دار لوگ اس سے داخل ہوں گے ان کے علاوہ اور کوئی شخص اس میں سے داخل نہیں ہو گا یہ کہا جائے گا روزہ دار لوگ کہاں ہیں؟ وہ لوگ اٹھیں گے اور اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جب ان کا آخری فرد اندر داخل ہو جائے گا ، تو اس دروازے کو بند کر دیا جائے گا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہو سکے گا۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3420

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3421

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّافِقَةِ (2) ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فِي الْجَنَّةِ بَابٌ يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، أُعِدَّ لِلصَّائِمِينَ، فَإِذَا دَخَلَ أخراهم، أغلق" (3) .

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جنت میں ایک دروازہ ہے، جس کا نام " ریان" ہے اسے روزہ داروں کے لیے تیار کیا گیا ہے جب ان کا آخری فرد اس میں سے داخل ہو جائے گا ، تو اسے بند کر دیا جائے گا۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّافِقَةِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3421

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3422

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنه قال: "كل عمل بن آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، وَالصِّيَامُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ الله من ريح المسك" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے وہ میرے لیے ہے اور میرے لیے ہے اور میں اس کی جزاء دوں گا ۔ روزہ دار شخص کے منہ کے بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔"

"كل عمل بن آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، وَالصِّيَامُ لِي ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3422

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3423

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ كُوفِيٌّ ثَبْتٌ، حدثنا محمد بن بكر البرساني، حدثنا بن جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَالَ اللَّهُ تعالى: كل عمل بن آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ من ريح المسك. للصائم فرحتان: إذ أَفْطَرَ، فَرِحَ بِفِطْرِهِ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ، فَرِحَ بصومه" (1) قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : شِعَارُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الْقِیَامَۃِ التَّحْجِیلُ بِوُضُوْئِھِمْ فِی الدُّنْیَا فَرقًا بَیْنَھُمْ وَبَیْنَ سَائِرِ الْاُمَرِ ، وَشِعَارُ ھُمْ فِی الْقِیَامَۃِ بِصَوْمِھِمْ طِیبُ خُلُوفِھِمْ اَطْیَبْ مِنْ رَیْحِ الْمِسْکِ لِیُعْرَفُوا بَیْنَ ذٰلِکَ الْجَمْعِ بِذٰلِکَ الْعَمَلِ نَسْاَلُ اللہَ بَرَکَۃَ ذٰلِکَ الْیَوْمِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے وہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا ( نبی اکرم ﷺ فر ماتے ہیں:) اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے روزہ دارشخص کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی۔ روزہ دار شخص کو دو خوشیاں نصیب ہوں گی ایک جب وہ افطاری کرے گا، تو افطار ی کرنے کی وجہ سے اسے خوشی ہو گی اور ایک جب وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اپنے روزہ رکھنے کی وجہ سے خوش ہو گا۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) قیامت کے دن اہل ایمان کا مخصوص علامتی نشان دنیا میں ان کے کئے گئے وضو کی چمک ہو گی جس کی وجہ ان کے اور دیگر تمام امتوں کے درمیا ن امتیاز کیا جا سکے گا اور قیامت کے دن ان کا مخصوص نشان ان کے روزے کی وجہ سے ان کے منہ سے آنے والی بو ہو گی جو مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہو گی تا کہ وہ اپنے عمل کے نتیجے میں میدان محشر میں سب لوگوں کے درمیان پہچانے جائیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس دن کی برکت کا سوال کرتے ہیں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ ← عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ كُوفِيٌّ ثَبْتٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3423

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3424

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا بن آدَمَ بِعَشْرِ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، يَقُولُ اللَّهُ: إِلَّا الصَّوْمَ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ الطَّعَامَ مِنْ أَجْلِي، وَالشَّرَابَ مِنْ أَجْلِي، وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ، وَلَخُلُوفِ فَمِ الصَّائِمِ حِينَ يَخْلُفُ مِنَ الطَّعَامِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ ريح المسك" (1) .

اس بات کے بیان کا تذکرہ کہ روزہ دار شخص کے منہ دار شخص کے منہ کی بو بعض اوقات دنیا میں مشک کی بو سےزیادہ پاکیزہ ہوتی ہے

أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ الطَّعَامَ مِنْ أَجْلِي، وَالشَّرَابَ مِنْ أَجْلِي، وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي، ← اللَّهُ: إِلَّا الصَّوْمَ، فَهُوَ لِي ← "كُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا بن آدَمَ بِعَشْرِ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3424

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3425

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا یَزَیْدُ بْنُ ھَارُوْنَ ، اَخْبَرَنَا مَھْدِیُّ بْنُ مَیْمُوْنَ ، عَنْ مُّحَمَّدِ ،بْنِ اَبِیْ یَعْقُوبَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَیْوَۃَ ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ، قَالَ: اَنْشَاَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَیْشًا ، فَاَتَیْتُہُ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ادْعُ اللہَ لِی بِالشَّھَادَۃِ ، قَالَ : اللّٰھُمَّ سَلِّمْھُمْ وَغَنِّمْھُمْ ، فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ، حَتّٰی ذَکَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ ،ثُمَّ اَتَیْتُہُ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنِّیْ اَتَیْتُکَ تَتْرَی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، اَسْاَلْکَ اَنْ تَدْعُوَ لِی بِالشَّھَادَۃِ ، فَقُلْتَ : اللّٰھُمَّ سَلِّمْھُمْ وَغَنِّمْھُمْ فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمُرْنِیْ بِعَمَلٍ اَدْخُلُ بِہِ الْجَنَّۃَ ، فَقَالَ عَلَیْکَ بِالصَّوْمِ فَاِنَّہٗ لَا مِثْلَ لَہٗ ، قَالَ : فَکَانَ اَبُوْ اُمَامَۃَ لَا یُرَی فِیْ بَیْتِہِ الدُّخَانُ نَھَارًا اِلَّا اِذَا نَزَلَ بِھِمْ ضَیْفٌ ، فَاِذَا رَاَوَا الدُّخَانَ نَھَارًا عَرَفُوا اَنَّہٗ قَدِعْتَرَاھُمْ ضِیْفٌ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : رَوٰی ھٰذَا الْخَبَرَ مَھْدِیُّ بْنُ مَیْمُوْنَ ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ یَعْقُوبَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَیْوَۃَ ، وَرَوَاہُ شُعْبَۃُ ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ یَعْقُوبَ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ھِلَالٍ ،عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَیْوَۃَ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر تیا ر کیا میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ میرے لیے شہادت کی دعا کیجئے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ! ان لوگوں کو سلامت رکھنا اور انہیں مال غنیمت بھی عطا کر نا۔ یا رسول اللہ ﷺ! ہم سلامت بھی رہے ہیں ہمیں مال غنیمت بھی مل گیا ہے اب آپ ﷺ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں حکم دیجئے جس کی وجہ سے میں جنت میں داخل ہو جاوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پر روزہ رکھنا لازم ہے، کیونکہ اس کی مانند اور کوئی چیز نہیں ہے۔ راوی بیا ن کرتے ہیں: تو حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہہ کے گھر سے دن کے وقت کبھی بھی دھواں نظر نہیں آتا تھا ماسوائے ایک دن کے جب ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہوتاتھا جب ان کے گھر دن کے وقت دھواں نظر آتا ، تو لوگوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ ان کے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے۔(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) مہد ی بن میمو ن نے یہ روایت محمد بن ابو یعقوب کے حوالے سےرجاء سے نقل کی ہے جبکہ شعبہ نے یہ روایت محمد بن ابو یعقوب کےحوالے سے حمید بن ہلال کے حوالے رجاء سے نقل کی ہے۔

اَنْشَاَ رَسُوْلُ اللہِ جَیْشًا فَاَتَیْتُہُ فَقُلْتُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3425

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3426

اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَرُوبَۃَ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ یَعْقُوبَ ، قَالَ : سِمِعْتُ اَبَا نَصْرٍ الْھِلَالِیَّ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَیْوَۃَ ، عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ، قَالَ: قُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، دُلَّنِیْ عَلٰی عَمَلٍ ، قَالَ : عَلَیْکَ بِالصَّوْمِ لَا عِدْلَ لَہُ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اَبُوْ نَصْرٍ ھٰذَا ھُوَ حُمَیْدُ بْنُ ھِلَالٍ ، وَلَسْتُ اُنْکِرْ اَن یَّکُوْنَ مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ یَعْقُوبَ سَمِعَ ھٰذَا الْخَبَرَ بِطُولِہِ ،عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَیْوَۃَ ، وَسِمَعَ بَعْضَہُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ھِلَالٍ ، فَالطَّرِیْقَانِ جَمِیْعًا مَحْفُوْظَانِ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ کسی عمل کی طرف میری رہنمائی کیجئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم پر روزہ رکھنا لاز م ہے ، کیونکہ اس کے برابر اور کوئی چیز نہیں ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): ابو نصر نامی یہ راوی حمید بن ہلال ہے۔ میں ایسا ہونے کا انکار نہیں کرتا کہ محمد بن ابو یعقوب نے یہ روایت تفصیلی طور پر رجاء سے سنی ہو اور پھر انہوں نے اس کا کچھ حصہ حمید بن ہلال سے سنا ہو تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہو ں گے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← اَبَا نَصْرٍ الْھِلَالِیَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3426

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3427

اَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَیْبَۃَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِی السَّرِیِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ھَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَال: ھٰذَا مَا حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَذَکَرَ اَحَادیثَ ،وَقَالَ : قَالِ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الصِّیَامُ جُنَّۃٌ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: یہ وہ حدیثیں ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے بیان کی تھیں پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں جن میں یہ بات بھی بیا ن کی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ "روزہ ڈھا ل ہے۔"

رَسُوْلُ اللہِ فَذَکَرَ اَحَادیثَ ،وَقَالَ ← ھٰذَا مَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3427

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3428

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فرج بن رواحةذكر رَجَاءِ اسْتِجَابَةِ دُعَاءِ الصَّائِمِ عِنْدَ إِفْطَارِهِ [3428] أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فرج بن رواحة الْمَنْبِجِیُّ ، حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِیِّ ، عَنْ اَبِی الْمُدِلَّۃِ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَۃٌ تُرَدُّ دَعْوَتُھُمْ : الصَّائِمُ حَتّٰی یُفْطِرَ ، وَالْاِمَامُ الْعَادِلُ ، وَدَعْوَۃُ الْمَظْلُومِ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اَبُوْ الْمُدِلَّۃِ : اسْمُہٗ عُبَیْدُ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ مَدَنِیٌّ ثِقَۃٌ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " تین لوگوں کی دعا مسترد نہیں ہوتی روزہ دار شخص جب تک وہ افطاری نہیں کر لیتا اور عادل حکمران اور مظلوم کی دعا۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : ابو المدلہ نامی راوی کا نام عبیدا للہ بن عبداللہ ہے وہ مدینہ کا رہنے والا ہے اور ثقہ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِی الْمُدِلَّۃِ ← سَعْدٍ الطَّائِیِّ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← فرج بن رواحة الْمَنْبِجِیُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، ← فرج بن رواحةذكر رَجَاءِ اسْتِجَابَةِ دُعَاءِ الصَّائِمِ عِنْدَ إِفْطَارِهِ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3428

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3429

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "من فطَّر صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ لَا ينقص من أجره شيء" (1) .

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص روزہ دار کو افطاری کرواتا ہے اسے اس روزہ دار کی مانند اجر ملتا ہے اور اس روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔"

لَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ لَا ينقص من أجره شيء" ← "من فطَّر صَائِمًا ← النَّبِيِّ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3429

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3430

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَنْ حَبِیبِ بْنِ زَیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ ،قَالَ : سَمِعْتُ مَوْلَاۃً لَنَا یُقَالُ لَھَا لَیْلٰی ، تُحَدِّثُ عَنْ اُمِّ عُمَارَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْھَا فَدَعَتْ لَہٗ بِطَعَامٍ ، فَقَالَ : تَعَالَیْ فَکْلِی ، فَقَالَتْ : اِنِّیْ صَائِمَۃٌ ، فَقَالَ : اِنَّ الصَّائِمَ اِذَا اُکِلَ عِنْدَہُ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ

حبیب بن زید انصاری بیان کرتے ہیں: ہم نے اپنی ایک کنیز لیلیٰ کو سیّدہ اُمّ عمار ہ بنت کعب ر ضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم بھی آگے آو اور کھاو۔ انہوں نے عرض کی : میں روزہ دار ہوں۔ نبی ا کرم ﷺ نے فرمایا: روزہ دار شخص کے پاس جب تک کھانا کھایا جاتا ہے فرشتے اس روزہ دار کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔

اُمِّ عُمَارَۃَ بِنْتِ کَعْبٍ، ← مَوْلَاۃً لَنَا یُقَالُ لَھَا لَیْلٰی تُحَدِّثُ ← حَبِیبِ بْنِ زَیْدٍ الْاَنْصَارِیِّ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3430

chevron_left Previous
1…101112…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr