صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7286
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ »، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ»، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ»، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ»، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ»، فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَقَالَ: ذَكَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ أَرْبَعَةِ أَدْوُرٍ لَأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَمَا تَرْضَى أَنْ يَذْكُرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الْأَرْبَعَةِ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ تَرَكَ [ص:276] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَكْثَرَ مِمَّنْ ذَكَرَ، قَالَ: فَرَجَعَ سَعْدٌ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کیا میں تم لوگوں کو انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو عبد اشہل کا گھرانہ یہ لوگ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندان تھے۔ لوگوں نے عرض کی: پھر کون ہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو نجار ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: پھر کون ہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو حارث بن خزرج ہیں۔ لوگوں نے دریافت کیا: پھر کون ہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو ساعدہ ہیں۔ لوگوں نے دریافت کیا: پھر کون ہیں یارسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے تمام گھرانوں میں بھلائی موجود ہے"۔ اس بات کی اطلاع حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملی، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول نے ہمارا ذکر کرتے ہوئے چار گھرانوں میں سب سے آخر میں ذکر کیا ہے میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ضروریات کروں گا، تو ایک شخص نے ان سے کہا: کیا آپ اس بات سے راضی نہیں ہیں، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا ذکر چار گھرانوں کے آخر میں ہی کر دیا ہے۔ حالانکہ اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے جتنے گھرانوں کا ذکر کیا ہے۔ ان سے زیادہ گھرانوں کا ذکر ترک کیا ہے۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ باز آگئے۔
أَبِي سَلَمَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ
Hadith 7286
