Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7274

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھے گا"۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7274

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7275

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ لِلْأَنْصَارِ بِالْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: لَا، حَتَّى تَكْتُبَ لِأَصْحَابِنَا مِنْ قُرَيْشٍ مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بحرین کی جاگیریں عطا کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے کہا: جی نہیں جب تک آپ قریش سے تعلق رکھنے والے ہمارے ساتھیوں کو اس کی مانند عطا نہیں کرتے (ہم اسے قبول نہیں کریں گے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم عنقریب میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک حوض کوثر پر تمہاری ملاقات مجھ سے ہوجائے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ عُمَرَ الْخَطَّابِيُّ بِالْبَصْرَةِ،

Hadith 7275

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7276

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الْأَنْصَارَ الْبَحْرَيْنِ، أَوْ قَالَ: طَائِفَةً مِنْهَا، فَقَالُوا: لَا، حَتَّى تُقْطِعَ إِخْوَانَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَ الَّذِي أَقْطَعْتَنَا، قَالَ: «أَمَا إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بحرین میں جاگیریں عطا کیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) انصار میں سے کچھ افراد کو جاگیریں عطا کیں۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی کی مانند عطا نہیں کرتے، جس طرح آپ نے ہمیں عطا کیا ہے۔ ہم اس وقت تک اسے قبول نہیں کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے، تو تم لوگ صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ تم مجھ سے آملو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7276

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7277

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَشْهَلِيُّ النَّقِيبُ [ص:266] إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ حَاجَةٌ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ قَسَمَ طَعَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرَكْتَنَا حَتَّى ذَهَبَ مَا فِي أَيْدِينَا، فَإِذَا سَمِعْتَ بِشَيْءٍ، قَدْ جَاءَنَا فَاذْكُرْ لِي أَهْلَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَجَاءَهُ بَعْدَ ذَلِكَ طَعَامٌ مِنْ خَيْبَرَ شَعِيرٌ وَتَمْرٌ، قَالَ: وَجُلُّ أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ نِسْوَةٌ، قَالَ: فَقَسَمَ فِي النَّاسِ، وَقَسَمَ فِي الْأَنْصَارِ، فَأَجْزَلَ وَقَسَمَ فِي أَهْلِ ذَلِكَ الْبَيْتِ، فَأَجْزَلَ، فَقَالَ لَهُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ يَشْكُرُ لَهُ: جَزَاكَ اللَّهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَنَّا أَطْيَبَ الْجَزَاءِ - أَوْ قَالَ: خَيْرًا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » وَأَنْتُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ أَطْيَبَ الْجَزَاءِ - أَوْ قَالَ: خَيْرًا - مَا عَلِمْتُكُمْ، أَعِفَّةٌ صُبُرٌ، وَسَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فِي الْأَمْرِ وَالْعَيْشِ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ «

۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت اسید بن حضیر اشہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو اپنے قبیلے) کے سردار تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے انصار کے کچھ گھرانوں کے ضرورت مند ہونے کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے کچھ اناج تقسیم کر چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے اس وقت ہمیں ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ ہمارے پاس موجود سب کچھ ختم ہوگیا جب تمہیں اطلاع ملے کہ ہمارے پاس کچھ چیز آئی ہے تو پھر ان گھرانوں کے بارے میں مجھے یاد کرادینا۔ (راوی بیان کرتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خیبر سے کچھ اناج آیا جس میں ، جو اور کھجوریں بھی تھیں۔ راوی بیان کرتا ہے: اس گھرانے میں زیادہ تر خواتین تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اناج لوگوں میں تقسیم کیا۔ آپ نے وہ اناج انصار میں تقسیم کیا اچھی طرح تقسیم کیا۔ آپ نے اس گھرانے کے لوگوں میں اسے تقسیم کیا انہیں اچھی طرح دیا، تو حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں عرض کی: اے اللہ کے نبی اللہ تعالیٰ آپ کو ہماری طرف سے پاکیزہ ترین (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) سب سے بہتر جزا عطا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے انصار کے گروہ اللہ تعالیٰ تمہیں بھی سب سے زیادہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) بہتر جزا عطا کرے مجھے تمہارے بارے میں یہ بات پتہ ہے تم مانگنے سے بچتے ہو اور صبر سے کا م لیتے ہو۔ عنقریب تم میرے بعد حکومت اور زندگی کے دیگر معاملات میں اپنے ساتھ ترجیحی سلوک دیکھو گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ حوض کوثر پر تمہاری ملاقات مجھ سے ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَاصِمُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَارِيَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Hadith 7277

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7278

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى*، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِئَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَحَدَّثْتُ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ، فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ » فَقَالَ لَهُ قَوْمٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَمَّا ذَوُو أَسْنَانِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا نَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي أُنَاسًا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِالْكُفْرِ أَتَأَلَّفُهُمْ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ؟ فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ»، فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى [ص:268] تَلَقَوَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ عَلَى الْحَوْضِ» قَالُوا: سَنَصْبِرُ.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر کچھ انصاریوں نے یہ کہا: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہوازن کے مال میں سے مال فیعطا کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے کچھ لوگوں کو ایک سواونٹ دیئے۔ انصاریوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی مغفرت کرے انہوں نے قریش کو دے دیا ہے ہمیں نہیں دیا۔ حالانکہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ٹپک رہا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پیغام بھجوایا آپ نے انہیں چمڑے سے بنے ہوئے خیمے میں اکٹھا کیا، جب وہ سب اکٹھے ہوگئے ، تو بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے حوالے سے یہ کیا بات ہے، جو مجھ تک پہنچی ہے۔ انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے عمر رسیدہ افراد میں سے کسی نے یہ بات نہیں کی۔ البتہ ہمارے کچھ کم عمر لوگوں نے یہ بات کہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی مغفرت کرے انہوں نے کچھ لوگوں کو عطیات دے دئیے ہیں حالانکہ ان لوگوں کا خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے ایسے لوگوں کو عطیات دیئے ہیں، جو زمانہ کفر سے قریب ترین ہیں، تاکہ میں ان کی تالیف قلب کروں کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ لوگ اموال لے جائیں اور تم اپنے رہائش کی جگہ پر اللہ کے رسول کو لے جاؤ۔ اللہ کی قسم تم لوگ جس چیز کو لے کر واپس جاؤ گے وہ اس سے زیادہ بہتر ہے، جسے وہ لے کر واپس جائیں گے۔ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! ہم اس سے راضی ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب انتہائی شدید ترجیحی سلوک پاؤ گے، تو تم صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حوض کوثر پر آجاؤ، تو ان لوگوں نے عرض کی: ہم صبر سے کام لیں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 7278

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7279

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ، - وَكَانَ طَبِيبًا - قَالَ: دَعَانِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، فَقُطَعْتُ لَهُ عِرْقَ النَّسَا، فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ، قَالَ: أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي: أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي ظَفَرٍ، وَأَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالُوا: كَلِّمِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمْ لَنَا أَوْ يُعْطِينَا، فَكَلَّمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «نَعَمْ أَقْسِمُ لِأَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ مِنْهُمْ شَطْرًا، وَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ»، قَالَ: قُلْتُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُكُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ»، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ أَثَرَةً بَعْدِي»، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ حُلَلًا بَيْنَ النَّاسِ، [ص:269] فَبَعَثَ إِلَيَّ مِنْهَا بِحُلَّةٍ، فَاسْتَصْغَرْتُهَا، فَأَعْطَيْتُهَا أَبِي، فَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ مَرَّ بِي شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ تِلْكَ الْحُلَلِ يَجُرُّهَا، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً»، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ، فَجَاءَ وَأَنَا أُصَلِّي، فَقَالَ: يَا أُسَيْدُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلَاتِي قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: تِلْكَ حُلَّةٌ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ وَهُوَ بَدْرِيٌّ أُحُدِيٌّ عَقَبِيٌّ، فَأَتَاهُ هَذَا الْفَتَى، فَابْتَاعَهَا مِنْهُ فَلَبِسَهَا، أَفَظَنَنْتَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ فِي زَمَانِي؟ قُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ظَنَنْتُ أَنَّ ذَاكَ لَا يَكُونُ فِي زَمَانِكَ.

محمود بن لبید، ابن شفیع کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، جو ایک طبیب تھے، وہ کہتے ہیں: حضرت اسید بن حضیر نے مجھے بلوایا۔ میں نے عرق النساء کا علاج کیا، تو انہوں نے مجھے دو حدیثیں سنائیں۔ انہوں نے مجھے بتایا ایک مرتبہ میری قوم کے دو گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ میرے پاس آئے۔ ایک گھرانے کا تعلق بنو ظفر سے تھا، اور ایک گھرانے کا تعلق بنو معاویہ سے تھا۔ انہوں نے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کیجیے۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی تقسیم میں سے کچھ دیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) کہ ہمیں کچھ عطا کریں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی، تو آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ میں ان میں سے ہر ایک گھرانے کو ایک، ایک حصہ دے دوں گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں دوبارہ فتوحات دیں، تو ہم انہیں عطیات دیں گے۔ اس پر میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے یارسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو بھی جزائے خیر دے۔ کیونکہ تم لوگوں کے بارے میں مجھے علم ہے کہ تم مانگنے سے بچتے ہو صبر سے کام لیتے ہو۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے۔ جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ آیا، تو انہوں نے کچھ حلے لوگوں کے درمیان تقسیم کیے انہوں نے ان میں سے ایک حلہ مجھے بھی بھجوایا۔ مجھے وہ چھوٹا محسوس ہوا، تو وہ میں نے اپنے والد کو دے دیا۔ ایک دن میں نماز پڑھ رہا تھا۔ میرے پاس سے قریش سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان گزرا جس نے اسی قسم کا ایک حلہ پہنا ہوا تھا، اور وہ اسے زمین پر گھسیٹ رہا تھا (یعنی اس کے پاس کپڑا زیادہ تھا) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آگیا، عنقریب تم میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے، تو میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے۔ پھر اس شخص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا انہیں اس بارے میں بتایا وہ تشریف لائے میں اس وقت نماز ادا کر رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: اے اسید! جب میں نے نماز مکمل کرلی، تو انہوں نے دریافت کی: تم نے کیا کہا تھا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: وہ ایک ایسا حلہ تھا، جو میں نے فلاں بن فلاں کی طرف بھیجا تھا، جس نے غزوہ احد میں بھی شرکت کی ہے، غزوہ بدر میں شرکت کی ہے اور بیعت عقبہ میں بھی شرکت کی ہے۔ پھر وہ نوجوان ان صاحب کے پاس گیا اور اس نے ان صاحب سے وہ حلہ خرید کر پہن لیا گیا تم یہ گمان کر رہے تھے کہ ایسا میرے زمانے میں ہوگا (یعنی میرے زمانے میں انصار سے ترجیحی سلوک ہوگا؟) تو میں نے کہا: اللہ کی قسم اے امیر المومنین میرا، تو یہ گمان تھا کہ یہ آپ کے زمانے میں نہیں ہوگا۔

ابن شفيع وكان طبيبا ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 7279

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7280

أَخْبَرَنَا أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الْأَصَمُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، [ص:270] عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ "اے اللہ! انصار کی ، انصار کے بچوں کی، انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت کر دے"۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ، [ص:402] ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ ← أَبُو قُرَيْشٍ مُحَمَّدُ بْنُ جُمُعَةَ الْأَصَمُّ،

Hadith 7280

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7281

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: كَتَبَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ بِوَلَدِهِ وَأَهْلِهِ [ص:271] الَّذِينَ أُصِيبُوا يَوْمَ الْحَرَّةِ، فَكَتَبَ فِي كِتَابِهِ: وَإِنِّي مُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنَسَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنَسَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِنَسَاءِ أَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ»

ابو بکر بن انس بیان کرتے ہیں: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا جس میں ان کی اس اولاد اور اہل خانہ کے بارے میں تعزیت کی جو واقعہ حرہ میں شہید ہوگئے تھے انہوں نے اپنے خط میں یہ بات تحریر کی میں آپ کو اس چیز کی بشارت دیتا ہوں، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "اے اللہ! انصار کی، انصار کی بیٹوں کی، انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی، انصار کی خواتین (بیویوں) کی، انصار کے بیٹوں کی خواتین( بیویوں ) کی، انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کی خواتین (بیویوں) کی مغفرت کردے"۔

أبي بكر بن أنس ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7281

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7282

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ [ص:272] بْنُ الرُّومِيِّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ، وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيَّهُمْ، وَلِمَوَالِي الْأَنْصَارِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اے اللہ ! انصار کی، انصار کے بچوں کی، انصار کے بچوں کے بچوں کی، انصار کے غلاموں کی مغفرت کردے"۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ [ص:272] بْنُ الرُّومِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 7282

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7283

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ*، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ هَارُونَ الْأَنْصَارِيِّ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «» اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ، وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيَّهُمْ، وَلِمَوَالِيهِمْ وَلِجِيرَانِهِمْ «»

حضرت رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اے اللہ! انصار کی، انصار کے بچوں کی، انصار کے بچوں کے بچوں کی، ان کے غلاموں کی اور ان کے پڑوسیوں کی مغفرت کردے"۔

أَبِيهِ ← مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيُّ، ← هِشَامِ بْنِ هَارُونَ الْأَنْصَارِيِّ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7283

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7284

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دِيَارِ الْأَنْصَارِ؟ » قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «دِيَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دِيَارُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دِيَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دِيَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، ثُمَّ فِي كُلِّ دِيَارِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کیا میں تم کو انصار کے سب سے بہتر گھرانے کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی۔ جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو نجار کا گھرانہ پھر بنو عبد اشہل کا گھرانہ پھر بنو حارث بن خزرج کا گھرا نہ پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ وایسے انصار کے ہر گھرانے میں بھلائی موجود ہے"۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 7284

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7285

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ؟ » قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ [ص:275] بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "کیا میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانے کے بارے میں نہ بتاؤں۔ لوگوں نے عرض کی:جی ہاں یارسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو نجار کا گھرانہ پھر بنو عبد اشہل کا گھرانہ پھر بنو حارث بن خزاج کا گھرانہ پھر بنو ساعدہ کا گھرانہ ویدے انصار کے ہر گھرانے میں بھلائی موجود ہے"۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 7285

chevron_left Previous
1…56789
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr