Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7214
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا :
''بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جب کسی امت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس ات سے پہلے اس کے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے اور اس نبی کو ان لوگوں کے لیے پیش رواور آگے جانے والا بنا دیا ہے' جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے نبی کی زندگی میں ہی ان لوگوں کو عذاب دے دیتا ہے اور ان کو ہلاک کر کے اس نبی کی آنکھوں کو ٹھنڈک دیتا ہے ایسا اس وقت ہوتا ہے ' جب وہ لوگ نبی کو تکلیف دیتے ہیں اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7215
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺنے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے: )
''اسی طرح ہم نے تمہیں وسط امت بنایا ہے''۔
نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : ( وسط سے مراد ) عادل ہونا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7216
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
'دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہاری مدت اس طرح ہے جس طرح عصر سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے تمہاری ' یہودیوں کی اور عیسائیوں کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک شخص کچھ مزدوروں کو کام کے لیے رکھتا ہے وہ شخصی یہ کہتا ہے کون میرے لیے ایک قراط کے عو ض میں دوپہر تک کام کرے گا ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں تو یہودیوں نے ایک ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک کام کیا پھر وہ شخص کہتا ہے کون میرے لیے دوپہر سے لے کر عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض میں کام کرے گا نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں تو عیسائیوں نے دوپہر سے لے کر عصر کے وقت تک کام کیا پھر وہ شخص کہتا ہے کون میرے لیے عصر کی نما ز سے لیکر سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط کے عوض میں کام کرے گا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم وہ لوگ ہو جو عصر سے لے کے سورج غروب ہونے تک دو دو قراط کے عوض میں کام کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اس بات ہر یہود ی اور عیسائی غصے میں آگئے انہوں نے کہا : ہم نے زیادہ کام کیا ہے اور تھوڑا معاوضہ ملا ہے ۔پروردگار نے فرمایا : کیا میں نے تمہارے کام کے حوالے سے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ' تو پروردگار نے فرمایا : یہ میرا افضل ہے میں جسے چاہوں عطا کروں
گا ''۔
ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7217
حضرت ابو موسی ٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
''مسلمانوں ' یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے جو کچھ لوگوں کو مزدور رکھتا ہے کہ وہ سارا دن رات تک اس کے لیے کام کریں گے اور انہیں رات تک کام کرنے کا معاوضہ ملے گا انہوں نے دوپہر تک اس کے لیے کام کیاپھر ان مزدوروں نے کہا: ہمیں تمہارے اس معاوضے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو تم نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا اور ہم نے جو کام کیا ہے وہ رائیگا گیا ' تو اس شخص نے ان سے کہا : تم ایسا نہ کرو تم اپنا بقیہ دن کو مکمل کر لو اور اپنا مکمل معاوضہ وصول کر لو لیکن انہوں نے اس چیز کو نہیں مانا اور انہوں نے اس کام کو چھوڑ دیا تو اس شخص نے دوسر ے لوگوں کو ان کے بعد مزدور رکھا اور کہا : تم بقیہ دن کام کرو تا ہم میں تمہی وہی اجر دوں گا ' جو میں نے ان لوگوں کے لئے معاوضہ مقرر کیا تھا '' تو ان لوگوں نے کام کیا یہاں تک کہ جب عصر کا وقت ہوا ' تو انہوں نے کہا: ہم نے جو کام کیا تھا وہ رائیگاں جاتا ہے تمہارا اجر تمہیں ملے جسے تم نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے تو وہ شخص کہتا ہے تم اپنا بقیہ کام پورا کر لو کیونکہ اب دن ختم ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا ہے (راوی کہتے ہیں ) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ' کی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو ان لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے عصر سے لے کر رات تک کام کیا (یعنی سورج غروب ہونے تک کام کیا)''
یہ یہودیوں ، عیسائیوں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے جس حکم کو چھوڑا اس کی مثال ہے اور مسلمانوں کی مثال ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو قبول کیا اور اللہ کے رسول جو لے کر آئے تھے اسے قبول کیا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7218
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ' نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
''بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا ء ' نسیان او ر جس چیز پر انہیں مجبور کیا گیا ہو ان تمام چیزوں سے درگزر کیا ہے''۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7219
سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: عمر و نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا جب نبی اکرم ﷺْپر یہ آیت نازل ہوئی ۔
''تم یہ فرما دو! قہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے تم پر عذاب بھیج دے ''۔
تو نبی اکرم ﷺ نے یہ کہا : میں تیری ذات کی پناہ مانگتا ہوں (ارشاد باری تعالیٰ ہے)
''یا تمہارے نیچے سے بھیج دے''/
تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : میں تیری ذات کی پناہ مانگتاہوں ( ارشاد باری تعالی ہے)
''یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسم کر دے یوں کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو''۔
نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ دونوں چیزیں زیادہ ہلکی اور زیادہ آسان ہیں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7220
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7221
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں 'نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا :
''لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا ہے پھر اس کے بعد والا ہے پھر وہ لوگ آئیں گے جن میں سے کسی ایک شخص کی گواہی ا س کی قسم سے پہلے ہوگی ' اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہو گی''۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7222
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
''میری امت میں سب سے بہتر وہ زمانہ ہے ' جو میرے بعد والا ہے ۔ پھر ان کے بعد والا ہے ۔ پھر ان کے بعد والا ہے ۔ پھر وہ لوگ آئیں گے جن میں سے کسی ایک کی گواہی اس کی قسم سے پہلے ہو گی ' اور اس کی قسم اس کی گواہی سے پہلے ہوگی''۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7223
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک فرشتہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ااس نے عرض کی : آپ کے درمیان اہل بدر کی کیا حثیت ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہیں تو اس نے عرض کی : جو فرشتے اس میں شریک ہوئے تھے ۔ وہ ہمارے نزدیک یہی حثیت رکھتے ہیں ن۔
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ روایت جریر بن عبدالحمید نے یحییٰ بن سعید کے حوالے سے معاذ بن رفاعہ کے حوالے سے انکے والد سے نقل کی ہے۔ ان کے والد اور ان کے دادا دونوں کو بیعت عقبہ میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔
سفیان ثوری نے یہ روایت یحییٰ بن سعید کے حوالے سے عبایہ بن رفاعہ کے حوالے سے اور ان کے دادا حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔
سفیان ' جریر کے مقابلے میں زیادہ بڑے حافظ الحدیث ' زیادہ متقن اور زیادہ بڑے فقیہہ ہیں اور جب وہ کسی چیز کو یاد رکھتے ہوں تو وہ اس کی پروا ہ نہیں کرتے کے ان کے بر خلاف الفاظ کس نے نقل کیے ہیں ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7224
حضرت رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کی خدمت میں تازہ اور خشک کھجوریں پیش کی گئیں ۔ لوگوں نے انہیں کھا لیا ' یہاں تک کہ ان میں سے ایک گٹھلی باقی رہ گئی ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اچھے لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہو جائیں گے یہاں تک کہ تم میں سے صرف اس کی مانند ( بیکار لوگ ) باقی رہ جائیں گے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7225