Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6950

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَالْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَرْحَمُ بِالْعِيَالِ مِنْ [ص:401] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُهُ مُسْتَرْضِعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ وَيَرْجِعُ، قَالَ عَمْرٌو: فَلَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ ابْنِي إِبْرَاهِيمَ كَانَ فِي الثَّدْيِ، وَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ تُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :میں نبی اکرم ﷺ سے زیادہ اور کسی کو اپنے گھر والوں کے لئے زیادہ رحم دل نہیں دیکھا ۔ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ جو نبی اکرمﷺ کے صاحب زادے تھے وہ مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں (کسی گھر میں ) دودھ پیتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ تشریف لے جایا کرتے تھے ہم آپ ﷺ کے ساتھ جاتے تھے۔نبی اکرم ﷺ گھر میں داخل ہوئے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کا رضاعی باپ ایک لوہار نبی اکرم ﷺ اس بچے کو لیتے اسے بوسہ دیتے اور واپس تشریف لے آتے۔ عمر و نامی راوی کہتے ہیں : جب حضرت ابر اہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرا بیٹا ابرا ہیم ابھی دودھ پیتا بچہ تھا 'جنت میں اس کی رضاعت مکمل کرنے کےلئے دو' دودھ پلانے والیاں ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَالْأَشَجُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6950

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6951

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، [ص:402] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ: مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''تمام جہان کی خواتین میں سب سے بہتر مریم بنت عمران ' خدیجہ خویلد 'فاطمہ بنت محمد اور فرعون کی بیوبی آسیہ ہیں ۔''

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ، [ص:402] ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6951

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6952

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُكِ أَكْبَبْتِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَبَكَيْتِ، ثُمَّ أَكْبَبْتِ عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ، فَضَحِكْتِ «، قَالَتْ: » أَكْبَبْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَكْبَبْتُ عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ، فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ، وَأَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكَتُ «

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نے فاطمہ بنت رسول اللہ سے کہا : میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نبی اکرم ﷺ کی بیماری کے دوران نبی اکرم ﷺ پر جھک گئیں اور پھر رونے لگیں پھر آپ دوسری مرتبہ نبی اکرم ﷺ پر جھکیں اور ہنسنے لگیں ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : جب میں آپ ﷺ پر جھکی تو آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ آپ ﷺ کا انتقال ہونے لگا ہے' تو میں رونے لگ پڑی پھر میں دوسری مرتبہ آپ ﷺ پر جھکی تو آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ آپ ﷺ کے گھر والوں میں ' میں سب سے پہلے آپ ﷺ کو آکر ملوں گی اور یہ کہ میں اہل جنت کی تمام خواتین کی سردار ہوں صرف سیدہ مریم بنت عمران کا حکم مختلف ہے اس بات پر میں ہنس پڑی۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6952

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6953

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا، كَانَ أَشْبَهَ كَلَامًا وَحَدِيثًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ، وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ، قَامَ إِلَيْهَا وَقَبَّلَهَا، وَرَحَّبَ بِهَا، وَأَخَذَ بِيَدِهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَتْ هِيَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَخَذَتْ بِيَدِهِ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَأَسَرَّ إِلَيْهَا، فَبَكَتْ، ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيْهَا، فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ: كُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ فَضْلًا عَلَى النَّاسِ، فَإِذَا هِيَ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ بَيْنَا هِيَ تَبْكِي إِذَا هِيَ تَضْحَكُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: أَسَرَّ إِلَيَّ أَنَّهُ مَيِّتٌ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَسَرَّ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ [ص:404] فَضَحِكَتْ»

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں نےایسا کوئی شخص نہیں دیکھا ' جو بات چیت کرنے او ر گفتگو میں فاطمہ سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے مشابہت رکھا ہو ۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس تشریف لاتی تھیں ' تو آپ ﷺ ان کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے ان کا بوسہ لیتے تھے اور جب نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لے جاتے تھے وہ نبی اکرم ﷺ کے لیے کھڑی ہو جاتی تھیں نبی اکرم ﷺ ان کا بوسہ لیتی تھیں نبی اکرم ﷺ کاہاتھ پکڑتی تھیں ۔نبی اکرم ﷺ کی و ہ بیماری جس میں آپ ﷺ کا وصال ہو اس کے دوران سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نبی اکر م ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ' تو نبی اکرم ﷺ نے سرگوشی میں ا ن کے ساتھ کوئی بات کی تو وہ رونے لگ پڑیں پھر نبی اکر م ﷺ نے سر گوشہ میں ان کے ساتھ کوئی بات چیت کی وہ ہنسنے پڑیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : میں یہ سمجھتی تھی اس خاتون کو دیگر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے (یعنی یہ دوسروں سے زیادہ سمجھدار ہے) لیکن یہ تو ایک عورت ثابت ہوئی ابھی رو رہی تھیں ابھی ہنسنے لگ پڑیں ہیں ' جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا گیا تو میں ان سے اس بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے بتایا : پہلے نبی اکرم ﷺ نے سرگوشی میں مجھے بتایا کہ آپ ﷺ کا وصا ل ہو نے والا ہے ' تو میں رو پڑی پھر نبی اکرم ﷺ نے سرگوشی میں مجھے یہ بتایا کہ آپ ﷺ کے اہل خانہ میں سب سے پہلے میں آپ ﷺ سے آ ملوں گی' تو میں ہنس پڑی۔

أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ: ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6953

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6954

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي [ص:405] وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ، فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا، فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ، فَضَحِكَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ بَعْدَهُ، فَقَالَتْ: سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَ مَرَّةٍ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي مَرَضِهِ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ، فَضَحِكَتُ «

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیماری کے دوران سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو بلایا جس بیماری کے دوران آپ ﷺ کا انتقال ہوا' آپ ﷺ نے سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات کی تو وہ رونے لگ پڑیں پھر آپ ﷺ نے انہیں بلایا اور ان کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کی اور وہ بات کی تو وہ ہنسنے لگ پڑیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: بعد میں 'میں نے فاطمہ سے اس بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے پہلی مرتبہ سر گوشی میں مجھے بتایا کہ اس بیماری کے دوان آپ ﷺ کا وصال ہو جائے گا ' تو میں رونے لگ پڑ ی پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے ساتھ سر گوشی کرتے ہوئے یہ بتایا کہ آپ ﷺ کے اہل خانہ میں سب سے پہلےمیں آپ ﷺ کو آکر ملوں گی' تو میں ہنس پڑی۔

أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ، فَضَحِكَتُ ← أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي مَرَضِهِ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي ← سَارَّنِي النَّبِيُّ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ← ذَلِكَ بَعْدَهُ، ← عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهَا ← جَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ، فَبَكَتْ، ثُمَّ دَعَاهَا، فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ، فَضَحِكَتْ، ← دَعَا النَّبِيُّ فَاطِمَةَ فِي ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6954

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6955

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: «إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، اسْتَأْذَنُونِي أَنْ يَنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيًّا عَلَى ابْنَتِي، فَلَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، إِلَّا أَنْ يُحِبَّ عَلِيٌّ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي، [ص:406] وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّمَا ابْنَتِي بَضْعَةٌ مِنِّي، يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا، وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا»

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ''بنو ہاشم بن مغیرہ نے مجھ سے یہ اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی علی کے ساتھ کر دیں جبکہ میری بیٹی (پہلے ہی اس کی بیوی ہے) میں انہیں اجازت نہیں دوں گا میں انہیں ہر گز اجازت نہیں دوں گا البتہ اگر وہ چاہے ' تو میری بیٹی کو طلاق دیدے اور ان کی بیٹی سے شادی کر لے میری بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے ' جو چیز اسے خوش کرتی ہے وہ مجھے خوش کرتی ہے۔ مجھے وہ چیز بری لگتی ہے جو اسے بری لگتی ہے' جو اسے تکلیف دیتی ہے وہ مجھے تکلیف دیتی ہے۔''

رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الْمِنْبَرِ ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6955

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6956

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَهُ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ، قَالَ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَخْطُبُ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ كالْمُحْتَلِمِ، فَقَالَ: «إِنَّ فَاطِمَةَ مِنِّي، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا، وَذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ، فَأَحْسَنَ، قَالَ: » حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي، وَوَعَدَنِي فَوَفَى لِي، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا «

حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حجرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ ( کے ساتھ شادی کے بعد ) ابو جہل کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : میں ان دنوں قریب البلوغ تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : فاطمہ مجھ سے ہے اور مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ اسے اس کے دین کے حوالے سے آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا پھر نبی اکرم ﷺ نے بنو عبدالشمس سے تعلق رکھنے والے اپنے داماد کا ذکر کیا اور ان کے دامادی سلوک کی تعریف کی اور اچھائی بیان کی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نے جب بھی میرے ساتھ بات کی سچ کی اور میرے ساتھ وعدہ کیا ' تو وعدہ پورا کیا میں کسی حلال چیز کو حرام قرار نہیں دیتا اور نہ ہی کسی حرام چیز کو حلال قرار دیتا ہوں لیک اللے کے رسول کی صاحب زادی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ہی جگہ کبھی اکٹھی نہیں ہو سکتیں ۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6956

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6957

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ النَّاسَ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَشَهِدْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَشَهَّدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ ابْنَتِي فَحَدَّثَنِي، فَصَدَقَنِي، وَإِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي وَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ عِنْدَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ» فَأَمْسَكَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی صاحب زادی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا اس بات کی اطلاع سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو ملی تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی : لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنی صاحب زادیوں کی وجہ سے غصے میں نہیں آتے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ابو جہل کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنے لگے ہیں ۔

الزُّهْرِيِّ، ← عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي مَنِيعٍ، ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6957

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6958

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:410] حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟ »، قُلْنَا: حَرْبًا، قَالَ: «لَا، بَلْ هُوَ حَسَنٌ»، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ» قُلْنَا: حَرْبًا، قَالَ: «بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ» فَلَمَّا وُلِدَ لِي الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟ »، فَقُلْنَا: سَمَّيْنَاهُ حَرْبًا، قَالَ: «بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّمَا سَمَّيْتُهُمْ بِوَلَدِ هَارُونَ: شَبَّرٌ وَشَبِّيرٌ وَمُشَبِّرٌ»

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حسن پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا ۔ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے فرمایا : میر ا بیٹا مجھے دکھاؤ تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے۔ ہم نے کہا : حرب۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ حسن ہے' پھر جب حسین پید ا ہوئے تو میں نے اسکا نام حرب رکھا دیا ۔ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے فرمایا : میر ا بیٹا مجھے دکھاؤ تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے۔ ہم نے کہا : حرب۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ حسین ہے ' پھر جب میرے ہاں تیسرا بچہ ہوا تو میں اس کا نا م حرب رکھا نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے فرمایا : میر ا بیٹا مجھے دکھاؤ تم لوگوں نے اس کا کیا نام رکھا ہے۔ ہم نے کہا : حرب۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ محسن ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں ان کے نام حضرت ہارون ؑ کی اولادکے نام پر شبر ،شبیراور مشبر رکھتا ہوں ۔

«إِنَّمَا سَمَّيْتُهُمْ بِوَلَدِ هَارُونَ: شَبَّرٌ وَشَبِّيرٌ وَمُشَبِّرٌ» ← «بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ»، ثُمَّ ← «أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟ فَقُلْنَا: سَمَّيْنَاهُ حَرْبًا، ← «بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ» فَلَمَّا وُلِدَ لِي الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ ← «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ» قُلْنَا: حَرْبًا، ← «لَا، بَلْ هُوَ حَسَنٌ»، فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ ← «أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ» قُلْنَا: حَرْبًا، ← لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ ← عَلِيٍّ، ← هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، [ص:267] ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6958

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6959

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ [ص:412] بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِلَّا ابْنَيِ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :

النَّبِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي ← الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← زِيَادُ [ص:412] بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6959

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6960

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ النَّهْدِيِّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَاتَّبَعْتُهُ، فَقَالَ: «عَرَضَ لِي مَلَكٌ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ، وَبَشَّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ»

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی پھر نبی اکرم ﷺ نماز اداکرنے کے لئے کھڑے ہوگئے۔ یہاں تک کہ آ پ ﷺ نے عشاء کی نماز اد ا کر لی پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے اور میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے سامنے ایک فرشتہ آیا جس نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی تھی کہ وہ مجھ پر سلام بھیجے اس فرشتے نے مجھے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ حسن اورحسین جنت کے نو جوانوں کے سردار ہیں ۔

حُذَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَيْسَرَةَ النَّهْدِيِّ، ← اِسْرَائِیْلُ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6960

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6961

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّقَالُ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُنِي فَيُقْعِدُنِي عَلَى فَخِذِهِ، وَيُقْعِدُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى فَخِذِهِ الْأُخْرَى، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَرْحَمُهُمَا فَارْحَمْهُمَا»

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے پکڑکر اپنی زانوں پر بٹھا لیتے تھے اور حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسرے زانوں پر بٹھا لیتے تھے پھر آپ ﷺ یہ کہتے تھے۔ ''اے اللہ ! میں ان دونوں پر رحم کرتا ہوں ' تو بھی ان دونوں پر رحم کر ۔''

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ النَّ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6961

chevron_left Previous
1…8910…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr