Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الْوِصَالِ · حديث 3575

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ مُحَمَّدٌ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إسحاق بن اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُھْرِیِّ ، عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: لَا تُوَاصِلُوْا ، قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللہِ ، اِنَّکَ تُوَاضِلُ ، فَقَالَ : اِنِّیْ لَسْتُ مِثْلُکُمْ ، اِنِّیْ اَبِیتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّی وَیَسْقِینِیْ ، فَلَمْ یَنْتَھُوا عَنِ الْوِصَالِ ، فَوَاصَلَ بِھِمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَیْنِ وَلَیْلَتَیقنِ ، رَاَوَا الْھِلَالَ ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَوْ تَاَخَّرَ الْھِلَالُ لَزِدْتُکُمْ ، کَالْمُنَکِّلِ لَھُمْ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تم لوگ صومِ وصال نہ رکھو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ بھی ، توصومِ وصال رکھتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں میں ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا بھی دیتا ہے اور پلا بھی دیتا ہے۔ لوگ صومِ وصال رکھنے سے باز نہیں آئے۔ نبی اکرم ﷺ نے دو دن اور دو راتوں تک انہیں صومِ وصال رکھوایا۔ پھر لوگوں نے پہلی کا چاند دیکھ لیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر پہلی کا چاند نظر آ نے میں تاخیر ہوتی، تو میں مزید تم سے یہ روزے رکھواتا، گویا کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں سر زنش کی"۔

لَا تُوَاصِلُوْا ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ مُحَمَّدٌ الْأَزْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A separation in the connection fast · Hadith 3575

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الْوِصَالِ · حديث 3576

أَخْبَرَنَا الْبُجَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِیَّاکُمْ وَالْوِصَالَ ،اِیَّاکُمْ وَالْوِصَالَ ، قَالُوْا: فَاِنَّکَ تُوَاصِلُ یَا رَسُوَْ اللہِ ، فَقَالَ : اِنِّیْ لَستُ فِیْ ذٰلِکَ مِثْلَکُمْ ، اِنِّیْ اَبِیتُ یُطْعِمُنِیْ رَبِّی وَیَسْقِینِی، فَاکْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا لَکُمْ بِہٖ طَاقَۃٌ

: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ صومِ وصال نہ رکھو تم لوگ صومِ وصال نہ رکھو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺﷺ آپ بھی، تو صومِ وصال رکھتےہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اس بارے میں تمہاری مانند نہیں ہوں میں ایسی حالت میں رات بسر کرتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلا بھی دیتاہے اورپلا بھی دیتا ہے تم صرف اتنے عمل کا خود کو پابند کرو جس کی تم میں طاقت ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← الْبُجَيْرِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A separation in the connection fast · Hadith 3576

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الْوِصَالِ · حديث 3577

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، وَعُمَرُ بْنُ مَالِكٍ وَذَكَرَ عُمَرُ آخَرَ مَعَهُمَا، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ، فَقِيلَ لَهُ: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ: "لَسْتُمْ كَهَيْئَتِي إِنِّي أَبِيتُ لِيَ مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِيَنِي فَأَيُّكُمْ وَاصَلَ فَمِنْ سَحَرٍ إلى سحر" (1) .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ نے صوم ِ وصال رکھنے سے منع کیا، تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی آپ بھی، تو صوم ِ وصال رکھتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میری مانند نہیں ہو میں رات بسر کرتا ہوں، تو مجھے کھلانے والا کھلا دیتا ہے اور پلانے والا پلا دیتا ہے۔ اگر تم میں سے کسی نے صومِ وصال رکھنا ہو، تو وہ ایک صبح سے اگلی صبح تک رکھ لے۔ (یعنی ایک سحری سے اگلی سحری تک صومِ وصال رکھے، یعنی افطاری کے وقت باقائدہ کچھ کھائے پیئے نہیں)۔

الْوِصَالِ، فَقِيلَ لَهُ: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ نَهَى ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، ← ابْنِ الْھَادِ ← عُمَرُ آخَرَ مَعَهُمَا، ← حَيْوَةُ وَعُمَرُ بْنُ مَالِكٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A separation in the connection fast · Hadith 3577

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الْوِصَالِ · حديث 3578

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا وِصَالَ فِي الصيام" (1)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " روزے میں ملایا نہیں جا سکتا(یعنی صومِ وصال نہیں رکھا جا سکتا )"۔

"لَا وِصَالَ فِي الصيام" ← النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A separation in the connection fast · Hadith 3578

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الْوِصَالِ · حديث 3579

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تُوَاصِلُوْا، قَالُوْا : اِنَّکَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : اِنِّیْ لَسْتُ کَاَحَدِ کُمْ ، اِنِّیْ اُطْعَمُ وَاُسْقَی قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : ھٰذَا الْخَبَرُ دَلِیْلٌ عَلٰی اَنَّ الْاَخْبَارَ الَّتِی فِیْھَا ذِکْرُ وَضْعِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ عَلٰی بَطْنِہِ ھِیَ کُلُّھَا اَبَاطِیلُ ، وَاِنَّمَا مَعْنَاھَا الْھُجَزُ ، وَالْحُجَزُ طَرَفُ الْاِزَارِ ، اِذِ اللہُ جَلَّ وَعَلَا کَانَ یُطْعِمُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَسْقِیہِ اِذَا وَاصَلَ فَکَیْفَ یَتْرُکُہُ جَائِعًا مَعَ عَدَمِ الْوِصَالِ حَتّٰی یَحْتَاجَ اِلٰی شَدِّ حَجَرٍ عَلٰی بَطْنِہٖ ، وَمَا یُغْنِی الْحَجَرُ عَنِ الْجُوْعِ؟

حضرت انس بن مالک ر ضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " تم لوگ صومِ وصال نہ رکھو۔ لوگوں نے عرض کی: آپ بھی، تو صومِ وصال رکھتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہاری مانند نہیں ہوں مجھے کھلا یا اور پلایا جاتا ہے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تمام روایات جن میں یہ بات مذکو ر ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے پیٹ پر پتھر باندھا تھا یہ تمام روایات جھوٹی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکر م ﷺ نے وہا ں تہبند باندھا تھا۔ اسے مراد پتھر باندھنا نہیں اور لفظ حجز سے مراد تہبند کا سرا ہے اس کی وجہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو کھلا بھی دیتا تھا اور پلا بھی دیتا تھا۔ اس وقت جب آپ صوم وصال رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس وقت کیسے بھوکا چھوڑ سکتاہے جب آپ نے صوم وصال بھی نہیں رکھا تھا اور آپ کو پیٹ پر پتھ باندھنے کی ضرورت پیش آئی تھی، حالانکہ پتھر بھوک کو کیا ختم کر سکتا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A separation in the connection fast · Hadith 3579

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ · حديث 3580

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا قَطُّ، كَامِلًا إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ وَمَا كَانَ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَصُومُ فِي شَعْبَانَ (1)

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور نہ ہی کبھی کسی مہینے میں پورا مہینہ روزے چھوڑے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کسی اور مہینے میں اتنے روزے نہیں رکھتے تھے جتنے زیادہ آپ شعبان میں رکھتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of eternal fasting · Hadith 3580

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ · حديث 3581

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ ، قَالَ حَدَّثَنِیْ عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَ الْاَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ ) نفلی روزہ رکھے، تو اس نے (در حقیقت ) نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا "۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of eternal fasting · Hadith 3581

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ · حديث 3582

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ: لَهُ إِنَّ فلانا لا يفطر نهارا الدَّهْرِ إِلَّا لَيْلًا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ" (1) . قَالَ أَبُو حاتم رضى الله تعالى عَنْهُ: فِي هَذَا الْخَبَرِ كَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ اللَّفْظَةَ الَّتِي فِي خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (2) "مَنْ صَامَ الْأَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ" أَرَادَ بِهِ الْأَبَدَ وَفِيهِ الْأَيَّامُ الَّتِي نُهِيَ عَنْهَا عَنْ صِيَامِهَا مِثْلُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ والعيدين.

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی فلاں شخص دن کےوقت کبھی افطاری نہیں کرتا صرف رات کے وقت کرتا ہے (یعنی روزانہ نفلی روزہ رکھ لیتا ہے)، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:" ا س نے نہ ، تو روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ وہ الفاظ جو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہہ کےحوالے سے منقو ل روایت میں ہیں" جس شخص نے ہمیشہ روزہ رکھا تو اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔" اس سے مراد ہمیشہ ایسا کرنا ہے اور اس میں وہ دن بھی آجاتے ہیں جن میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے جیسے ایا تشریق اور عیدین کے دن۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفٍ ← أَبِي الْعَلَاءِ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of eternal fasting · Hadith 3582

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ · حديث 3583

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَیْبَۃَ ، حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ مُّطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، عَنْ اَبِیْہِ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَ الْاَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ صَامَ الْاَبَدَ فَلَا صَامَ وَلَا اَفْطَرَ ،یُرِیْدُ بِہِ ، مَنْ صَامَ الْاَبَدَ وَفِیْہِ الْاَیَّامُ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِھَا مِثْلُ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ مِنَ الْعِیْدَیْنِ فَلَا صَامَ وَلَاا اَفْطَرَ ، یُرِیْدُ بِہٖ فَلَا صَامَ الدَّھرَ کُلَّہُ فَیُؤْجَرَ عَلَیْہِ مِنْ غَیْرِ مُفَارَقَتِہِ الْاِثْمَ الَّذِی ارْتَکَبَہُ بِصَوْمِ الْاَیَّامِ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِھَا ، وَلِھذَا قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ الدَّھْرَ ضُیِّقَ عَلَیْہِ جَھَنَّمُ ھٰکَذَا وَعَقَدَ عَلَیْہِ تِسْعِینَ ، یُرِیْدُ بِہِ ضُیِّقَ عَلَیْہِ جَھَنَّمْ بِصَوْمِہِ الْاَیَّامَ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِِھَا فِیْ دَھْرِہِ

مطرف بن عبداللہ اپنے والد کےحوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فر مان نقل کرتے ہیں: " جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ ) نفلی روزہ رکھے ا س نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس نے درحقیقت نہ روزہ رکھا اور نہ ہی روزہ چھوڑا۔" اس سے مراد یہ ہے : جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے اس میں وہ دن بھی آ جائیں جس میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ جیسے ایام تشریق اور عیدین کے دن( روایت کے یہ الفاظ) اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی چھوڑا۔" اس سے مراد یہ ہے: اس نے نہ تو ہمیشہ روزہ رکھا کہ اس کو اس بات پر اجر دیا جائے کیونکہ وہ اس گناہ سے نہیں بچ سکا جس کا ارتکاب اس نے ممنوعہ دنوں میں روزہ رکھنے سے کیا ہے۔ اس لئے نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ " جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اس پر جہنم اس طرح تنگ ہو جاتی ہے" نبی اکرم ﷺ نے نوے کا عدد بنا کر یہ بات بتائی۔ اس کے ذریعے آپ کی مرادیہ ہے: جہنم اس کےان دنوں میں روزہ رکھنے کی وجہ سے تنگ ہوتی ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے"۔

أَبِيهِ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عُبَیْدُ بْنُ سَعِیْدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of eternal fasting · Hadith 3583

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فَصْلٌ فِي صَوْمِ الدَّهْرِ · حديث 3584

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ یَسَارٍ ، عَنْ اَبِیْ تَمِیمَۃَ الْھُجَیْمِیِّ ، عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ صَامَ الدَّھْرَ ضُیِّقَتْ عَلَیْہِ جَھَنَّمُ ھٰکَذَا وَعَقَدَ تِسْعِینَ ، اَخْبَرَنَاہُ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ مَرَّۃً اُخْرٰی ، قَالَ : وَضَمَّ عَلٰی تِسْعِینَ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : الْقَصْدُ فِیْ ھٰذَا الْخَبَرِ صَوْمُ الدَّھْرِ الَّذِی فِیْہِ اَیَّامُ التَّشْرِیْقِ وَالْعِیْدَیْنِ ، وَاَوْقَعَ التَّغْلِیظَ عَلٰی مَنْ صَامَ الدَّھْرَ مِنْ اَجْلِ صَوْمِہِ الْاَیَّامَ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِھَا ، لَا اَنَّہٗ اِذَا صَامَ الدَّھْرَ وَقَوِیَ عَلَیْہِ مِنْ غَیْرِ الْاَیَّامِ الَّتِی نُھِیَ عَنْ صِیَامِھَا یُعَذَّبُ فِی الْقِیَامَۃِ ، وَاَبُوْ تَمِیْمَۃَ الْھُجَیْمِیُّ اسْمُہٗ : طَرِیفُ بْنُ مُجَالِدٍ بَصْرِیٌ مَاتَ سَنَۃَ خَمْسِ وَّتِسْعِینَ

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص ہمیشہ (یعنی روزانہ نفلی روزہ) رکھے اس پر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا"۔ نبی اکرم ﷺ نے نو ے کا ہندسہ بنا کر یہ با ت بتائی۔ فضل نامی راوی نے دوسری مرتبہ یہ الفاظ نقل کئے" نبی اکرم ﷺ نے نوے پر مٹھی کو بند کر لیا"۔ ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں ہمیشہ روزہ رکھنے سے مراد یہ ہے: ایام تشریق اور عیدین کے دن بھی روزہ رکھ لیا جائے اور اس شخص کی شدید مذمت کی گئی ہے، جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے اور ان دنوں میں بھی روزہ رکھ لیتا ہے جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے، جو شخص ہمیشہ روزہ رکھتا ہے۔ اور وہ اس کی قوت بھی رکھتا ہے لیکن وہ ا ن میں روزہ نہیں رکھتا جن دنوں میں روزہ رکھنے سے منع کیا گیا ہے ، تو اسے بھی قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا۔ ابو تمیمہ ہجیمی کا نام طریف بن مجاہد ہے یہ بصرہ کا رہنے والا ہے ۔ اس کا انتقال 95 ہجری میں ہوا۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ← الضَّحَّاكِ بْنِ يَسَارٍ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A season of eternal fasting · Hadith 3584

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3585

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: حدثنا أبو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ فَقَالَ: كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، وَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: مَنْ صام اليوم الذي يشك فيه، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم (1) .

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ کے پاس موجود تھے۔ ان کی خدمت میں بھجی ہوئی بکری لائی گئی۔ انہوں نے فرمایا: آگےآ جاو ، تو ایک صاحب پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے بتایا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہہ نے فرمایا: جو شخص اس دن میں روزہ رکھے جس کے بارے میں یہ شک ہو ( کہ وہ رمضان کا دن ہے یا نہیں)، تو اس شخص نے حضرت ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔

«إِنِّي صَائِمٌ» ← كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، ← كُنَّا عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3585

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ فصل في صوم يوم الشك · حديث 3586

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لَا تَقَدَّمُوا صِیَامَ شَھْرِ رَمَضَانَ بِصِیَامِ یَوْمٍ اَوْ یَوْمَیْنِ ، اِلَّا رَجُلٌ کَانَ یَصُوْمُ صِیَامًا فَلْیَصُمْہُ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ایک دن یا دو دن روزے نہ رکھو ما سوائے اس شخص کے جو ( کسی اور معمول کے مطابق ) روزے رکھتا ہو، تو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › A chapter on fasting on the day of doubt · Hadith 3586

chevron_left Previous
1234…23
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr