Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7202

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَا جَرِيرُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ طَوَاغِيتِ الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا بَيْتُ ذِي الْخَلَصَةِ، فَاكْفِينِهِ»، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِي سَبْعِينَ وَمِائَةٍ مِنْ قَوْمِي، فَأَحْرَقْنَاهُ، وَبَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُبَشِّرُهُ يُكَنَّى أَبَا أَرْطَاةَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهُ مِثْلَ الْبَعِيرِ الْأَجْرَبِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي خَيْلِ أَحْمَسَ وَرِجَالِهَا»

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : اے جریرزمانہ جاہلیت کے عبادت کدوں میں صرف ذوخلصہ باقی رہ گیا ہے تم میری طرف سے اسے بھی ختم کر دو ۔ راوی کہتے ہیں تو میں اپنی قسم کے ستر افراد کے ہمراہ روانہ ہوا ہم نے اسے جلادیا میں نے ایک شخص کو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا تا کہ وہ آ پ کو خوشخبری سنا دے اس کی کنیت ابو ارطاۃ تھی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میں اس وقر آپ کے پاس آیا ہوں جب میں نے اس بت خانے کو خآرش زدہ اونٹ کی طرح چھوڑ ا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ احمس قبیلے کے گھڑ سواروں اور ان کے پیادہ افراد کو برکت نصیب کر۔

جَرِيرٌ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ ← الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7202

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7203

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى الْعَبْدِيُّ أَبُو مُنَازِلٍ أَحَدُ بَنِي غَنْمٍ، عَنِ الْأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رُفْقَةٍ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ لِيَزُورَهُ فَأَقْبَلُوا، فَلَمَّا قَدِمُوا رَفَعَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنَاخُوا [ص:179] رِكَابَهُمْ، فَابْتَدَرَ الْقَوْمُ، وَلَمْ يَلْبَسُوا إِلَّا ثِيَابَ سَفَرِهِمْ، وَأَقَامَ الْعَصَرِيُّ فَعَقَلَ رَكَائِبَ أَصْحَابِهِ وَبَعِيرَهُ، ثُمَّ أَخْرَجَ ثِيَابَهُ مِنْ عَيْبَتِهِ وَذَلِكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ»، قَالَ: مَا هُمَا؟ قَالَ: «الْأَنَاةُ وَالْحِلْمُ»، قَالَ: شَيْءٌ جُبِلْتُ عَلَيْهِ أَوْ شَيْءٌ أَتَخَلَّقُهُ؟ قَالَ: «لَا بَلْ جُبِلْتَ عَلَيْهِ»، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَعْشَرَ عَبْدِ الْقَيْسِ، مَالِي أَرَى وجُوهَكُمْ قَدْ تَغَيَّرَتْ»، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، نَحْنُ بِأَرْضٍ وَخِمَةٍ كُنَّا نَتَّخِذُ مِنْ هَذِهِ الْأَنْبِذَةِ مَا يَقْطَعُ اللُّحْمَانَ فِي بُطُونِنَا، فَلَمَّا نُهِينَا عَنِ الظُّرُوفِ، فَذَلِكَ الَّذِي تَرَى فِي وُجُوهِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الظُّرُوفَ لَا تَحِلُّ وَلَا تُحَرِّمُ، وَلَكِنْ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَلَيْسَ أَنْ تَحْبِسُوا فَتَشْرَبُوا، حَتَّى إِذَا امْتَلَأَتِ الْعُرُوقُ تَنَاحَرْتُمْ، فَوَثَبَ الرَّجُلُ عَلَى ابْنِ عَمِّهِ فَضَرَبَهُ بِالسَّيْفِ، فَتَرَكَهُ أَعْرَجَ»، قَالَ: وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ الْأَعْرَجُ الَّذِي أَصَابَهُ ذَلِكَ.

حضرت اشج عصری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ عبدقیس قبیلے کے کشھ ساتھیوں سمیت نبی اکرمﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے تا کہ نبی اکرم ﷺ کی زیارت کریں جب وہ لوگ آئے تو نبی اکرمﷺ نے انہیں بلند آوازمیں بلایا ان لوگوں نے اپنی سواریں کو بٹھا یا اور تیزی سے نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھے۔ بیان کرتے ہیں : وہ عبدقیس قبیلے کے کشھ ساتھیوں سمیت نبی اکرمﷺ کی خد مت میں حاضر ہوئے تا کہ نبی اکرم ﷺ کی زیارت کریں جب وہ لوگ آئے تو نبی اکرمﷺ نے انہیں بلند آوازمیں بلایا ان لوگوں نے اپنی سواریں کو بٹھا یا اور تیزی سے نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھے۔ لوگوں نےسفرکے کپڑےپہنے ہوئے تھے (یعنی جو صاف ستھرے نہیں تھے) حضرت اشج عصری رضی اللہ عنہ نے وہیں قیام کیا انہوں نے اپنے ساتھیوں کے اونٹوں کو باندھا اور انہوں نے اپنے سامان میں سے کپڑے نکالے یہ سب نبی اکرم ﷺ کی نظروں کے سامنے ہو رہا تھا پھر وہ (کپڑے تبدیل کر کے) نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا تو نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا : تمہارے اندر دو خصوصیات جنہیں اللہ اور اسکا رسول پسند کرتے ہیں ۔ انہوں نے دریافت کیا : وہ کون سی ۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا : وقار اور بردباری انہوں نے عرض کی : کیا یہ چیز میری فطرت میں شامل ہے یا میں نے اسے خود اختیارکیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ فطرت میں شامل ہے' توحضرت اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے۔ پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اے عبدالقیس قبیلے کے لوگوں کیا وجہ ہے کہ مجھے تمہار ے چہرے تبدیل نظر آرہے ہیں ۔ ان لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ہم طبیعت کے لیے غیر موافق سر زمین پر رہتے ہیں ہم یہ نبیذیں تیار کرتے ہیں ' جو ہمارے پیٹ میں گوشت کو ہضم کر دیتے ہیں لیکن جب ہمیں ( نبیذ تیار کرنے والے ) برتنوں کے استعمال سےمنع کیا گیا ہم نے نبیذ استعمال کرنا چھوڑ دی ) تو اب ہماری یہ حالت ہو گئی ہے جوا ب ہمارے چہروں پر نظر آرہی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتے البتہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے یہ نہیں ہو سکتا کہ تم لوگ شراب پیو یہاں تک کہ جب ابھی طرح شراب پی لو تو ایک دوسرے کے مقد مقابل آجاؤ ' پھر کوئی شخص اپنے چچا زاد پر حملہ کر کے اسے تلوار مار کر اسے لنگڑا کر دے۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت ان حاضرین میں ایک ایسا لنگڑا بھی موجود تھا ' جس کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی تھی

الْأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ، ← الْمُثَنَّى الْعَبْدِيُّ أَبُو مُنَازِلٍ أَحَدُ بَنِي غَنْمٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ حَسَّانَ التَّيْمِيُّ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوْقٍ۔ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7203

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7204

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: «إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عبد قیس کے اشج سے یہ فرمایا تھا تمہارے اندر د و خصوصیات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے بردباری اور وقار

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7204

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7205

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَقْطَعْهُ أَرْضًا، وَأَرْسَلَ مَعَهُ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَعْطِهَا إِيَّاهُ»، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: أَرْدِفْنِي خَلْفَكَ، قَالَ: «لَا تَكُنْ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ»، فَقَالَ: أَعْطِنِي نَعْلَكَ، فَقَالَ: «انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَةِ»، فَلَمَّا اسْتَخْلَفَ مُعَاوِيَةُ أَتَيْتُهُ، فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ وَذَكَرَ لِي الْحَدِيثَ، قَالَ: «وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ حَمَلْتُهُ بَيْنَ يَدَيَّ»

علقمہ بن وائل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے کچھ زمین انہیں عطا کی نبی اکرم ﷺ نے ان کے ہمراہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا کہ تم وہ زمین اسے دے دینا' حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ مجھے اپنے پیچھے ( اپنے جانور پر ) بٹھا لیں ' تو انہوں نے کہا : تم بادشاہوں کے پیچھے نہ بیٹھو ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اپنا جوتا مجھے دے دیں تو انہوں نے کہا: تم اونٹنی کے سائے میں چلو۔ (راوی بیان کرتے ہیں : ) جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے تو میں ان کے پاس آیا انہوں نے مجھے اپنے ساتھ پلنگ پر بٹھایا اور میرے ساتھ بات چیت کرتے رہے۔ حضرت وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اس وقت میں نے یہ آرزو کی کاش میں نے انہیں ( اپنی سواری پر ) اپنے آگے بٹھایا ہوتا

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7205

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7206

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا، فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفُّوا لَهُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَأَى الْوَافِدُ، وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ وَأَنَا [ص:184] عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَنْ وَافِدُكِ؟ » قَالَتْ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: «الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ»، قَالَتْ: فَمُنَّ عَلَيَّ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ تَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ، قَالَ: سَلِيهِ حُمْلَانًا، قَالَتْ: فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لَهَا، قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: لَقَدْ فَعَلْتَ فَعَلَةً مَا كَانَ أَبُوكِ يَفْعَلُهَا، فَأْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا، فَقَدْ أَتَاهُ فُلَانٌ، فَأَصَابَ مِنْهُ، وَأَتَاهُ فُلَانٌ فَأَصَابَ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَوْ صَبِيٌّ ذُكِرَ قُرْبُهُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ بِمِلْكِ كِسْرَى، وَلَا قَيْصَرَ، فَقَالَ لِي: يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ مَا أَفَرَّكَ أَنْ تَقُولَ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلَّا اللَّهُ، مَا أَفَرَّكَ مِنْ أَنْ تَقُولَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَهَلْ مِنْ شَيْءٍ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ؟ »، قَالَ: فَأَسْلَمْتُ وَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَبْشَرَ، وَقَالَ: «إِنَّ {الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمْ} [الفاتحة: 7] الْيَهُودُ وَ {الضَّالِّينَ} [الفاتحة: 7] النَّصَارَى»

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے گھڑ سوار ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکر م ﷺ کے بھیجے ہوئے کچھ لوگ آئے انہوں نے میری پھوپھی اور چند لوگوں کو پکڑ لیا جب وہ انہیں لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں آئے اور نبی اکرمﷺ کے سامنے انہیں کھڑا کیا گیا تو اس خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! وافد کو آنے میں تاخیر ہو گئی ہے' میں ایک بوڑھی عمر رسیدہ عورت ہوں میں کوئی کام کاج نہیں کر سکتی آپ مجھ پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : تمہارا وافد کون ہے؟ اس نے جوابدیا : عدی بن حاتم ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگ گی ہے پھر اس خاتون نے کہا: آپ مجھ پر احسان کیجئے ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں جب نبی اکرمﷺ واپس مڑے تو اس وقت ایک شخص آپ کے پہلو میں موجود تھا ۔ اس خاتون کا یہ خیال ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ان صاحب نے کہا: اے خاتو ن تم نبی اکرم ﷺ سے سواری مانگو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہے میں نے نبی اکرمﷺ سے سواری مانگی ' توآپ نے اس کو دینے کا حکم دیا ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہے پھر میں عدی بن حاتم کے پاس آئی میں نے یہ کہا : تم نے ایک ایسا کام کیاجو تمہارے والد نے نہیں کرنا تھا تم نبی اکر مﷺ کی خدمت میں جاؤ خؤاہ اپنی خواہش کے ساتھ جاؤ یا خؤف زدہ ہو کر جاؤکیونکہ فلاں شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو اس نے نبی اکرمﷺ سے یہ چیز حاصل کی ۔ فلاں شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اتو اس نے یہ چیز حاصل کی (حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتےہیں ) میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور اس وقت نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ایک خاتون اور کچھ بچے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک بچہ موجود تھا اس خاتون اور انکے بچوں کے نبی اکرمﷺ کے رشتے دار ہونے کا ذکر کیا گیا ' تو مجھے پتہ چل گیا یہ کسریٰ اور قیصر کی طرح بادشاہ نہیں ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عدی بن حاتم کیا تم یہ کہنے سے بھاگ رہے ہو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود ہے کیا تم یہ کہنے سے بھاگ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے تو کیا کوئی ایسی چیز ہے جواللہ تعالیٰ سے زیادہ بڑی ہو ۔ راوی کہتےہیں تو میں نےا سلام قبول کر لیا میں نے نبی اکرمﷺ کے چہرے کو دیکھا کہ آپ کو بہت خوشی ہوئی ہے ۔ آپ نے فرمایا : بے شک وہ لوگ جن پر غضب کیا گیا اس سے مراد یہودی ہیں اور وہ لوگ جو گمراہ ہیں اس سے مراد عیسائی ہیں ۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7206

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7207

أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ، بِوَاسِطٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَانْتَهَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَكَانِهِ، وَإِذَا أَصْحَابُهُ كَأَنَّ عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ، وَإِذَا الْإِبِلُ قَدْ وَضَعَتْ جِرَانَهَا، قَالَ: فَنَظَرْتُ، فَإِذَا أَنَا بِخَيَالٍ، فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَدْ تَصَدَّى لِي، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَرَائِي، وَإِذَا أَنَا بِخَيَالٍ، فَإِذَا هُوَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: وَرَائِي، فَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: فَسَمِعْتُ خَلْفَ أَبِي مُوسَى هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَى، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ [ص:186] النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ كَانَ عَلَيْهِ حَرَسٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي آتٍ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ»، فَقَالَ مُعَاذٌ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَنْزِلِي، فَاجْعَلْنِي مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ»، قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو مُوسَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَرَفْتَ أَنَّا تَرَكْنَا أَمْوَالَنَا وَأَهْلِينَا، وَذَرَارِيَّنَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ، قَالَ: «أَنْتُمَا مِنْهُمْ»، قَالَ: فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ، وَقَدْ ثَارُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أَمَّتِي الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ»، فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنَا مِنْهُمْ، فَقَالَ: «أَنْصِتُوا»، فَنَصَتُوا حَتَّى كَأَنَّ أَحَدًا لَمْ يَتَكَلَّمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا»

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکر م ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے ایک رات میں آیا ' تو نبی اکرم ﷺ اپنی ریائش کی جگہ پر مجھے نظر نہیں آئے نبی اکرم ﷺ کے ساتھیو ں کا معاملہ یوں ہوتا تھا جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں جب کہ اونٹوں نے گردنیں جھکا دیں تھیں ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دیکھا ابھی میں اسی پریشانی میں تھا کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ میرے سامنے آئے میں نے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کہاں ہیں ۔انہوں نے جواب دیا : میرے پیچھے ہیں میں ابھی اسی حالت میں تھا کہ وہ ابو موسیٰ اشعری تھے میں نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کہاں ہیں انہوں نے کہا: میرے پیچھے ہیں ۔ حمید بن ہلال نامی راوی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالےسے حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے میں نے اپنے پیچھے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی آوازیوں سنی ' جس طرح چکی پیسنے کی آواز ہوتی ہے پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب نبی اکرمﷺ دشمن کی سر زمین پر ہوں تو آپ کا کوئی محافظ ہونا چاہئے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا : میرے ایک شخص (یعنی فرشتہ) آیا اس نے مجھے دو باتوں میں سے ایک بات کا اختیار دیا ' یا یہ میری امت کا نصف حصہ جنت میں دخل ہو اجائے یا پھر شفاعت (کے نتیجے میں بے شمار لوگ جنت میں داخل ہوں ) تومیں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ حضرت معاذرضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ !میر ے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ میری حثیت سے واقف ہیں مجھے بھی ان میں شامل کر لیجئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم ان میں سے ایک ہو ۔حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نےعرض کی: یا رسول اللہ ! آپ یہ بات جانتے ہیں ' کہ ہم نےاپنی سرزمین اور با ل بچے چھوڑ دئیے ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں آپ ہمیں بھی ان میں شامل کر لیجئے ۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم دونوں بھی ان میں شامل ہو ۔ راوی کہتے ہیں : ہم لوگوں کے پا س آئے جو بیدار ہو چکے تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک شخص (یعنی فرشتہ) آیا تو اس نے مجھے ا س بات کا اختیار دیا کہ میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر شفاعت ہو ' تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ حاضرین نے عرض کی : یا رسو ل اللہ ! ہمیں بھی ان میں شامل کیجئے ۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا : تم لوگ خاموش رہو ۔ وہ لوگ خاموش ہو گئے ' یہاں تک کہ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے کوئی بات نہیں کرنی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہو گی جو ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔

عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← شَبَابُ بْنُ صَالِحٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7207

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7208

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لَابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ: «أَيْ بُنَيَّةُ أَظْهِرِينِي عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ، قَالَتْ: وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ، قَالَ: يَا بُنَيَّةُ، مَاذَا تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا، قَالَ: تِلْكَ الْخَيْلُ، قَالَتْ: وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، قَالَ: ذَاكَ يَا بُنَيَّةُ الْوَازِعُ الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ، وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا، ثُمَّ [ص:188] قَالَتْ: قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ دُفِعَتِ الْخَيْلُ، فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي، فَانْحَطَّتْ بِهِ، فَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ، وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرَقٍ، فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ، فَاقْتَلَعَهُ مِنْ عُنُقِهَا، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِأَبِيهِ يَقُودُهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: » هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ «، قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِي إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِي إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: » أَسْلِمْ «، فَأَسْلَمَ، قَالَتْ: وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ «، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ وَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ، فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ طَوْقَ أُخْتِي، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكِ، فَوَاللَّهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلٌ

سیدہ اسما ء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرمﷺ ذہ طویٰ کے مقام پر ٹھہرے تو حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحب زادی سے کہا : جو ان کی اولاد میں سب سے چھوٹی تھی اے میری بیٹی مجھے جبل ابو قبیس پر چڑھا دو ۔ سیدہ اسما ءرضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں اس وقت ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں نے اس پہاڑ پر سے جھانک کر دیکھا تو انہوں نے دریافت کیا : اے میری بیٹی تم کیا دیکھ رہی ہو ۔ اس لڑکی نے جواب دیا : مجھے بہت سے لوگوں کا مجمع نظر آ رہا ہے ۔حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ گھڑ سوار ہوں گے ۔ اس خاتون نے کہا: مجھے ایک شخص نظر آرہا ہے ' جو ان کے آگے آرہا ہے اور جا رہا ہے۔،حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بیٹی یہ ان کا نگران ہے جو گھوڑوں کو حکم دے رہا ہے پھر اس لڑکی نے بتایا :ا للہ کی قسم اب وہ سپاہی منتشر ہو نے لگی ہے ' توحضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ نے کہا :اللہ کی قسم اب یہ گھوڑے روانہ ہو جائیں گے 'تو مجھے جلدی میرے گھر لے جاؤوہ خاتون انہیں ساتھ لے کر نیچے اتری ان کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی گھڑ سواروں سے ا ن کا سامنا ہو گیا اس لڑکی کی گردن میں چاندی کا بنا ہوا ہار تھا ایک شخص اس لڑکی کے سامنے آیا ا س نے اس لڑکی کی گردن سے ہار اتارلیا۔ وہ لڑکی بیان کرتی ہے جب نبی اکرمﷺ ( مکہ کے اندر ) داخل ہوئے اور آپ مسجد کے اندر آئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے والد کو ساتھ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا ' تو آ پ نے ارشاد فرمایا : تم ان بزرگوار کو اپنے گھرمیں ہی کیوں نہیں رہنے دیا تا کہ میں خود انکے پاس آیاتا ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اس با ت کے زیادہ حق دار ہیں'کہ چل کر آپ کی طر ف آئیں ' بجائے اس کے کہ آپ چل کر ان کی طرف تشریف لے جائیں ۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو سامنے بٹھا دیا پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیر ا پھر نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : آپ اسلام قبول کر لیں ' تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ وہ لڑکی بیان کرتی ہے پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ انہیں ساتھ لے کر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کا سر ثغامہ ( نامی سفید پھو ل کی طرح سفید ) تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے بالوں کی رنگت تبدیل کر دو ۔ حضر ت ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑا اور بولے میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ میری بہن کا ہار کس کے پاس ہے، کسی نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میری بہن تم اپنے ہار کے حوالے سے ثواب کی امید رکھو اللہ کی قسم آج لوگوں میں امانت ( واپس کرنے کا جذبہ ) کم ہے۔

جدته أسماء بنت أبي بكر ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7208

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7209

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّرْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ، وَلَا يُجَالِسُونَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثَلَاثَ خِصَالٍ أَسْأَلُكَ أَنْ تُعْطِيَنِيهِنَّ، قَالَ: «وَمَا هِيَ؟ » قَالَ: عِنْدِي أَجْمَلُ الْعَرَبِ وَأَحْسَنُهَا أُمُّ حَبِيبَةَ أُزَوِّجُكَهَا، قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَمُعَاوِيَةُ تَجْعَلُهُ كَاتِبًا بَيْنَ يَدَيْكَ، قَالَ: «نَعَمْ»، قَالَ: وَتُؤَمِّرُنِي حَتَّى أُقَاتِلَ الْمُشْرِكِينَ كَمَا كُنْتُ أُقَاتِلُ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: «نَعَمْ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں : پہلے مسلمان ابو سفیان کی طرف دیکھتے نہیں تھے اس کی ہم نشینی اختیار نہیں کرتے تھے ا نہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں تین چیزوں کے بارے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے وہ عطا کر دیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیا ۔ انہوں نے عرض کی : میری بیٹی عرب کی خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی ہے ام حبیبہ ' میں اسکی شادی آپ کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ابو سفیان نے عرض کی : معاویہ کو آپ اپنا معتمد مقرر کر لیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے ۔ ابو سفیان نے عرض کی : آ پ مجھے یہ حکم دیں میں مشرکین کے ساتھ جنگ کرتا رہوں جس طرح پہلے میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرتا رہا ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :ٹھیک ہے۔

كَانَ الْمُسْلِمُونَ لَا يَنْظُرُونَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ، وَلَا يُجَالِسُونَهُ، فَقَالَ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّرْقِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7209

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7210

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ [ص:192] الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ، وَقِّهِ الْعَذَابَ»

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ''اے اللہ معاویہ کو کتاب ) یعنی قرآن مجید ) اورحساب کاعلم عطا کر اور اسے عذاب سے بچا نا''۔

«اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ، وَقِّهِ الْعَذَابَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ السُّلَمِيِّ، ← أَبِي رُهْمٍ السَّمَعِيِّ، ← الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ، ← يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ [ص:192] الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7210

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7211

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، [ص:194] عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ، قَالَتْ لَهَا: ابْنَةُ يَهُودِيٍّ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهَا وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يُبْكِيكِ؟ »، قَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ، وَإِنَّ عَمَّكِ لِنَبِيٌّ، وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ فَبِمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ؟ » ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اتَّقِ اللَّهَ يَا حَفْصَةُ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہو ا تھا اور میرے پاؤں نبی اکرمﷺ کے قدم مبارک کو چھو رہے تھے ہم لوگ خیبر آگئے وہ لوگ اپنی کدالیں اور بیلچے اور ٹوکریاں لے کر( قلعے سے ) باہر نکلے انہوں نے کہا :حضرت محمد ﷺ ا ور لشکر آ گئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ اکبر خیبر برباد ہو گیا ۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت بری ہو تی ہے' جنہیں ڈرایا گیا تھا پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ لڑائی کر کے انہیں پسپا ء کر دیا جب مال غنیمت تقسیم کوا ' تو نبی اکرم ﷺ کیخدمت میں عرض کی گئی : حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کےحصے میں ایک حسین و جمیل کنیز آئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے سات غلاموں ( یا کنیزوں کے عوض میں اس کو خرید لیا پھر نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا تا کہ وہ انہیں تیار کر دیں ۔سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شریک ہوتی تھیں پھر نبی اکرمﷺ نے دسترخواںن منگوایا اس پیش کیا گیا اس دستر خواں کو بچھایا گیا پھر کھجوریں اور گھی لایا گیا اور نبی اکرم ﷺ نے ان سب کے لیے حیس تیار کروایا ۔ لوگوں نے اسے کھایا ' یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے لوگوں نے (آپس میں ایک دوسرے سے ) دریافت کیا: کیا نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی ہے یا سے ام ولد بنایا ہے تو دوسروں نے جواب دیا : نبی اکرمﷺ نے اس خاتون کو پردہ کروایا ' تو وہ آپ کی اہلیہ ہوں گی اگر انہیں پردہ نہیں کرواتے تو پھر ام ولد شمار ہوں گی ۔ جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہونے لگیں ' تو نبی اکرمﷺ نے انکا پردہ کروا لیا ' یہاں تک کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پیچھے اونٹ پر بیٹھ گئیں پھر جب یہ لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تونبی اکرم ﷺ نے اپنی سواری کو تیزکر لیا لوگوں نے بھی سواری کو تیز کر لیا ۔ خؤاتین جھانک کر دیکھنے لگیں ۔ نبی اکرمﷺ کی اونٹنی کو ٹھو کر لگی تو نبی اکرم ﷺاور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ گر گئے پھر نبی اکرم ﷺ کھڑ ے ہوئے آپ نے اس خاتون کو پردہ کروایا ' تو خواتین نے کہا: اللہ تعالیٰ اس یہودی عورت کو دور ہی رکھے۔ انہوں نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا ۔ ثاب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اے ابو حمزہ ! کیا نبی اکرم ﷺ اپنی سواری سے نیچے گر پڑے تھے ' تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں اللہ کی قسم نبی اکرمﷺ اپنی سواری سے گر گئے تھے : ا ے بو محمد !

«اتَّقِ اللَّهَ يَا حَفْصَةُ» ← لِي حَفْصَةُ: إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ ← «وَمَا يُبْكِيكِ؟ ← لَهَا: ابْنَةُ يَهُودِيٍّ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهَا وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، ← بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7211

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7212

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ وَقَدْ خَرَجُوا بِمَسَاحِيهِمْ وَفُؤُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، وَقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ رَسُولُ [ص:195] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ»، فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَزَمَهُمْ، فَلَمَّا قُسِمَتِ الْمَغَانِمُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ وَقَعَ فِي سَهْمِ دَحِيَّةَ الْكَلْبِيِّ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُهَيِّئُهَا، وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِالْأَنْطَاعِ، فَأُحْضِرَتْ، فَوَضَعَ الْأَنْطَاعَ وَجِيءَ بِالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ، فَأَوْسَعَهُمْ حَيْسًا، فَأَكَلَ النَّاسُ حَتَّى شَبِعُوا، فَقَالَ النَّاسُ: تَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ؟ فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ، فَلَمَّا أَرَادَتْ أَنْ تَرْكَبَ حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكِبَتْ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ، وَأَوْضَعَ النَّاسُ، وَأَشْرَفَتِ النِّسَاءُ يَنْظُرْنَ، فَعَثَرَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ، فَوَقَعَ وَوَقَعَتْ صَفِيَّةُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَبَهَا، فَقَالَتِ النِّسَاءُ: أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ، وَشَمِتْنَ بِهَا، قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاحِلَتِهِ؟ فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ يَا أَبَا مُحَمَّدِ

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7212

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7213

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يَبْنِي بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ، وَلَا لَحْمٍ أَمَرَنَا بِالْأَنْطَاعِ، فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ»، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، وَقَالُوا: إِنْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِنَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا مِنْ خَلْفِهِ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ «

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے خبیر اور مدینہ منورہ کے درمیان کسی جگہ پر تین دن تک قیام کیا آپ نے سیدہ صفیہ بن حیی رضی اللہ عنہ کی رخصتی کروائی تھی میں اہل ایمان کو نبی اکرمﷺ کے ولیمے کے لئے بلا کر لا یا تھا اس میں روٹی یا گوشت نہیں تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ہمیں دستر خواں لانے کا حکم دیا ' تو اس دستر خواں پر کھجوریں ، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا یہ نبی اکرم ﷺ کا ولیمہ تھا ۔ مسلمانوں نے کہا: یہ امہات المومنین میں سے ایک شمار ہوں گی یا نبی اکرم ﷺ کی کنیز شمار ہوں گی ' تو دوسروں نے جواب دیا : اگر نبی اکرم ﷺ نے ان کا پردہ کروایا تو یہ امہات المومنین میں شمار ہوں گی اگر پردہ نہ کردایا تو یہ آپ کی کنیز شمار ہوں گی۔ (راوی بیان کرتے ہیں : ) جب نبی اکرمﷺ روانہ ہونے لگے تو آپ نے اس خاتون کے لئے اپنے پیچھے جگہ بنائی اور اس خاتون کے اور لوگوں کے درمیان پردہ کھینچ دیا ۔

«أَقَامَ النَّبِيُّ بَيْنَ خَيْبَرَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7213

chevron_left Previous
1…27282930
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr