Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6926

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»، قَالَ: فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ سَعْدًا، فَقُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے'ج حضرت ہارون ؑ کی حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی۔ راو ی بیان کرتے ہیں : میں نے اس بات کو پسند کیا ک میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کروں ' میں نے ان سے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ بات خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے؟ انہوں نے جواد دیا : جی ہاں۔

سَعْدٍ، ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6926

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6927

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، [ص:371] عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے مدینہ منورہ کا (نگران ) مقرر کیا ' تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ مجھے پیچھے بچوں اور خواتین میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون ؑ کوحضرت موسی ٰ ؑ سے تھی البتہ یہ ہے۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔

خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، [ص:371] ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6927

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6928

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، [ص:372] عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ، غُفِرَ لَكَ، مَعَ أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ»

حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ا ے علی ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں پڑھ لو گے تو تمہاری مغفرت ہو جائے گی با وجود یکہ وہ تمہارے لیے مغفور ہو۔ (وہ کلمات یہ ہیں ) ''اللہ تعالی کے علاوہ او ر کوئی معبود نہیں ہے'جوبلند و بر تر اور عظیم ہے اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے' جو بردبار اور حلیم ہے اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ' جو سات آسمانوں اور عظیم عرش کا پروردگار ہے اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالی ٰ کے لیے مخصوص ہے' جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔''

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، [ص:372] ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ اَبَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6928

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6929

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيًّا، قَالَ: فَمَضَى عَلِيٌّ فِي السَّرِيَّةِ، فَأَصَابَ جَارِيَةً، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، قَالَ عِمْرَانُ: وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ [ص:374] إِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ بَدَؤُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَنَظَرُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ إِلَى رِحَالِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ سَلَّمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ أَحَدُ الْأَرْبَعَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّ عَلِيًّا صَنَعَ كَذَا وَكَذَا، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْغَضَبُ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ، فقَالَ: «مَا تُرِيدُونَ مِنْ عَلِيٍّ - ثَلَاثًا - إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي»

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم روانہ کی ان کا امیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ۔ راو ی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ اس مہم میں تشریف لے گئے انہوں نے ایک کنیز کے ساتھ صحبت کر لی۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے ان کی اس حرکت کو غلط قرار دیا انہوں نے یہ کہا: جب ہم نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو ہم نبی اکرم ﷺ کو اس بار ے میں بتائیں گے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا ہے۔حضر ت عمران رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : مسلمان جب کسی سفر سے واپس آتے تھے ' تو وہ سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے وہ آپ ﷺ کو سلام کرتے تھے آپ ﷺ کی زیارت کرتے تھے پھر اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس جاتے تھے جب وہ مہم واپس آئی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ان چار افراد میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ " کیا آپ ﷺ نے بات ملاحظہ نہیں فرمائی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے' تو نبی اکرم ﷺ نے منہ پھیر لیا پھر دوسرے صاحب نے کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ﷺ نے یہ بات ملاحظہ نہیں فرمائی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے' تو نبی اکرم ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے آپ ﷺ کے چہر ے پہ غصے کے آثار نمایاں تھے آپ ﷺ نے فرمایا تم لوگ علی کے بار ے میں کیا چاہتے ہو؟ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمائی : بے سک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد پر مومن کا محبوب ہے۔

بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، ← إِذَا لَقِينَا رَسُولَ اللَّهِ ← فَمَضَى عَلِيٌّ فِي السَّرِيَّةِ، فَأَصَابَ جَارِيَةً، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ سَرِيَّةً، وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ عَلِيًّا، ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6929

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6930

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ [ص:375] زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ وَلِيُّهُ، فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ»

حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ''میں جس کا ولی ہوں علی بھی اس کا ولی ہے۔''

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ [ص:375] زِيَادٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ أَبِي الدُّمَيْكِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6930

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6931

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، [ص:376] عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: أَنْشُدُ اللَّهَ كُلَّ امْرِئٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لَمَّا قَامَ، فَقَامَ أُنَاسٌ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ، يَقُولُ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ » قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَإِنَّ هَذَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»، فَخَرَجْتُ وَفِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: قَدْ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ لَهُ. ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَقُلْتُ لِفِطْرٍ كَمْ بَيْنَ هَذَا الْقَوْمِ وَبَيْنَ مَوْتِهِ؟ قَالَ: مِائَةُ يَوْمٍ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُرِيدُ بِهِ مَوْتَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

ابو طفیل بیا ن کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہر وہ شخص جس نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی غدیر خم کے دن یہ بات سنی ہو میں اسے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں وہ کھڑا ہو جائے ' تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ میں اہل ایمان کے نزدیک ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ پیار ا ہوں ۔ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں رسول اللہ ﷺ ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کا محبوب ہوں یہ(یعنی علی) بھی اس کا محبوب ہے اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھتا ہو اور تو اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھتا ہو۔ راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے لوٹ کر آیا ' تو میرے ذہن میں اس حوالے سے کچھ الجھن تھی میری ملاقات حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے بتایا : میں نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ابو نعیم نامی راوی کہتے ہیں : میں نے فطر نامی راوی سے دریافت کیا : ان لوگوں اور ان کی موت کے درمیان اتنا فاصلہ ہے ' تو انہوں نے جواب دیا : ایک سو دن کا ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ا ن کی مراد حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی وفات تھی۔

بَلٰی ← «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى النَّاسِ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟ ← يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لَمَّا قَامَ، فَقَامَ أُنَاسٌ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَلِيٌّ: أَنْشُدُ اللَّهَ كُلَّ امْرِئٍ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، [ص:376] ← أَبُو نُعَيْمٍ، وَيَحْيَى بْنُ آدَمَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6931

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6932

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ»، قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ [ص:378] يُعْطَاهَا، فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ»؟ قَالُوا: تَشْتَكِي عَيْنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ»، فَلَمَّا جَاءَ بَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ، فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ قَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ»

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا ' جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح نصیب کرے گا۔ راو ی کہتے ہیں تو وہ ساری رات لوگ جاگ کر گزارتے رہے کہ ان میں سے کسے وہ دیا جاتا ہے اگلے دن صبح لوگ نبی اکرمﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے ان میں سے ہر شخص اس بات کا آرزو مند تھا کہ وہ جھنڈا اسے دیا جائے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: علی ابن ابو طالب کہاں ہے۔ لوگوں ن عرض کی ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی ہیں یا رسول اللہﷺ ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے بلواؤ جب وہ تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن ڈالااور ان کے لیے دعا کی تو وہ ٹھیک ہو گئے یوں جیسے انہیں کبھی کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے جھنڈا انہیں عطا کیا ' توحضرت علی ﷺ نے عرض کی : یارسو ل اللہ ! کیا میں ان کے ساتھ اس وقت تک لڑتا رہوں جب تک وہ ہماری مانند (مسلمان ) نہیں ہو جاتے ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ٹھہرع پہلے تم ان کے میدان میں اترو پھر انہیں اسلام کی دعوت دو انہیں یہ بتاؤ کہ اس بارے میں اللہ تعالی کاکون سا حق ان کے ذمے لازم ہے اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی تمہاری وجہ سے کسی شخص کو بھی ہدایت نصیب کر دے تو یہ چیز تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تمہیں سرخ اونٹ مل جائیں ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6932

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6933

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي مُنَيْنٍ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» فَتَطَاوَلَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيٌّ»؟ فَقَالُوا: يَشْتَكِي عَيْنَهُ فَدَعَاهُ، فَبَزَقَ فِي كَفَّيْهِ، وَمَسَحَ بِهِمَا عَيْنَ عَلِيٍّ، ثُمَّ دَفَعَ إِلَيْهِ الرَّايَةَ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ' نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا :

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي مُنَيْنٍ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6933

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6934

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأَدْفَعَنَّ الْيَوْمَ [ص:380] اللِّوَاءَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ»، قَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا، فَقَالَ لِعَلِيٍّ: «قُمْ» فَدَفَعَ اللِّوَاءَ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: «اذْهَبْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ» فَمَشَى هُنَيْهَةً، ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ لِلْعَزْمَةِ، فَقَالَ: عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا فَقَدْ عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آج میں جھنڈا ایسے شخص کودوں گا ' جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔تو اللہ تعالی اس کے ذریعے فتح نصیب کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے صرف اسی دن امیر بننے کی خؤاہش کی میں اس کے لیے منتظر رہا ۔ نبی اکرمﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم اٹھو پھر آپ ﷺ نے وہ جھنڈا ان کے سپرد کیا آپ ﷺ نے ان سر فرمایا تم جاؤ اور ادھر ادھر متوجہ نہ ہونا ' یہاں تک کہ اللہ تعالی تمہیں فتح نصیب کر دے وہ تھوڑی ہی دو گئے تھے پھرٹھہر گئے انہوں نے ادھر ادھر نہیں دیکھا اور دریافت کیا : میں کس بنیاد پر لوگوں کے ساتھ لڑائی کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان کے ساتھ لڑائی کرو' یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعای کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے' جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں گے تو وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ان کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6934

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6935

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، [ص:381] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ، وَكَانَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا ... فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا»؟ قَالُوا: عَامِرٌ، قَالَ: «غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ يَا عَامِرُ»، وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ خَصَّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ، خَرَجَ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ، وَهُوَ مَلِكُهُمْ، وَهُوَ يَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَنَزَلَ عَامِرٌ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي فَرَسِ عَامِرٍ فَذَهَبَ لِيَسْفُلَ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ، فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ، فَكَانَتْ مِنْهَا نَفْسُهُ، وَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَتَلَ نَفْسَهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ هَذَا؟ »، قَالَ: قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ» ثُمَّ [ص:382] أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ»، فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ، فَبَرَأَ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ ... كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمْ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ: فَضَرَبَهُ فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ، فَقَتَلَهُ، وَكَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَكَذَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ: فِي فَرَسِ عَامِرٍ وَإِنَّمَا هُوَ فِي تُرْسِ عَامِرٍ

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ خیبر کی طرف روانہ ہوئے میرے چچا حضرت عامر رضی اللہ عنہ لوگوں کو رجز پڑھا کر دنا رہے تھے وہ یہ پڑھ رہے تھے۔ ''اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالی نہ ہوتا تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے ہم صدقہ نہ کرتے اور ہم نماز نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سےبے نیاز نہیں ہو سکتے جب ہمارا (دشمن سے ) سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہم پر سکینت نازل کرنا ۔'' نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کو ن شخص ہے ۔ لوگوں نے بتایا : یہ عامر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عامر تمہارا پروردگار تمہاری مغفرت کرے۔ نبی اکرمﷺ جب بھی بطور خاص کسی شخص کےلیے دعائ مغفرت کرتے تھے' تو وہ شخص شہید ہو جاتا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ اگر آپ ﷺ ہمیں عامر کے ذریعے نفع حاصل کرنے دیتے (یعنی ان کے زندہ رہنےکی دعا ددیتے) تو بہتر تھا ۔ (راوی کہتے ہیں : ) جب ہم خیبر آگئے تو مرحب اپنی تلوار لہراتا ہو ا نکلا وہ ان کا بادشاہ تھا وہ یہ کہہ رہا تھا ۔ ''خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں میں ہتھیار لہراتا ہوں اور تجربہ کار بہادر ہوں ' اس وقت جب جنگ پھڑک اٹھتی ہے۔'' تو حضرت عامر رضی اللہ عنہ میدان میں اترے اور انہوں نے کہا ۔ ''خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں عامر ہوں میں ہتھایر اٹھائے ہوئے تجربہ کار بہادر ہوں ۔ ان دونوں نے ایک دوسرے پر حملہ کیا ' تو مرحب کی تلوار حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو لگی پھر وہ بے قابو ہوا ' تو ان کی تلوار پلٹ کر انہیں لگ گئی اس تلوار نے ان کی رگ کو کاٹ دیا اسی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے یہ کہا : عامر کا عمل باطل ہو گیا ' کیونکہ اس نے خود کشی کی ہے میں روتا ہوا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نئ عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت عامر کا عمل باطل ہو گیا ۔نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا:کس نے یہ کہا ہے۔ میں نے کہا : آپ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ اسے دومرتبہ اجر ملے گا پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی طر ف بھیجا میں ان کے پاس آیا ' تو ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آج میں جھندا اس شخص کو دوں گا ' جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہیں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہاتھ پکڑ کر لایا ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی تھیں میں انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ۔ نبی اکر م ﷺ نے اپنا لعاب دہن انہیں لگایا تو وہ ٹھیک ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نےانہیں جھنڈا عطا کیا پھر مرحب نکلا اور پھر اس نے یہی شعر پڑھا ۔ ''خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہو ہتھیار لہرائے ہوئے ہوں اور تجربہ کار جنگ جو ہوں اس وقت جب جنگ کی بھٹی بھڑک اٹھتی ہے۔'' تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ، میں وہ شخص ہوں ' جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے' جو جنگل کےشیر کی طرح ہے ' جسےدیکھنے سے ڈر لگتا ہے میں سندرہ (یعنی ماپنے کے بڑے برتن) کے ذریعے ماپ کر پورا صاع دیتا ہوں (یعنی دشمنوں بڑی تیزی سے قتل کر دیتا ہوں )'' راوی کہتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر وار کر کے مرحب کا سر چیر کر اسے مار دیا تو فتح حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں نصیب ہوئی ۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو خلیفہ نے یہ الفاظ اسی طرح نقل کئے ہیں کہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر وار کیا حالانکہ اصل یہ ہے کہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ کی ڈھا ل پر وار کیا۔

أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6935

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6936

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، قَامَ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَقَدْ فَارَقَكُمْ أَمْسِ رَجُلٌ مَا سَبَقَهُ وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخِرُونَ، لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُهُ الْمَبْعَثَ، فَيُعْطِيهِ الرَّايَةَ، فَمَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِيكَائِيلُ عَنْ شِمَالِهِ، مَا تَرَكَ [ص:384] بَيْضَاءَ وَلَا صَفْرَاءَ إِلَّا سَبْعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَضَلَتْ مِنْ عَطَائِهِ، أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ بِهَا خَادِمًا»

ہبیر ہ بن یریم بیان کرتے ہیں : میں حضرت اما حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگو ں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یوم شہاد ت سے اگلے دن کی بات ہے)

الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، قَامَ، فَخَطَبَ النَّاسَ، ← هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6936

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6937

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ»، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا»، قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ»، قَالَ: وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهُ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ' میں نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فر ماتے ہوئے سنا ہے: ''تم میں سے ایک شخص ایسا ہے 'جو قر آن کی تفسیر کے لیے لڑے گا ' جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے کی بنیاد پر لڑائی کی تھی''۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! وہ میں ہوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فر مایا : جی نہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میں ہوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جی نہیں بلکہ وہ جوتے کو گانٹھنے والا ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو اپنا جوتا دیا تھا ' تا کہ وہ اسے گانٹھ دیں ۔''

هُوَ ← أَبُو بَکْرٍ ← «إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ»، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6937

chevron_left Previous
1…678…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr