Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7286

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ »، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «دَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، وَهُمْ رَهْطُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو النَّجَّارِ»، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ»، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ»، قَالُوا: ثُمَّ مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ»، فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، فَقَالَ: ذَكَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ أَرْبَعَةِ أَدْوُرٍ لَأُكَلِّمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَمَا تَرْضَى أَنْ يَذْكُرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الْأَرْبَعَةِ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ تَرَكَ [ص:276] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ أَكْثَرَ مِمَّنْ ذَكَرَ، قَالَ: فَرَجَعَ سَعْدٌ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کیا میں تم لوگوں کو انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو عبد اشہل کا گھرانہ یہ لوگ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاندان تھے۔ لوگوں نے عرض کی: پھر کون ہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو نجار ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: پھر کون ہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو حارث بن خزرج ہیں۔ لوگوں نے دریافت کیا: پھر کون ہیں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بنو ساعدہ ہیں۔ لوگوں نے دریافت کیا: پھر کون ہیں یارسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے تمام گھرانوں میں بھلائی موجود ہے"۔ اس بات کی اطلاع حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملی، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول نے ہمارا ذکر کرتے ہوئے چار گھرانوں میں سب سے آخر میں ذکر کیا ہے میں اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ضروریات کروں گا، تو ایک شخص نے ان سے کہا: کیا آپ اس بات سے راضی نہیں ہیں، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا ذکر چار گھرانوں کے آخر میں ہی کر دیا ہے۔ حالانکہ اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے جتنے گھرانوں کا ذکر کیا ہے۔ ان سے زیادہ گھرانوں کا ذکر ترک کیا ہے۔ اس پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ باز آگئے۔

أَبِي سَلَمَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 7286

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7287

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى*، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُصْعَبٍ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ يَضْرِبُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ فِي إِمْرَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَتَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَهُ ضَفِيرَتَانِ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ إِزَارٌ وَرِدَاءٌ، فَوَقَفَ بَيْنَ السِّمَاطَيْنِ، فَقَالَ: «يَا حَجَّاجُ، أَلَا تَحْفَظُ فِينَا وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالَ: وَمَا أَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ؟ قَالَ: «أَوْصَى أَنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِ الْأَنْصَارِ، وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ»

قدامہ بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے حجاج کو حضرت عبید اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد حکومت میں عباس بن سہل کی پٹائی کرتے ہوئے دیکھا۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس آئے۔ وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھے۔ انہوں نے لمبی زلفیں رکھی ہوئی تھیں۔ تہبند اوڑھا ہوا تھا، اور ایک چادر لی ہوئی تھی۔ وہ دو صفوں کے درمیان آکر ٹھہر گئے اور بولے: اے حجاج کیا تمہیں ہمارے بارے میں اللہ کے رسول کی وصیت یاد نہیں ہے؟ حجاج نے دریافت کیا: اللہ کے رسول نے آپ کے بارے میں کیا وصیت کی تھی، تو انہوں نے بتایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تلقین کی تھی کہ انصار کے اچھے فرد کے ساتھ اچھائی کی جائے اور ان کے برے شخص سے درگزر کیا جائے۔

قُدَامَةَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي ← مصعب بن عبد الله بن مصعب الزبيري ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7287

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7288

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْبَلْخِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «فِينَا نَزَلَتْ: {إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا} [آل عمران: 122]، بَنُو سَلِمَةَ، وَبَنُو حَارِثَةَ»، قَالَ عَمْرٌو: قَالَ جَابِرٌ: «وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ: {وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا} [آل عمران: 122]»

۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ "جب تم میں سے دو گروہوں نے یہ ارادہ کیا کہ وہ سستی دکھا جائیں حالانکہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار تھا"۔ (راوی کہتے ہیں) اس سے مراد بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے۔ عمر و نامی راوی کہتے ہیں۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوئی ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ بھی فرمایا ہے "اللہ تعالیٰ ان دونوں کا مددگار ہے"۔

جَابِرٌ: «وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ لِقَوْلِ اللَّهِ: ← عَمْرٍو، ← «فِينَا نَزَلَتْ: بَنُو سَلِمَةَ، وَبَنُو حَارِثَةَ»، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْبَلْخِيِّ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ،

Hadith 7288

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7289

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِغِفَارٍ: «غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمَ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غفار قبیلے سے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 7289

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7290

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَأَسَدٍ، وَغَطَفَانَ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ» قَالَ شُعْبَةُ: وَحَدَّثَنِي سَيِّدُ بَنِي تَمِيمٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: [ص:280] وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَتْ أَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَجُهَيْنَةُ، وَمُزَيْنَةُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَأَسَدٍ، وَغَطَفَانَ أَخَابُوا وَخَسِرُوا؟ » قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ»

حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اسلم ، غفار، جہینہ اور مزینہ ، بنو تمیم ، اسد، غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ (نامی قبیلوں) سے بہتر ہیں:۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں: بنو تمیم کے سردار محمد بن عبد اللہ نے عبد الرحمٰں بن ابو بکرہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا: "تمہاری کیا رائے ہے، اسلم، غفار، جہینہ اور مزینہ قبیلے کے لوگ بنو تمیم ، بنو عامر بن صعصعہ ، بنو اسد اور بنو غطفان سے بہتر ہوں، تو کیا وہ (یعنی بنو تمیم وغیرہ) رسوا ہوجائیں گے اور خسارے کا شکار ہوجائیں گے۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ لوگ ان سے بہتر ہیں"۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← أَبُو بِشْرِ: ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7290

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7291

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، [ص:281] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «غِفَارُ، وَأَسْلَمُ، وَمُزَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ مِنَ الْحَلِيفَيْنِ غَطَفَانَ، وَأَسَدٍ، وَهَوَازِنُ، وَتَمِيمٌ دُونَهُمْ، فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "غفار، اسلم، مزینہ اور جہینہ قبیلے سے جو بھی تعلق رکھتا ہو یہ لوگ دو حریف قبیلوں غطفان اور بنو اسد سے بہتر ہیں جبکہ ہوازن اور تمیم ان سے کم درجے کے ہیں کیونکہ وہ لوگ گھوڑے پالتے ہیں اور ویرانوں میں رہتے ہیں"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ، [ص:348] ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7291

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7292

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الرَّقَاشِيِّ، [ص:282] عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: «أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ»، قَالُوا: بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ وَفْدُ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُمْ: «أَبْشِرُوا يَا أَهْلَ الْيَمَنِ إِذْ لَمْ يَقْبَلِ الْبُشْرَى بَنُو تَمِيمٍ»

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو تمیم کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے بنو تمیم تم خوش خبری قبول کرو۔ ان لوگوں نے عرض کی: آپ ہمیں خوش خبری دے چکے ہیں اب آپ ہمیں (مال و دولت) دیجیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تبدیل ہوگیا پھر اہل یمن کا وفد آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اہل یمن تم لوگ خوش خبری قبول کرو کیونکہ بنو تمیم نے اس خوش خبری کو قبول نہیں کیا۔

بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا، فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ وَجَاءَ وَفْدُ أَهْلِ الْيَمَنِ، ← لَهُمْ: «أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ»، ← جَاءَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الرَّقَاشِيِّ، [ص:282] ← جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Hadith 7292

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7293

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَوْنِ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقَالَ: «مَنْ أَنْتُمْ؟ » فَقُلْنَا: مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ مِنِّي»

عون بن ابو جحیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ بنو عامر سے تعلق رکھنے والے دو افراد بھی تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ ہم نے عرض کی: ہم بنو عامر سے تعلق رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو خوش آمدید ! تم مجھ سے ہو۔

«مَرْحَبًا بِكُمْ أَنْتُمْ مِنِّي» ← «مَنْ أَنْتُمْ؟ فَقُلْنَا: مِنْ بَنِي عَامِرٍ، ← وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، ← دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← وَكِيعٌ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Hadith 7293

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7294

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتَرٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، حَدَّثَنَا شُبَيْلُ بْنُ عَزْرَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ، أَسْلَمَ النَّاسُ كَرْهًا، وَأَسْلَمُوا طَائِعِينَ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اہل مشرق میں سب سے بہتر عبد القیس قبیلے کے لوگ ہیں۔ دوسرے لوگوں نے زبردستی اسلام قبول کیا اور ان لوگوں نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← شُبَيْلُ بْنُ عَزْرَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ← وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Hadith 7294

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7295

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَادِمِينَ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي الْأَشْهُرِ الْحُرُمِ، فَحَدِّثْنَا عَمَلًا مِنَ الْأَجْرِ إِذَا أَخَذْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ، وَنَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ وَرَاءِنَا، فَقَالَ: «آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ»، قَالَ: «وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ » قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ»

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: عبد القیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس وفد کو خوش آمدید جو کسی رسوائی اور ندامت کے بغیر ہو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے مشرکین رہتے ہیں اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں آپ اجر کے حوالے سے ہمیں کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے کہ جب ہم اسے اختیار کریں، تو ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اپنے پیچھے لوگوں کو بھی اس کر طرف دعوت دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم یہ بات جانتے ہو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے سے مراد کیا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت میں سے خمس ادا کرنا، اور میں تمہیں دباء میں نبیذ تیار کرنے، نقیر، حنتم، مزفت (میں نبیذ تیار کرنے یا ان برتنوں کو استعمال کرنے سے) منع کرتا ہوں۔

رَسُولُ اللَّهِ «مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَادِمِينَ»، ← قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 7295

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابُ الحِجَاذِ ، وَالیَمَنِ ، وَالشَّامِ ، وَفَارِسٍ ، وَعُمَانَ ذِکرُ اِطَلاقِ اسمِ الاِیمَانِ عَلٰی اَھلِ الحِجَازِ · حديث 7296

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ*، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ، وَالْإِيمَانُ فِي أَرْضِ الْحِجَازِ»

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "دل کی سختی اور وعدہ خلافی مشرق میں پائی جاتی ہے، جبکہ ایمان حجاز کی سر زمین پر پایا جاتا ہے"۔

«غِلَظُ الْقُلُوبِ وَالْجَفَاءُ فِي الْمَشْرِقِ، وَالْإِيمَانُ فِي أَرْضِ الْحِجَازِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى عَبْدَانُ،

Hadith 7296

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابُ الحِجَاذِ ، وَالیَمَنِ ، وَالشَّامِ ، وَفَارِسٍ ، وَعُمَانَ ذِکرُ اِطَلاقِ اسمِ الاِیمَانِ عَلٰی اَھلِ الحِجَازِ · حديث 7297

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَ يْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً، الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَّةٌ، وَالْفَخْرُ، وَالْخُيَلَاءُ فِي أَصْحَابِ الْإِبِلِ، وَالْوَقَارُ فِي أَصْحَابِ الْغَنَمِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "اہل یمن تمہارے پاس آئے ہیں وہ نرم دلوں کے مالک ہیں۔ ایمان یمانی ہیں۔ سمجھ بوجھ یمانی ہے۔ حکمت (دانائی) یمانی ہے، جبکہ اونٹ پالنے والوں میں فخر اور تکبر کے جذبات پائے جاتے ہیں جبکہ بکریاں پالنے والوں میں وقار پایا جاتا ہے"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَ يْمَانَ، ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Hadith 7297

chevron_left Previous
1…6789
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr