حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے'ج حضرت ہارون ؑ کی حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی۔
راو ی بیان کرتے ہیں : میں نے اس بات کو پسند کیا ک میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کروں ' میں نے ان سے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ بات خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے؟ انہوں نے جواد دیا : جی ہاں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6926
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6927
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے مدینہ منورہ کا (نگران ) مقرر کیا ' تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ مجھے پیچھے بچوں اور خواتین میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون ؑ کوحضرت موسی ٰ ؑ سے تھی البتہ یہ ہے۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6927
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6928
حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ا ے علی ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں پڑھ لو گے تو تمہاری مغفرت ہو جائے گی با وجود یکہ وہ تمہارے لیے مغفور ہو۔ (وہ کلمات یہ ہیں )
''اللہ تعالی کے علاوہ او ر کوئی معبود نہیں ہے'جوبلند و بر تر اور عظیم ہے اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے' جو بردبار اور حلیم ہے اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ' جو سات آسمانوں اور عظیم عرش کا پروردگار ہے اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالی ٰ کے لیے مخصوص ہے' جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6928
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6929
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم روانہ کی ان کا امیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا ۔ راو ی کہتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ اس مہم میں تشریف لے گئے انہوں نے ایک کنیز کے ساتھ صحبت کر لی۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے ان کی اس حرکت کو غلط قرار دیا انہوں نے یہ کہا: جب ہم نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو ہم نبی اکرم ﷺ کو اس بار ے میں بتائیں گے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا ہے۔حضر ت عمران رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : مسلمان جب کسی سفر سے واپس آتے تھے ' تو وہ سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے وہ آپ ﷺ کو سلام کرتے تھے آپ ﷺ کی زیارت کرتے تھے پھر اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس جاتے تھے جب وہ مہم واپس آئی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ان چار افراد میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ " کیا آپ ﷺ نے بات ملاحظہ نہیں فرمائی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے' تو نبی اکرم ﷺ نے منہ پھیر لیا پھر دوسرے صاحب نے کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ﷺ نے یہ بات ملاحظہ نہیں فرمائی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایسا ایسا کیا ہے' تو نبی اکرم ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوئے آپ ﷺ کے چہر ے پہ غصے کے آثار نمایاں تھے آپ ﷺ نے فرمایا تم لوگ علی کے بار ے میں کیا چاہتے ہو؟ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمائی : بے سک علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد پر مومن کا محبوب ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6929
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6930
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6930
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6931
ابو طفیل بیا ن کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہر وہ شخص جس نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی غدیر خم کے دن یہ بات سنی ہو میں اسے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں وہ کھڑا ہو جائے ' تو کچھ لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ میں اہل ایمان کے نزدیک ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ پیار ا ہوں ۔ ان لوگوں نے عرض کی: جی ہاں رسول اللہ ﷺ ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کا محبوب ہوں یہ(یعنی علی) بھی اس کا محبوب ہے اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو اس سے محبت رکھتا ہو اور تو اس سے دشمنی رکھ جو اس سے دشمنی رکھتا ہو۔
راوی کہتے ہیں : میں وہاں سے لوٹ کر آیا ' تو میرے ذہن میں اس حوالے سے کچھ الجھن تھی میری ملاقات حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی تو انہوں نے بتایا : میں نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:
ابو نعیم نامی راوی کہتے ہیں : میں نے فطر نامی راوی سے دریافت کیا : ان لوگوں اور ان کی موت کے درمیان اتنا فاصلہ ہے ' تو انہوں نے جواب دیا : ایک سو دن کا ۔
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ا ن کی مراد حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی وفات تھی۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6931
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6932
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا ' جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح نصیب کرے گا۔ راو ی کہتے ہیں تو وہ ساری رات لوگ جاگ کر گزارتے رہے کہ ان میں سے کسے وہ دیا جاتا ہے اگلے دن صبح لوگ نبی اکرمﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے ان میں سے ہر شخص اس بات کا آرزو مند تھا کہ وہ جھنڈا اسے دیا جائے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: علی ابن ابو طالب کہاں ہے۔ لوگوں ن عرض کی ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی ہیں یا رسول اللہﷺ ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے بلواؤ جب وہ تشریف لائے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی آنکھوں پر لعاب دہن ڈالااور ان کے لیے دعا کی تو وہ ٹھیک ہو گئے یوں جیسے انہیں کبھی کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے جھنڈا انہیں عطا کیا ' توحضرت علی ﷺ نے عرض کی : یارسو ل اللہ ! کیا میں ان کے ساتھ اس وقت تک لڑتا رہوں جب تک وہ ہماری مانند (مسلمان ) نہیں ہو جاتے ۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ٹھہرع پہلے تم ان کے میدان میں اترو پھر انہیں اسلام کی دعوت دو انہیں یہ بتاؤ کہ اس بارے میں اللہ تعالی کاکون سا حق ان کے ذمے لازم ہے اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی تمہاری وجہ سے کسی شخص کو بھی ہدایت نصیب کر دے تو یہ چیز تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تمہیں سرخ اونٹ مل جائیں ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6932
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6933
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6933
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6934
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آج میں جھنڈا ایسے شخص کودوں گا ' جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔تو اللہ تعالی اس کے ذریعے فتح نصیب کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے صرف اسی دن امیر بننے کی خؤاہش کی میں اس کے لیے منتظر رہا ۔ نبی اکرمﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم اٹھو پھر آپ ﷺ نے وہ جھنڈا ان کے سپرد کیا آپ ﷺ نے ان سر فرمایا تم جاؤ اور ادھر ادھر متوجہ نہ ہونا ' یہاں تک کہ اللہ تعالی تمہیں فتح نصیب کر دے وہ تھوڑی ہی دو گئے تھے پھرٹھہر گئے انہوں نے ادھر ادھر نہیں دیکھا اور دریافت کیا : میں کس بنیاد پر لوگوں کے ساتھ لڑائی کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان کے ساتھ لڑائی کرو' یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعای کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے' جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں گے تو وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ان کا حساب اللہ کے ذمے ہوگا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6934
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6935
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ خیبر کی طرف روانہ ہوئے میرے چچا حضرت عامر رضی اللہ عنہ لوگوں کو رجز پڑھا کر دنا رہے تھے وہ یہ پڑھ رہے تھے۔
''اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالی نہ ہوتا تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے ہم صدقہ نہ کرتے اور ہم نماز نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سےبے نیاز نہیں ہو سکتے جب ہمارا (دشمن سے ) سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہم پر سکینت نازل کرنا ۔''
نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کو ن شخص ہے ۔ لوگوں نے بتایا : یہ عامر ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عامر تمہارا پروردگار تمہاری مغفرت کرے۔ نبی اکرمﷺ جب بھی بطور خاص کسی شخص کےلیے دعائ مغفرت کرتے تھے' تو وہ شخص شہید ہو جاتا تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ اگر آپ ﷺ ہمیں عامر کے ذریعے نفع حاصل کرنے دیتے (یعنی ان کے زندہ رہنےکی دعا ددیتے) تو بہتر تھا ۔ (راوی کہتے ہیں : ) جب ہم خیبر آگئے تو مرحب اپنی تلوار لہراتا ہو ا نکلا وہ ان کا بادشاہ تھا وہ یہ کہہ رہا تھا ۔
''خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں میں ہتھیار لہراتا ہوں اور تجربہ کار بہادر ہوں ' اس وقت جب جنگ پھڑک اٹھتی ہے۔''
تو حضرت عامر رضی اللہ عنہ میدان میں اترے اور انہوں نے کہا ۔
''خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں عامر ہوں میں ہتھایر اٹھائے ہوئے تجربہ کار بہادر ہوں ۔
ان دونوں نے ایک دوسرے پر حملہ کیا ' تو مرحب کی تلوار حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو لگی پھر وہ بے قابو ہوا ' تو ان کی تلوار پلٹ کر انہیں لگ گئی اس تلوار نے ان کی رگ کو کاٹ دیا اسی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے یہ کہا : عامر کا عمل باطل ہو گیا ' کیونکہ اس نے خود کشی کی ہے میں روتا ہوا نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نئ عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت عامر کا عمل باطل ہو گیا ۔نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا:کس نے یہ کہا ہے۔ میں نے کہا : آپ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ اسے دومرتبہ اجر ملے گا پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی طر ف بھیجا میں ان کے پاس آیا ' تو ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی تھیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آج میں جھندا اس شخص کو دوں گا ' جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہیں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہاتھ پکڑ کر لایا ان کی آنکھیں دکھنے آئی ہوئی تھیں میں انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ۔ نبی اکر م ﷺ نے اپنا لعاب دہن انہیں لگایا تو وہ ٹھیک ہو گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نےانہیں جھنڈا عطا کیا پھر مرحب نکلا اور پھر اس نے یہی شعر پڑھا ۔
''خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہو ہتھیار لہرائے ہوئے ہوں اور تجربہ کار جنگ جو ہوں اس وقت جب جنگ کی بھٹی بھڑک اٹھتی ہے۔''
تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ،
میں وہ شخص ہوں ' جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے' جو جنگل کےشیر کی طرح ہے ' جسےدیکھنے سے ڈر لگتا ہے میں سندرہ (یعنی ماپنے کے بڑے برتن) کے ذریعے ماپ کر پورا صاع دیتا ہوں (یعنی دشمنوں بڑی تیزی سے قتل کر دیتا ہوں )''
راوی کہتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر وار کر کے مرحب کا سر چیر کر اسے مار دیا تو فتح حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں نصیب ہوئی ۔
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو خلیفہ نے یہ الفاظ اسی طرح نقل کئے ہیں کہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر وار کیا حالانکہ اصل یہ ہے کہ حضرت عامر رضی اللہ عنہ کی ڈھا ل پر وار کیا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6935
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6936
ہبیر ہ بن یریم بیان کرتے ہیں : میں حضرت اما حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو سنا وہ کھڑے ہوئے انہوں نے لوگو ں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : (حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یوم شہاد ت سے اگلے دن کی بات ہے)
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6936
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6937
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ' میں نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فر ماتے ہوئے سنا ہے:
''تم میں سے ایک شخص ایسا ہے 'جو قر آن کی تفسیر کے لیے لڑے گا ' جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے کی بنیاد پر لڑائی کی تھی''۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! وہ میں ہوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فر مایا : جی نہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ میں ہوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جی نہیں بلکہ وہ جوتے کو گانٹھنے والا ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو اپنا جوتا دیا تھا ' تا کہ وہ اسے گانٹھ دیں ۔''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6937