صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابُ الحِجَاذِ ، وَالیَمَنِ ، وَالشَّامِ ، وَفَارِسٍ ، وَعُمَانَ ذِکرُ اِطَلاقِ اسمِ الاِیمَانِ عَلٰی اَھلِ الحِجَازِ · حديث 7310
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَازِعِ جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِي شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا قَالَ، فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ، فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: «لَكِنْ أَهْلُ عُمَانَ لَوْ أَتَاهُمْ رَسُولِي مَا سَبُّوهُ وَلَا ضَرَبُوهُ»
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایک شخص کو عرب قبیلے کی طرف بھیجا مجھے نہیں پتہ کہ آپ نے کیا ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے اس شخص کو برا بھلا کہا اور پٹائی کی۔ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور آپ کے سامنے شکایت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اہل عمان کے پاس میرا پیغام رساں آتا، تو وہ اسے برا نہ کہتے اور اس کی پٹائی نہ کرتے۔
أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← أبو الوازع جابر بن عَمْرو ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Bab Al-Hijjaj, Yemen, the Levant, Persia, and Oman Mentioning the release of the name of the faith to the people of Al-Hijaz · Hadith 7310
