عبیدہ سلمانی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ان میں ایک ایسا شخص ہو گا ' جس کا ایک ہاتھ چھوٹا ہوگا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ایک ہاتھ نامکمل ہو گا اگر تم لوگ فخر کا اظہار نہ کرو تو میں تم لوگوں کو بتاتا ہوں اللہ تعالی نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے لئے اپنے نبی کی زبانی کیا وعدہ کیا ہے۔ راو ی کہتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی انہوں نےفرمایا جی ہاں رب کعبہ کی قسم جی ہاں رب کعبہ کی قسم جی ہاں رب کعبہ کی قسم ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6938
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6939
حضرت عبید اللہ بن ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حروریہ (یعنی خارجیوں ) نےظہور کیا ' تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ان لوگوں نے کہا : ثالث صرف اللہ تعالی ہو سکتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : الفاظ حق ہیں لیکن اس کے ذریعے باطل مفہوم مرادلیا جا رہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو حلیہ بیان کیا تھا میں ان لوگوں میں وہ والے حلیے کو دیکھ رہا ہوں یہ لوگ اپنی زبانوں کے ذریعے حق بیان کرتے ہیں : (یعنی قرآن پڑھتے ہیں ) لیکن وہ اس سےآگے نہیں جاتا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا :ا ور وہ اللہ تعالی کے نزدیک اس کی مخلوق کے سب سے زیادہ نا پسندیدہ لوگ ہیں ان میں ایک سیاہ فام شخص ہے ' جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرف ہے' جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگو ں کو قتل کر دیا تو فرمایا اس بات کا جائزہ لو جب انہوں نے جائزہ لیا تو وہ انہیں وہ شخص نہیں ملا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ واپس جاؤ اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر ایسا شخص ان لوگوں کو ایک کھنڈر میں مل گیا وہ لوگ اسے لے کر آئے 'یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔
عبید اللہ نامی راوی کہتے ہیں:میں ان (خوارج ) کے واقعہ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کے ان کے بارے میں اس بیان کے وقت موجود تھا ۔
علي كلمة حق أريد بها باطل ← لا حكم إلا لله ← أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيٍّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← ابْنُ سَلْمٍ، آخَرَ مَعَهُ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6939
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6940
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بیمار ہو گیا نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے تو میں یہ کہہ رہاتھا ۔
''اے اللہ ! اگر میر ی موت کا وقت آ چکا ہے ' تو مجھے راحت عطا کر دے اور اگر ابھی موت کا وقت دور ہے ' تو مجھے (ٹھیک کرکے) کھڑا کر دے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہے ' تو مجھے صبر عطا کر ۔''
تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تم نے کیا کہا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ کلمات دوہرادئیے 'تو مجھے نبی اکرم ﷺ نے اپنا پاؤں انہیں مارا اور یہ کہا ۔
''اے اللہ ! اسے عافیت عطا کر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اسے شفا ء عطا کر '' یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد مجھے کبھی درد کے حوالے س شکایت نہیں ہوئی ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6940
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6941
حضرت علی ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی :
''اےایمان والو! جب تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو تو اپنی سر گوشی سے پہلے کوئی چیز نذر پیش کر دیا کرو۔''
اس سے مراد نذر پیش کرنا تھا نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : تمہاری کیا رائے ہے یہ نذر ایک دینار ہونی چاہئے میں نے کہا : لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: پھر کتنی ہونی چاہئے میں نے کہا : کچھ جَو ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم زیادہ کم کر رہے ہو 'تویہ آیت نازل ہوئی :
''کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تم اپنی سر گوشی سے پہلے نذر پیش کرو۔''
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ' تو میری وجہ سے اللہ تعالی نے اس امت کی تخفیف کر دی۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6941
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6942
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی :
''اے ایمان والو! جب تم رسول سے سر گوشی کرو تو نذر پیش کر دو۔''
راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے علی ان لوگوں سے کہو وہ صدقہ کریں (یعنی نذر پیش کریں ) انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کتنی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ایک دینار ۔ میں نے عرض کی : لوگ ا س کی طاقت نہیں رکھیں گے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :نصف دینار۔ انہوں نے عرض کی: لوگ اس کی بھی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پھر کتنی ہونی چاہئے ۔ انہوں نے عرض کی : کچھ جَو ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم بہت زیادہ کمی کر رہے ہو۔ راوی کہتے ہیں : پھر اللہ تعالی نے یہ آیت ناز ل کی:
''کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ سر گوشی سے پہلے نذر پیش کرو جب تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تعالی تمہاری تو بہ کو قبول کرے گا تم لوگ نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو۔''
حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے: میری وجہ سے اس امت س تخفیف ہوئی ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6942
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6943
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
''میرے بعد خلافت 30 سال تک ہوگی پھر ملوکیت ہوگی۔''
(راوی بیان کرتے ہیں ) تم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلاف کے دو سال ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دس سال ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے 12 سال ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چھ سال شمار کر لو تو (یہ پورے 30 سال ہو جائیں گے)
علی بن زیاد کہتے ہیں : میں نے حماد بن سلمہ سے دریافت کیا : یہ لفظ ''تم شمار کر لو'' یہ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6943
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6944
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ! آپ ﷺ میری خیر خواہی اور امیرے قدیم اسلام ہونے سے واقف ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا : تو پھر کیا ہوا ۔ انہوں نے عرض کی : آپ ﷺ سید ہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری شادی کردیں۔ راوی کہتے ہیں :تو نبی اکرم ﷺ خامو ش رہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : میں ہلاکت کا شکار ہوگیا مجھے ہلاکت کا شکارکر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا : وہ کیسے ۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا تو نبی اکرمﷺ نے مجھ سے اعراض کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:آپ اپنی جگہ پر رہیں میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جاتاہوں اور وہی گزارش کرتا ہوں جو آپ نے ک تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپﷺ میری خیر خواہی اور قدیم اسلام ہونے سے واقف ہیں میرے اندر یہ یہ خوبیاں ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تو کیاہوا۔ انہوں نے عرض کی: آپ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو میرے ساتھ شادی کر دیں ۔ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے 'پھر حضرت عمر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے اور انہیں بتایا کہ نبی اکرم ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں آپ ہمارے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں 'تا کہ وہ وہی گزارش کریں جو ہم نے کی تھی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ دونوں صاحبان میرے پاس آئے میں اس وقت اپنے کھجور کے چھوٹے درختو ں میں کام کر رہا تھا ۔ ان دونوں نے کہا: ہم آپ کے چچا زاد (یعنی نبی اکرم ﷺ ) کی طرف سے پیغام نکاح لے کر آپ کے پاس آئے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : ان دونوں نے مجھے صورت حال کے بارے میں متنبہ کیا' تو میں اپنی چادر کوگھسیٹتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ' یہاں تک کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو امیں آپ ﷺکے سامنے بیٹھ گیا میں نے عر ض کی : یا رسول اللہ! آپ ﷺ اسلام میں میرے قدیم ہونے اور میرے اندر یہ یہ خوبیاں ہیں ۔ نبی اکرم رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے۔ میں ےنے عرض کی : میر ا گھوڑا اور میر اونٹ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہاں تک تمہارے گھوڑے کا تعلق ہے وہ تمہارے پاس رہنا ضروری ہے البتہ جہاں تک تمہارے اونٹ کا تعلق ہے اسے تم فروخت کر دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ' تو میں نے 480 (درہم یا دینار) کے عوض میں اسے فروخت کر دیا میں وہ لے آیا اور اسے نبی اکرم ﷺ کی جھولی میں رکھ دیا ۔ نبی اکرم نے اسے مٹھی میں لیا اور فرمایا : اے بلال اس کے ذریعے تم ہمارے لیے خوشبو خریدو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو ہدایت کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا جہیز تیا کریں ۔ نبی اکرمﷺ نے ان کے لیے ایک پلنگ بنوایا او ر ایک تکیہ بنوایا جو چمڑے کا بنا ہوا تھا اس کے اندرکھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا جب وہ تمہارے پاس آئے ' تو تم میرے آنے سے پہلے اس سے کوئی بات نہ کرنا پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سید ہ ام ایمن کے ساتھ (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر) آگئیں یہاں تک کہ وہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئیں اور میں دوسرے کونے میں بیٹھ گیا پھر نبی اکرمﷺ تشریف لائے : آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یہاں میرا بھائی ہے۔ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ ﷺ کے بھائی ہیں آپ ﷺ نے اپنی صاحب زادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی ہاں پھرنبی اکرم ﷺ گھر کے اندر تشریف لائےنبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے پاس پانی لے کر آؤ تو وہ گھر میں موجود پانی کے برتن کی طرف گئیں اور اس میں پانی لے کر آئیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے لیا اس میں سے ایک مرتبہ کلہ کی'پھرآپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا :آگے آؤ ! وہ آگے بڑھیں تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے سینے اور سر پر وہ پانی چھڑکا اور یہ فرمایا: (یعنی یہ دعا کی)
'' اے اللہ ! میں اس اور اس کی اولاد کو ' مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتاہوں ۔''
پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم دوسری طرف رخ کرو انہوں نے دوسر ی طرف رخ کیا ' تو نبی اکرمﷺ نے ان کے دونوں کندھوں کے درمیان میں پانی چھڑکا اور فرمایا : (یعنی دعا کی)
'' اے اللہ ! میں اس اور اس کی اولاد کو ' مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتاہوں ۔''
پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
''تم اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور برکت کے ہمراہ اپنی بیوی کے ساتھ رہو۔''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6944
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6945
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب سیدہ فاطمہ کے ساتھ شادی کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے کچھ دو ۔ انہوں نے عرض کی : میرے پاس کوئی چیز نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری حطمیہ زردہ کہاں ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6945
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6946
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6946
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6947
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو جہیز میں ایک چار اور چمڑے سے بنا ہوا تکیہ دیا تھا ' جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔
(امام ابن حبا ن ؒ فرماتے ہیں : ) خمیلہ اون سے بنی ہوئی سفید چادر کو کہتے ہیں اور صریفین واسطہ میں ایک بستی کا نام ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6947
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6948
ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے لئے شادی کا پیغام بھیجا لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ : چھوٹی ہے' پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے لئے پیغام بھیجا تو نبی اکرم ق نے ان کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دی۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6948
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6949
حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کےصاحب زادے حضرت ابرا ہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو ا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
''اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے۔''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6949