Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6938

أَخْبَرَنَا [أَحْمَدُ بْنُ] مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ، بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، قَالَ: ذَكَرَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: «فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا، لَأَخْبَرْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ قَتَلَهُمْ»، قَالَ: فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ»

عبیدہ سلمانی بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : ان میں ایک ایسا شخص ہو گا ' جس کا ایک ہاتھ چھوٹا ہوگا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ایک ہاتھ نامکمل ہو گا اگر تم لوگ فخر کا اظہار نہ کرو تو میں تم لوگوں کو بتاتا ہوں اللہ تعالی نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے لئے اپنے نبی کی زبانی کیا وعدہ کیا ہے۔ راو ی کہتے ہیں : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی انہوں نےفرمایا جی ہاں رب کعبہ کی قسم جی ہاں رب کعبہ کی قسم جی ہاں رب کعبہ کی قسم ۔

عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6938

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6939

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيٍّ، فَقَالُوا: لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ أُنَاسًا إِنِّي [ص:388] لَأَعْرِفُ وَصْفَهُمْ فِي هَؤُلَاءِ: «يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ، لَا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ - وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ - مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ، فِيهِمْ أَسْوَدُ إِحْدَى يَدَيْهِ حَلَمَةُ ثَدْيٍ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْظُرُوا، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا، فَقَالَ: ارْجِعُوا، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَنَا حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ

حضرت عبید اللہ بن ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حروریہ (یعنی خارجیوں ) نےظہور کیا ' تو وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ان لوگوں نے کہا : ثالث صرف اللہ تعالی ہو سکتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : الفاظ حق ہیں لیکن اس کے ذریعے باطل مفہوم مرادلیا جا رہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے کچھ لوگوں کو حلیہ بیان کیا تھا میں ان لوگوں میں وہ والے حلیے کو دیکھ رہا ہوں یہ لوگ اپنی زبانوں کے ذریعے حق بیان کرتے ہیں : (یعنی قرآن پڑھتے ہیں ) لیکن وہ اس سےآگے نہیں جاتا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا :ا ور وہ اللہ تعالی کے نزدیک اس کی مخلوق کے سب سے زیادہ نا پسندیدہ لوگ ہیں ان میں ایک سیاہ فام شخص ہے ' جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرف ہے' جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگو ں کو قتل کر دیا تو فرمایا اس بات کا جائزہ لو جب انہوں نے جائزہ لیا تو وہ انہیں وہ شخص نہیں ملا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ واپس جاؤ اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے۔ یہ بات انہوں نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر ایسا شخص ان لوگوں کو ایک کھنڈر میں مل گیا وہ لوگ اسے لے کر آئے 'یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ عبید اللہ نامی راوی کہتے ہیں:میں ان (خوارج ) کے واقعہ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کے ان کے بارے میں اس بیان کے وقت موجود تھا ۔

علي كلمة حق أريد بها باطل ← لا حكم إلا لله ← أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيٍّ، ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← ابْنُ سَلْمٍ، آخَرَ مَعَهُ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6939

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6940

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، وَمُحَمَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجْلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ قُلْتَ؟ » فَأَعَادَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ عَافِهِ، أَوِ اشْفِهِ» - شُعْبَةُ الشَّاكُّ -، قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ [ص:389] وَجَعِي ذَلِكَ بَعْدُ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بیمار ہو گیا نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے تو میں یہ کہہ رہاتھا ۔ ''اے اللہ ! اگر میر ی موت کا وقت آ چکا ہے ' تو مجھے راحت عطا کر دے اور اگر ابھی موت کا وقت دور ہے ' تو مجھے (ٹھیک کرکے) کھڑا کر دے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہے ' تو مجھے صبر عطا کر ۔'' تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تم نے کیا کہا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ کلمات دوہرادئیے 'تو مجھے نبی اکرم ﷺ نے اپنا پاؤں انہیں مارا اور یہ کہا ۔ ''اے اللہ ! اسے عافیت عطا کر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اسے شفا ء عطا کر '' یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس کے بعد مجھے کبھی درد کے حوالے س شکایت نہیں ہوئی ۔

أَقُولُ: اللَّهُمَّ ← كُنْتُ شَاكِيًا، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى وَمُحَمَّدٌ، ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6940

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6941

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ} [المجادلة: 12] صَدَقَةً، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَى دِينَارًا؟ » قُلْتُ: لَا يُطِيقُونَهُ، قَالَ: «فَكَمْ؟ » قُلْتُ: شَعِيرَةٌ، قَالَ: «إِنَّكَ لَزَهِيدٌ»، فَنَزَلَتْ {أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ} [المجادلة: 13] الْآيَةَ، قَالَ: فَبِي خَفَّفَ اللَّهُ عَنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت علی ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ''اےایمان والو! جب تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو تو اپنی سر گوشی سے پہلے کوئی چیز نذر پیش کر دیا کرو۔'' اس سے مراد نذر پیش کرنا تھا نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا : تمہاری کیا رائے ہے یہ نذر ایک دینار ہونی چاہئے میں نے کہا : لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: پھر کتنی ہونی چاہئے میں نے کہا : کچھ جَو ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم زیادہ کم کر رہے ہو 'تویہ آیت نازل ہوئی : ''کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تم اپنی سر گوشی سے پہلے نذر پیش کرو۔'' حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ' تو میری وجہ سے اللہ تعالی نے اس امت کی تخفیف کر دی۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الْأَنْمَارِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6941

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6942

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو صَخْرَةَ بِبَغْدَادَ بَيْنَ الصُّورَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ} [المجادلة: 12] الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ، مُرْهُمْ أَنْ يَتَصَدَّقُوا»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِكَمْ؟ قَالَ: «بِدِينَارٍ»، قَالَ: لَا يُطِيقُونَهُ، قَالَ: «فَبِنِصْفِ دِينَارٍ»، قَالَ: لَا يُطِيقُونَهُ، قَالَ: «فَبِكَمْ»؟ قَالَ: بِشَعِيرَةٍ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «إِنَّكَ لَزَهِيدٌ»، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ {أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذَا لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ}، قَالَ: فَكَانَ عَلِيٌّ، يَقُولُ: بِي خُفِّفَ عَنْ [ص:392] هَذِهِ الْأُمَّةِ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ''اے ایمان والو! جب تم رسول سے سر گوشی کرو تو نذر پیش کر دو۔'' راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے علی ان لوگوں سے کہو وہ صدقہ کریں (یعنی نذر پیش کریں ) انہوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کتنی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ایک دینار ۔ میں نے عرض کی : لوگ ا س کی طاقت نہیں رکھیں گے۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :نصف دینار۔ انہوں نے عرض کی: لوگ اس کی بھی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پھر کتنی ہونی چاہئے ۔ انہوں نے عرض کی : کچھ جَو ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم بہت زیادہ کمی کر رہے ہو۔ راوی کہتے ہیں : پھر اللہ تعالی نے یہ آیت ناز ل کی: ''کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ سر گوشی سے پہلے نذر پیش کرو جب تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تعالی تمہاری تو بہ کو قبول کرے گا تم لوگ نماز قائم کرو زکوٰۃ ادا کرو۔'' حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے: میری وجہ سے اس امت س تخفیف ہوئی ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الْأَنْمَارِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، ← عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← قاسم بن يزيد الجرمي، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو صَخْرَةَ بِبَغْدَادَ بَيْنَ الصُّورَيْنِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6942

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6943

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْخِلَافَةُ بَعْدِي ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا»، قَالَ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَشْرًا، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سِتًّا، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ: قُلْتُ لِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: سَفِينَةُ الْقَائِلُ: [ص:393] أَمْسِكْ؟ قَالَ: «نَعَمْ»

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں ۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ''میرے بعد خلافت 30 سال تک ہوگی پھر ملوکیت ہوگی۔'' (راوی بیان کرتے ہیں ) تم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلاف کے دو سال ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دس سال ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے 12 سال ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چھ سال شمار کر لو تو (یہ پورے 30 سال ہو جائیں گے) علی بن زیاد کہتے ہیں : میں نے حماد بن سلمہ سے دریافت کیا : یہ لفظ ''تم شمار کر لو'' یہ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔

نَعَمْ ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ: قُلْتُ لِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: سَفِينَةُ الْقَائِلُ: [ص:393] أَمْسِكْ؟ ← أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ سَنَتَيْنِ، وَعُمَرَ عَشْرًا، وَعُثْمَانَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، وَعَلِيٍّ سِتًّا، ← «الْخِلَافَةُ بَعْدِي ثَلَاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا»، ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَفِينَةَ: ← سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6943

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6944

أَخْبَرَنَا أَبُو شَيْبَةَ دَاوُدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ وَإِنِّي وَإِنِّي، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟ »، قَالَ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ، قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ، فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ: قَدْ هَلَكْتُ وَأُهْلِكْتُ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: خَطَبْتُ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطْلُبُ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْتَ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، [ص:394] قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ، وَإِنِّي وَإِنِّي، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟ »، قَالَ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ، فَسَكَتَ عَنْهُ، فَرَجَعَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ: إِنَّهُ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهَا قُمْ بِنَا إِلَى عَلِيٍّ حَتَّى نَأْمُرَهُ يَطْلُبُ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْنَا، قَالَ عَلِيٌّ: فَأَتَيَانِي وَأَنَا أُعَالِجُ فَسِيلًا لِي، فَقَالَا: إِنَّا جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ ابْنِ عَمِّكِ بِخِطْبَةٍ، قَالَ عَلِيٌّ: فَنَبَّهَانِي لِأَمْرٍ، فَقُمْتُ أَجُرُّ رِدَائِي، حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ قِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ وَمُنَاصَحَتِي، وَإِنِّي وَإِنِّي، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟ » قُلْتُ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ، قَالَ: «وَعِنْدَكَ شَيْءٌ»، قُلْتُ: فَرَسِي وَبَدَنِي، قَالَ: «أَمَّا فَرَسُكَ فَلَا بُدَّ لَكَ مِنْهُ، وَأَمَّا بَدَنُكَ فَبِعْهَا»، قَالَ: فَبِعْتُهَا بِأَرْبَعِ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ، فَجِئْتُ بِهَا حَتَّى وَضَعْتُهَا فِي حِجْرِهِ، فَقَبَضَ مِنْهَا قَبْضَةً، فَقَالَ: «أَيْ بِلَالُ، ابْتَغِنَا بِهَا طِيبًا» وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُجَهِّزُوهَا فَجَعَلَ لَهَا سَرِيرًا مُشْرَطًا بِالشَّرْطِ، وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ: «إِذَا أَتَتْكَ فَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا، حَتَّى آتِيَكَ» فَجَاءَتْ مَعَ أُمِّ أَيْمَنَ حَتَّى قَعَدَتْ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ وَأَنَا فِي جَانِبٍ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَا هُنَا أَخِي؟ »، قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: أَخُوكَ وَقَدْ زَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ؟ قَالَ: «نَعَمْ»، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَقَالَ لِفَاطِمَةَ: «إِيتِينِي بِمَاءٍ»، فَقَامَتْ إِلَى قَعْبٍ فِي الْبَيْتِ فَأَتَتْ فِيهِ بِمَاءٍ، فَأَخَذَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَجَّ فِيهِ ثُمَّ قَالَ لَهَا: «تَقَدَّمِي»، فَتَقَدَّمَتْ فَنَضَحَ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا وَعَلَى رَأْسِهَا، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ [ص:395] الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ»، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا: «أَدْبِرِي»، فَأَدْبَرَتْ، فَصَبَّ بَيْنَ كَتِفَيْهَا، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيتُونِي بِمَاءٍ»، قَالَ عَلِيٌّ: فَعَلِمْتُ الَّذِي يُرِيدُ، فَقُمْتُ، فَمَلَأْتُ الْقَعْبَ مَاءً، وَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَأَخَذَهُ وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: «تَقَدَّمْ» فَصَبَّ عَلَى رَأْسِي وَبَيْنَ ثَدْيَيَّ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ»، ثُمَّ قَالَ: «أَدْبِرْ»، فَأَدْبَرْتُ، فَصَبَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ»، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ: «ادْخُلْ بِأَهْلِكَ، بِسْمِ اللَّهِ وَالْبَرَكَةِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ! آپ ﷺ میری خیر خواہی اور امیرے قدیم اسلام ہونے سے واقف ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا : تو پھر کیا ہوا ۔ انہوں نے عرض کی : آپ ﷺ سید ہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ میری شادی کردیں۔ راوی کہتے ہیں :تو نبی اکرم ﷺ خامو ش رہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : میں ہلاکت کا شکار ہوگیا مجھے ہلاکت کا شکارکر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا : وہ کیسے ۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا تو نبی اکرمﷺ نے مجھ سے اعراض کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:آپ اپنی جگہ پر رہیں میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جاتاہوں اور وہی گزارش کرتا ہوں جو آپ نے ک تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپﷺ میری خیر خواہی اور قدیم اسلام ہونے سے واقف ہیں میرے اندر یہ یہ خوبیاں ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تو کیاہوا۔ انہوں نے عرض کی: آپ ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو میرے ساتھ شادی کر دیں ۔ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے 'پھر حضرت عمر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے اور انہیں بتایا کہ نبی اکرم ﷺ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں آپ ہمارے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں 'تا کہ وہ وہی گزارش کریں جو ہم نے کی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ دونوں صاحبان میرے پاس آئے میں اس وقت اپنے کھجور کے چھوٹے درختو ں میں کام کر رہا تھا ۔ ان دونوں نے کہا: ہم آپ کے چچا زاد (یعنی نبی اکرم ﷺ ) کی طرف سے پیغام نکاح لے کر آپ کے پاس آئے ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : ان دونوں نے مجھے صورت حال کے بارے میں متنبہ کیا' تو میں اپنی چادر کوگھسیٹتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ' یہاں تک کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو امیں آپ ﷺکے سامنے بیٹھ گیا میں نے عر ض کی : یا رسول اللہ! آپ ﷺ اسلام میں میرے قدیم ہونے اور میرے اندر یہ یہ خوبیاں ہیں ۔ نبی اکرم رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے۔ میں ےنے عرض کی : میر ا گھوڑا اور میر اونٹ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہاں تک تمہارے گھوڑے کا تعلق ہے وہ تمہارے پاس رہنا ضروری ہے البتہ جہاں تک تمہارے اونٹ کا تعلق ہے اسے تم فروخت کر دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ' تو میں نے 480 (درہم یا دینار) کے عوض میں اسے فروخت کر دیا میں وہ لے آیا اور اسے نبی اکرم ﷺ کی جھولی میں رکھ دیا ۔ نبی اکرم نے اسے مٹھی میں لیا اور فرمایا : اے بلال اس کے ذریعے تم ہمارے لیے خوشبو خریدو نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو ہدایت کی کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا جہیز تیا کریں ۔ نبی اکرمﷺ نے ان کے لیے ایک پلنگ بنوایا او ر ایک تکیہ بنوایا جو چمڑے کا بنا ہوا تھا اس کے اندرکھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا جب وہ تمہارے پاس آئے ' تو تم میرے آنے سے پہلے اس سے کوئی بات نہ کرنا پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سید ہ ام ایمن کے ساتھ (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر) آگئیں یہاں تک کہ وہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئیں اور میں دوسرے کونے میں بیٹھ گیا پھر نبی اکرمﷺ تشریف لائے : آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: یہاں میرا بھائی ہے۔ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ ﷺ کے بھائی ہیں آپ ﷺ نے اپنی صاحب زادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی ہاں پھرنبی اکرم ﷺ گھر کے اندر تشریف لائےنبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے پاس پانی لے کر آؤ تو وہ گھر میں موجود پانی کے برتن کی طرف گئیں اور اس میں پانی لے کر آئیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اسے لیا اس میں سے ایک مرتبہ کلہ کی'پھرآپ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا :آگے آؤ ! وہ آگے بڑھیں تو نبی اکرم ﷺ نے اس کے سینے اور سر پر وہ پانی چھڑکا اور یہ فرمایا: (یعنی یہ دعا کی) '' اے اللہ ! میں اس اور اس کی اولاد کو ' مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتاہوں ۔'' پھر نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم دوسری طرف رخ کرو انہوں نے دوسر ی طرف رخ کیا ' تو نبی اکرمﷺ نے ان کے دونوں کندھوں کے درمیان میں پانی چھڑکا اور فرمایا : (یعنی دعا کی) '' اے اللہ ! میں اس اور اس کی اولاد کو ' مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتاہوں ۔'' پھر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ''تم اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور برکت کے ہمراہ اپنی بیوی کے ساتھ رہو۔''

جَاءَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو شَيْبَةَ دَاوُدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6944

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6945

حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْطِهَا شَيْئًا»، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: «فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب سیدہ فاطمہ کے ساتھ شادی کی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے کچھ دو ۔ انہوں نے عرض کی : میرے پاس کوئی چیز نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری حطمیہ زردہ کہاں ہے۔

لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6945

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6946

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَاضِي سَمَرَقَنْدَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: «مَا اسْتَحَلَّ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ إِلَّا بِبَدَنٍ مِنْ حَدِيدٍ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے مہر میں لوہے کی بنی ہوئی زرہ دی تھی۔

«مَا اسْتَحَلَّ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ إِلَّا بِبَدَنٍ مِنْ حَدِيدٍ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَاضِي سَمَرَقَنْدَ، ← اَحْمَدُ بْنُ مَنْصْوْرٍ زَاجٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6946

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6947

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَلَّالُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: «جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلَةٍ وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْخَمِيلَةُ: قَطِيفَةٌ بَيْضَاءُ مِنَ الصُّوفِ، وَصَرِيفِينُ: قَرْيَةٌ بِوَاسِطَ

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو جہیز میں ایک چار اور چمڑے سے بنا ہوا تکیہ دیا تھا ' جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ (امام ابن حبا ن ؒ فرماتے ہیں : ) خمیلہ اون سے بنی ہوئی سفید چادر کو کہتے ہیں اور صریفین واسطہ میں ایک بستی کا نام ہے۔

أَبُو حَاتِمٍ: الْخَمِيلَةُ: قَطِيفَةٌ بَيْضَاءُ مِنَ الصُّوفِ، وَصَرِيفِينُ: قَرْيَةٌ بِوَاسِطَ ← «جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلَةٍ وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ». ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَلَّالُ بِوَاسِطَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6947

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6948

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ بِنَسَا، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَاطِمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا صَغِيرَةٌ»، فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ، فَزَوَّجَهَا مِنْهُ

ابن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے لئے شادی کا پیغام بھیجا لیکن نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ : چھوٹی ہے' پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے لئے پیغام بھیجا تو نبی اکرم ق نے ان کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دی۔

رَسُولُ اللَّهِ «إِنَّهَا صَغِيرَةٌ»، فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ، فَزَوَّجَهَا مِنْهُ ← خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَاطِمَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ بِنَسَا،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6948

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6949

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءِ يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ»

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کےصاحب زادے حضرت ابرا ہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو ا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ''اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے۔''

لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6949

chevron_left Previous
1…789…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr