Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7262

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، [ص:253] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِلْمُهَاجِرِينَ مَنَابِرَ مِنْ ذَهَبٍ يَجْلِسُونَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَدْ أَمِنُوا مِنَ الْفَزَعِ»، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: وَاللَّهِ لَوْ حَبَوْتُ بِهَا أَحَدًا لَحَبَوْتُ بِهَا قَوْمِي «

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، [ص:253] ← كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7262

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7263

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ شَبَابٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ يَكُونُونَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ يَحْسَبُ أَهْلُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي الْمَسْجِدِ، وَيُحْسَبُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّهُمْ فِي أَهْلِيهِمْ، فَيُصَلُّونَ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى إِذَا [ص:254] تَقَارَبَ الصُّبْحُ احْتَطَبُوا الْحَطَبَ، وَاسْتَعْذَبُوا مِنَ الْمَاءِ، فَوَضَعُوهُ عَلَى أَبْوَابِ حُجَرِ رَسُولِ اللَّهِ، فَبَعَثَهُمْ جَمِيعًا إِلَى بِئْرِ مَعُونَةَ، فَاسْتُشْهِدُوا، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتَلَتِهِمْ أَيَّامًا»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان جنہیں قاری صاحبان کہا جاتا تھاوہ مدینہ منورہ کے کنارے پر رہتے تھے۔ ان کے گھر والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ مسجد میں ہوں گے، اور مسجد والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ گھر پرہوں گے۔ وہ لوگ رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہتے تھے، اور جب صبح قریب آئی تھی، تو وہ لکڑیاں چنا کرتے تھے، اور میٹھا پانی حاصل کرتے تھے، اور یہ چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے دروازوں پر رکھ دیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو بئر معونہ کی طرف بھیجا تھا، تو وہ وہان سب شہید ہوگئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قاتلوں کے خلاف کئی دن تک دعائے ضرر کی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7263

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7264

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَنِي الْجَهْدُ، فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ: «أَلَا رَجُلٌ يُضَيِّفُهُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ؟ »، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدَّخِرِي عَنْهُ شَيْئًا، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا قُوتُ الصِّبْيَةِ، قَالَ: فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ، وَتَعَالِي، فَأَطْفِئِي السَّرَّاجَ، وَنَطْوِي [ص:255] بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ، أَوْ ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانَةَ»، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ} [الحشر: 9]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بھوک لاحق ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف پیغام بھیجا، تو ان کے ہاں کچھ بھی موجود نہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص آج کی رات اس کو اپنا مہمان بنائے گا، تو انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں (اسے اپنا مہمان بناؤں گا) وہ شخص اپنی بیوی کے پاس گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے۔ تم اس کے حوالے سے کوئی چیز چھپا کر نہ رکھنا۔ اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم میرے پاس صرف بچوں کی خوراک جتنی چیز ہے۔ انصاری نے کہا: جب بچے رات کا کھانا کھا نا چاہیں، تو تم ان کا سلا دینا۔ پھر تم چراغ بجھا دینا۔ آج رات ہم اپنا پیٹ لپیٹ لیں گے۔ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ اگلے دن وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کو فلاں مرد اور فلاں عورت کا طرز عمل اچھا لگا۔ (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں: ) کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت ناز کی۔ "اور وہ لوگ اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ ان کو خود شدید ضرورت لاحق ہو"۔

أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7264

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7265

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَرَادِيُّ بِالْمَوْصِلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَإِنَّ النَّاسَ يَكْثِرُونَ وَيَقِلُّونَ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "بے شک انصار میرے انتہائی قریبی ہیں۔ لوگ زیادہ ہوتے چلے جائیں گے اور یہ کم ہوتے چلے جائیں گے۔ تم ان میں سے اچھے لوگوں کی اچھائی کو قبول کرنا، اور ان کے برے شخص کی برائی سے درگزر کرنا"۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْجَرَادِيُّ بِالْمَوْصِلِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7265

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7266

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا عَاصِبًا رَأْسَهُ، فَتَلَقَّاهُ ذَرَارِيُّ الْأَنْصَارِ وَخَدَمُهُمْ مَا هُمْ بِوجُوهِ الْأَنْصَارِ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوَا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے آپ نے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ کے سامنے انصار کے کچھ بچے اور خدمت گزار آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ پھر آپ نے فرمایا: بے شک انصار نے اس چیز کو ادا کر دیا ہے، جو ان کے ذمے لازم تھا، اور اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے، جو تمہارے ذمے لازم ہے، تو تم ان میں سے اچھے شخص کے ساتھ اچھائی کرنا اور ان کے برے شخص سے درگزر کرنا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7266

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7267

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، وَعِدَّةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ* بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ضَرَّ امْرَأَةً نَزَلَتْ بَيْنَ بَيْتَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ، أَوْ نَزَلَتْ بَيْنَ أَبَوَيْهَا»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسی عورت کو کوئی نقصان لاحق نہیں ہوتا جو انصار کے دو گھرانوں کے درمیان ٹھہرتی ہے یا اپنے ماں باپ کے ہاں ٹھہرتی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، وَعِدَّةٌ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7267

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7268

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ، فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَذَكَرَ [ص:258] نَفَرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُعْطِي غَنَائِمَنَا قَوْمًا تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ، أَوْ تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ فِي سُيُوفِنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَجَمَعَ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: «هَلْ فِيكُمْ غَيْرُكُمْ؟ » فَقَالُوا: لَا، غَيْرَ ابْنِ أُخْتِنَا، قَالَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ»، ثُمَّ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَمَا تَرْغَبُونَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا أَوْ بِالشَّاءِ وَالْإِبِلِ، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ؟ »، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا وَأَخَذَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ، الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا۔ آپ نے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ دیئے، عینیہ بن بدر کو ایک سو اونٹ دیئے پھر حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انصار کے ایک گروہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہا: ان لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ہمارا مال غنیمت ان لوگوں کو دے دیا جن کے خون ہماری تلواروں سے ٹپک رہے ہیں (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کا خون ہماری تلواروں میں ٹپک رہا ہے۔ اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے انصار کو اکٹھا کیا، آپ نے فرمایا: کیا تمہارے درمیان تمہارے علاوہ کوئی اور ہے۔ لوگوں نے عرض کی: جی نہیں صرف ہمارا ایک بھانجا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کا بھانجا ان کا حصہ ہوتا ہے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اے انصار کے گروہ کیا تم اس بات میں دلچسپی نہیں رکھتے کہ لوگ دنیاوی چیزیں بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے علاقے میں لے جاؤ۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست مبارک میں محمد کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری گھاٹی میں جائیں ، تو میں انصار کی گھاٹی کو اختیار کروں گا ۔ انصار میرے انتہائی قریبی ہیں اگر ہجرت نہ ہوتی، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔

نَفَرًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← عُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، ← قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ، فَأَعْطَى الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7268

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7269

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ يَنْدَفِعُ النَّاسُ شِعْبًا وَالْأَنْصَارُ فِي شِعْبِهِمْ، لَانْدَفَعْتُ مَعَ الْأَنْصَارِ فِي شِعْبِهِمْ»

۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اگر ہجرت نہ ہوتی، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ ایک گھاٹی میں ہوں اور انصار دوسری گھاٹی میں ہوں، تو میں انصار کے ساتھ ان کی گھاٹی میں ہوں گا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7269

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7270

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءً وَصِبْيَانًا مِنَ [ص:260] الْأَنْصَارِ مُقْبِلِينَ مِنَ الْعُرْسِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ: «أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مُعَوَّلُ هَذِهِ الْأَخْبَارِ كُلِّهَا عَلَى «مِنْ» فَحُذِفَ «مِنْ» مِنْهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی کچھ خواتین اور بچوں کو شادی سے واپس آتے ہوئے دیکھا، تو آپ نے ان سے فرمایا: تم میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) ان تمام روایات میں لفظ " منہا" محذوف شمار ہوگا۔

النَّبِيُّ لَهُمْ: «أَنْتُمْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ» ← رَأَى رَسُولُ اللَّهِ نِسَاءً وَصِبْيَانًا مِنَ [ص:260] الْأَنْصَارِ مُقْبِلِينَ مِنَ الْعُرْسِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7270

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7271

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، وَذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ، فَتَلَقَّتْهُ الْأَنْصَارُ بِوُجُوهِهِمْ وَفِتْيَانِهِمْ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ، إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوَا الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَبَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ آپ نے کچھ انصار کو اور ان کے نوجوانوں کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے میں تم لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔ بے شک انصار نے اس چیز کو ادا کر دیا جو ان کے ذمے لازم تھی۔ اب وہ چیز باقی رہ گئی ہے، جو تم لوگوں کے ذمے لازم ہے، تو تم ان کے اچھے شخص کے ساتھ اچھائی کرو اور ان کے برے شخص سے درگزر کرو۔

مُسِيئِهِمْ ← بَقِيَ الَّذِي عَلَيْكُمْ، فَأَحْسِنُوا إِلَى مُحْسِنِهِمْ، وَتَجَاوَزُوا ← «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأُحِبُّكُمْ، إِنَّ الْأَنْصَارَ قَدْ قَضَوَا الَّذِي عَلَيْهِمْ، ← خَرَجَ النَّبِيُّ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ، فَتَلَقَّتْهُ الْأَنْصَارُ بِوُجُوهِهِمْ وَفِتْيَانِهِمْ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَنَّهُ ← حُمَيْدًا، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7271

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7272

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحَوْضِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَحَبَّ [ص:262] الْأَنْصَارَ فَقَدْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ فَقَدْ أَبْغَضَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ»

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "جو شخص انصار سے محبت کرے گا اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کریں گے، اور جو شخص انصار سے بغض رکھے گا اللہ اور اس کا رسول اس سے بغض رکھے گے۔ ان سے محبت صرف مومن کرے گا۔ اور ان سے بغض صرف منافق رکھے گا"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَالْحَوْضِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7272

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7273

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ زِيَادٍ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ أَحَبَّهُ اللَّهُ يَوْمَ يَلْقَاهُ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ أَبْغَضَهُ اللَّهُ يَوْمَ يَلْقَاهُ»

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حارث بن زیاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص انصار سے محبت رکھے گا اللہ تعالیٰ بھی اس دن اس شخص سے محبت کرے گا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، جو شخص انصار سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص سے ناراض ہوگا، جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوگا"۔

الْحَارِثَ بْنَ زِيَادٍ، صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ ← حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ، ← سَعْدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبِي ← جَعْفَرُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7273

chevron_left Previous
1…456…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr