حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے اب
تمہارے درمیان میری موجودگی تھوڑے ہی عرصے کےلیے رہ گئی ہے' تو تم میرے بعد ان لوگوں کی پیروی کرنا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو بکر
رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اور تم عمار کی ہدایت پر عمل پیرا ہونا اور جو چیز عبداللہ بن مسعود تمہیں
بیان کرے اسے قبول کر لینا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6902
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6903
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :
''ایک مرتبہ ایک شخص گائے کو لے کر جا رہا تھا ' جب وہ تھ گیا تو وہ اس گائے پر سوار ہو گیا وہ گائے اس کی طرف مڑی اور بولی ہم کو اس کام کےلیے پیدا
نہیں کیا گیا ہمیں ' تو کھیتی باڑی کرنے کےلیے پیدا کیا گیا ہے۔ لوگوں نے کہا : سبحان اللہ سبحان اللہ ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں، ابوبکر اور عمر
بھی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں (گائے کلام کر سکتی ہے) حالانکہ یہ دونوں صاحبان حاضرین میں موجود نہیں تھے۔ راوی کہتے ہیں : تو لوگوں نے کہا :
ہم بھی اس چیز پر ایما ن رکھتے ہیں ' جس پر اللہ کے رسول ایمان رکھتے ہیں ۔''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6903
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6904
عون بن ابو حجیفہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا :
''ابو بکر اور عمر جنت کے تمام پہلے والے اور بعد والے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں البتہ انبیاء اور مرسلین کا معاملہ مختلف ہے۔''
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6904
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6905
ابو رافع بیان کرتے ہیں : ابو لؤ لؤ نامی شخص حضرت مغیرہ بن شعبی رضی اللہ عنہ کا غلا م تھا وہ چکیاں تیار کرتا تھا حضر ت امیر المومنین حضرت مغیرہ
رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بہت زیادہ توان خراج عائد کیا ہوا ہے آپ ان سے بات کیجئے کہ وہ میرے لیے تخفیف کر دیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس
سے کہا : تم اللہ سے ڈرو اور اپنے آقا کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اس پر وہ غلام غصے میں آگیا اور بولا : آپ کا عدل میرے علاوہ باقی سب لوگوں ک لیے
ہے اس نے اپنے ذہن میں یہ طے کیا کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دے گا اس نے ایک خنجر لیا جو دودھاری تھا اس نے اسے زہر آلود کیا پھر وہ
اسے لے کر ہر مزان کے پاس آیا اور بولا : اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے اس نے کہا : یہ تم جسے بھی ماروگے اسے قتل کر دو گے ابو لؤلؤ نے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب نماز کےلیے اقامت کہہ دی جاتی تو وہ یہ کہتے تھے تم لوگ اپنی صفیں درست کر لو انہوں نے اپنے
معمول کے مطابق یہ کلمہ کہا پھر جب انہوں نے تکبیر کہی تو ابو لؤلؤ نے ان کے کندھے پر وار کیا اور ان کے پہلو پر وار کیا' تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گر
پڑے اس نے خنجر کے ذریعے تیرہ اور آدمیوں کو بھی زخمی کیا جن میں سے سات لوگ فوت بھی ہو گئے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر کی طرف لایا گیا لوگ چیخ و پکار کر نے لگے ' یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کا وقت قریب آیا تو حضرت
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا اے لوگو! نماز ' نماز ۔ راوی کہتے ہیں : تو لوگ گھبرا کر نماز کی طرف آئے حضرت
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے انہو ں نے قرآن کی سب سے چھوٹی سورتوں کے ذریعے ان لوگوں کو نماز پڑھائی جب انہوں نے نماز
مکمل کر لی تو یہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف آئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشروب منگوایا تا کہ اس بات کا جائزہ لیں کہ زخم کی مقدا ر کیا
ہے'تونبیذلائی گئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ پی تو ان کے زخم سے باہر آگئی لیکن یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کیا یہ نبیذ یے یا خؤن ہے' پھر حضرت عمر رضی
اللہ عنہ نے دودھ منگوا کر اسے پیا تو ان کے زخم سے باہر آگیا ۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المومنین آپ پر کوئی حرج نہیں ہے' تو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ
نےفرمایا اگر تو قتل ہونا حرج ہے تو میں قتل ہو گیا پھر لوگ ان کی تعریف کرنے لگے اور یہ کہنے لگے اے امیر المومنین اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا
کرے آپ ایسے تھے اور ویسے تھے پھر لوگ چلے گئے اور دوسرے لو گ آگئے اور ان کی تعریف کرتے رہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی
قسم!تم لوگ جو کہہ رہے ہو اس کے باوجود میری یہ آرزو ہے کہ میں ا س (حکومت ) کے معاملے سے برابری کی بنیاد پر چھوٹ جاؤں ' نہ میرے ذمے
کچھ ہو اور نہ ہی مجھے کچھ ملے' بے شک اللہ کے رسول کا صحابی ہونا میری سلامتی کے لیے کافی ہے۔
پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی جو ان کے سرہانے موجود تھے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اتنے قریبی تھے جیسے ان کے
خاندان کے فرد ہوں ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ انہیں قرآن کی تلاوت پرھ کر سنایا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے
گفتگو کرتے ہوئے کہا جی نہیں اللہ کی قسم ! آپ برابری کی بنیاد پر اس معاملے سے نہیں نکلیں گے آپ نےنبی اکرمﷺ کی صحبت اخٹیار کی آ پ نبی
اکرم ﷺ کے ساتھ رہے اور نبی اکرم ﷺ آپ سے اس طرح راضی تھے جیسے اس سب سے بہتر شخص سے راضی ہو ں جو آپ کے ساتھج رہا آپ
کا نبی اکر م ﷺ کی بارگاہ میں یہ مقام تھا' یہ مقام تھا ' یہاں تک کہ جب نبی اکرمﷺ کا وصال ہوا تو نبی اکرم ﷺ آپ سے راضی تھے اس کےبعد
آپ اللہ کےرسول کے خلیفہ کے ساتھ رہے آپ ان کی حکومت کے معاملے کو نافذ کرتے رہے آپ نے ان کےلیے یہ کیا ان کے لیے یہ کیا۔
اے امیر المومنین ! اس کےبعد آپ حکمران بن گئے ' تو آپ اتنے اچھے حکمران بنےجتنا کوئی بھی شخص اچھا حکمران ہو سکتا ہے۔ آپ نے یہ کیا اور وہ کیا
۔ حضرتعمر رضی اللہ عنہ کوحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی گفتگو سے آرام محسوس ہوا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : ت اپنی بات
میرے سامنے دہراؤ ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہبات دہرائی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم ! تم جو کچھ
کہہ رہے ہو اس کے باوجود (میں یہ سمجھتا ہوں ) کہ اگر میرے لیے تمام روئے زمین سونے کی ہو جائے تومیں اسے آج کے دن موت کی ہولناکی کے
مقابلےفدیے کے طور پر دیدوں میں نے چھ آدمیوں کی مجلس شوریٰ قائم کر دی ہے عثمان ،علی ابن ابو طالت ، طلحہ بن عبداللہ، زبیر بن عوف اور سعد بن
ابی وقاص ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ان حضرات کے ساتھ مشیر کے طور مقرر کیا لیکن ان کا حصہ نہیں بنایا
آپ نے ان حضرات کو تین دن کی مہلت دی( وہ تین دن کے اندر اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لیں ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت
صہیب کو یہ ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں اللہ تعالی کی رحمت اور اس کی رضا مندی حضرت عمر پر نازل ہو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6905
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6906
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺکے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی میں
اس وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک ہی چادر میں تھی۔ نبی اکرم ﷺ نےانہیں اجازت دیدی۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی ضرورت کو پورا کیا اور
آپ ﷺ اسی حالت میں چادر کے اندر ہی رہے' پھر وہ تشریف لے گئے پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے ہاں اندر آنے کی
اجازت مانگی ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دی۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ ﷺ اسی حالت میں چادر میں تشریف
فرمارہے 'پھر حضرت عمر چلے گئے پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ' تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے
کپڑے ٹھیک کئے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے پھر نبی اکر م ﷺ نے ان کی ضرورت پوری کی پھر وہ تشریف لے گئے ' سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی
ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی آپ ﷺ نے ان کی
ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ اسی حالت میں رہے'پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی آپ ﷺ نے ان کی
ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ ﷺ اسی حالت میں رہے ' پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ' تو آپ
ﷺ نے اپنے کپڑے ٹھیک کئے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! عثمان ایک شرم والا شخص ہے' اگر میں اسے
اسے اسی حالت میں اجازت دیدیتا تو مجھے یہ اندیشہ تھا کہ وہ اپنی حاجت میرے سامنے بیان نہ کرتا۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6906
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6907
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے گھر میں زانوں سے کپڑا ہٹا کا لیتے ہوئے تھے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ
نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے انہیں اجازت دیدی لیکن آپ ﷺ اسی حالت میں رہے وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بات چیت
کرتے رہےپھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی لیکن آپ ﷺ اسی حالت میں
رہے وہ بات چیت کرتے رہے ' پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ' تو نبی اکرم ﷺ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے آپ ﷺ
نے اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے وہ بات چیت کرتے رہے جب وہ چلے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا:
یا رسول اللہ ! پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے آپ ﷺ نے ان کے لیے حرکت نہیں کی اور آپ ﷺ نے ان کی کوئی خاص پروا نہیں کی پھر
حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے آپ ﷺ نے ان کے لیے بھی حرکت نہیں کی ان کی بھی کوئی خاص پروا نہیں کی پھرحضرت عثمان رضی اللہ عنہ اندر
آئے 'تو آپ ﷺ سیدے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ ﷺ نے اپنے کپڑے بھی ٹھیک کیے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں ایک ایسے شخص سے حیا
کیوں نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6907
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6908
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں :ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی
اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی چڑھے تو وہ ''احد''حرکت کرنے لگا نبی اکر م ﷺ نے فرمایا : تم ٹھہرے رہو
(تمہارے اوپر) ایک نبی ،ایک صدیق اور د و شہید موجود ہیں ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6908
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6909
حبیب بن ابو ملیکہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سےحضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں
دریافت کیا: کیا وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جوا ب دیا : جی نہیں ۔ اس نے دریاف کیا : کیا وہ بیعت
رضوان میں شریک ہوئے تھے؟ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا وہ ان لوگوں میں شامل تھے
جو اس دن پیچھے ہٹ گئے تھے جب وہ گروہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نےجواب دیا : جی ہاں ۔ اس
شخص نے کہا اللہ اکبر ' پھر وہ شخص چلا گیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : یہ آپ نےکیا 'کیا؟ اب یہ شخص جائے گا اور لوگوں کو بتائے گا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی
تنقیص کرتے ہیں' تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اسےمیرے پاس بلا کر لاؤ جب وہ شخص آیا ' تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا
تم نے جس چیز کے بارے میں دریافت کیا تھا : تمہیں وہ بات یاد ہے ۔ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے آپ سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے
میں دریافت کیا تھا : کیا وہ غزوہ بدرمیں شریک ہوئے تھے ' تو آپ نے جواب دیا جی نہیں ' تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم ﷺ نے
غزوہ بدر کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے کسی کام سے بھیجا تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے (غزوہ بد ر کے مال غنیمت میں ) حصہ
مقررکیا تھا اس شخص نے کہا : میں نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے' تو آپ نے جواب دیا : جی نہیں ۔ حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نبی اکرم ﷺ نےانہیں اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں بھیجا تھا پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر
رکھ کر (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی تھی) تو یہ بتاؤ کہ کون سا ہاتھ زیادہ بہتر تھا نبی اکرمﷺ کا ہاتھ یا حضرت عثمان رضی اللہ
عنہ کا ہاتھ ؟ اس شخص نے کہا : میں نے آپ سے دریافت کیا تھا : کیا وہ اس دن پیچھے ہٹنے والوں میں شامل تھے جب وہ گروہ ایک دوسرے کے مد مقابل
آئے تھے' تو آپ نے جواب دیا : جی ہاں ' تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے:
''انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس میں سے کسی چیز کے عوض میں شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ' لیکن اللہ تعالی نے ان سے در گزر کیا بے شک اللہ تعالی
مغفرت کرنے والا اور بردبار ہے۔''
(پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا ) اب تم جاؤ اور اپنی طر ف سے پوری کوشش کر لو۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6909
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6910
حضرت ابو موسی ٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکر م ﷺ ایک باغ میں موجود تھے میں بھی آپ ﷺ کے
ساتھ تھا اسی دوران ایک شخص آیا اس نے دروازہ کھولنے کےلیے کہا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کےلیے دروازہ کھول دواوراسے جنت کی خوشخبری
دیدوتو وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے پھر ایک اور شخص آیا اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کےلیے
دروازہ کھول دو اوراسے جنت کی خوشخبری دیدو تو وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کےلیے کہا تو
نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس کےلیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6910
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6911
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا دروازے کا دھیان رکھنا پھر ایک شخص آیا اس نے
اندر آکے نے اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اجازت دیدو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو تو وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے پھر
ایک شخص آیا ا س نے اند ر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اجازت دیدو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ
تھے پھر ایک شخص آیا اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی ' تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ' پھر آپ نے فرمایا :اسے اجازت دیدو اسے جنت کی خوشخبری
دیدو اور ساتھ اسے ایک شدید آزمائش کا شکار ہونا پڑے گا ' جو سے لاحق ہو گی' تو وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6911
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6912
حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کے ایک باغ میں ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے آپ ﷺ
ایک چھڑی کے ذریعے پانی اور مٹی کرید رہے تھے اسی دوران ایک شخص آیا اس نے دروازہ کھولنے کےلیے کہا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کےلیے
دو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی پھر ایک اور شخص
نے دروازہ کھولنے کےلیے کہا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دیدو تو وہ حضرت عمر تھے ان کےلیے
دروازہ کھول دیا اور انہیں جنت کی خوشخبری دیدی پھرایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا نبی اکرم ﷺ کچھ دیر کے لیے بیٹھے رہے ' پھر
آپﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبر ی دیدو لیکن اسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔ راوہ کہتے ہیں :
میں نے ان کے لیے دروازہ کھول دیا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی اور انہیں وہ بات بیان کی جو نبی اکرم
ﷺ نے ارشاد فرمائی تھی تو انہوں نے کہا : اے اللہ (میں تجھ سے) صبر کا سوال کرتا ہوں (راوہ کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )اللہ تعالی سے ہی مدد
حاصل کی جاسکتی ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6912
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6913
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
''گزشتہ رات (خواب میں ) مجھے ایک نیک شخص دکھایا گیا ' یہ کہ ابو بکر اللہ کے رسول کے ساتھ ہے' اور عمر 'ابو بکر کے ساتھ ہے اورعثمان 'عمر کے
ساتھ ہے۔''
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ گئے تو ہم نے کہا : نیک آدمی سے مراد تو نبی اکرم ﷺ
ہوں گے ' لیکن جہاں تک نبی اکرم ﷺ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ تھا تو یہ حکومت کا معاملہ ہو گا جس کے ہمراہ
اللہ تعالی نے اپنے نبی کومبعوث کیاہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6913