حضرت مرہ بہز ی رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی راستے پر چل رہے تھے آپ
ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسے فتنے کے دوران تم لوگ کیا کرو گے جو زمین پہ یو پھیل جائے گا جیسے وہ گائے کا سینک ہوتا ہےلوگوں نے عرض کی: اے
اللہ کے نبی ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم پر لازم ہے کہ تم اس شخص اور اس کے ساتھیوں ک ساتھ رہوں (راوی کہتے ہیں ) میں
تیزی سے ان صاحب کی طرف لپکا (جن کے بارے میں نبی اکر م ﷺ نے ارشادکیا تھا ) میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی کیا یہ ۔ نبی اکرم
ﷺنے فرمایا : یہ تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6914
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6915
حضرت نعمان بن بشر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک خط کے ہمرا ہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے وہ خط سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کر دیا : سیدہ عائشہ نے فرمایا کیا تمہیں وہ حدیث نہ سناوں جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبان سے سنی ہے میں نے جواب دیا جی ہاں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : ایک دن میں اور حفصہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھیں نبی اکرﷺنے ارشاد فرمایا : کاش ہمارے پاس کوئی ایسا شخص ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا ۔ میں نے عرض کی: یا رسو ل اللہ ﷺ میں حضرت ابو بکر کو پیغام بھجواتی ہو ں وہ آئیں گے اور ہمارے ساتھ بات چیت کر لیں گے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یارسول اللہ ! میں حضرت عمرت رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجواتی ہوں وہ آئیں گے اور ہمارے ساتھ بات چیت کر لیں گے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم خاموش رہے 'پھر نبی اکر م ﷺ نے ایک شخص کو بلوایا اور اس کے ساتھ سر گوشی میں کوئی بات چیت کی جو ہم تک پہنچ پھر وہ شخص چلا گیا پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے ، تو نبی اکرم ﷺ ان کی طرف متوجہ ہوگئے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
''اے عثمان ! بے شک اللہ تعالی تمہیں ایک قمیض پہنائے گا اور لوگ یہ چاہیں گے کی تم اسے اتار دو تو تم اسے نہ اتارنا ۔''
نبی اکرم ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : میں نے کہا : اے ام المومنین آپ نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : اے میرے بیٹے میں اسے بھول گئی تھی یوں جیسے میں نے کبھی سنی ہی نہیں ۔
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) عبداللہ بن قیس لخمی نامی راوی کا انتقال ایک سو چو بیس ہجر میں ہوا یہ وہ عبداللہ بن ابو قیس نہیں ہیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا شاگر د تھا
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6915
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6916
ابو عبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کہا گیا او ان کے گھر کر گھیر لیا گیا تو انہوں نے لوگوں کی طرف کی طرف جھانک کر ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ جب ہمارے ساتھ حر(پہاڑ) پرموجود تھے اور وپ ہلنے لگا ' توآپ ﷺ نے فرمایا : اے حرا ! ٹھہرے رہو تمہارے اوپر ایک نبی ا، ایک صدیق، ایک شہید موجود ہے۔ تو لوگوں نے کہا اللہ کی قسم جی ہاں ۔ حجرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتاہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی اکر م ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر یہ بات ارشاد فرمائی : و ہ کون شخص ایسا خرچ کرے گا ؛ جسے قبول کیا جائے ' ان دنوں لوگ تنگ دست تھے تو میں نےاس لشکر کے لیے ایک تہائی سازو سامان اپنے مال میں سے تیار کیا تھا ۔ لوگوں نے کہا :اللہ کی قسم ! ایسا ہی ہے ' پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ رومہ نامی کنویں سے صرف قیمت دے کر پانی لیا جاسکتا تھا میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا ور اسے ہر خوشحال اورغریب شخص کےلیے اور مسافر کےلیے (وقف کر دیا ) تو لوگوں نے کہا : اللہ
کی قسم ! ایسا ہی ہے' پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اور بھی کچھ چیزیں گنوائیں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6916
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6917
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے سے کچھ دب پہلے انہیں دیکھا وہ حضرت حذیفہ بن ایمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے کیا تم لوگوں کو یہ اندیشہ نہیں ہے۔کہ تم دونوں نے اس سر زمین پر وہ بوجھ عائد کر دیا ہے' جس کی وہ طاقت نہیں رکھتی تو ان دونوں نے کہا : ہم نے اس پر وہ چیز لاز م کی ہے' جس کی وہ طاقت رکھتی ہے اس میں کوئی اضافی ادائیگی لازم نہیں کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم دونوں اس بات کا جائزہ لو کہ کہیں تم نے زمین پر وہ چیز عائد تو نہیں کی' جس کی وہ طاقت نہیں رکھتی ان دونوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر اللہ تعالی نے مجھے سلامت رکھا تو میں اہل عراق کی بیواؤں کے لیے وہ کچھ چھوڑ کر جاؤں گا کہ میرے بعد انہیں کسی اور چیز کی حاجت نہیں ہوگی۔ راوی کہتے ہیں : اسے کے تین دن بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے۔
عمر و بن میمون کہتے ہیں : جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے اس صبح میں کھڑا ہو ا تھا میرے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان صرف حضرت عبداللہ بن عباس تھے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ صفوں کے درمیان میں سے گزرے تو دونوں صفوں کے درمیان کھڑے ہوئے جب آپ نے ان میں خلل دیکھا تو فرمایا صفیں ٹھیک کر لو جب انہوں نے دیکھا ان میں کوئی خلل نہیں ہے ' تو آگے بڑھ گئے اور تکبیر کہی۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ بعض اوقات پہلی رکعت میں سورۃ یوسف یا سورۃ نحل کی تلاوت کیا کرتے تھے ' یہاں تک کہ لوگ اکٹھے ہو جایا کرتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں: ابھی انہوں نے تکبیر کہی تھی کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا : کتے نے مجھےمار دیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں)کتے نے مجھے کھا لیا یہ اس وقت کی بات ہے ' جب انہیں زخمی کر دیا گیا پھر وہ شخص اس خنجر کو لے کر بھاگا ' جو دونوں طرف سے دھار والا تھا وہ دائیں یا بائیں جس بھی شخص کے پاس سے گزرا اسے زخمی کیا' یہاں تک کہ اس نے تیرہ آدمیوں کو زخمی کر دیا جن میں سے نو افراد فوت ہوگئے۔مسلمانوں میں سے ایک شخص نے جب یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اس کے اوپر کمبل ڈال دیا جب اس شخص کو یہ اندازہ ہو گیا کہ اب وہ پکڑا جائے گا ' تو اس نے خودکشی کر لی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑکر انہیں آگے کیا جو لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے قریب کھڑے تھے انہوں نے تو وہ بات دیکھ لی جو میں نے بھی دیکھی تھی لیکن جو لوگ مسجد کے (دروازے کے ) کناروں میں تھے انہیں پتہ نہیں چل سکا کہ کیا ہوا ہے صرف یہ ہوا کہ انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز آنا بند ہوگئ تو وہ سبحان اللہ سبحان اللہ کہنے لگے پھر حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مختصر نماز پڑھائی جب لوگوں نےنماز مکمل کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابن عباس! اس بات کا جائزہ لو کہ مجھے کس نے قتل کیا ہے تھوڑی دیر بعد آکر انہوں نے بتایا : حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام نے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالی ٰ اسے برباد کر ے میں نے اسے بھلائی کی بات کا حکم دیا تھا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لیے مخصوص ہے جس نے میری موت کسی ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں کی جو اسلام کا دعوت دار ہو تم اور تمہارے والد (یعنی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ) اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ میں غلاموں کی تعداد زیادہ ہو (راوی کہتے ہیں : ) حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے غلام سب سے زیادہ تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر پہنچایا گیا تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس دن سے پہلے لوگوں کو کبھی کوئی مصیبت لاحق ہوئی ہی نہیں کوئی شخص یہ کہتا تھا ہمیں ان کے بارے میں اندیشہ ہے(کہ کہیں یہ شہید نہ ہو جائیں ) کوئی شخص یہ کہتا ھتا کو ئی حرج نہیں ( یعنی یہ ٹھیک ہو جائیں گے) پھر نبیذ لائی گئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آگئی پھر دودھ لایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیا تو وہ بھی ان کے زخم سے باہر آگیا تو لوگوں کو یہ اندازہ ہو گیا کہ یہ فوت ہو جائیں گے ہم ان کے ارد گرد اکٹھے ہوگئے لوگ آتے اور ا کی تعریف کرتے ایک نوجوان آیا اور بولا : اے امیر المومنین آپ کو اللہ تعالی ٰ کی طرف سے بشارت ہے' کیونکہ آپ کو نبی اکرم ﷺ کی صحبت نصیب ہوئی آپ کو ابتداء میں اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہو ا اور آپ نے (اسلام کےلیے ) خدمات سرانجام دیں پھر جب آپ خلیفہ بنائے گئے ' تو آپ نے انصاف سے کام لیا اور اب آپ کو شہادت نصیب ہو رہی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ،میرے بھتیجے میری یہ خواہش ہے کہ یہ معاملہ برابر ی کی بنیاد پہ ہو 'نہ میرے ذمے کوئی چیز لازم ہو اور نہ ہی میرے حق میں کوئی چیز ہو جب وہ شخص مڑ کر جانےلگا 'تو اس کا تہبند زمین کو چھوتا رہا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس نوجوان کو میرے پاس واپس بلاؤ ۔ آپ نے فرمایا :ا ے میرے بھتیجے تم اپنے کپڑے کو (زمین سے ) اوپر کر لو ' کیونکہ اس طرح تمہارا کپڑا صاف بھی رہے گ اور تم اپنے پروردگار کی بار گاہ میں پرہیز گار بھی شمار کئے جاؤ گے۔
اے عبداللہ اس بات کا جائز لو کہ میرے ذمے کتنا قرض لازم ہے'جب لوگوں نے اسکا حساب کیا 'تو 86 ہزار (درہم ان کے ذمے واجب الادا تھے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو عمر کی اولاد کا مال اسے پوری طرح ادا کر سکتا ہو 'تو ان کے اموال میں سے اسے ادا کیا جائے ورنہ بنو عدی بن کعب سے اس کا مطالبہ کیا جائے اگر ان کے اموال بھی اسے پورا ادا نہ کر سکیں ' تو پھر قریش سے اس کا مطالبہ کیا جائے لیکن قریش کے علاوہ کسی اور سے اس بارے میں مطالبہ نہ کیا جائے تم ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو کہ عمر آپ کو سلام پیش کر تا ہے یہ نہ کہنا کہ امیر المومنین نے سلام کہا ہے'کیونکہ اب میں کسی مومن کا امیر نہیں رہا تم یہ کہنا : عمر بن خطاب یہ اجازت مانگ رہا ہے کہ اسے اس کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا جائےگا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سلام کیا'پھر انہوں نے اجازت مانگی ' تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو روتے پوہے پایا۔ حضرت عبداللہ نے سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہا : عمر بن خطاب آپ سے اجازت مانگ رہے ہیں کہ انہیں ان کے دونو ں ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیا جائے ' تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میرا ارادہ خود یہاں دفن ہونے کا تھا' لیکن میں آج ان کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس آئے ' تو بتایا گیا عبداللہ آگئے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم لوگ مجھے بٹھا ؤ ۔ ایک شخص نے آپ کو ٹیک دی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کیا جواب دیا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: وہی اے امیر المومنین جو آپ کو پسند ہے انہوں نے آپ کو اجازت دیدی ہے' تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا الحمداللہ اس جگہ دفن ہونے سے زیادہ اہم میرے لیے اور کوئی چیز نہیں تھی جب میں مر جاؤں تو تم پھر سلام کہنا اور یہ کہنا : عمر بن خطاب اندرآنے کی اجازت طلب کر رہا ہے' اگر و ہ مجھے اجازت دیدیں تو تم مجھے اندر لے جانا اور اگر وہ مجھے لوٹا دیں ' تو تم مجھے مسلمانوں کے قبر ستان کی طرف لے جانا پھر ام المومنین سیدہ حفصہرضی اللہ عنہ تشریف لائیں دگر خواتین نے انہیں اپنی اوٹ میں لیا ہوا تھا ' جب ہم نے انہیں دیکھا تو ہم وہاں سے اٹھ گئے وہ تھوڑی دیر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہیں پھر مردوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ' تو وہ خواتین گھر کے اندرونی حصے میں چلی گئیں پھر ہم نے گھر کے اندورنی حصے سے ان خواتین کے رونے کی آوازیں سنی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اے امیر المومنین آپ کوئی وصیت کر دیجئے اور کسی کو خلیفہ مقرر کر دیجئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے خیال میں ان افراد سے زیادہ اس معاملے کا حقدار اور کوئی نہیں ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ نے وصال فر مایا تھا تو آپ ان حضرات سے راضی تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ ،حضرت طلحہرضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان غنیرضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر بن عوامرضی اللہ عنہ ،حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا نام لیا اللہ تعالی ان حضرات سے راضی ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ موجود رہے گا ؛ لیکن اس کا حکومت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا یو ں محسوس ہو ا جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی دل جوئی کرنا چاہتے تھے اگر خلافت سعد کومل گی تو یہ ان کے لیے ہوگی ورنہ آپ حضرات میں سے کسی کو بھی امیر مقرر کیا جائے گا وہ ان سے مدد ضرور حاصل کرے میں نے انہیں ان کے عاجز ہونے یا ان کی کسی خیانت کی وجہ سے معزول نہیں کیا تھا۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنے بعد والے خلیفہ کو اللہ تعالی سے ڈرتے رہنے کی تلقین کرتا ہوں اور اسے مہاجرین اولین (کا خاص خیال رکھنے ) کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حق کو جان لے اور ان کی حرمت کی حفاظت کر ے اور میں اس خلیفہ کو انصار کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں جنہوں نے ان سے پہلے جگہ او ر ایمان کو ٹھکانہ بنا لیا تھا کہ وہ خلیفہ ان میں سے اچھے لوگوں کی اچھائی کو قبول کرے اور برائی کرنے والے سے درگزر کرے اور میں اس خلیفہ کو تمام علاقوں کے رہنے والوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ' کیونکہ یہ لوگ اسلام کے محافظ ہیں مال کو حاصل کرنے والے ہیں دشمن پر غیض و غضب کرنے والے ہیں ان کا اضافی مال ان سے صرف رضا مندی کے ساتھ ہی وصول کیا جائے اور میں اس خلیفہ کو دیہاتیوں کے بارے میں بھلائی کی تلقین کر تا ہوں ' کیونکہ وہ عربو ں کی اصل ہیں او ر اسلام کا مادہ ہیں ان کے اموال کی زکوۃ ان سے وصول کی جائے اور ان کے غریبوں کی طرف لوٹا دی جائے میں اس خلیفہ کو اللہ کے ذمہ اس کے رسول کے ذمہ کے بارے میں یہ تلقین کرتا ہوں کہ ان کے نام پر کئے گئے عہد کو پورا کیا جائے اور ان کے علاوہ لوگوں کے ساتھ جنگ کی جائے اور ان لوگوں کو صرف ان کی طاقت کے مطابق پابند کیا جائے ۔
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کاانتقال ہو گیا تو ہم انہیں لے کر چلتے ہوئے آئے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سلام کیا اوہ یہ کہا : عمر اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا انہیں اندر لے آؤ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اندر لے جایا گیا اور انہیں وہاں ان کے ساتھیوں کے ساتھ دفن کر دیا گیا جب ان کے دفن سے فارغ ہو گئے اور لوگ واپس آگئے ' تو یہ حضرات اکٹھے ہوئے ۔حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ لوگ اپنے معاملے کو اپنے میں سے تین افراد کے لیے مخصوص کر دیں (یعنی تین لوگ اپنے حق سے دستبردار ہو جائیں )حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنا معاملہ علی کے سپرد کرتا ہوں۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنا معاملہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے سپرد کرتا ہوں ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنا معاملہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سپر د کرتا ہوں ' تو یہ تین لوگ ہوگئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ توحضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے باقی دو افراد سے کہا: آپ دونوں میں کون اس معاملے سے لاتعلق ہونا چاہے گا کہ وہ اسے دوسرے کے سپرد کر ے اور اللہ تعالی اس کا نگران ہو اور اسلام اس کا نگران ہو اور وہ اس بات کا جائزہ لے کر وہ ا س کے نزدیک ان سب سے افضل ہے اور وہ اس بارے میں امت کی بھلائی کے بارے میں زیادہ کوشش کرے گا،
راوی کہتے ہیں : تو دونوں بزرگ یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش رہے اس پر حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ لوگ اس معاملے کومیرے سپرد کردیں اور اللہ کے نام پر یہ بات میرے ذمے لازم ہے کہ میں اس معاملے میں سے آپ میں افضل شخص کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کروں گا ۔ ان دونوں نے جواب دیا: جی ہاں پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے ' تو حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ کو قدیم الاسلام ہونے کا شرف حاصل ہے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ قرابت کا شرف حاصل ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں ' تو اللہ کی قسم ! کہ آپ کے ذمے یہ بات لازم ہے کہ اگر میں آپ کو امیر بنا دوں ' تو آپ عدل سے کال لیں گے اور اگر میں آپ کوامیر نہ بناؤ ں تو آپ (امیر مقرر ہونے والے شخص ) کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے پھر عثمان آئے ' تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی مانند کلمات کہے ؛جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے یہ عہد لے لیا تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے پھر انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی پھر تمام لوگ اندر آگئے اور انہوں نے بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔
عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← حصين بن عبد الرحمن السلمي ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6917
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6918
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیماری کے دوران ارشاد فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ میرا کوئی صحابی میرے پاس موجود ہوتا ۔ سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسو ل اللہ ! کیا ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کے پاس بلوادیں نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ۔ ہم نے عرض کی : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ۔ ہم نے کہا : حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرمﷺ خاموش رہے ۔ہم کہا : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ' تو ہم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوتا رہا۔
ابو سہلہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو گھر میں قید کر دیا گیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کےرسول نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا میں اس پر صبر سے کام لوں گا۔
قیس نامی راوی کہتے ہیں : لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد وہی دن تھا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6918
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6919
ابو سعید جو حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتےہیں : انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سنا اہل مصر کا وفد آیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسکا استقبال کیا جب انہوں نے آپ کے احکام سن لیے تو وہ اس مقام کی طرف گئے جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ موجو د تھے ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ قرآن پاک منگوائیے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن منگوایا تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ساتویں سورت کھو لیے وہ لوگ سورۃ یونس کو ساتویں سورت کا نام دیتے تھے انہوں نے: تلاوت شروع کی یہاں تک اس آیت تک پہنچے۔
''تم یہ فرما دو تمہارا کیا خیال ہے اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا ہے اور اس میں سے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اورکچھ کو حلال قرار دیا ہے 'تو تم یہ فرما دو کہ کیا اللہ تعالی نے تمہیں اس بات کی اجازت دی ہے یا تم اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو۔''
ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ٹھہرجائیے آپ کا کیا خیال ہے کیا آپ نے کوئی چراہ گاہ مخصوص کی ہے کیا اللہ تعالی نے آپ کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ آپ اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات منسوب کر رہے ہیں ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ آگے چلو یہ آیت فلاں فلاں چیز کے بارے میں نازل ہوئی تھی 'جہاں تک چراہ گاہ کا تعلق ہے تو وہ صدقے کے اونٹوں کےلیے ہے'جب وہ بچے کو جنم دیں گے تو صدقے کے اونٹ زیادہ ہو جائیں گے توصدقے کے اونٹوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے میں نے چراہ گاہ میں بھی اضافہ کر دیا تم لوگ آگے چلو تو وہ لوگ ایک ایک آیت لیتےرہے اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ کہتے رہے تم لوگ آگے چلو (یا تم جاری رکھو) یہ آیت فلاں فلاں چیز کےبارے میں نازل ہوئی تھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ کیا چاہتے ہو۔ انہوں نےکہا : ہم آپ سے پختہ عہد لینا چاہتے ہیں ۔راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے شرائط تحریر کیں ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نےان سےعہد لیا کہ وہ عصا کو (یعنی مسلمانوں کی اجتماعیت کو) توڑ دیں گے نہیں اور ان کی جماعت سے علیحدگی اختیار نہیں کریں 'جب تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان کی شرائط کی پاس داری کرتے رہیں گے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ کیا چاہتے ہو انہوں نے کہا : ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ تنخواہ نہ لیا کریں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا ' کیونکہ یہ وہ مال ہے ' جو اس شخص کو ملے گا جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ افراد کو ملے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ راضی ہو گئے اور وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سا تھ مدینہ منورہ کی طرف راضی ہوتے ہوئے آئے۔ راوی کہتے ہیں :پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے خطبہ دیا اور فرمایا : حبردار جس شخص کی زرعی زمین ہو وہ اپنی زرعی زمین پر چلا جائے اور جس شخص کے پاس جانور ہیں وہ ان کا دودھ دوہ لے خبر دار تمہارا کوئی مال ہمارے پاس نہیں ہے یہ مال اس شخص کو ملے گا ' جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے بزرگوں کو ملے گا ۔راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ غصے میں آگئے اور بولے یہ تو بنو امیہ کا فریب ہے راوی کہتے ہیں پھر مصری لوگ واپس چلے گئے ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ اسی دوران ایک سوار ان کے سامنے آیا پھر وہ ان سے جدا ہو گیا پھر وہ واپس آپا پھر وہ ان سے جد ا ہو گیا اور انہیں برا کہنے لگا ۔ ان لوگوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے تمہیں امان حاصل ہے تمہارا کیا معاملہ ہےاس نے کہا :میں امیر المومنین کا قاصدہوں جومصر کے گورنر کی طرف جارہا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : ان لوگوں نے اس شخص کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک خط موجود تھا ' جو حضرت عثما ن رضی اللہ عنہ کی طرف سے لکھا گیا تھا اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مہر بھی لگی ہوئی تھی یہ مصر کے گورنر کے نام خط تھا کہ وہ ان مصریوں کو پھانسی دیدے یا انہیں قتل کروا دے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دے تو وہ لوگ واپس آئے 'یہاں تک کہ مدینہ منورہ آگئے وہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے کہ آپ نے اللہ کے اس دشمن کی طرف دیکھا کہ اس نے ہمارے بارے میں اس ؛اس طر ح کا خط لکھا ہے۔ بے شک اللہ تعالی ٰ نے اس کے خون کو حلال قرار دیا ہے۔ آپ ہمارے ساتھ اٹھ کر ان کی طرف جائیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ نہیں اٹھوں گا ۔ ان لوگوں نے کہا :پھر آپ نے ہماری طرف خط کیو ں لکھا تھا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا اللہ کی قسم! میں نے کبھی تمہیں کوئی خط نہیں لکھا تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے پھران میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا : کیا تم اس شخص کےلیے جنگ کرنا چاہتے ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اس شخص کے لیے غصہ کرتے ہو۔
پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے اور مدینہ منورہ ے باہر ایک بستی کیطرف تشریف لے گئے وہ لوگ اٹھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے آپ نے اس اس طرحکا خط لکھا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : دو صورتیں ہیں یا تو یہ ہے: تم مسلمانوں میں سے دو آدمیوں کو میرے خلاف گواہ کے طور پر پیش کر دیا پھر یہ ہے میں اللہ کے نا م کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کہ نہ تو میں نے خط لکھا ہے اور نہ اسے املاء کروایا ہے اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے تملوگ یہ بات جانتے ہو کہ کسی دوسرے کے نام سے بھی خط لکھا جا سکتا ہے اور ایک انگوٹھی کے مطابق دوسری انگوٹھی کا نقش بنوایا جا سکتا ہے ان لوگوں نے کہا:اللہ کی قسم اللہ تعالی نےآپ کے خون کو حلال قرار دیدیا ہے' پھر ان لوگوں نے عہد اور کیے اور معاہدے کو توڑ دیا اور حضر عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصر ہ کر لیا ۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ا ن لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور بولے السلام علیکم (راوی کہتے ہیں : ) میں نے کسی شخص کو نہیں سنا جس نے ان سے سلام کا جواب دیا ہو ماسوائے اس کے کہ کسی نے دل میں سلام کا جواب دیدیا ہو۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دیافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتےہوکہ میں نے رومہ نامی کنواں اپنے مال میں سے خرید ا تھا اور ا سکے بارے میں اپنے ڈول کو مسلمانوں کے عام فرد کے ڈول کی مانند کر دیا تھا (یعنی اس کے پانی کو سب کےلیے وقف کر دیا تھا) تو کہا گیا جی ہاں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم کس بنیاد پر مجھے اس بات سے روک رہے ہو کہ میں ا س میں سے پیوں ' یہاں تک کہ میں نے سمندر کے پانی (یعنی کھار ے پانی) کے ذریعے افطاری کی ہے میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اتنی اتنی رقم کے عوض میں زمین خرید کر مسجد میں ' توسیع کی تھی جوا ب دیا گیا : جی ہاں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مجھ سے پہلے کسی شخص کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا گیاہو میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیاتم نے اللہ کے نبی کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کے بارے میں کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور انہیں شمار کروایا ۔
راوی کہتے ہیں :پھر میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے دوسری مرتبہ جھانک کر لوگو ں کی طرف دیکھا انہیں وعظ ونصیحت کی انہیں تلقین کی لیکن کسی نے ان کے وعظ کو قبول نہیں کیا جب انہوں نے پہلی مرتبہ حضرت عثمانرضی اللہ عنہ سے وعظ سنا تھا اور لوگوں نے اسے قبول کیا تھا 'لیکن جب دوبارہ ان کے سامنے دہرایا گیا تو پھر لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا ،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم دروازہ کھولو انہوں نے مصحف اپنے آگے رکھ لیا اس کی وجہ ی تھی انہوں نے رات خواب میں نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ ان سے فرما رہے ہیں آج شام تم نے ہمارے سارتھ افطاری کرنی ہے' پھر ایک شخص اندر ان کے پا س آیا ' تو انہوں نے فرمایا میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے' تو وہ شخص نکل گیا اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا پھر دوسرا شخص ان کے پاس اندر آیا ' تو حضرت عثمانرضی اللہ عنہ نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتا موجود ہے ا س وقت قرآن مجید ان کے آگے رکھا ہوا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے اپنی تلوار کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لہرایا ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے بچنے کی کوشش کی اس نے ان کا ہاتھ کاٹ دیا مجھے نہیں معلوم کہ اس نے اسے مکمل طور پر کاٹ دیا یا کچھ حصہ کاٹا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم ! یہ وہ پہلی ہتھیلی تھی ' جس نے مفصل (سورتوں ) کو تحریر کیا تھا۔
ابو سعید کے علاو ہ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : تحبیبی نامی شخص اند ر داخل ہوا اس نےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قینچی ماری اس کے نتیجے میں خون نکل کر اس آیت پر گر ا۔
''تو عنقریب ان لوگوں کے مقابلے میں اللہ تعالی ٰ تمہارے لئے کافی ہوگا اور وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے۔''
خون کا یہ نشان اس قرآن مجید میں موجود ہے اسے مٹایا نہیں گیا ۔
ابو سعید کی روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں : فرافصہ کی صاحب زاد ی (شاید اس سے مراد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہے) نے اپنا زیور لیا اور اسے اپنی گود میں رکھ لیا یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے پہلے کی بات ہے' جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو وہ ان پر اہ وبکاہ کرنے لگی اس پر کسی نے کہا : اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے اس کے سر ین کتنے بڑے ہیں ' اس سے مجھے پتہ چلا کہ اللہ کے دشمنوں کا مقصد صرف دنیا ہوتی ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6919
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6920
احنف بن قیس بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مدینہ منورہ آئے حضرت عثما ن رضی اللہ عنہ تشریف لائے کہا گیا حضرت عثمانرضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ہیں انہوں نے زرد رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی اور اس کے ذریعے اپنا سر ڈھانپا ہو ا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا یہاں علی ہے۔ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ا نہوں نے دریافت کیا : کیا یہاں طلحہ ہے ۔ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔انہوں نے فرمایا میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ پوچھتا ہوں جس کے علاوہ او ر کوئی معبود نہیں ہے کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ اللہ تعالی کے رسول ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی کون شخص بنو قلاں کی زمین خریدے گا ' تو اللہ تعالیاس کی مغفرت کر دے گا ' تو میں نے بیس ہزار(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) 25 ہزار کے عوض میں اسے خریدا تھا پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی: میں نے اسے خرید لیا ہے'تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے ہماری مسجد کےلئے دیدو اس کا اجر تمہیں ملے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو ان حضرات نے جوا ب دیا : اللہ کی قسم ! ایسا ہی ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ او ر کوئی معبود نہیں ہے کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہو نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی کون شخص (رومہ نامہ کنویں کو )خرید ے گا 'تو اللہ تعالی اس کی مغفرت کر دے گا ' تو میں نے اسے اتنی اتنی رقم کے عوض میں خرید لیا پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : میں اسے خرید لیا ہے۔ نبی اکر م ﷺ نے فرمایا : تم اسے مسلمانوں کے لیے (وقف) کر دو اس کا اجر تمہیں ملے گا۔ راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! ایسا ہی ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں آپ لوگوں کو اس اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کی صورت حال دیکھی اور فرمایا : کون ان لوگوں کو سازو سامان فراہم کرے گا اللہ تعالی اس کی مغفرت کر دے گا ان کی مراد غزوہ تبوک تھا (حضرت عثما ن رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) تومیں نے ان لوگوں کو سازو سامان فراہم کیا ' یہاں تک کہ انہیں رسی اور لگام تک فراہم کئے ' تو ان لوگوں نے جواب دیا : اللہ کی قسم ﷺ ایسا ہی ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ تو گواہ ہو جا ' یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6920
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6921
حضرت علی ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نے چکی چلانے کی وجہ سے پیش آنے والی مشکل کی شکایت کی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ قیدی آئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ تشریف لے گئیں ان کی ملاقات نبی اکرم ﷺ سے نہیں ہوئی ان کی ملاقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی سیدہ فاطمہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کو (اپنی ضروریات کے بارے میں ) بتا دیا جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اس وقت ہم بستر پر لیت چکے تھے میں اٹھنے لگا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنی جگہ پر رہو پھر آپ ﷺ ہمارے درمیان بیٹھ گئے 'یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی آپ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو اس سے زیادہ بہتر چیز کے بارے میں تعلیم نہ دوں جس کے بارے میں تم نے مجھ سے دریافت کیا ہے: (یعنی جو چیز تم نے مجھ سے مانگی ہے) جب تم بستر پر جایا کرو تو 34 مرتبہ اللہ اکبر33 مرتبہ سبحان اللہ ،33 مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرو یہ تم دونوں کےلیے خادم ملنےسے زیادہ بہتر ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6921
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6922
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو چکی پیسنے میں مشکل آتی تھی میں نے کہا " اگر آپ اپنے والد کے پاس جائیں ان سے کوئی خادم مانگ لیں (تو یہ مناسب ہوگا) حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں لیکن ان کی ملاقات نبی اکرم ﷺ سے نہیں ہوئی تو وہ اپنے گھر واپس آگئیں جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ کو بتایا کہ آپ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم نے اپنے اوپر ایک چادر لی ہوئی تھی کہ جب ہم لمبائی کی سمت میں اسے لیتے تھے تو ہمارے پہلو اس سے ظاہر ہو جاتے تھے اور جب ہم چوڑائی کی سمت میں لیتے تھے تو ہمارے پاؤں اور سر ظاہر ہو جاتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے فاطمہ مجھے پتہ چلا تم آئی تھیں کیا تمہیں کوئی کام تھا ۔ انہوں نے عرض کی : جی نہیں میں نے کہا : جی ہاں تھا ۔ انہوں نے میرے سامنے چکی پیسنے کی شکایت کی تھی 'تو میں نے کہا : اگر تم اپنے والد کے پا س جاؤ اور ان سے کوئی خادم مانگ لو( یہ مناسب ہوگا ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم دونوں کی رہنمائی اس چیز کی طرف نہ کروں جو تم دونوں کےلئے خادم ملنے سے زیادہ بہتر ہے' جب تم بستر پر جاؤ تو 33 مرتبی سبحان اللہ ، 33 مرتبہ الحمد اللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑ ھ لیا کرو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6922
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6923
حضرت عمر بن شاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تم نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے ہم نے عرض کی: یارسول اللہ ! میں یہ بات پسند نہیں کرتا تاکہ میں آپ ﷺ کو کوئی تکلیف پہنچاؤں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے علی کو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ۔
(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ راوی فضل بن عبداللہ بن معقل بن سنان اشجعی ہے ابن اسحاق نے اس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کر دی ہے 'جبکہ مسعود بن سعد نامی راوی جو کوفی ہے اس کی کنیت ابو سعد ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6923
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6924
حضر علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کو چیراآسمان کو پیدا کیا ' نبی اُمی نے مجھ سے یہ عہدہ لیا تھا کہ میرے ساتھ صرف مومن محبت رکھے گا اور میرے ساتھ صرف منافق بغض رکھے گا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6924
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6925
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص ان کے پاس آیا او ر بولا : یہ فلاں شخص یعنہ مدینہ منورہ کا گورنر س نے آپ کو بلایا ہے' تا کہ آپ منبر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا کہیں ۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : میں کیا کہوں ۔ اس نے کہا: آپ نے انہیں ابو تراب کہنا ہے' تو حضرت سہل رضی اللہ عنہ ہنس پڑے انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ نام تو نبی اکرم ﷺ نے رکھا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ نام سب سے زیادہ محبوب تھا ۔ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سید فاطمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے پھر وہ (گھر سے) باہر چلے گئے پھر نبی اکرم رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ کے پا س آئے اور بولے تمہارے چچا زاد کہاں ہیں ۔ انہوں نے بتایا : وہ مسجد میں سو رہے ہیں ' تو نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے آپ ﷺ نے انہیں ایسی حالت میں پایا کہ ان کہ چادر ان کے پہلو سے ہٹی ہوئی تھی (اور ن کے جسم پر مٹی لگی ہوئی تھی) تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی پشت سے مٹی کو پونچھنا شروع کیااور فرمایا : اے ابو تراب اٹھ جاؤ ۔
(حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے بتایا : ) اللہ کی قسم ! حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس سے زیادہ محبوب نام اور کوئی نہیں تھا نبی اکرم ﷺ نے ان کا یہ نام رکھا تھا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6925