Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7250

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِسَانِهِ ثِقَلٌ مَا يُبِينُ الْكَلَامَ، فَذَكَرَ عُثْمَانَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَقُولُ غَيْرَ أَنَّكُمْ تَعْلَمُونَ يَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ أَنَّا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَقُولُ: «أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَإِنِّمَا هُوَ هَذَا الْمَالُ، فَإِنْ أَعْطَاهُ رَضِيتُمْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «مَا رَوَاهُ عَنِ الْوَلِيدِ، إِلَّا إِسْحَاقُ، [ص:237] وَلَيْسَ لِثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ، وَمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ، إِلَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا»

۔ سالم اپنے والد (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی مجھ سے ملاقات ہوئی۔ ان کی زبان میں کچھ لکنت تھی۔ ان کی بات نمایاں نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ کیا، تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا کہتے ہیں: البتہ اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے گروہ! آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں، کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ کہا کرتے تھے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ (پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص سے کہا: تم نے جس معاملے کا ذکر کیا ہے) وہ، تو صرف مال سے متعلق ہے، اگر انہوں نے وہ مال اس شخص کو دے دیا ہے، تو تم اس سے راضی رہو۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7250

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7251

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «كُنَّا نُفَاضِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ، ثُمَّ نَسْكُتُ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (دیگر تمام صحابہ کرام سے) افضل قرار دیتے تھے اور پھر ہم سکوت اختیار کرتے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ بْنِ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 7251

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7252

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا أَلَا، وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ»

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں میری امت کے بارے میں سب سے زیادہ رحمدل ابو بکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں سب سے زیادہ سخت عمر ہے۔ حیا کے اعتبار سے سب سے زیادہ سچا عثمان ہے۔ اللہ کی کتاب کا سب سے بڑا عالم ابی بن کعب ہے۔ علم وراثت کا سب سے بڑا عالم زید بن ثابت ہے۔ حلال اور حرام کا سب سے بڑا عالم معاذ بن جبل ہے۔ خبردار ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 7252

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7253

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، [ص:239] مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میرے اصحاب کو برانہ کہو اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ اگر تم میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے پھر بھی وہ ان (صحابہ کرام) میں سے کسی ایک کے ایک "مد" بلکہ اس کا نصف خرچ (کرنے کے برابر بھی نہیں ہو سکتا)"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Hadith 7253

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7254

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي فِيكُمْ، فَقَالَ: «اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا، وَبِالْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ، فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ [ص:240] الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَلَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "جابیہ" کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اس طرح کھڑے ہوئے ، جس طرح میں تمہارے درمیان کھڑا ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: میرے اصحاب کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں (بھلائی کی تلقین کو قبول کرو) پھر جھوٹ پھیل جائے گا، یہان تک کہ آدمی شہادت کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے گا، اور قسم کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی قسم اٹھائے گا، تو جو شخص جنت کے درمیان میں جانا چاہتا ہو وہ (مسلمانوں کی) جماعت کولازم نہ کرے کیونکہ شیطان ایک شخص ایک شخص ہے، اور وہ سے زیادہ دور ہوتا ہے کوئی بھی شخص کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے۔ کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوگا، اور جس شخص کو نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے وہ مومن ہے۔

قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ مَقَامِي فِيكُمْ، ← ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، ← عبد الله بن دينار ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 7254

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7255

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "میرے اصحاب کو برا نہ کہو۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی ایک شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے، تو وہ پھر بھی ان(صحابہ کرام) میں سے کسی ایک کے، ایک "مد" یا اس کے نصف کو (خیرات کرنے کے) برابر نہیں ہو سکتا"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 7255

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7256

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوا أَصْحَابِي غَرَضًا مَنْ أَحَبَّهُمْ، فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّومِيُّ بَصْرِيٌّ، رَوَى عَنْهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ مَاتَ قَبْلَ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ»

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے (ڈرتے رہو) میرے اصحاب کو نشانہ نہ بناؤ ، جو شخص ان سے محبت کرے گا۔ وہ مجھ سے محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا، اور جو شخص ان سے بغض رکھے۔ وہ شخص میرے ساتھ بغض رکھنے کی وجہ سے ان کے ساتھ بغض رکھے گا، جو شخص انہیں اذیت پہنچائے گا وہ مجھے اذیت پہنچائے گا، اور جو شخص مجھے اذیت پہنچائے گا اس نے گویا اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائی، اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو اذیت پہنچائے گا، تو عنقریب اللہ تعالیٰ اس پر گرفت کرلے گا"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نامی یہ راوی بصری ہے جس کے حوالے سے حماد بن زید نے روایات نقل کی ہیں۔ اس کا انتقال ایوب سختیانی سے پہلے ہو گیا تھا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ1 الْمُغَفَّلِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7256

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7257

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أبِي رُهْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ، يَقُولُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ، فَلَمَّا قَفَلَ سِرْنَا لَيْلَةً، فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ وَأُلْقِيَ عَلَيَّ النُّعَاسُ، فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ، وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَأَزْجُرُ رَاحِلَتِي حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي فِي بَعْضِ اللَّيْلِ، فَزَحَمَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَتَهُ وَرِجْلُهُ فِي الْغَرْزِ، فَأَصَبْتُ رِجْلَهُ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِقَوْلِهِ: «حَسَّ»، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «سِرْ» فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَإِذَا هُوَ قَالَ: «مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الثِّطَاطُ»، فَحَدَّثْتُهُ بِتَخَلُّفِهِمْ، قَالَ: «مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ [ص:247] الْقِطَاطُ أَوِ الْقِصَارُ الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ؟ » فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارَ، فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ وَقَدْ تَخَلَّفُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا يَمْنَعُ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعْضِ إِبِلِهِ امْرَأً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ.

حضرت ابو رہم غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ کرما میں سے ایک ہیں۔ جنہوں نے (بیعت رضوان کے مواقع پر) درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی۔ جب ہم واپس آرہے تھے، تو ہم رات بھر چلتے رہے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی سفر کرتا رہا۔ مجھے اونگھ آگئی۔ میں خود کو بیدار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے قریب ہوئی۔ اس کے قریب آنے کی وجہ سے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں رکاب میں موجود آپ کے پاؤں کو نقصان نہ پہچاؤں، تو میں نے اپنی سواری کو جھڑکا لیکن پھر رات کے کسی حصے میں میری آنکھ لگ گئی۔ پھر میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ لگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں اس وقت رکاب میں تھا۔ میری ٹکر آپ کے پاؤں سے ہوئی۔ میں اس وقت بیدار ہوا۔ جب آپ نے یہ فرمایا دھیان کرو۔ میں نے اپنا سر اٹھایا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم چلتے رہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے اس بارے میں دریافت کرنا شروع کیا کہ میں اپنے پیچھے بنو غفار کو کس حالت میں چھوڑ کا آیا ہوں۔ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس گروہ کی کیا حالت ہے، جو سرخ رنگ کے تھے، اور ان کے چہرے پر بال نہیں ہوئے صرف ٹھوڑی پر تھوڑے سے بال ہوتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پیچھے رہنے کے بارے میں بتایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گروہ کا کیا حال ہے جس کا رنگ سیاہ تھا اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے بنو غفار میں ان کے ہونے کاذکر کیا۔ میں نے ان کا ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ میں نے ایک گروہ کا ذکر کیا جس کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلم قبیلے کا ایک گروہ ہے وہ لوگ پیچھے رہ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ پیچھے کیوں رہ گئے۔ جب ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ گیا تھا" تو پھر کسی دوسرے کو اپنا اونٹ اسے دے دینا چاہئے تھا تاکہ وہ اللہ کی راہ میں (اپنا سفر کرتا رہتا) میرے نزدیک یہ بات سب سے ناپسندیدہ ہے کہ مہاجرین، انصار یا اسلم قبیلے کے لوگ یا غفار قبیلے کے لوگ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔

أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ، ← ابْنُ أَخِي أبِي رُهْمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 7257

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7258

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب رہیں، تاکہ آپ سے (شرعی احکام سیکھ کر) انہیں محفوظ رکھیں

«كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ» ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Hadith 7258

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7259

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا ... عَلَى الْقِتَالِ مَا بَقِينَا أَبَدَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ ... فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جب خندق کھودرہے تھے۔ ساتھ، ساتھ یہ کہہ رہے تھے۔ "ہم وہ لوگ ہیں، جنہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی ہے کہ جب تک ہم باقی رہیں گے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان حضرات کو یہ جواب دے رہے تھے۔ "اے اللہ ! بے شک زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت کردے"۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7259

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7260

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَالطُّلَقَاءُ مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْعُتَقَاءُ مِنْ ثَقِيفٍ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»

حضرت جریرین عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مہاجرین اور انصار دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ قریش سے تعلق رکھنے والے طلقاء اور ثقیف سے تعلق رکھنے والے عتقاء ایک دوسرے کے دنیا اور آخرت میں دوست ہیں"۔

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 7260

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الصَّحَابَۃِ وَالتَّابِعِینَ رَضِیَ اللہُ عَنھُم · حديث 7261

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، [ص:252] فَمَرِضْتُ مَرَضًا أَشْفَى عَلَى الْمَوْتِ، فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ لِي أَفَأُوصِي بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: فَبِشَطْرِ مَالِي؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: فَبِثُلُثِهِ؟ قَالَ: «الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ أَنْ تَتْرُكَ وَرَثَتَكَ بِخَيْرٍ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، إِنَّكَ يَا سَعْدُ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ، إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةَ تَجْعَلُهَا فِي فِيِّ امْرَأَتِكَ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ عَنْ أَصْحَابِي؟ قَالَ: «إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي، فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً وَلَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي، فَيَنْفَعَ اللَّهُ بِكَ أَقْوَامًا وَيُضَرُّ بِكَ آخَرِينَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلَا تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ لَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ» رَثَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ مَاتَ بِمَكَّةَ «

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حجتہ الوداع کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا میں بیمار ہو گیا، یہاں تک کہ موت کے کنارے تک پہنچ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بہت سا مال ہے میری وارث بس ایک بیٹی ہے، تو کیا میں اپنے دو تہائی مال (کو صدقہ کرنے) کی وصیت کردوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی: نصف مال کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی : ایک تہائی کے بارے میں کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک تہائی کے بارے میں کردو۔ ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے اے سعد تم اپنے ورثاء کو اچھی طرح سے خوشحال چھوڑ کر جاتے ہو یہ اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں تنگدست چھوڑ کر جاؤ، اور وہ لوگوں سے مانگتے پھریں۔ اے سعد! تم جو بھی چیز اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو گے تم کو اس کا اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے (اس کا بھی اجر ملے گا) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد بھی زندہ رہو گے اور ایسا عمل کرو گے جس کے ذریعے تم اللہ کی رضا چاہو گے، تو اس کے نتیجے میں تمہارے درجے اور قدرو منزلت میں اضافہ ہوگا۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ تم میرے بعد بھی زندہ رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے کچھ لوگوں کو نفع دے اور تمہاری وجہ سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہو۔ اے اللہ! میرے ساتھیوں کی ہجرت کو جاری رہنے دینا اور انہیں ایڑیوں کے بل لوٹا نہ دینا۔ البتہ سعد بن خولہ پر افسوس ہے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 7261

chevron_left Previous
12345…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr