Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7214

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِيلٍ الْبَالِسِيُّ أَبُو الطَّاهِرِ بِأَنْطَاكِيَّةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا حَظُّكُمْ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، وَأَنْتُمْ حَظِّي مِنَ الْأُمَمِ»

حضرت ابو درداء روایت کرتے ہیں ' نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا : ''انبیاء میں سے ''میں''تمہارا حصہ ہوں اور امتوں میں سے ''تم ''میرا حصہ ہو''

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي حَبِيبَةَ الطَّائِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِيلٍ الْبَالِسِيُّ أَبُو الطَّاهِرِ بِأَنْطَاكِيَّةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7214

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7215

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَجَرِيُّ بِالْأُبُلَّةِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلْكِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ، [ص:199] وَعَصَوْا أَمَرَهُ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ''بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جب کسی امت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس ات سے پہلے اس کے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے اور اس نبی کو ان لوگوں کے لیے پیش رواور آگے جانے والا بنا دیا ہے' جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے نبی کی زندگی میں ہی ان لوگوں کو عذاب دے دیتا ہے اور ان کو ہلاک کر کے اس نبی کی آنکھوں کو ٹھنڈک دیتا ہے ایسا اس وقت ہوتا ہے ' جب وہ لوگ نبی کو تکلیف دیتے ہیں اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يَزِيدُ: ← أَبُو أُسَامَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْهَجَرِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7215

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7216

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} [البقرة: 143]، قَالَ: «عَدْلًا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺنے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے: ) ''اسی طرح ہم نے تمہیں وسط امت بنایا ہے''۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : ( وسط سے مراد ) عادل ہونا ہے۔

«عَدْلًا» ← النَّبِيِّ فِي قَوْلِهِ: {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} [البقرة: ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7216

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7217

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلَا مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا، فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ قَالَ: فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ؟ قَالَ: فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ؟ ثُمَّ قَالَ: أَنْتُمُ الَّذِينَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى [ص:201] قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، قَالَ: فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، وَقَالُوا: نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً، قَالَ: هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ عَمَلِكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَإِنَّهُ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : 'دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہاری مدت اس طرح ہے جس طرح عصر سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے تمہاری ' یہودیوں کی اور عیسائیوں کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک شخص کچھ مزدوروں کو کام کے لیے رکھتا ہے وہ شخصی یہ کہتا ہے کون میرے لیے ایک قراط کے عو ض میں دوپہر تک کام کرے گا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں تو یہودیوں نے ایک ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک کام کیا پھر وہ شخص کہتا ہے کون میرے لیے دوپہر سے لے کر عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض میں کام کرے گا نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں تو عیسائیوں نے دوپہر سے لے کر عصر کے وقت تک کام کیا پھر وہ شخص کہتا ہے کون میرے لیے عصر کی نما ز سے لیکر سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط کے عوض میں کام کرے گا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم وہ لوگ ہو جو عصر سے لے کے سورج غروب ہونے تک دو دو قراط کے عوض میں کام کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اس بات ہر یہود ی اور عیسائی غصے میں آگئے انہوں نے کہا : ہم نے زیادہ کام کیا ہے اور تھوڑا معاوضہ ملا ہے ۔پروردگار نے فرمایا : کیا میں نے تمہارے کام کے حوالے سے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ' تو پروردگار نے فرمایا : یہ میرا افضل ہے میں جسے چاہوں عطا کروں گا ''۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7217

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7218

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلًا يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ إِلَى اللَّيْلِ، فَعَمِلُوا لَهُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ، ثُمَّ قَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أَجْرِكَ الَّذِي اشْتَرَطْتَ لَنَا، وَمَا عَمَلُنَا بَاطِلٌ، قَالَ لَهُمْ: لَا تَفْعَلُوا أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ، وَخُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلًا، فَأَبَوْا وَتَرَكُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ بَعْدَهُمْ، فَقَالَ: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ لَهُمْ مِنَ الْأَجْرِ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ صَلَاةُ الْعَصْرِ، قَالُوا: الَّذِي عَمِلْنَا بَاطِلٌ، وَلَكَ الْأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ، قَالَ: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ، فَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ [ص:202] شَيْءٌ يَسِيرٌ أَحْسَبُهُ، قَالَ: فَأَبَوْا، قَالَ: ثُمَّ عَمِلْتُمْ مِنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ، فَذَلِكَ مَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالَّذِينَ تَرَكُوا مَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ بِهِ، وَمَثَلُ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ قَبِلُوا هَدْيَ اللَّهِ، وَمَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت ابو موسی ٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''مسلمانوں ' یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے جو کچھ لوگوں کو مزدور رکھتا ہے کہ وہ سارا دن رات تک اس کے لیے کام کریں گے اور انہیں رات تک کام کرنے کا معاوضہ ملے گا انہوں نے دوپہر تک اس کے لیے کام کیاپھر ان مزدوروں نے کہا: ہمیں تمہارے اس معاوضے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو تم نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا اور ہم نے جو کام کیا ہے وہ رائیگا گیا ' تو اس شخص نے ان سے کہا : تم ایسا نہ کرو تم اپنا بقیہ دن کو مکمل کر لو اور اپنا مکمل معاوضہ وصول کر لو لیکن انہوں نے اس چیز کو نہیں مانا اور انہوں نے اس کام کو چھوڑ دیا تو اس شخص نے دوسر ے لوگوں کو ان کے بعد مزدور رکھا اور کہا : تم بقیہ دن کام کرو تا ہم میں تمہی وہی اجر دوں گا ' جو میں نے ان لوگوں کے لئے معاوضہ مقرر کیا تھا '' تو ان لوگوں نے کام کیا یہاں تک کہ جب عصر کا وقت ہوا ' تو انہوں نے کہا: ہم نے جو کام کیا تھا وہ رائیگاں جاتا ہے تمہارا اجر تمہیں ملے جسے تم نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو وہ شخص کہتا ہے تم اپنا بقیہ کام پورا کر لو کیونکہ اب دن ختم ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا ہے (راوی کہتے ہیں ) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ' کی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو ان لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے عصر سے لے کر رات تک کام کیا (یعنی سورج غروب ہونے تک کام کیا)'' یہ یہودیوں ، عیسائیوں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے جس حکم کو چھوڑا اس کی مثال ہے اور مسلمانوں کی مثال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو قبول کیا اور اللہ کے رسول جو لے کر آئے تھے اسے قبول کیا ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7218

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7219

أَخْبَرَنَا وَصِيفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ بِأَنْطَاكِيَّةَ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ' نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا ء ' نسیان او ر جس چیز پر انہیں مجبور کیا گیا ہو ان تمام چیزوں سے درگزر کیا ہے''۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← وَصِیفُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْحَافِظُ بِاَنْطَاکِیَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7219

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7220

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرًا، قَالَ: لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ} [الأنعام: 65]، قَالَ: «أَعُوذُ [ص:204] بِوَجْهِكَ»، {أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ} [الأنعام: 65]، قَالَ: «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ»، {أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ} [الأنعام: 65]، قَالَ: «هَاتَانِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَرُ»

سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: عمر و نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا جب نبی اکرم ﷺْپر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ''تم یہ فرما دو! قہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے تم پر عذاب بھیج دے ''۔ تو نبی اکرم ﷺ نے یہ کہا : میں تیری ذات کی پناہ مانگتا ہوں (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ''یا تمہارے نیچے سے بھیج دے''/ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں تیری ذات کی پناہ مانگتاہوں ( ارشاد باری تعالی ہے) ''یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسم کر دے یوں کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو''۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ دونوں چیزیں زیادہ ہلکی اور زیادہ آسان ہیں۔

«هَاتَانِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَرُ» ← «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ»، ← «أَعُوذُ بِوَجْهِكَ»، ← لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ ← عمرو جابرا ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7220

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7221

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، [ص:205] حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ: «إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَنْ سَلَفَ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ، فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا عَنْهَا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، وَأُعْطِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ، فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى إِذَا بَلَغُوا صَلَاةَ الْعَصْرِ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، وَأُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ، فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ أُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، قَالَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ: رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَقَلُّ عَمَلًا مِنَّا وَأَكْثَرُ أَجْرًا، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: هَلْ ظُلِمْتُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ شَيْئًا؟ فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : آپ اس وقت منبر پر کھڑے ہوئے تھے ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7221

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7222

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ [ص:206] أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں 'نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ''لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا ہے پھر اس کے بعد والا ہے پھر وہ لوگ آئیں گے جن میں سے کسی ایک شخص کی گواہی ا س کی قسم سے پہلے ہوگی ' اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہو گی''۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عُبَيْدَةُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7222

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7223

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ يَلُونِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ''میری امت میں سب سے بہتر وہ زمانہ ہے ' جو میرے بعد والا ہے ۔ پھر ان کے بعد والا ہے ۔ پھر ان کے بعد والا ہے ۔ پھر وہ لوگ آئیں گے جن میں سے کسی ایک کی گواہی اس کی قسم سے پہلے ہو گی ' اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہوگی''۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7223

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7224

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ، فَقَالَ: كَيْفَ أَهْلُ بَدْرٍ فِيكُمْ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُمْ عِنْدَنَا أَفَاضِلُ النَّاسِ»، قَالَ: وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ عِنْدَنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ « قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ وَجَدُّهُ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رَوَاهُ [ص:208] سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَسُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنْ جَرِيرٍ وَأَتْقَنُ، وَأَفْقَهُ كَانَ إِذَا حَفِظَ الشَّيْءَ لَمْ يُبَالِ بِمَنْ خَالَفَهُ

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک فرشتہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ااس نے عرض کی : آپ کے درمیان اہل بدر کی کیا حثیت ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہیں تو اس نے عرض کی : جو فرشتے اس میں شریک ہوئے تھے ۔ وہ ہمارے نزدیک یہی حثیت رکھتے ہیں ن۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ روایت جریر بن عبدالحمید نے یحییٰ بن سعید کے حوالے سے معاذ بن رفاعہ کے حوالے سے انکے والد سے نقل کی ہے۔ ان کے والد اور ان کے دادا دونوں کو بیعت عقبہ میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ سفیان ثوری نے یہ روایت یحییٰ بن سعید کے حوالے سے عبایہ بن رفاعہ کے حوالے سے اور ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔ سفیان ' جریر کے مقابلے میں زیادہ بڑے حافظ الحدیث ' زیادہ متقن اور زیادہ بڑے فقیہہ ہیں اور جب وہ کسی چیز کو یاد رکھتے ہوں تو وہ اس کی پروا ہ نہیں کرتے کے ان کے بر خلاف الفاظ کس نے نقل کیے ہیں ۔

عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ وَقَدْ رَوَاهُ [ص:208] سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ← أَبِيهِ، وَكَانَ أَبُوهُ وَجَدُّهُ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ، ← مُعَاذُ بْنُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو حَاتِمٍ: رَوَى هَذَا الْخَبَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ عِنْدَنَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ ← النَّبِيُّ «هُمْ عِنْدَنَا أَفَاضِلُ النَّاسِ»، ← كَيْفَ أَهْلُ بَدْرٍ فِيكُمْ؟ ← أَتَى النَّبِيَّ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ، ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← علي بن قادم ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانٍ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7224

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7225

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ سُحَيْمًا حَدَّثَهُ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:209] تَمْرٌ وَرُطَبٌ، فَأَكَلُوا مِنْهُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُ شَيْءٌ، إِلَّا نَوَاةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟ » قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَذْهَبُونَ الْخَيِّرَ فَالْخَيِّرَ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْكُمْ إِلَّا مِثْلُ هَذَا»

حضرت رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کی خدمت میں تازہ اور خشک کھجوریں پیش کی گئیں ۔ لوگوں نے انہیں کھا لیا ' یہاں تک کہ ان میں سے ایک گٹھلی باقی رہ گئی ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اچھے لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہو جائیں گے یہاں تک کہ تم میں سے صرف اس کی مانند ( بیکار لوگ ) باقی رہ جائیں گے۔

بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7225

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr