صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3683
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، (1) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَلَسْتُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، الْوُسْطَى فدنوت منه حتى مِنْہُ حَتّٰی کَادَتْ رُکْبَتِی تَمَسُّ رُکْبَتَیْہٖ ، فَقُلْتُ : اَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : اَنَا کُنْتُ اَسْاَلَ النَّاسِ عَنْھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ تَکُوْنُ فِیْ زَمَانِ الْاَنْبِیَاءِ یَنْزِلُ عَلَیْھِمُ الْوَحْیُ ، فَاِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ ؟ فَقَالَ : بَلْ ھِیَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَاَخْبِرْنِیْ فِیْ اَیِّ الشَّھْرِ ھِیَ ؟ ، فَقَالَ : اِنَّ اللہَ لَوْ اَذِنَ لَاَخْبَرْتُکُمْ بِھَا فَالْتَمِسُوھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِیْ اِحْدَی السُّبُعَیْنِ ، وَلَا تَسْاَلْنِیْ عَنْھَا بَعْدَ مَرَّتِکَ ھٰذِہِ ، قَالَ : وَاَقْبَلَ عَلٰی اَصْحَابِہٖ یُحَدِّثُھُمْ ، فَلَمَّا رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَطْلَقَ بِہِ الْحَدِیثُ ، فَقُلْتُ : اَقْسَمْتُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَتُخْبِرَنِّی فِیْ اَیِّ السُّبُعَیْنِ ھِیَ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ عَلَیَّ غَضَیًا لَمْ یَغْضَبْ عَلَیَّ مِثْلَہُ ، وَقَالَ : لَا اُمَّ لَکَ ، ھِیَ تَکُوْنُ فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ
مر ثد بن ابو مرثد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں درمیانی جمرہ کے پاس حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ کے قریب بیٹھا ہو ا تھا میں ان کے قریب ہوا، یہاں تک کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنون کو چھونے لگے۔ میں نے کہا: آپ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے سب سے زیادہ دریافت کیا ہے: میں عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں کیا یہ صرف انبیاء کے زمانے میں ہوتی ہے۔ جن پر وحی نازل ہوتی ہے اور جب ان کا انتقال ہو جائے، تو اسے اٹھا لیا جاتا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ قیامت تک ہوتی رہے گی۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! آ پ مجھے بتائیں یہ کون سے مہینے میں ہوتی ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے اجازت دی، تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا تم اسے آخری عشرے میں سات راتوں میں سے کسی ایک میں تلاش کرو، اس کے بعد تم مجھ سے اس کے بارے میں دریافت نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہو گئے جب میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ بات چیت میں مشغول ہیں، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھے اس بارے میں بتائیں کہ ان دوہفتوں میں سے کس میں ہوتی ہے؟ نبی اکرم ﷺ مجھ پر شدید غضب ناک ہوئے آپ اس طرح مجھ پر کبھی غصے نہیں ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں نہ رہے یہ آخری ہفتے میں ہوتی ہے۔
أَبِيهِ ← مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3683
