حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا، تو میں نے اس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو دیکھ لیا۔ میری امت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچ جائے گی، یہاں تک میرے لیے زمین کو لپیٹا گیا تھا، اور مجھے دو خزانے عطا کیے گئے تھے سرخ اور سفید۔ میں نے اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لیے دعا مانگی کہ وہ انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہیں کرے گا، اور ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کرے گا، جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، جو
ان کا قتل عام کردے، تو میرے پروردگار نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! جب میں کوئی فیصلہ کرلوں، تو پھر اس میں تبدیلی نہیں کی جاتی۔ تمہاری امت کے بارے میں، میں تمہیں یہ چیز عطا رکرتا ہوں۔ میں انہیں عمومی قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہیں کروں گا، اور میں ان پر ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا۔ جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، اور جو ان کا قتل عام کرے۔ خواہ وہ دشمن ان کے خلاف زمین کے کونے کونے سے اکٹھا ہوجائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) البتہ وہ لوگ خود ایک دوسرے کو ہلاکت کا شکار کریں گے، اور ایک دوسرے کو قیدی بنا لیں گے"۔
راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت کے بارے میں گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا اندیشہ ہے، جب میری امت میں تلوار رکھ دی جائے گی، تو پھر قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت کے کچھ قبائل مشرکین سے نہیں ملیں گے، یہاں تک کہ بتوں کی عبادت نہیں کی جانے لگے کی۔ میری امت میں 30 کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک اس بات کا دعویدار ہوگا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ثابت قدم رہے گا، اور وہ لوگ غالب رہیں گے، جو شخص انہیں رسوا کرنے کی کوشش کرے گا۔ وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ (یعنی قیامت ) آجائے گی۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7238
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں:
"اس امت کا حوض کوثر پر اس طرح ہجوم ہوگا جس طرح اونٹوں کا ہجوم ہوتا ہے، جو پانی پینے آتے ہیں"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7239
۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے۔ آپ نے فرمایا۔
"اے اہل ایمان کی قوم کی بستی والو! تم پر سلام ہو۔ اگر اللہ نے چاہا، تو ہم بھی تم سے آملیں گے"۔
(پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ) میری یہ خواہش تھی کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم میرے اصحاب ہو۔ میرے بھائی وہ لوگ ہیں، جو بعد میں آئیں گے۔ میں حوض کوثر پر ان کا پیش روہوں گا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی امت کے جو لوگ آپ کے بعد آئیں گے۔ آپ ان کو کیسے پہچانیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کے پاس ایسا گھوڑا ہو جس کی پیشانی پر سفید نشان ہو اور وہ گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان موجود ہو کیا وہ شخص اپنے گھوڑے کو پہچان نہیں لے گا۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تو جب وہ لوگ بھی قیامت کے دن آئیں گے، تو وضو کرنے کی وجہ سے ان کی پیشانیاں چمک رہی ہوں گی، اور حوض کوثر پر میں ان کا پیش روہوں گا، اور کچھ لوگوں کو میرے حوض سے یوں پرے کیا جائے گا، جس طرح گمشدہ اونٹ کو پرے کیا جاتا ہے۔ میں انہیں یکاروں گا ادھر آؤ ادھر آؤ، تو یہ کہا جائے گا: ان لوگوں نے آپ کے بعد (دین کے احکام میں) تبدیلی کر دی تھی، تو میں کہوں گا: پرے ہو جاؤ پرے ہوجاؤ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7240
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7241
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان لوگوں کو کیسے پہچانیں گے۔ جن کا تعلق آپ کی امت سے ہے اور آپ نے انہیں دیکھا نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ وضو کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7242
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"تم لوگ وضو کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں کے ساتھ (میرے حوض پر) آؤگے۔ یہ میری امت کا مخصوص علامتی نشان ہے، جو ان کے علاوہ اور کسی کا نہیں ہوگا"۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7243
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم سلی نے ارشاد فرمایا:
"میری امت کے ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: تو حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرلے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ، تو اسے ان میں شامل کرلے۔ ایک اور صاحب نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کرلے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے۔
(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: " اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے" اس میں لفظی طور پر گزرے ہوئے زمانے سے متعلق ایک فعل کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے۔ لیکن اس کے ذریعے مراد اس چیز سے منع کرنا ہے جس کے ذریعے یہ الفاظ مطلق طور پر استعمال ہوئے ہیں، اور وہ یہ کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے یہ دعا کردی اور یہ کہہ دیا کہ اے اللہ، تو اسے ان میں شامل کردے، تو دوسرے صاحب کا کھڑے ہونا (مناسب نہیں ہے) کیونکہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے دعا کردیتے، تو پھر کوئی تیسرا اور چوتھا شخص بھی کھڑا ہوجاتا ، اور معاملہ ایک ایسی صورت کی طرف چلا جاتا، جس کی کوئی انتہا نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ کی وعید جو ان لوگوں کے لیے ہے۔ جن کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے ہوگا، اور وہ ممنوعہ چیزوں کے مرتکب ہوں گے وہ باطل ہوجاتی (وہو وعید یہ ہے) کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گا، تو اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظی طور پر اطلاع کے ذریعے اپنے آپ کو اس طرح کی چیزوں سے روک لیا، اور اس سے مراد اس سے منع کرنا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7244
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ بیت المال میں موجود تھے، تو انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چمڑے سے بنے ہوئے خیمے سے باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم سلی نے دریافت کیا: یا اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست مبارک میں میری جان ہے مجھے اس بات کی امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہوگے۔ کفار کے درمیان مسلمانوں کی مثال اس طرح ہے، جس طرح کوئی سفید گائے ہو جس میں ایک سیاہ بال موجود ہو۔ یا سیاہ گائے ہو جس میں ایک سفید بال موجود ہو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7245
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو بغیر کسی حساب کے جنت میں داخل کرے گا ۔ اس پر حضرت یزید بن اخنس سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی۔ اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کی امت میں (یہ ستر ہزار لوگ) اس طرح ہوں گے، جس طرح ٹیلے کے مقابلے میں مٹھی بھر ریت ہوتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ستر ہزار لوگ ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک ہزار کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے، اور اس کے ہمراہ مزید کچھ مزید لپ ہوں گے (یعنی پروردگار بے حد و شمار لوگوں کو جہنم سے آزاد کرے گا۔)
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7246
حضرت عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پروردگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے، وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا، اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ستر ہزار لوگ جائیں گے۔ پھر وہ اپنے دست قدرت کے ذریعے تین مرتبہ لپ بھرے گا، اور اتنے لوگوں کو جہنم سے آزاد کرے گا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ اکبر کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک پہلے والے ستر ہزار لوگ اپنے آباؤ اجداد، اپنی امہات ، اور اپنے رشتہ داروں کی شفاعت کریں گے اور مجھے یہ امید ہے کہ وہ میری امت کو آخری لپوں میں سب سے زیادہ قریب کر دے گا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7247
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"میرے سامنے وہ تین لوگ پیش کئے گئے جو پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شہید دوسرا وہ غلام جو اپنے پروردگار کی اچھی طرح سے عبادت کرتا ہو اور اپنے آقا کا خیرخواہ ہو اور تیسرا وہ شخص جو خوشحال ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) جو مالدار ہو"۔ اور حرام سے، اور لوگوں کے پاس موجود مال (کو ہتھیانے ) سے بچے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7248
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کی، توہم نے کہا: اگر ہم انتظار کرلیں، یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ کی اقتداء میں ادا کریں (تو یہ مناسب ہوگا) تو ہم لوگ انتظار کرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ اس وقت سے یہاں ہو؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں ہم آپ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں: ) تم نے ٹھیک کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایااور فرمایا ستارے آسمان کے امین (یا محافظ ہیں) جب یہ ستارے رخصت ہوجائیں گے، تو آسمان پر وہ چیز آجائے گی، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، اور میرے ساتھی میری امت کے لیے محافظ ہیں۔ جب میرے ساتھی رخصت ہوجائیں گے، تو میری امت پر وہ چیز آجائے گی، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
(امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمانوں کی بقاء کی نشانی اور آسمان کو فنا ہونے سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب یہ غارت ہوجائیں گے اور مضمحل ہوجائیں گے اور آسمان پر فنا طاری ہوجائے گی، جو اس کے نصیب میں لکھی گئی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے لیے فتنوں سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ کو قبض کرکے اپنی جنت کی طرف لے جائے گا، تو آپ کے اصحاب تک وہ فتنے آئیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو آپ کی امت کے لیے محافظ قرار دیا ہے، جو امت میں ظلم وستم کے ظہور سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ جب آپ کے اصحاب رخصت ہوجائیں گے، تو پھر امت تک وہ چیز آجائے گی جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، جو ناحق چیزوں کے ظہور سے متعلق ہوگی، جس کا تعلق ظلم اور باطل چیزوں سے ہوگا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › Chapter, the preference of the companions and followers, may God be pleased with them · Hadith 7249