Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3683

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، (1) عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَلَسْتُ عِنْدَ أَبِي ذَرٍّ عِنْدَ الْجَمْرَةِ، الْوُسْطَى فدنوت منه حتى مِنْہُ حَتّٰی کَادَتْ رُکْبَتِی تَمَسُّ رُکْبَتَیْہٖ ، فَقُلْتُ : اَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ : اَنَا کُنْتُ اَسْاَلَ النَّاسِ عَنْھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ تَکُوْنُ فِیْ زَمَانِ الْاَنْبِیَاءِ یَنْزِلُ عَلَیْھِمُ الْوَحْیُ ، فَاِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ ؟ فَقَالَ : بَلْ ھِیَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَاَخْبِرْنِیْ فِیْ اَیِّ الشَّھْرِ ھِیَ ؟ ، فَقَالَ : اِنَّ اللہَ لَوْ اَذِنَ لَاَخْبَرْتُکُمْ بِھَا فَالْتَمِسُوھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ فِیْ اِحْدَی السُّبُعَیْنِ ، وَلَا تَسْاَلْنِیْ عَنْھَا بَعْدَ مَرَّتِکَ ھٰذِہِ ، قَالَ : وَاَقْبَلَ عَلٰی اَصْحَابِہٖ یُحَدِّثُھُمْ ، فَلَمَّا رَاَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَطْلَقَ بِہِ الْحَدِیثُ ، فَقُلْتُ : اَقْسَمْتُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَتُخْبِرَنِّی فِیْ اَیِّ السُّبُعَیْنِ ھِیَ ؟ قَالَ : فَغَضِبَ عَلَیَّ غَضَیًا لَمْ یَغْضَبْ عَلَیَّ مِثْلَہُ ، وَقَالَ : لَا اُمَّ لَکَ ، ھِیَ تَکُوْنُ فِی السَّبْعِ الْاَوَاخِرِ

مر ثد بن ابو مرثد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں درمیانی جمرہ کے پاس حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہہ کے قریب بیٹھا ہو ا تھا میں ان کے قریب ہوا، یہاں تک کہ میرے گھٹنے ان کے گھٹنون کو چھونے لگے۔ میں نے کہا: آپ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے فرمایا: میں نے اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ سے سب سے زیادہ دریافت کیا ہے: میں عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں کیا یہ صرف انبیاء کے زمانے میں ہوتی ہے۔ جن پر وحی نازل ہوتی ہے اور جب ان کا انتقال ہو جائے، تو اسے اٹھا لیا جاتا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں بلکہ یہ قیامت تک ہوتی رہے گی۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! آ پ مجھے بتائیں یہ کون سے مہینے میں ہوتی ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے اجازت دی، تو میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا تم اسے آخری عشرے میں سات راتوں میں سے کسی ایک میں تلاش کرو، اس کے بعد تم مجھ سے اس کے بارے میں دریافت نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ بات چیت میں مشغول ہو گئے جب میں نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ بات چیت میں مشغول ہیں، تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھے اس بارے میں بتائیں کہ ان دوہفتوں میں سے کس میں ہوتی ہے؟ نبی اکرم ﷺ مجھ پر شدید غضب ناک ہوئے آپ اس طرح مجھ پر کبھی غصے نہیں ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا: تمہاری ماں نہ رہے یہ آخری ہفتے میں ہوتی ہے۔

أَبِيهِ ← مَرْثَدِ بْنِ أَبِي مَرْثَدٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3683

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3684

أخبرنا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْاَعْلٰی ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ حَدَّثِنِیْ عُمَارَۃُ بْنُ غَزِیَّۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ اِبْرَاھِیْمَ ،یحَدِّثُ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْاُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ ، ثُمَّ اعْتَکَفَ الْعَشْرَ الْاَوْسَطَ فِیْ قُبَّۃٍ تُرْکِیَّۃٍ عَلٰی سُدَّتِھَا قِطْعَۃُ حَصِیرٍ ، قَالَ : فَاَخَذَ الْحَصِیرَ بِیَدِہِ فَنَحَّاھَا فِیْ نَاھِیَۃِ الْقُبَّۃِ ، ثُمَّ اَطْلَعَ رَاْسَہٗ یُکَلِّمُ النَّاسَ فَدَنَوْا مِنْہُ ، فَقَالَ : اِنِّیْ اعْتَکَفَتُ فِی الْعَشْرِ الْاُوَلِ الْتَمِسُ ھٰذِہِ الَّیْلَۃَ ، ثُمَّ اعْتَکَفْتُ الْعَشْرَ الْاَوْسَطَ ، ثُمَّ اُتِیتُ ، فَقِیلَ لِی : اِنَّھَا فِیْ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ ، فَمَنْ اَحَبَّ مِنْکُمْ اَنْ یَّعْتَکِفَ فَلْیَعْتَکِفُ ، فَاعْتَکَفَ النَّاسُ مَعَہُ ، قَالَ : وَاِنِّیْ اُرَیْتُھَا وَاِنِّی اَسْجُدُ فِیْ صَبِیحَتِھَا فِیْ طِینٍ وَّمَاءٍ ، فَاَصْبَحَ مِنْ لَیْلَۃَ اِحْدَی وَعِشْرِیْنَ ، وَقَدْ قَامَ اِلٰی صَلَاۃِ الصُّبْحِ ، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ فَوَکَفَ الْمَسْجِدُ ، فَاَبْصَرَتُ الطِّینَ ظَاھِرًا ، فَخَرَجَ حَینَ فَرَغَ مِنْ صَلَاۃِ الصُّبْحِ ، وَجَبِینُہُ ، وَاَنْفُہُ فِیْ الْمَاءِ وَالطِّینِ ، فَاِذَا ھِیَ لَیْلَۃُ اِحْدَی وَعِشْرِیْنَ مِنَ الْعَشْرِالْاَوَاخِرِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا۔ پھر آپ نے ایک ترکی خیمے میں درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا جس کے دروازے پر چٹائی کا ٹکڑا لٹکا ہو ا تھا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے چٹائی کو پکڑا اور اسے خیمے کے ایک کنارے کے ساتھ لٹکا دیا۔ پھر آپ نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لئے اپنا سر باہر نکالا۔ لوگ آپ سے قریب ہو گئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرے میں اعتکاف کیا پھر میں نے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا پھر میرے پاس فرشتہ آ یا اور مجھے بتایا گیا کہ یہ آخری عشرے میں ہو گی، تو تم میں سے جو شخص اعتکاف کرنا چاہے وہ اعتکاف کر لے (راوی کہتے ہیں) لوگوں نے آپ کے ہمراہ اعتکاف کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اس رات کو دیکھا ہے کہ اس کی صبح میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔ اکیسویں رات کی صبح جب نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، تو بارش شروع ہو گئی مسجد کی چھت ٹپکنے لگی میں نے مٹی کو گیلا ہوتے ہوئے دیکھا۔ جب نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہو کر تشریف لائے، تو آپ کی مبار ک پیشانی اور مبارک ناک پر پانی اور مٹی کا نشان موجو تھا یہ آخری عشرے کی اکیسویں رات ( کی اگلی صبح ) کی بات ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3684

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3685

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، اخْرُجْ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ، قَالَ: نَعَمْ فَدَعَا بِخَمِيصَةٍ (1) يَلْبَسُهَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، هَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَشْرٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةَ عِشْرِينَ، قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "مَنْ كَانَ خَرَجَ فَلْيَرْجِعْ، فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، وَإِنِّي أُنْسِيتُهَا، وَإِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي (2) أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي وِتْرٍ" قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ إِذَا السَّحَابُ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ، قَالَ: وَسَقْفُهُ يَوْمَئِذٍ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ، حَتَّى رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي مَاءٍ وَطِينٍ، حَتَّى رَأَيْتُ الطِّينَ فِي أَرْنَبَةِ (3) رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (4) .

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے کہا: اے ابو سعید! آپ ہمارے ساتھ باغ چلیں، تا کہ ہم بات چیت کریں۔ انہوں نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ پھر انہوں نے چادر منگوائی ، تاکہ اسے اوڑھ لیں۔ پھر وہ تشریف لائے میں نے کہا: اے ابو سعید! کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو شب قدر کے بارے میں کوئی بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ رمضان کے ایک عشرے کےا عتکاف کیا۔ جب بیسویں رات کی صبح ہوئی، تو نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جانا چاہتا ہے وہ واپس چلا جائے مجھے شب قدر دکھائی گئی، لیکن پھر یہ مجھے بھلا دی گئی۔ میں نے دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں، تو تم رمضان کے مہینے کی آخری عشرے کی طاق راتوں میں اسے تلاش کرو۔ حضر ت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: اس وقت ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا جب رات ہوئی، تو پہاڑوں جیسے بادل نمودار ہوئے اور بارش شروع ہو گئی، یہاں تک کہ مسجد کی چھت ٹپکنے لگی پھر ہم مسجد کی اس چھت جو کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی، یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا اور میں نے نبی اکرم ﷺ کی ناک کے کنارے پر مٹی کا نشان دیکھا۔

نَعَمْ فَدَعَا بِخَمِيصَةٍ يَلْبَسُهَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، هَلْ ← أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، اخْرُجْ بِنَا إِلَى النَّخْلِ نَتَحَدَّثُ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3685

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3686

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ بَعْدَ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ خَمْسٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ ثَلَاثٍ يَبْقَيْنَ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ" فَكَانَ لَا يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ إِلَّا كَصَلَاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ فَإِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اجتهد (1) .

عینیہ عبدالرحمٰن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہہ کے سامنے شب قدر کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: میں اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے شب قدر کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: میں اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کرتا ہوں، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ " تم اسے آخری عشرے میں باقی رہ جانے والی سات راتوں میں تلاش کرو، یا باقی رہ جانے والی پانچ راتوں میں تلاش کرو ، یا باقی رہ جانے والی تین راتوں میں تلاش کرو، یا آخری رات میں تلاش کرو"۔ راوی کہتے ہیں: تو حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہہ رمضان کے ابتدائی بیس دنوں معمول کے مطابق سارے سال کی طرح نوافل ادا کرتے تھے، لیکن جب آخری عشرہ آ جاتا تھا، تو اہتمام سے عبادت کرتے تھے۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ بَعْدَ حَدِيثٍ ← مَا ← ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3686

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3687

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، فَلَمَّا انْقَضَى، أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَنُقِضَ، فَأُبِينَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي قَدْ أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ، فَخَرَجْتُ أُحَدِّثُكُمْ بِهَا فَجَاءَ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ وَمَعَهُمَا الشَّيْطَانُ، فَنُسِّيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا، فِي السَّابِعَةِ، وَالْتَمِسُوهَا في الخامسة" (1) .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا آپ شب قدر تلاش کرنا چاہتے تھے جب وہ گزر گیا ، تو آپ کے حکم کے تحت خیمے کو اتار لیا گیا پھر آپ کے سامنے یہ بات ظاہر ہوئی کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں ہو گی، تو آپ لوگوں کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: " اے لوگو! شب قدر کو میرے سامنے کیا گیا ، میں اس کے بارے میں تمہیں بتانے کے لئے آیا، تو دو آدمی آپس میں بحث کر رہے تھے ان کے ساتھ شیطان تھا، تو یہ مجھے بھلا دی گئی، تو تم اسے ساتویں رات میں تلاش کرو یا تم اس پانچویں رات میں تلاش کرو"۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3687

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3688

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حدثنا محمد بن بْنَ زِیَادِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الزِّیَادِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ ،عَنْ اَبِیْ الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنِّی کُنْتُ اُرِیتُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ، ثُمَّ نُسِّیتُھَا ، وَھِیَ فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ ،وَھِیَ طَلْفَۃٌ بَلْجَۃٌ لَا حَارَّۃٌ وَلَا بَارِدَۃٌ ،کَاَنَّ فِیھَا قَمَرًا یَفْضَحُ کَوَاکِبَھَا لَا یَخْرُجُ شَیْطَانُھَا حَتّٰی یَخْرُجَ فَجُرُھَا

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " مجھے شب قدر دکھائی گئی پھر یہ مجھے بھلا دی گئی یہ آخری عشرے میں ہوتی ہے یہ خوشگوار اور معتدل رات ہوتی ہے، جو نہ زیادہ گرم ہوتی ہے اور نہ زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے اور اس میں چاند ستاروں کو شرمندہ کر رہا ہوتا ہے اس کا شیطان اس وقت تک نہیں نکلتا جب تک اس کی صبح صادق نہیں ہو جا تی" (یعنی جب تک وہ پوری رات گزر نہیں جاتی)۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← محمد بن بْنَ زِیَادِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الزِّیَادِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3688

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3689

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَبْدَۃَ بْنِ اَبِیْ لُبَابَۃَ ، وَعَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ : یَا اَبَا الْمُنْذِرِ اِنَّ اَخَاکَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، یَقُوْلُ : مَنْ یَّقُمِ الْحَوْلَ یُصِبْ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ یَرْحَمُہُ اللہُ ، لَقَدْ اَرَادَ اَنْ لَا تَتَّکِلُوا ، وَاللہُ اَعْلَمُ اَنَّھَا فِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ ، وَاَنَّھَا فِی الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ ، وَاَنَّھَا لَیْلَۃَ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ ، قَالَ قُلْنَا : یَا اَبَا الْمُنْذِرِ بِاَیِّ شَیْءٍ تَعْرِفُ ذٰلِکَ ؟ ، قَالَ : بِالْعَلَامَۃَ ، اَوْ بِالْاٰیَۃِ الَّتِی اَخْبَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ مِنْ ذٰلِکَ الْیَوْمِ لَا شُعَاعَ لَھَا

زربن حبیش بیا ن کرتے ہیں: میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ سےکہا: اے ابوالمنذر آ پ کے بھائی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ یہ کہتے ہیں: جو شخص سارا دال راتکے نوافل ادا کرتا رہے وہی شب قدر کو پا سکتاہے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے وہ یہ چاہتے ہیں تم کسی ایک رات پر تکیہ کر کے نہ بیٹھ جاو، حالانکہ اللہ زیادہ بہتر جانتاہے کہ یہ رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے اور یہ آخری عشرے میں ہوتی ہے اور یہ ستائیسویں رات ہے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابو منذر! آپ اس کو کس بات پر پہنچاتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: علامت کی وجہ سے، یا نشانی کی وجہ سے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ جب اس دن کا سورج طلوع ہوتا ہے، تو اس کی شعاع نہیں ہوتی۔

قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: يَا أَبَا الْمُنْذِرِ ← زِرٍّ ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، وَعَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3689

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3690

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الدَّمَشَقِیَّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ ، حَدَّثَنَا الْاَوزَاعِیُّ ، حَدَّثَنِیْ عَبْدَۃُ بْنُ اَبِیْ لُبَابَۃَ ، حَدَّثَنِیْ زِرُّ بْنُ حُبَیْشٍ ، اَنَّہٗ قَالَ لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ ، یَقُوْلُ : مَنْ قَامَ السَّنَۃَ اَصَابَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ، فَقَالَ اُبَیُّ : وَاللہِ الَّذِی لَا اِلَہُ اَلَا ھُوَ ، اِنَّھَا لَفِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ ، یَحْلِفُ مَا یَسْتَثْنَی ، وَاللہِ اِنِّیْ لَا عْلَمُ اَنَّ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ھِیَ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃُ الَّتِی اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ نَقُومَھَا صَبِیحَۃَ سَبْعٍ وَّعِشْرِیْنَ ، وَاَمَارَتُھَا اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فِیْ صَبِیحَۃِ یَوْمِھَا بَیْضَاءَ لَا شُعَاعَ لَھَا ، کَاَنَّھَا طَسْتٌ

زربن حبیش بیان کرتے ہیں: ہم نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ سے کہا : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ یہ کہتے ہیں: جو شخص سال بھر نوافل ادا کرتا رہے وہی شب قدر کو پا سکتا ہے ۔ حضرت ابی نے کہا: اللہ کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے یہ رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے انہوں نے قسم اٹھائی جس میں کوئی استثناء نہیں کیا اور اللہ کی قسم! میں یہ بات جانتا ہوں کہ شب قدر ہی وہ رات ہے، جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم اس میں نوافل ادا کرتے رہے اور یہ ستائیسویں رات کی صبح کی بات ہے اس کی ایک مخصوص نشانی ہے کہ جب اس سے اگلے دن صبح کے وقت سورج نکلتا ہے، تو روشن ہوتا ہے، لیکن اس میں شعاع نہیں ہوتی یوں ہوتا ہے جیسے وہ طشت ہو۔

مَنْ قَامَ السَّنَۃَ اَصَابَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ← لِاُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ ← زر بن حبيش أنه ← عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3690

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الاعتكاف وليلة القدر · حديث 3691

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ الْحَافِظُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: لَقِیتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ ، فَقُلْتُ : حَدِّثْنِیْ فَاِنَّہٗ کَانَیُعْجِیُنِیْ لُقِیُّکَ وَمَا قَدِمْتُ اِلَّا لِلِقَائِکَ ، فَاَخْبِرْنِیْ عَنْ لَیْلَۃِالْقَدْرِ ، فَاِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، یَقُوْلُ : مَنْ یَّقْمِ السَّنَۃَ یُصِبْھَا اَوْ دُدْرِکُھَا ، قَال : لَقَدْ عَلِمَ اَنَّھَا فِیْ شَھْرِ رَمَضَانَ ، وَلٰکِنَّہٗ اَحَبَّ اَنْ یّعَمِّیَّ عَلَیْکُمْ، وَاِنَّھَا لَیْلَۃُ سَابعَۃٍ وَّعِشْرِیْنَ بِالْاٰیَۃِ الَّتِی حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَفِظْنَاھَا وَعَرَفْنَاھَا ، فَکَانَ زِرٌّ یُوَاصِلُ اِلَی السَّحْرِ ، فَاِذَا کَانَ قَبْلَھَا بِیَوْمٍ اَوْ بَعقدَھَا صَعِدَ الْمَنَارَۃَ ، فَنَظَرَ اِلٰی مَطْلِع الشَّمْسِ ، وَیَقُوْلُ : اِنَّھَا تَطْلُعُ لَھَا حَتّٰی تَرْتَفِعَ

زربن حبیش کہتے ہیں: میرے ملاقات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ سے ہوئی میں نے ان سے کہا: میرے ساتھ بات چیت کیجئے، کیونکہ آپ سے ملاقات کرنا مجھے پسند ہے میں صرف آپ سے ملنے کے لئےآیا ہوں۔ آپ مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیں، کیونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہہ تو یہ کہتے ہیں: جو شخص سال بھر نوافل ادا کرتا رہے وہی اسے پا سکتا ہے، تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: وہ یہ بات جانتے ہیں کہ یہ رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے، لیکن وہ اس بات کو پسند کرتے ہیں: یہ تم سے مخفی رہے یہ ستائیسویں رات ہو تی ہیں، جس کی ایک مخصوص نشانی ہے، جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے ہمیں بتا یا تھا اور ہم نے اسے محفوظ رکھا اور اسے جان لیا۔ زر بن حبیش نامی راوی سحری تک صوم وصال رکھتے تھے پھر ستائیسویں رات سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کی بات ہے وہ منارے پر چڑھے۔ انہوں نے سورج کے نکلنے کا جائزہ لیا اور یہ کہا کہ یہ طلوع ہوا ہے، لیکن اس کی شعاع نہیں تھی ، جب تک یہ بلند نہیں ہو گیا۔

لَیْلَۃِالْقَدْرِ فَاِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ← فَاِنَّہٗ کَانَیُعْجِیُنِیْ لُقِیُّکَ وَمَا قَدِمْتُ اِلَّا لِلِقَائِکَ ← لَقِیتُ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَقُلْتُ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ الْحَافِظُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to seclusion and the night of fate · Hadith 3691

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3416

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كُلُّ حَسَنَةٍ عَمِلَهَا ابْنُ آدَمَ جَزَيْتُهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ، فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، الصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَمَنْ كَانَ صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ، فَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمُهُ أَوْ آذَاهُ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ» (1) . [3: 68]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم جو بھی عمل کرتا ہے میں اس کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک دیتا ہوں صرف روزے کا معاملہ مختلف ہے، کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں خود اس کی جزاء دوں گا۔ روزہ ڈھا ل ہے، جو شخص روزہ دار ہو وہ بد زبانی اور جہالت کا مظاہرہ نہ کرے ، اگر کوئی شخص اسے برا کہے اسے تکلیف پہنچائے ، تو وہ یہ کہہ دے : میں نے روزہ رکھا ہوا ہے میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3416

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3417

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ الْمُحَمَّدَ ابَاذِيُّ، حَدَّثَنَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْعَنْبَرِیُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ اَبِیْہِ ،عَنْ سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ اَبِیْ عَیَّاشٍ ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَا یَصُوْمُ عَبْدٌ یَوْمًا فِیْ سَبِیلِ اللہِ اِلَّا بَاعَدَ اللہُ بِذٰلِکَ الْیَوْمِ وَجْھَہُ عَنِ النَّارِ سَبْعِینَ خَرِیفًا

): حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: " جو شخص اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے عوض میں اسے جہنم سے ستر برس کے فاصلے جتنا دور کر دیتا ہے۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرٌ ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ الْمُحَمَّدَ ابَاذِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3417

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ · حديث 3418

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ الرَّاهِبُ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ :سَمِعْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُوْلُ: مَنْ اَنْفَقَ زَوجَیْنِ مِنْ شَیْءٍ مِنَ الْاَشْیَاءِ فِیْ سَبِیلِ اللہِ دُعِیَ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّۃِ : یَا عَبْدِ اللہِ ، ھٰذَا خَیْرٌ ، وَلِلْجَنَّۃِ اَبْوَابٌ ، فَمَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الصَّلَاۃِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّلَاۃِ ، وَمَنْ اَھْلِ الْجِھَادِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الْجِھَادِ ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الصَّدَقَۃِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَۃِ ، وَمَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الصِّیَامِ دُعِیَ مِنْ بَابِ الرَّیَّانِ قَالَ : قَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا عَلٰی اَحَدٍ یُدْعَی مِنْ تِلْکَ الْاَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَۃٍ ، ھَلْ یُدْعَی مِنْھَا کُلُّ اَحَدٍ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ وَاَرْجُو اَنْ تَکُوْنَ مِنْھُمْ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " جو شخص کس بھی چیز کا جوڑا، اللہ کی راہ میں دیتا ہے تو جنت کے دروازوں سے یہ اعلان کیا جا تا ہے اے اللہ کے بندے یہ بھلائی ہے جنت کے کئی دروازے ہیں جو لوگ نمازی ہیں انہیں نماز والے دروازے سے بلایا جائے گا جو جہاد کرنے والے ہیں انہیں جہاد والے دروازے سے بلایا جائے گا جو صدقہ کرنے والے ہیں انہیں صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا جو روزہ دار ہوں گے انہیں باب " ریان" سے بلایا جائے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ نے عرض کی: یا رسول ﷺ ! ایسے شخص کو کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ جس شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے۔ یا رسول اللہﷺ ! کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں اور مجھے امید ہے تم ان میں سے ایک ہو گے۔"

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ الرَّاهِبُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the virtue of fasting · Hadith 3418

chevron_left Previous
1…91011…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr